اللہ سے ہوتا ہے اور اللہ کے غیر سے کچھ نہیں ہوتا محمد رفیق اعتصامی ارشاد باری تعالیٰ ہے حکم تو صر ف اللہ کا ہے اور فرمایا کہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے بادشاہی زمینوں اور آسمانوں کی (القرآن)۔ اسلام ایک ایسا دین ہے کہ جس کے پیروکاروں کو یہ حکم ہے کہ وہ یہ عقیدہ رکھیں کہ ہر کام اللہ سے ہوتا ہے اور اللہ کے غیر سے کچھ نہیں ہوتا، مقصد یہ ہے کہ ہر کام اللہ تبارک و تعالیٰ کے حکم اور اسکے ارادہ سے ہوتاہے اور اسکے بغیر کچھ نہیں ہو سکتالہٰذا وہ اپنے تمام کاموں میں اللہ کے حکم اور اسکی مرضی کو پیش نظر رکھیں۔ مثلاً ایک مومن مسلمان کو بھوک لگی ہے اور وہ کھانا کھانے لگا ہے تو اسکا طریقہ ہے کہ کھانا کھانے سے پہلے دعا پڑھی جائے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے نام کے ساتھ اور اسکی برکت کے ساتھ اور کھانا اللہ کا حکم سمجھ کر کھایا جائے، اپنے سامنے سے کھایا جائے اور کھا نا کھانے کے بعد یہ دعا پڑھی جائے کہتمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کیلئے ہیں جس نے ہمیں کھانا کھلایا ،پانی پلایا اور مسلمان بنایا اس میں کھانا اللہ کا حکم سمجھ کر کھانا خاص طور پر قابل غور ہے مقصد یہ ہے کہ کھا نا بذات خود کچھ نہیں کر سکتا نہ تو بھوک مٹا سکتا ہے اور ہی کوئی اور نفع یا نقصان پہچا سکتا ہے جب تک اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہو۔مگر چونکہ کھا نا کھانے کا حکم اللہ کا ہے اور نبی پاکﷺ کی سنّت ہے اور اس میں بھوک مٹانے کی صفت پیدا کرنا اللہ کا کام ہے۔ یعنی بھوک تو اللہ کے حکم سے مٹتی ہے کھانے سے نہیں اور یہ کام کسی اور ذریعہ سے بھی ہو سکتا ہے مثلاً بعض بزرگوں سے یہ منقول ہے کہ اللہ کا ذکر کرنے سے انکی بھوک اور پیاس مٹ جایا کرتی تھی۔ اور یہ اصول سب جگہ اور ہر کام میں لاگو ہوتا ہے مثلاً اگر کسی شخص نے کوئی کاروبار کرنا ہے تو اسکا یقین یہ ہونا چاہئیے کہ کاروبار تو اللہ نے چلانا ہے اور روزی اس نے دینی ہے کاروبار، کھیتی باڑی یا سروس نے نہیں اور میں اسکا حکم سمجھ کر ایک وسیلہ اختیار کر رہا ہوں۔ لہٰذا یقین کامل یہ ہونا چاہئیے کہ تمام کاموں کو کرنے والا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے اسکے حکم کے بغیر کوئی بھی ذریعہ یا وسیلہ کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ اور اگر یقین کسی ذریعہ یا اسباب پر ہے تو یہ شرک خفی ہے۔شرک کی دو قسمیں ہیں یعنی شرک جلی او ر شرک خفی، شرک جلی یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالی ٰ کی ذات اور صفات میں کسی اور کو شریک کیا جائے یعنی یہ عقیدہ رکھا جائے کہ جس طرح اللہ تبارک و تعا لیٰ روزی دیتے ہیں زندہ کرتے ہیں موت دیتے ہیں بعینہ اسی طرح فلاں بت یا کوئی اور چیز بھی یہ کام کر سکتی ہے۔ اور شرک خفی ہلکا درجہ کا شرک ہے مثلاً اگر کسی کا یہ یقین ہو کہپانی میری پیاس بجھاتا ہے ، روٹی میری بھوک مٹاتی ہے اوردوا مجھے بیماری سے شفا دیتی ہے اوراسی طرح وہ اپنے دیگر کاموں کے ہونے یا نہ ہونے میں بھی ذرائع اور اسباب پر یقین رکھتا ہے، تو گویا اس نے اس اسباب کو خدائی کا درجہ دیا۔ یعنی روٹی پانی اور دوا اسکےخداہیں جو اسکی حاجات کو پورا کرتے ہیں۔ عام حالات میں یہ بات ذرا عجیب سی لگتی ہے کیونکہ عام طور پر لوگ کھانا کھانے، پانی پینے یاکوئی دوا لیتے وقت یہ نہیں سوچتے کہ ہم یہ کام اللہ کا حکم سمجھ کر کر رہے ہیں اور ان میں اثر پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کاکام ہے۔ مگر ایک مومن مسلمان کا یقین یہی ہونا چاہئیے کہ اللہ سے ہوتا ہے اور اسکے غیر سے کچھ نہیں ہوتا، اور پھر پکی بات یہ ہے کہ جیسا اسکا یقین ہو گا ویسا ہی نتیجہ برآمد ہو گا۔ ایک حدیث شریف کے مطابق اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں ہیں کہ میں بندوں سے انکے گمان کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں یعنی جیسا وہ میرے بارے میں عقیدہ اور یقین رکھتا ہے اسی کے مطابق فیصلہ آتا ہے۔ لہٰذاکسی کام کو کرنے یا کسی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے اسباب کو ضرور اختیار کیا جائے مگر یقین مسبب الاسباب پر ہونا چاہیے سبب پر نہیں