اچھے اعمال سے پہلے اپنے عقیدہ کو درست کرنا ضروری ہے
محمد رفیق اعتصامی
[center]اگر کوئی شخص اسلام قبول کرناچا ہے تو اسے سب سے پہلے یہ گواہی دینا ہوگی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اورحضرت محمد الرسول للہﷺ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اسکے رسول ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں پر ایمان، اسکے رسولوں علیہم الصّلوٰۃ واسلام پر ایمان،یوم آخرت پر ایمان، تقدیر پر ایمان اور مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اب یہ شخص مسلمان ہے اور اسکے ذمہ پانچ وقت کی نماز فرض ہے،اور زکوٰۃ کی ادایئگی،رمضان المبارک کے روزے رکھنا اور حج پر جانا فرض ہے اگر اسکی استطاعت ہواور دیگر احکامات پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ اب اگر بالفرض یہ شخص نماز نہیں پڑھتا یا کبھی پڑھتا ہے اور کبھی چھوڑ دیتا ہے یا کبھی روزے رکھتا ہے اور کبھی نہیں رکھتا یا زکوٰ ۃ کی ادائیگی یا دیگر احکامات پر عمل نہیں کرتا تو یہ شخص مسلمان ہے مگر گناہگار ہے اور اگراس نے کفر و شرک نہیں کیا تو اسکے گناہوں کی معافی کی امید ہے۔ اس کے برعکس جو شخص کافر ہے وہ چاہے کتنے ہی اعلیٰ اخلاق کا مالک ہے اور نہایت سخی آدمی ہے حاجت مندوں کی مدد کرتا ہے اور بھی اچھے کام کرتا ہے مگر اسلامی تعلیمات کی رو سے اسکے ان اعمال کا بدلہ اسے دنیا میں ہی دے کر حساب برابر کر دیا جاتاہے اور آخرت میں اسے کچھ نہیں ملے گا اور کفر اور شرک کی وجہ سے اسکا ٹھکانہ جہنم ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ جب مسلمان اپنے گناہوں کی سزا بھگتنے کیلئے جہنّم میں جائیں گے توکافر انہیں کہیں گے کہ تمہیں تمہارے اسلام نے کیا فائدہ دیا کہ تم بھی ہمارے ساتھ آگ میں جل رہے ہو؟اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ یہ حکم دیں گے کہ جن لوگوں کے دلوں میں رائی برابر ایمان ہے انھیں جہنّم سے نکال لیا جائے تو انھیں جہنّم سے نکال لیا جائے گا اور جنّت میں داخل کیا جائے گا او ر پھر جہنّم کا منہ ہمیشہ کیلئے بند کردیا جائیگا اور کافر و مشرک ہمیشہ جلنے کیلئے اس میں باقی رہ جائیں گے۔ یہ ہے ایمان کی اصل قیمت اور فائدہ!اور یہیں سے عقیدہ اور عمل کاباہمی تعلق واضح ہو جاتا ہے کہ جہنّم میں ہمیشہ رہنا صرف کافر اور مشرک کیلئے ہے مسلمان اگر دوزخ میں جائیں گے بھی تو عارضی طور پر، صرف اپنے گناہوں کی سزا بھگتنے کیلئے اور پھر وہاں سے نکال لئے جائیں گے۔ اور بات یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی وسیع رحمت،نیک لوگوں اور اپنے اچھے اعمال کی شفاعت سے قوی امید ہے کہ دوزخ میں جانے کی نوبت ہی نہیں آئے گی اور اللہ تبارک و تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے صاحب ایمان لوگوں کو جنت میں داخل فرمائیں گے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے عقائد کو درست کیا جائے یعنی کفر و شرک سے مکمل اجتناب کیا جائے اور اللہ تبارک و تعالیٰ، انبیآء علہم الصلوٰۃ والسّلام اور ختم نبوّت کے بارہ میں جو عقائد اہل سنّت و جماعت کی کتابوں سے ثابت ہیں انھیں اختیار کیا جائے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت سے قوی امیدہے کہ وہ گناہوں کو معاف فرماکر جنت میں داخل کریں گے،آمین۔