Results 1 to 8 of 8
Like Tree1Likes
  • 1 Post By Rabia Iram

دجال کون ہے اور یہ کب اور کس طرح ظاہر ہوگا

This is a discussion on دجال کون ہے اور یہ کب اور کس طرح ظاہر ہوگا within the Zaarori Maloomat forums, part of the Mera Deen Islam category; دجال طلحہ السیف کے قلم سے یہ تمام مضمون حضر ت شاہ رفیع الدین صاحب اور حضرت مولانا بدر عالم ...

  1. #1
    *I am Banned*
    Join Date
    Aug 2009
    Location
    .`* CiTy OV lYt *`.
    Age
    29
    Posts
    6,350

    Arrow دجال کون ہے اور یہ کب اور کس طرح ظاہر ہوگا

    دجال


    طلحہ السیف کے قلم سے


    یہ تمام مضمون حضر ت شاہ رفیع الدین صاحب اور حضرت مولانا بدر عالم میرٹھی کے رسائل سے لیا گیا ہے
    سب سے بڑا فتنہ
    حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آدم علیہ السلام کی پیدائش سے لیکر قیامت آنے تک دجال سے زیادہ بڑااور کوئی فتنہ نہیں ہے ۔(مسلم)
    دجال کے شعبدے
    حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال بائیں آنکھ سے کانا ہوگا اس کے جسم پر بہت گھنے بال ہوں گے اور اس کے ساتھ اس کی جنت اور دوزخ بھی ہو گی لیکن جو اس کی جنت نظر آئے گی در اصل وہ اس کی دوزخ ہو گی اور جو دوزخ نظر آئے گی وہ اصل میں جنت ہوگی (لہٰذا جس کو وہ جنت بخشے گا وہ دوزخی ہو گا او جس کو اپنی دوزخ میں ڈالے گا وہ جنتی ہو گا۔(مسلم شریف)
    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تم کو دجال کے متعلق ایسی بات نہ بتا دوں جو حضرت نوح علیہ السلام سے لیکر آج تک کسی نبی نے اپنی امت کو نہ بتائی ہو دیکھو وہ کانا ہو گا اور اس کے ساتھ جنت او ردوزخ کے نام سے دو شعبدے بھی ہوں گے تو جس کو وہ جنت کہے گا وہ درحقیقت دوزخ ہو گی دیکھو دجال سے میں بھی تم کو اسی طرح ڈراتا ہوں جیسا کہ نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو ڈرایا تھا۔( متفق علیہ)
    دجال سے دور رہو
    عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو جو شخص دجال کی خبر سنے اس کوچاہئے کہ وہ اس سے دور ہی رہے بخدا کہ ایک شخص کو اپنے دل میں یہ خیال ہو گا کہ وہ مو من آدمی ہے لیکن ان عجائبات کو دیکھ کر جو اسکے ساتھ ہوںگے وہ بھی اس کے پیچھے لگ جائے گا ( ابو داد )


    دجال کا حلیہ
    عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے دجال کے متعلق کچھ تفصیلات تم لوگوں سے بیان کیں لیکن مجھ کو خطرہ ہے کہ کہیں تم پورے طور پر اس کو نہ سمجھے ہو دیکھو مسیح دجال کا قد ٹھنگنا ہو گا اس کے دو نوں پیر ٹیڑھے ، سر کے بال شدید خمیدہ ، ایک چشم مگر ایک آنکھ بالکل پٹ صاف نہ اوپر کو ابھری ہوئی نہ اندر کو دھنسی ہوئی اگر اب بھی تم کو شبہ رہے تو یہ بات یاد رکھنا کہ تمھارا رب یقیناً کانا نہیں ہے ۔(ابو داد)


    ہر نبی نے دجال سے ڈرایا
    ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے خود سنا ہے کہ نوح علیہ السلام کے بعد جو نبی آیا ہے اس نے اپنی قوم کو دجال سے ضرور ڈرایا ہے اور میں بھی تم کو اس سے ڈراتا ہوں اس کے بعد آپ نے اس کی صورت وغیرہ بیان فرمائی اور کہا ممکن ہے جنہوں نے مجھ کو دیکھا ہے یا میرا کلام سنا ہو ۔اس میں کوئی ایسا نکل آئے جو اس کا زمانہ پاسکے انہوں نے پوچھا اس دن ہمارے دلوں کا حال کیسا ہو گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا ہی جیسا آج ہے یااور بھی بہتر۔(ترمذی و ابو داد)


