بڑے بڑے عادی مجرم اور گناہگار اللہ کی پکڑ میں فوراً کیوں نہیں آتے؟ ارشاد باری تعالیٰ ہے (ترجمہ)اے لوگو جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اللہ کی رحمت سے ہرگز مایوس نہ ہو بیشک اللہ تبارک تعالیٰ تمام گناہوں کو معاف کردینے والاہے بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے (الزمر39:53)۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ نے اپنی رحمت کے سَو حِصے کیے ایک حصّہ پوری دنیا پر تقسیم کردیا اور بقیّہ نناوے حصے اپنے پاس رکھے(المشکوۃ المصابیح)۔ ان آیات و احادیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت بڑی وسیع ہے جس کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں اور اس عظیم الشان رحمت کا یہ تقضا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ بندہ کو اسکے گناہوں کی وجہ سے فوراًگرفت میں نہیں لاتے بلکہ اسے ایک مقررہ مدت تک مہلت دیتے ہیں جس کی حد اللہ کے علم میں مقرر ہے تاکہ بندہ اپنے گناہوں پر شرمائے اور پشیمان ہو اور توبہ تائب ہو کر اللہ کی طرف رجوع کرے۔ سوال یہ ہے کہ اسے یہ مہلت کیوں دی جاتی ہے اور فوراً کیوں نہیں پکڑلیا جاتا؟ کیونکہ عام مشاہدہ کی بات ہے کہ اکثر بڑے بڑے گناہ گار، خطاکار اور ظالم و سرکش لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ آزاد پھرتے ہیں اور جو چاہتے ہیں کرتے ہیں اور کوئی انھیں پوچھنے والا نہیں مگر ایسی کو ئی بات نہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے غافل نہیں وجہ یہ ہے کہ وہ عاصی و گناہگار لوگوں کو فوراً نہیں پکڑتابلکہ انھیں مہلت دیتا ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ اللہ کی بہت سی شانیں ہیں جن کے تحت بندہ کو ہر ممکن تحفظ دیا جاتا ہے مثلاً..... رحمت و کرم، بخشش و عطا، گناہو ں سے در گزر کرنا، گناہوں کو نظر ا نداز کرنا اور مہلت دینا وغیر ہم۔ لہٰذا جب اللہ تبارک و تعالیٰ بندہ کو اسکے گناہوں کی وجہ سے پکڑنا چاہتے ہیں تو اللہ کی شان رحمت و کرم آڑے آجاتی ہے اور بزبان حال یہ عرض کرتی ہے کہ یہ بندہ گناہگار ہے اور گناہ کرنا اسکی فطرت میں شامل ہے یہ اپنی حرکات کی وجہ سے پستی اور ذلت کے مقام پر پہنچ چکا ہے مگر آپ تو عظمت والے اور بلندی والے ہیں آپ نے اسکو نہیں دیکھنا بلکہ آپ نے تو اپنی عزت و جلال اور بلندی مکاں کو دیکھنا ہے لہٰذا اس بندہ پر رحم فرمائیے اور اسے مہلت عطا کیجئے شائد یہ سنبھل جائے، لہٰذا اسے مہلت مل جاتی ہے۔ اورجب وہ پھر بھی نہیں سنبھلتا تو پھر ایک اور شان آڑے آجاتی ہے اور اسے پھراور مہلت مل جاتی ہے۔ اسی طرح تما م شانیں یکے بعد دیگرے ختم ہو جاتی ہیں مگر وہ بند ہ ظلم و بربریت اورگناہ کی گہرائیوں میں اترتا ہی چلا جاتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کی شان غضب و انتقام جوش میں آتی ہے اور وہ بندہ اللہ کی پکڑ میں آجاتا ہے۔ مسئلہ کی بات یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی صفات یا اسکی شان کے بارہ میں عقائد کی کتابوں میں لکھا ہے کہلاَ عین ولا غیر کہ اللہ تعالیٰ کی صفات نہ ہی اسکی عین ہیں اور نہ ہی اسکی غیر ہیں یعنی وہ اس سے جدا نہیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کی شان کا بزبان حال عرض کرنے کی تمثیل ایک حدیث شریف سے لی گئی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ الرمضان والقرآن یشفعان للعبد کہ رمضان اور قرآن بندہ کی شفاعت کریں گے۔ اب جب وہ بندہ اپنی روش نہیں بدلتا اور بے خوف خطر ہوکر اپنے انجام سے یکسر غافل ہو جاتاہے تو اسکے بارہ میں یہ حتمی فیصلہ ہوتا ہے کہ اسے پکڑ میں لایا جائے اور اسے اسکے منطقی انجام تک پہنچایا جائے لہٰذا یہ شخص اللہ کی پکڑ میں آجاتا ہے اور مکافات عمل کے تحت اپنے کئے کی سزا بھگتتا ہے کہ...... گند م از گندم جوزجو از مکافات عمل غافل مشو کہ جب گندم کی ُبوائی کی جائے گی تو گندم ہی اُگے گی اور جب جوَ کی بجائی ہوگی تو جوَ ہی حاصل ہونگے لہٰذ مکافات عمل سے غافل نہیں رہنا چاہیے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے(ترجمہ)اگر اللہ تبارک و تعالیٰ لوگوں کو انکے گناہوں پر فوراً پکڑتا تو زمین پر چلنے والا کوئی بھی زندہ نہ چھوڑتا تاہم وہ انھیں ایک مدت تک مہلت دیتا ہے مگر جب مقررہ وقت آجاتا ہے تو(ان لوگوں کو پتہ چل جاتا ہے)کہ اللہ تعالیٰ انھیں دیکھ رہا ہے اور وہ ان سے غافل نہیں(فاطر:35:40)۔ اور سورہ ھود آیت نمبر102کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ظالموں کو بڑی حد تک مہلت دی جاتی ہے اور کسی طرح باز نہیں آتے تو پکڑ کر گلا دبا دیا جاتاہے اور اگر مجرم چاہے کہ اسکی تکلیف کم ہو یا اللہ کی پکڑ سے چھوٹ کر بھاگ نکلے تو.....ایں خیال محال است و جنوں لہٰذا انسان کو چاہیے کہ وہ اس مقام پرپہچنے سے پہلے ہی واپس آجائے اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے رجوع کرلے اور توبہ تائب ہو جائے تاکہ اسپر رحم کیا جائے اور وہ اللہ کی پکڑ سے بچ جائے۔ ََُِ