ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا آئینہ ہے
محمد رفیق اعتصامی
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے فرمایا نبی پاکﷺ نے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا آئینہ ہے اور ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے جو اسے نقصان سے بچاتا ہے اور اسکی غیر حاضری میں اسکا دفاع کرتا ہے (حسن البانی)۔ اس حدیث شریف میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا آئینہ ہے اس حیثیّت سے کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ گویا یہ میں ہی ہوں یعنی اس مسلمان میں اسے اپنی ہی تصویر نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اسکے نفع و نقصان کو اپنا نفع نقصان ہی سمجھتا ہے اور اسے نفع پہنچانے اور نقصان سے بچانے کی فکر میں لگا رہتا ہے اور اسکی غیر حاضری میں اگر کوئی اسکے خلاف بات کرتا ہے تو وہ اسکا دفاع کرتا ہے اور اسکے دامن پر کوئی آ نچ نہیں آنے دیتا۔ اس حدیث شریف میں جن دو مسلمانوں کی مثال بیان کی گئی ہے مسلم معاشرے میں ایسے لوگ کم ہی ملتے ہیں عام طور پر خود غرضی اور مطلب پرستی کا دور ہے کوئی دوسرے کے کام نہیں آتا بلکہ گرتی ہو ئی دیوار کو ایک دھکا اور دو کے مصداق اسے اتنا نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ دوبارہ اٹھنے کا قابل ہی نہ رہے۔ بہر حال یہ حدیث شریف ہمیں یہ تعلیم دیتی ہے کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا خیال رکھے اور ہر ممکن طریقے سے اسکی مدد کرے اور کھ درد میں اسکے کام آئے، اور آجکل تو اس چیز کی بہت زیادہ ضرورت ہے کیونکہ کورونا وائرس ایک وباکی طرح پھیل رہا ہے اور ہمارے ملک اور خاص طور پر ہمارے شہر میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو دو وقت کی روٹی سے بھی تنگ ہیں لہٰذا انکی مدد کرنا ہمارا فرض بنتا ہے جو کہ اسلامی بھائی چارہ کا ایک اہم تقاضا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس فرمان نبوی ﷺ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