    دجال کے ظہور کی علامات
    اسما ءبنت یزید بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف فرما تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر فرمایا کہ اس کے ظہور سے پہلے تین قحط پڑیں گے ایک سال آسمان کی ایک تہائی بارش رک جائے گی اور زمین کی پیداواربھی ایک تہائی کم ہو جائے گی دوسرے سال آسمان کی دو حصے بارش رک جائے گی اور زمین کی پیداوار دوحصے کم ہو جائے گی اور تیسرے سال آسمان سے بارش بالکل نہ برسے گی اور زمین کی پیداوار بھی کچھ نہ ہو گی حتیٰ کہ جتنے حیوانات ہیں خواہ وہ کھر والے ہوں یاڈاڑھ سے کھانے والے سب ہلاک ہو جائیں گے اور اس کا سب سے بڑا فتنہ یہ ہو گا کہ وہ ایک گنوار آدمی کے پاس آ کر کہے گا اگر میں تیرے اونٹ زندہ کر دوں تو کیا اس کے بعد بھی تجھ کو یہ یقین نہ آئے گا کہ میںتیرارب ہوں ؟وہ کہے گا ضرور ، اس کے بعد شیطان اسی کے اونٹ کی سی شکل بن کر اس کے سامنے آئے گا جیسے اچھے تھن اور بڑے کوہان والے اونٹ ہوا کرتے ہیں اسی طرح ایک اور شخص کے پاس آئے گا جس کا باپ اور سگا بھائی گزر چکا ہو گا اور اس سے آ کر کہے گا بتلا اگر میں تیرے باپ بھائی کو زندہ کر دوں تو کیا پھر بھی یہ یقین نہ آئے گا کہ میں تیرا رب ہوں وہ کہے گا کیوں نہیں ؟بس اس کے بعد شیطان اس کے باپ بھائی کی صورت بن کر آ جائے گا ۔حضر ت اسماءکہتی ہیں کہ یہ بیان فرما کر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم ضرورت سے باہر تشریف لے گئے اسکے بعد لوٹ کر دیکھا تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس بیان کے بعد سے بڑے فکر و غم میں پڑے ہوئے تھے ۔اسماءکہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ کے دونوں کواڑ پکڑ کر فرمایا اسماءکہو کیا حال ہے ؟میں نے عر ض کیا یارسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم دجال کا ذکر سن کر ہمارے دل تو سینے سے نکلے پڑتے ہیں اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ میری زندگی میں ظاہر ہوا تو میں اس سے نمٹ لوں گا ورنہ میرے بعد پھر ہر مومن کا نگہبان میرارب ہے میں نے عرض کی یارسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم ہمارا حال جب آج یہ ہے کہ ہم آٹا گوندھنا چاہتے ہیں مگر غم کے مارے اس کو اچھی طرح گو ندھ بھی نہیں سکتے چہ جائے کہ روٹی پکاسکیں بھوکے ہی رہتے ہیں تو بھلا اس دن مومنوں کا حال کیا ہو گا جب یہ فتنہ آنکھوں کے سامنے آ جائے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااس دن ان کو وہ غذا کافی ہو گی جو آسمان کے فرشتوں کی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتقدیس۔(احمد)



    دجال کی بدخلقی
    دجال قوم یہود میں سے ہو گا عوام میں اس کا لقب مسیح ہو گا دائیں آنکھ میں پھلی ہو گی ۔گھونگر دار بال ہوں گے ۔سواری میں ایک بڑا گدھا ہو گا اولاً اس کا ظہور ملک عراق و شام کے درمیان ہو گا۔جہاں نبوت و رسالت کا دعویٰ کرتا ہو گا پھر وہاں سے اصفہان چلاجائے گا یہاں اس کے ہمراہ ستر ہزار یہودی ہوں گے یہیںسے خدائی دعویٰ کرکے چاروں طرف فساد برپا کرے گا۔اور زمین کے اکثر مقامات پر گشت کرکے لوگوں سے اپنے تئیںخدا کہلوائے گا ۔


