محترمہ سیفی علی خان ایڈووکیٹ اور باغ فدک کا مسئلہ
Mohammad Rafique Etesame
محترمہ سیفی علی خان ایڈووکیٹ اور باغ فدک کا مسئلہ (تصویر کا دوسرا رخ) 28جنوری کو محترمہ سیفی علی خان ایڈووکیٹ نے ایک نیوز چینل کے ٹاک شو میں جوڈیشری پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہلوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ محترمہ مجھے انصاف نہیں ملتا تو میں کہتی ہوں کہ قیامت تک نہیں ملے گا بھی نہیں اور اسکی ایک بہت بڑی وجہ ہے کیونکہ نا انصافی اور ہماری جوڈیشری کا بیڑا غرق تو اسی دن ہو گیا تھا جس دن حضرت فاطمتہ الزھراء ؓ انصاف لینے کیلئے دربار گئیں اور انکو انصاف نہیں ملا اور نعوذ باللہ انکو جھٹلایا گیا انکی گواہی کو اور جوڈیشری تو اسی دن بیڑہ غرق ہوگئی تھی اب چاہے مجھ پر فتوٰی لگا دیں یا جو مرضی کر لیں مجھے اسکی پرواہ نہیں۔ انکے اس بیان پر شدید رد عمل سامنے آیا اور مختلف مکاتیب فکر سے تعلّق رکھنے والے علماء کرام نے اس بیان کی شدید مذمت کی اور پھر 6 فروری کو پاکستان بار کونسل کے وائس چئرمین عابد ساقی کی طرف سے محترمہ کے حق میں ایک پریس ریلیز جاری کیا گیا جس میں لکھا گیا ہے کہ..... The uncalled for outburst certain elements on social media and putting up objectionable banners in different cities against Mrs. Saify Ali khan, advocate Supreme Court and Member, Executive committe, Suprem Court Bar Association of Pakistan is highly diplorable... یعنی مسز سیفی علی خان کے حوالے سے مختلف شہروں میں جو انکے خلاف مختلف بینرزلگائے جارہے ہیں اور لوگ احتجاج کر رہے ہیں اور ایک نا معلوم صورت حال پیدا ہو رہی ہے تو اس حوالے سے یہ جو ٹوٹل کمیٹی ہے اور پاکستان بار کونسل کے ممبران ہیں یہ سب کہ سب اس حوالے سے شرمندہ ہیں اور یہ مباحثہ ایک ٹی وی چینل پر کچھ روز قبل چلا اوراس میں مسز سیفی علی خان نے حصہ لیا اور انھوں نے ایک بیان جاری کیا تو اکیڈمک لحاظ سے یہ ایک قدرتی بیان اور بالکل پیور اور خالص تھا مگر اس مسئلہ کو غلط رنگ دیا جارہا ہے اور اسے ایک خاص ایشو بنایا جارہا ہے.... الخ۔ اس مسئلہ کے پس منظر سے دونوں فریق پوری طرح آگاہ ہیں میں مسلک اہلسنّت سے تعلق رکھتے ہوئے اس پر اپنا موقف پیش کرنا چاہوں گا اگر کسی کو اس سے اختلاف ہو تو وہ علمی انداز اور دلائل میری بات کا جواب دے سکتا ہے۔ باغ فدک کا مسئلہ عرصہ دراز سے اہل تشیّع اور اہلسنّت کے درمیان وجہ نزاع بنا ہوا ہے اور فریقین کے درمیا ن اس موضوع پر باہم مناظرے بھی ہوتے رہتے ہیں مگر سینکڑوں سال گزرنے کے باوجو یہ مسئلہ جوں کا توں ہے۔ اہل تشیّع کے علماء جب اس مسئلہ کو بیان کرتے ہیں تو بات یہیں پر ختم ہو جاتی ہے حضرت بی بی فاطمۃ الزہراؓ خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیق کے دربار میں گئیں اور ان سے اپنے والد محترمﷺ کی وراثت یعنی باغ فدک کامطالبہ کیا مگر انھوں نے اپنی طرف سے گھڑی ہوئی ایک حدیث کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایاہے کہہم گروہ انبیآء کے کسی کو وارث نہیں کرتے جو کچھ ہم چھوڑ مرتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے سنا کر انھیں ورثہ دینے سے انکار کردیا اور انکی گواہی کو جھٹلایا۔مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ یہی حدیث تقریباً انھی الفاظ میں شیعہ حضرات کی معتبر کتاب کافی کلینی میں حضرت امام جعفر صادقؓ سے بھی منقول ہے جو کچھ یوں ہے انّ العلماء ورثۃ الانبیآء و ذالک انّ الا نبیآء لم یورّثوا درھماً ولادیناراًوا نّما ورّثوااحادیث ھم فمن اخذ بشیء مّنھا فقد اخذا بحظ وافر (کافی کلینی)۔ ترجمہ:علماء وارث انبیآء کے ہیں اور یہ اس واسطے کہ انبیآء نے وارث نہیں کیا کسی کودرہم و دینار کا اور وارث کیا انھوں نے احادیث کا (اپنی حدیثوں سے) سو جس نے لیا البتّہ لیا اس نے بہت بڑا حصہّ۔ مگر شاید وہ شیعہ ذاکرین کو نظر نہیں آتی اور وہ اپنا سارا زور خلیفہ اوّل پر طعن و تشنیع کرنے میں صرف کرتے ہیں کہ انھوں نے انصاف کا خون کیا اور بی بی صاحبہؓ کو میراث سے محروم کیا۔ اور آگے یہ بیان نہیں کرتے کہ بعد میں پھر اس باغ کا کیا بنا تھا کیا حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے اسے اپنی ملکیّت میں داخل کرلیا تھااور اسے اپنی جاگیر بنالیا تھا یا وہ باغ پھر کہاں گیا تھا کیا اس پر خدا نخواستہ کوئی بگولہ آن پڑا تھا اور وہ ختم ہو گیا تھا؟ اور دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر انھوں نے حضرت بی بی صاحبہؓ کو اس سے محروم کیا تو کیا اس سے آپ ﷺ کی ازواج مطہّراتؓ اور خاص طور پر اپنی بیٹی حضرت عائشہ صدّیقہؓ کو حصہ دیا اور یقیناً نہیں دیا تو پھر ان سے کیا دشمنی تھی کہ انھیں میراث سے محروم کیا؟ بہرحال انھوں نے اس باغ فدک میں جیسے بھی تصرّف کیا یہ اسی طرح جوں کا توں خلیفہ دوم حضرت عمرؓ کو منتقل ہوا اور پھر خلیفہ ثالث حضرت عثمانؓ اور پھر اسی طرح صحیح سالم حضر ت علی کرّم اللہ وجہ کے دور خلافت میں یہ باغ ان کے قبضہ میں آیا۔ شیعہ روایات کے مطابق جب سیّدہ فا طمۃ الزّھراءؓ حضرت صدیق اکبرؓ کے دربار میں اپنا حق لینے کیلئے گیئں تھیں تو حضرت علی کرّم اللہ وجہ بھی گواہی دینے کیلئے ا نکے ساتھ تھے مگر خلیفہ اوّل نے ان کی گواہی کو جھٹلایا اور گستاخی سے پیش آئے۔ اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ باغ فدک جب منتقل ہوتا ہوا انکے پاس آیا تو کیا انھوں نے اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہ تینوں خلفاء تو انھیں اس حق سے محروم رکھا اب یہ اللہ کی قدرت سے ہمارے پاس آگیا ہے، اپنی اس وراثت پر قبضہ کیوں نہیں کیا اور اسے انکے حقیقی وارثوں پر تقسیم کیوں نہیں کیا؟ با جماع اہل سیر اور تواریخ اور علمائے حدیث کے یہ بات ثابت اور طے شدہ ہے کہ متروکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کاخیبر و فدک وغیرہ کے عمر بن خطابؓ کے عہد میں حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ کے اختیار میں تھا، حضرت علیؓ نے عباسؓ پر غلبہ پایا اور بعد علی المرتضٰی ؓکے حسن بن علیؓ انکے بعد حسین بن علیؓ، پھر علی بن حسینؓ اور حسن بن حسنؓ کے ہاتھ آیا کہ دونوں اس میں تداول کرتے تھے یعنی ایک دوسرے کے اختیار میں جاتا تھا، اسکے بعد زید بن حسن بن علیؓ برادر حسن بن حسنؓ کے متصرف ہوئے۔ پھر یہ باغ فدک مروان بن حکم کے قبضہ میں رہا حتّی کہ نوبت خلافت حضرت عمر بن عبد العزیز تک پہنچی(تحفہ اثنا عشریہ از شاہ عبد العزیز محدث دہلوی)۔ یہ تفصیل بیان کرنے کا مقصد یہ ہے اگرخلیفہ اوّل نے جوڈیشری کا بیڑہ غرق کیا اور انصاف کاخون کیا تھا اور سیّدہ فاطمۃ الزہرا ؓ کو انکا حق نہ دیا تو جب یہ باغ حضرت علیؓ اورانکے بعد اولاد فاطمہؓ کے پاس آیا تو انھوں اپنی اس وراثت پر قبضہ کیوں نہیں کیا اور اسے حضرت عمر بن عبد العزیز تک پہنچنے کی نوبت کیوں آئی؟امید ہے کہ شیعہ حضرات دلائل سے اسکاجواب دیں گے۔