کھانا کھانے کے آداب اور سنّتیں محمد رفیق اعتصامی حضرت امّاں عائشہ صدّیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے فرمایا نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلّم نے کہ جب تم میں سے کوئی کھانا شروع کرے تو بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ لے او راگر وہ شروع کرتے وقت بھول جائے تو جب یاد آئے تو یہ پڑھے بسم اللہ اوّلہ و آخرہ(المشکوٰۃ المصابیح) اس حدیث شریف میں کھانا شروع کرتے وقت بسم اللہ پڑھنے کا ذکر ہے کہ اس سے کھانے میں برکت ہوتی ہے اور شیطان کا عمل دخل نہیں ہوتا اور اگر شروع میں پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آئے تو پڑھے بسم اللہ اوّلہ و آخرہ یعنی شروع کرتا ہوں میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے نام کے ساتھ اوّل اور آخر میں اور بعض علماء کرام کے نزدیک کھانے کے شروع میں یہ پڑھے بسم اللہ و علیٰ برکۃ اللہ کہ میں شروع کرتاہوں اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ اور اسکی برکت کے ساتھ اور آخر میں یہ پڑھے کہ الحمد للّٰلہ الّذی اطعمنا و سقانا و جعلنا من المسلمین، کہ تمام تعریفیں اللہ تبارک و تعالیٰ کیلئے ہیں جس نے ہمیں کھانا کھلایا پانی پلایا اور مسلمان بنایا۔ اور کھانا کھانے مزید سنتیں یہ ہیں کہ کھانے سے پہلے ہاتھ دہو لئے جائیں اور جب اچھی طرح بھوک لگ جائے توکھایا جائے اورتھوڑی سی بھوک باقی ہو تو کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا جائے اور پیٹ کے تین حصّے کئے جائیں ایک روٹی کیلئے ایک پانی کیلئے اور ایک ہو ا کیلئے، یعنی اس قدر پیٹ بھر کر نہ کھایا جائے کہ سانس لینا بھی دشوار ہوجائے،اور اپنے سامنے سے کھایا جائے اور اگر بزرگ دستر خوان پر بیٹھے ہوں تو کھاناان سے شروع کرایا جائے اور کھاناکھانے کے بعد صابن وغیرہ سے ہاتھ دھو لئے جائیں اوراچھی طرح سے کلّی کر لی جائے تاکہ کھانے کے اجزاء دانتوں سے نکل جائیں،دعا ہے کے اللہ تعالیٰ ہم سب کوان سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