    دجال کی جادو گریاں اور مو منوں کی آزمائش
    لوگوں کی آزمائش کیلئے خداوند کریم اس سے بڑے خرق عادات ظاہر کرائے گا اس کی پیشانی پر لفظ (ک،ف،ر)لکھا ہوگا جس کی شناخت صرف اہل ایمان کر سکیں گے اس کے ساتھ ایک آگ ہو گی جس کو دوزخ سے تعبیر کرے گا اور ایک باغ جو جنت کے نام سے موسوم ہو گا مخالفین کو آگ میں موافقین کو جنت میں ڈالے گا مگر وہ آگ درحقیقت باغ کے مانند ہو گی اور باغ آگ کی خاصیت رکھتا ہو گا نیز اس کے پاس اشیائے خوردنی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہو گا جس کو چاہے گا دے گا جب کوئی فرقہ اس کی الوہیت کو تسلیم کریگا تو اس کیلئے اس کے حکم سے بارش ہو گی انا ج پیدا ہوگا درخت پھلدار مویشی موٹے تازے اور شیردار ہو جائیں گے ۔جو فرقہ اس کی مخالفت کرے گا تو اس سے اشیائے مذکورہ بند کردے گا اور اسی قسم کی بہت سی ایذائیں مسلمانوں کو پہنچائے گا مگر خدا کے فضل سے مسلمانوں کو تسبیح و تہلیل کھانے پینے کا کام دے گی اس کے خروج کے بیشتر دو سال تک قحط رہ چکا ہوگا تیسرے سال دوران قحط ہی میں اس کا ظہور ہوگا زمین کے مدفون خزانے اس کے حکم سے اس کے ہمراہ ہو جائیں گے بعض آدمیوں سے کہے گا کہ میں تمھارے مردہ ماں باپوں کو زندہ کرتا ہوں تاکہ تم اس قدرت کو دیکھ کر میری خدائی کا یقین کر لو پس شیاطین کو حکم دے گا کہ زمین میں سے ان کے ماں باپوں کے ہم شکل ہو کر نکلوچنانچہ وہ ایساہی کرینگے۔


    دجال مکہ و مدینہ میں داخل نہ ہو سکے گا
    اس کیفیت سے بہت سے ممالک پر اس کا گزر ہو گا یہاں تک کہ وہ جب سرحد یمن میں پہنچے گا اور بددین لوگ بکثرت اس کے ساتھ ہو جائیں گے تو وہاں سے لوٹ کر مکہ معظمہ کے قریب مقیم ہو جائے گا مگر بسبب محافظت فرشتوں کے مکہ معظمہ میں داخل نہ ہو سکے گا پس وہاں سے مدینہ منورہ کا قصد کرے گا اس وقت مدینہ کے سات دروازے ہوں گے ہر دروازے کی محافظت کیلئے خداوند کریم دو دو فرشتے متعین فرمائے گا جن کے ڈر سے دجال کی فوج داخل شہر نہ ہو سکے گی نیز مدینہ منورہ میںتین مرتبہ زلزلہ آئے گا جس کی وجہ سے بدعقیدے و منافق لوگ خائف ہو کر شہر سے نکل کر دجال کے پھندے میں گرفتار ہو جائیں گے ۔


  2. #2
    *I am Banned*
    Join Date
    Aug 2009
    Location
    .`* CiTy OV lYt *`.
    Age
    29
    Posts
    6,350

    Re: دجال کون ہے اور یہ کب اور کس طرح ظاہر ہوگا

    مدینہ کے ایک بزرگ کے ہاتھوں دجال کی رسوائی
    اس وقت مدینہ منورہ میں ایک بزرگ ہوں گے جو دجال سے مناظرہ کرنے کیلئے نکلیں گے دجال کی فوج کے قریب پہنچ کر ان سے پوچھیں گے کہ دجال کہاں ہے وہ اس کی گفتگو کو خلاف ادب سمجھ کر قتل کرنے کاقصد کریں گے مگر بعض ان میں قتل سے مانع ہوں گے اور کہیں گے کیا تم کو معلوم نہیں کہ ہمارے اور تمھارے خدا ( دجال) نے منع کیا ہے کہ کسی کو بغیر اجازت کے قتل نہ کرنا ۔
    پس وہ دجال کے سامنے جاکر بیان کریں گے کہ ایک گستاخ شخص آیا ہے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہونا چاہتا ہے دجال ان کو اپنے پاس بلائے گا جب وہ بزرگ دجال کے چہرے کو دیکھیں گے تو فرمائیں گے میں نے تجھے پہچان لیا تو وہی ملعون ہے جس کی پیغمبر خدصلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی اور تیری گمرائی کی حقیقت بیان فرمائی تھی دجال غصہ میں آ کر کہے گا کہ اس کو آرے سے چیر دو بس وہ آپکو ٹکڑے کرکے دائیں بائیں جانب ڈال دیں گے پھر دجال خود ان دونوں ٹکڑوں کو جمع کرکے زندہ ہونے کا حکم دے گا چنانچہ وہ خدائے قدوس کی حکمت وارادے سے زندہ ہو کر کہیں گے کہ اب تو مجھ کو پورا یقین ہوگیا تووہی مردود دجال ہے کہ جس کی ملعونیت کی خبر پیغمبرخدصلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی ۔دجال جھنجھلا کراپنے معتقدین کو حکم دے گا کہ اس کو ذبح کر دو پس وہ آپ کے حلق پرچھری پھیریںگے مگر اس سے آپ کو کوئی ضرر نہ پہنچے گا ۔دجال شرمندہ ہو کر ان بزرگ کو اپنی دوزخ میں جس کا ذکر اوپر گزر چکا ڈال دے گا مگر خدا وند کریم کی قدرت سے وہ آپ کے حق میں بردو سلام ہو جائیگی اس کے بعد دجال کسی مردہ کے زندہ کرنے پر قدرت نہ پائے گا اور یہاں سے ملک شام کی جانب روانہ ہو جائے گا۔

