مصیبت زدہ تنگدست افراد کی مددکرنا اسلامی فریضہ
ترجمہ: اور تم نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کیا کرو اور گناہ اور ظلم کے کاموں میں ايک دوسرے کي مدد نہ کرو!-(سورۃ المائدۃ:2)

بالخصوص کرفیو کےدوران یا کسی آفت و مصیبت کے موقع پر اہل ثروت واہل خیرافراد اِن سنگیں حالات کاجائزہ لیں ، جہاں لوگ بھوک وپیاس کی شدت سے تڑپ رہیں ہیں اُن تک راشن کو پہنچا کر ثواب دارین حاصل کریں کیونکہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

الساعی علی الأرملۃ والمسکین کالساعی فی سبیل اللہ " وأحسبہ قال : " کالقائم لا یفتر وکالصائم لا یفطر ۔ ترجمہ:بیوہ گان ،غرباء ومساکین کو راحت وآرام پہونچانے کے لئے کوشش کرنے والے کا اجروثواب اللہ کی راہ میں تن من دھن کی بازی لگانے والے کے طرح ہے ،روای کہتے ہیں :میں سمجھتا ہوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا:وہ شخص اس شب بیدار کی طرح ہے جوکبھی تھکتا نہیں،اور اس روزہ دارکی طرح ہے جو مسلسل روزے رکھتا ہے- (صحیح بخاری ،حدیث نمبر: 6007﴾

حالیہ فسادات میں کرفیو کی وجہ سے کئی خاندان جن کی روزی روٹی روزانہ کی محنت ومشقت پر موقوف ہے جن میں ٹھیلہ بنڈی پر کاروبار کرنے والے،آٹورکشا چلانے والے اور ایسے مصیبت زدہ تنگدست افراد موجوجو ہیں ، جن کا تعاون کرنا ہماری دینی واخلاقی ذمہ داری ہے ۔

صحیح بخاری ومسلم میں حدیث مبارک ہے:

عَنْ بْنَ عُمَرَ - رضى الله عنهما ُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَال : ۔۔۔۔۔۔ وَمَنْ كَانَ فِى حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِى حَاجَتِهِ۔

ترجمہ:سیدنا عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:۔۔۔۔۔۔جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پورا کرنے میں مصروف رہتا ہے اللہ تعالی کی اس کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے-

(صحیح بخاری، باب لا یظلم المسلم المسلم ولا یسلمہ ، حدیث نمبر: 2442 - صحیح مسلم، باب تحریم الظلم ، حدیث نمبر: 2580)

بلالحاظ مذہب وملت کسی بھی مصیبت زدہ وبے سہارا لوگوں کی داد رسی کرنا، ان پر خرچ کرنا اور مصیبت و آفت میں ان کے ساتھ ہمدردی و تعاون کرنایہ اہل اسلام کا خصوصی شعاررہاہے ،کرفیوزدہ علاقوں میں جولوگ بھی غذائی اجناس اور راشن وغیرہ فراہم کررہے ہیں قابل مبارکباد ہے مزید ہمیں اس سلسلہ پیش قدمی کرنے کی ضرورت ہے ،حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے فعل مبارک سے مسلمانوں کو جو نمونۂ عمل عنایت فرمایا اس کی ایک مثال اس روایت میں ملتی ہے:

ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم بعث خمس مائۃ دینارالی مکۃ حین قحطوا وامر بدفعہا الی ابی سفیان بن حرب وصفوان بن امیۃ لیفرقا علی الفقراء اہل مکۃ ۔

ترجمہ: ایک سال مکہ مکرمہ کے لوگ قحط میں مبتلا ہوگئے تو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ابوسفیان بن حرب اور صفوان بن امیہ کے پاس پانچ سو درہم روانہ کئے تاکہ وہ مکہ کے ضرورت مندوں اور محتاجوں میں تقسیم کریں ۔(رد المحتار،ج2 ،ص92)

اس طرح کی دین اسلام میں بے شمار نظیریں ملتی ہیں ۔

جو بندہ اللہ تعالی کی رضا کی خاطرکسی بھی آفت زدہ ،مصیبت میں مبتلاشخص کی مدد کرتاہے تووہ دنیاوآخرت میں اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خوشنودی حاصل کرلیتاہے

زجاجۃ المصابیح میں حدیث پاک ہے:

وعن أنس قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : " من قضی لأحد من أمتی حاجۃ یرید أن یسرہ بہا فقد سرنی ومن سرنی فقد سر اللہ ومن سر اللہ أدخلہ اللہ الجنۃ "-

ترجمہ:سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو شخص میری امت کے کسی مصیبت زدہ کی کوئی حاجت پوری کرکے اسکے لئے خوشیوں کا سان فراہم کرتاہے تو دراصل اس نے مجھے خوش کیا اور جس نے مجھے خوش کیا اس نے اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرلی اور جس نے اللہ تعالی کو خوش کیا، اللہ تعالی اسے جنت میں داخل فرمائے گا-( زجاجۃ المصابیح،ج4،ص99)
از:حضرت ضیاء ملت مولانا مفتی حافظ سید ضیاء الدین نقشبندی دامت برکاتہم العالیہ