    حضرت عیسٰی علیہ السلام کا نزول
    دجال کے دمشق پہنچنے سے پہلے حضر ت امام مہدی علیہ السلام دمشق آ چکے ہوں گے اور جنگ کی پوری تیاری و ترتیب فوج کر چکے ہوں گے جنگ کا سازو سامان و آلات تقسیم ہوں گے کہ موذن فجر کی اذان دے گا لوگ نماز کی تیاری ہی میں ہوں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو فرشتوں کے کاندھوں پر تکیہ کئے آسمان سے دمشق کی جامع مسجد کے شرقی منارہ پر جلوہ افروز ہو کر آواز دیںگے کہ سیڑھی لے آو � پس سیڑھی حاضرکر دی جائے گی۔

    حضرت عیسیٰ اور حضرت مہدی کی ملاقات
    آپ اس کے ذریعہ سے نیچے اتر کر امام مہدی سے ملاقات فرمائیں گے ۔امام مہدی نہایت تواضع و خوش خلقی کے ساتھ آپ سے پیش آئیں گے او ر فرمائیں گے یا نبی اللہ امامت کیجئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ارشاد فرمائیں گے کہ امامت تم ہی کرو کیونکہ تمھارے بعض بعض کے لئے امام ہیں اور یہ عزت اس امت کوخدانے دی ہے پس امام مہدی نماز پڑھائیں گے حضرت عیسیٰ اقتدا کریں گے۔


    حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ کا عجیب و غریب واقعہ
    فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان کرنے والے کو سنا وہ اعلان کر رہا تھا چلو نماز ہونے والی ہے میں نماز کے لئے نکلی او ر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر منبر پر بیٹھ گئے اور آپ کے چہرے پر اس وقت مسکراہٹ تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر شخص اپنی اپنی جگہ بیٹھا رہے اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جانتے ہو میں نے تم کو کیوں جمع کیا ہے انہوں نے عرض کی اللہ اور اس کے رسول ہی کو معلوم ہے آپ نے فرمایا بخدا میں نے تم کو نہ تو مال وغیرہ تقسیم کیلئے جمع کیا ہے نہ کسی جہاد کی تیاری کیلئے بس صرف اس بات کیلئے جمع کیا ہے کہ تمیم داری پہلے نصرانی تھا وہ آیا ہے اور مسلمان ہو گیا ہے اور مجھ سے ایک قصہ بیان کرتا ہے جس سے تم کو میرے اس بیان کی تصدیق ہو جائے گی جو میں نے کبھی دجال کے متعلق تمھارے سامنے ذکر کیاتھاوہ کہتا ہے کہ وہ ایک بڑی کشتی پر سوا ر ہو ا جس پر سمندر میں سفر کیا جاتا ہے اور ان کے ساتھ قبیلہ لخم اور جذام کے تیس آدمی اور تھے سمندر کا طوفان ایک ماہ تک ان کا تماشا بناتا رہا۔آخر مغربی جانب ان کو ایک جزیرہ نظر پڑا جس کو دیکھ کر وہ بہت مسرور ہوئے اور چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر اس جزیرہ پر اتر گئے سامنے سے ان کو جانور کی شکل کی ایک چیز نظر پڑی جس کے سارے جسم پر بال ہی بال تھے کہ اس میں اس کے اعضائے مستورہ تک کچھ نظر نہ آتے تھے لوگوں نے اس سے کہا کمبخت تو کیا بلاہے ؟وہ بولی میں دجال کی جاسوس ہوں چلو اس گرجے چلو وہاں ایک شخص ہے جس کو تمھارا بڑا انتظار لگ رہا ہے یہ کہتے ہیں کہ جب اس نے ایک آدمی کا ذکر کیا تو اب ہم کو ڈر لگا کہ کہیں وہ جن نہ ہو ہم لپک کر اسے گرجے میں پہنچے تو ہم نے ایک بڑا قوی ہیکل شخص دیکھا کہ اس سے قبل ہم نے ویسا کوئی شخص نہیں دیکھا تھا اس کے ہاتھ گردن سے ملا کر اور اس کے پیر گھٹنوں سے لیکر ٹخنوں تک لوہے کی زنجیروں سے نہایت مضبوطی سے جکڑے ہوئے تھے ہم نے اس سے کہا تیرا ناس ہو تو کون ہے ؟وہ بولاتم کو تو میرا پتہ کچھ نہ کچھ لگ ہی گیا اب تم بتاﺅ تم کون لوگ ہو انہوں نے کہا کہ ہم عرب کے باشندے ہیں ہم ایک بڑی کشتی میں سفر کررہے تھے سمندر میں طوفان آیا اور ایک ماہ تک رہا اس کے بعد ہم اس جزیرہ میں آئے تو یہاں ہمیں ایک جانور نظر پڑا جس کے تمام جسم پر بال ہی بال تھے اس نے کہا میں جساسہ ( جاسوس ۔خبر رساں ) ہوں چلو اس شخص کی طرف چلو جو اس گرجے میں ہے اس لئے ہم جلدی جلدی تیرے پاس آ گئے اس نے کہا مجھے یہ بتا کہ بیسان ( شام میں ایک بستی کا نام ہے ) کی کھجوروں میں پھل آتا ہے یا نہیں ۔ہم نے کہا ہاں آتا ہے ۔اس نے کہا وہ وقت قریب ہے جب اسمیں پھل نہ آئیں پھر اس نے پوچھا اچھا بحیرہ طبریہ کے متعلق بتا اسمیں پانی ہے یانہیں؟ ہم نے کہا بہت ہے اس نے کہا وہ زمانہ قریب ہے جبکہ اس میں پانی نہ رہے گاپھر اس نے پوچھا زغر(شام میں ایک بستی ) کے چشمہ کے متعلق بتا اس میں پانی ہے یانہیں اوراس بستی والے اس کے پانی سے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں ہم نے کہا اس میں بھی بہت پانی ہے اور لوگ اسی کے پانی ہے اور لوگ اسی کے پانی سے کھیتوںکو سیراب کرتے ہیں پھر اس نے کہا اچھانبی الامیین کاکچھ حال سنا ۔ ہم نے کہا وہ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے آئے ہیں اس نے پوچھا عرب کے لوگوں نے اس کے ساتھ جنگ کی ہے ہم نے کہا ہاں اس نے پوچھا اچھا پھر کیا نتیجہ رہا ہم نے بتایا کہ وہ اپنے گرد و نوا ح پرتو غالب آ چکے ہیں اور لوگ ان کی اطاعت قبول کر چکے ہیں اس نے کہا سن لو ان کے حق میں یہی بہتر تھا کہ ان کی اطاعت کرلیں اور اب میں تم کو اپنے متعلق بتاتاہوں میںمسیح دجال ہوں او روہ وقت قریب ہے جبکہ مجھ کو یہاں سے باہر نکلنے کی اجازت مل جائے گی میں باہر نکل کر تمام زمین گھوم جاں گا اور چالیس دن کے اندر اندر کوئی بستی ایسی نہ رہ جائے گی جس میں میں داخل نہ ہوں بجز مکہ اور طیبہ کے ان دونوں مقامات میں میرا داخلہ ممنوع ہے جب میں ان دونوں میں سے کسی بستی پر داخل ہونے کا ارادہ کروں گا اس وقت ایک فرشتہ ہاتھ میں ننگی تلوار لئے سامنے سے آ کر مجھ کو داخل ہونے سے روک دیگااوران مقامات (مقدسہ ) کے جتنے راستے ہیں ان سب پر فرشتے ہوںگے کہ وہ ان کی حفاظت کررہے ہوں گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لکڑی منبر پر مار کرفرمایا کہ وہ طیبہ یہی مدینہ ہے یہ جملہ تین بار فرمایا ۔ دیکھو کیا یہی بات میں نے تم سے بیان نہیں کی تھی لوگوں نے کہا جی ہاں آپ نے بیان فرمائی تھی اس کے بعد فرمایا دیکھو وہ بحرشام یا بحریمن (راوی کو شک ہے) بلکہ مشرق کی جانب ہے او اسی طرف ہاتھ سے اشارہ فرمایا ۔(مسلم)


  3. #3
    *I am Banned*
    Join Date
    Aug 2009
    Location
    .`* CiTy OV lYt *`.
    Age
    29
    Posts
    6,350

    Re: دجال کون ہے اور یہ کب اور کس طرح ظاہر ہوگا

    دجال کا ساتھی اور دجال کا قتل
    حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے دیکھا تو میں رو رہی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیوںرو رہی ہو میں نے عرض کیا یا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر اس طرح فرمایا کہ اس غم میں مجھ کو بے ساختہ رونا آگیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ نکلا اور میں اس وقت موجود ہوا تو تمھاری طرف سے میں اس سے نمٹ لونگا اور اگر وہ میرے بعد نکلاتو پھر یہ بات یاد رکھنا کہ تمھارا پرورد گار کانا نہیں ہے (اور وہ کانا ہو گا) جب وہ نکلے گا تو اس کے ساتھی اصفہان کے یہود ہوںگے یہاں تک کہ جب مدینہ آئے گا تووہاں ایک طرف آ کر اترے گا اس وقت مدینہ کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازہ پر دو دو فرشتے نگران ہوں گے ( جو اس کے اندر آنے سے مانع ہوںگے ) مدینہ میں جو بداعمال آباد ہیں وہ نکل کر خود اس کے پاس چلے جائیں گے اس کے بعد وہ فلسطین میں باب لد پر آئے گا ۔عیسیٰ علیہ السلام نزول فرما چکے ہوں گے اوریہاں وہ اسکوقتل کریں گے پھر عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال تک ایک منصف امام کی حیثیت سے زمین پر زندہ رہیں گے۔( مسند احمد )


    آگ پانی اور پانی آگ
    ربعی بن حراش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عقبہ بن عمرو نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ نے دجال کے متعلق جو بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی وہ ہم کو بھی سنا دیجئے۔ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے خود سنا ہے کہ دجال جب ظاہر ہو گا تو اس کے ساتھ پانی ا ور آگ دونوں ہوں گے مگر لوگوں کو جو آگ نظر آئے گی وہ ٹھنڈا پانی ہو گا اور جس کو لوگ ٹھنڈا پانی سمجھیں گے وہ جھلسا دینے والی آگ ہو گی لہٰذا تم میں جس کو بھی یہ زمانہ ملے اس کو چاہئے کہ جو آگ معلوم ہو رہی ہو اس میں داخل ہو جائے کیونکہ درحقیقت وہ آب خنک ہو گا۔( بخاری شریف) یہاں مسلم کی روایت میں اتنا اضافہ اور ہے کہ دجال کی ایک آنکھ میں موٹا سا ناخونہ ہو گا اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر کے حروف علیحدہ علیحدہ لکھے ہوئے ہوں گے جس کو ہر مومن پڑھ لے گا چاہے وہ خواندہ ہو یا ناخواندہ اور ایک روایت میں ہے کہ اس کی آنکھوں کے درمیان ک، ف، ر اور ایک روایت میں کاف، الف، را ہو گا۔


    حضرت مہدی اور حضرت عیسیٰ کامل کر
    دجال کی فوج سے لڑنا اور دجال کو قتل کرنا

    پھر حضرت عیسیٰ سے کہیں گے یا نبی اللہ اب لشکر کا انتظام آپ کے سپرد ہے جس طرح چاہیں انجام دیں وہ فرمائیں گے نہیں یہ کام بدستور آپ ہی کے تحت میں رہے گا میں تو صرف قتل دجال کے واسطے آیا ہوں جس کا مارا جانا میرے ہی ہاتھ سے مقدر ہے رات امن و امان کے ساتھ بسر کرکے امام مہدی فوج ظفر موج کو لے کر میدان کارزار میں تشریف لائیں گے ۔حضرت عیسیٰ فرمائیں گے کہ میرے لئے گھوڑا اور نیزہ لا تاکہ اس ملعون کے شر سے زمین کو پاک کر دوں پس حضرت عیسیٰ دجال پر اور اسلامی فوج اس کے لشکر پر حملہ آور ہو گی نہایت خوفناک اورگھمسان کی لڑائی شروع ہو جائے گی اس وقت دم عیسوی کی یہ خاصیت ہو گی کہ جہاں تک آپ کی نظر کی رسائی ہو گی وہیں تک یہ بھی پہنچے گا اورجس کافر تک آپ کا سانس پہنچے گا تو وہ نیست و نابود ہوجایا کرے گا۔


    دجال کافرار
    دجال آپ کے مقابلہ سے بھاگے گا آپ اس کا تعاقب کرتے کرتے مقام لد میں جالیں گے اور نیزے سے اس کا کام تمام کرکے لوگوں پر اس کی ہلاکت کا اظہار کریں گے کہتے ہیں کہ اگر حضرت عیسیٰ اس کے قتل میں عجلت نہ کرتے تو بھی وہ آپ کے سانس سے اس طرح پگھل جاتا جیسے پانی میں نمک ۔ اسلامی فوج دجال کے لشکر کے قتل و غارت کرنے میں مشغول ہو جائے گی یہودیوں کو جو اسکے لشکر میں ہونگے کوئی چیز پناہ نہ دیگی یہاں تک کہ اگر بوقت شب کسی پتھر یا درخت کی آڑ میں ان میں سے کوئی پناہ گزین ہو تو وہ بھی آواز دیگا اے خدا کے بندے دیکھ اس یہودی کو پکڑ اور قتل کر ۔مگر درخت غر قدان کو پناہ دیکر اخفائے حال کریگا۔


    دجالی فتنہ کے چالیس روز
    زمین پر دجال کے شر و فساد کا زمانہ چالیس روز تک رہے گا کہ جن میں سے ایک دن ایک سال کے ایک ایک مہینہ کے اور ایک ایک ہفتہ کے برابر ہو گا باقی ماندہ ایام معمولی دنوں کے برابر ہوں گے بعض روایتوں میں ہے کہ دنوں کی درازی بھی دجال کے استدراج کی وجہ سے ہوگی کیونکہ وہ ملعون آفتاب کوحبس کرنا چاہے گا خداوند کریم اپنی قدرت کاملہ سے اس کی حسب مرضی آفتاب کو روک دے گا اصحاب کرامؓ نے جناب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جو روز ایک سال کے برابر ہو گا اس میں ایک دن کی نماز پڑھنی چاہئے یا سال بھر کی؟آپ نے فرمایا ہ اندازہ و تخمینہ کرکے ایک سال ہی کی نماز ادا کرنی چاہئے شیخ محی الدین ابن عربی ؒجو ارباب کشف و شہود کے محققین میں سے ہیں فرماتے ہیں کہ اس دن کی تصویر دل میں یوں آتی ہے کہ آسمان پر ایک ابر محیط طاری ہو گا اور ضعیف و خفیف روشنی جو عموماًایسے ایام میں ہوا کرتی ہے تاریکی محض سے مبدل نہ ہو گی او رآفتاب بھی نمایاں نہ ہو گا پس لوگ بموجب شرع اندازہ تخمینہ سے اوقات نماز کے مکلف ہوںگے ۔واللہ اعلم بالصواب


    دجالی شرانگیزیوں سے متاثرہ شہروں کی تعمیر نو اور روئے زمین پر انصاف کا قیام
    دجال کے فتنہ کے خاتمہ پر حضرت امام مہدی و حضرت عیسیٰ ان شہروں میں کہ جن کو دجال نے تاخت و تاراج کر دیا ہو گادورہ فرمائیںگے دجال سے تکلیف اٹھائے ہوئے لوگوں کو خدا کے یہاں اجر عظیم ملنے کی خوشخبری دیکر دلاسا و تسلی دیں گے اور اپنی عنایات و نوازشات عامہ سے ان کے دنیاوی نقصانات کی تلافی کریں گے ۔حضرت عیسیٰ قتل خنزیر شکست صلیب اور کفار سے جزیہ قبول کرنے کے احکام صادر فرما کر تمام کفار کو اسلام کی طرف مدعو کریںگے خدا کے فضل و کرم سے کوئی کافر بلاد اسلام میں نہ رہے گا تمام زمین حضرت مہدی کے عدل و انصاف کے چمکاروں سے منور وروشن ہو جائے گی ظلم و بے انصافی کی بیخ کنی ہو گی تمام لوگ عبادت و اطاعت الہٰی میں سرگرم و مشغول ہوںگے آپ کی خلافت کی میعاد سات ،آٹھ یا نو سال ہو گی
    واضح رہے کہ سات سال عیسائیوں کے فتنہ اور ملک کے انتظام میں آٹھواں سال دجال کے ساتھ جنگ و جدال میں اور نواں سال حضرت عیسیٰ کی معیت میں گزرے گا اس حساب سے آپ کی عمر49 سال ہو گی۔


    دجالی فتنہ اور سورہ کہف
    اب رہا یہ سوال کہ پھر سورہ کہف کے اور اس فتنہ سے تحفظ کے درمیان ربط کیا ہے کہ اسی کی تلاوت کو اس سے تحفظ کو سبب قرار دیا گیا ہے تو اولاً اصولاً یہ سمجھ لیجئے کہ خوارق جس طرح خود سببیت اور مسببیت کے علاقہ سے باہر نظر آتے ہیں اسی طرح جو افعال ان کے قابل ہیں وہ بھی سببیت کے علاقہ سے بالاتر ہوتے ہیں مثلاً نظر کا لگنا سب جانتے ہیں کہ یہ صحیح حقیقت ہے اور گو علماءنے اس کی معقولیت کے اسباب بھی لکھے ہیں مگر بظاہر اس کا کوئی سبب معلوم نہیں ہوتا اس لئے بہت سے اشخاص تو اب تک اس کے قائل ہی نہیں اور اس کو صرف ایک وہم پرستی اور تخیل سمجھتے ہیں لیکن اس کے دفعیہ کے لئے جو صورتیں مجرب ہیں وہ بھی اکثر اسی طرح غیر قیاسی ہیں اسی طرح سمی جانوروں کے کاٹنے کے جومنتر اور افسوں ہیں وہ اکثر یا تو بے معنی ہیں اور جن کے معنی کچھ مفہوم ہیں بھی ان میں سمیت دفع کرنے کا کوئی سبب ظاہر نہیں ہوتا۔ حدیثوں میں بہت سی سورتوں کے خواص مذکور ہیں مثلاً سورہ فاتحہ کہ وہ بہت سے لا علاج امراض کے لئے شفاہے اب یہاں ہر جگہ اس مرض اور اس سورت کے مضامین میں مناسبت پیدا کرنے کیلئے زمین و آسمان کے قلابے ملانا بیکار کی سعی ہے۔ پھر اس قسم کی ذہنی مناسبات انسانی دماغ ہر جگہ نکال سکتا ہے اس لئے ہمارے نزدیک اس کاوش میں پڑنا مفت کی درد سری ہے۔ لیکن باایں ہمہ اگر سورہ � کہف اور دجالی فتنہ کے درمیان کوئی تناسب معلوم کرنا ہی ناگزیر ہو تو پھر بالکل صاف اور سیدھی بات یہ ہے کہ اصحاب کہف بھی کفروارتداد کے ایک زبردست فتنہ میں مبتلا ہوئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ان کے دل مضبوط رکھے اور اسلام پر ان کو ثابت قدم رکھا جیسا کہ اس سورت کے شروع ہی میں ارشاد ہے۔
    وربطنا علیٰ قلوبھم اذقاموا فقالواربنا رب السمٰوات والارض لن ندعو من دونہ الٰھاً لقد قلنا اذًا شططاً
    پس جس طرح صرف اللہ تعالیٰ کی مدد سے وہ محفوظ رہے تھے اسی طرح جب دجال کا سب سے زبردست ارتداد کفر کا فتنہ نمودار ہو گا تو اس وقت بھی صرف امداد الٰہی ہی سے لوگوں کے ایمان مضبوط رہیں گے۔

  4. #4
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    Re: دجال کون ہے اور یہ کب اور کس طرح ظاہر ہوگا

    ...........

  5. #5
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    Re: دجال کون ہے اور یہ کب اور کس طرح ظاہر ہوگا

    ...................
    Attached Images Attached Images
    • File Type: jpg 1.jpg (160.5 KB, 45 views)
    • File Type: jpg 2.jpg (174.1 KB, 44 views)
    • File Type: jpg 3.jpg (166.4 KB, 44 views)
    • File Type: jpg 4.jpg (111.7 KB, 45 views)

  6. #6
    iTT Student Rabia Iram's Avatar
    Join Date
    May 2013
    Location
    Lahore
    Age
    31
    Posts
    29

    Re: دجال کون ہے اور یہ کب اور کس طرح ظاہر ہوگا

    YA Allah Hmari Rhnumai Kije ga.
    lovelyalltime likes this.

  7. #7
    iTT Student
    Join Date
    Sep 2013
    Location
    lahore
    Age
    28
    Posts
    80

    Re: دجال کون ہے اور یہ کب اور کس طرح ظاہر ہوگا

    jazak allah it is great information.

  8. #8
    :) LIFE :( lovelywafa's Avatar
    Join Date
    Nov 2009
    Location
    Lahore
    Posts
    298

    Re: دجال کون ہے اور یہ کب اور کس طرح ظاہر ہوگا

    jazak allah khair

Similar Threads

  1. Replies: 5
    Last Post: 29th May 2013, 12:20 AM
  2. Replies: 7
    Last Post: 30th March 2011, 03:47 AM
  3. Replies: 11
    Last Post: 18th June 2010, 09:12 AM
  4. Replies: 3
    Last Post: 29th July 2009, 04:45 AM
  5. Replies: 1
    Last Post: 8th March 2009, 07:35 PM

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •