Results 1 to 2 of 2

رفع الیدین سے متعلق باہم مخالف روایات

This is a discussion on رفع الیدین سے متعلق باہم مخالف روایات within the Zaarori Maloomat forums, part of the Mera Deen Islam category; یہ تحریر یہاں سے لی گئی لنک http://www.islamic-belief.net/q-a/عبادت/ رفع الیدین سے متعلق باہم مخالف روایات میں کوئی تطبیق ممکن ہے ...

  1. #1
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    رفع الیدین سے متعلق باہم مخالف روایات


    یہ تحریر یہاں سے لی گئی

    لنک

    http://www.islamic-belief.net/q-a/عبادت/


    رفع الیدین سے متعلق باہم مخالف روایات میں کوئی تطبیق ممکن ہے ؟

    بہت سے مسائل میں صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین کا اختلاف تھا جو مدینہ سے منتقل ہونے پر مخلتف بلاد و امصآر میں پھیل گئے یہاں تک کہ سن ١٥٠ ہجری میں صحیح نماز کیا ہے ؟ کیا رفع الیدین کیا جائے یا نہ کیا جائے کی بحثوں نے علماء کو گھیر لیا اور تب سے اب تک اس پر کتابیں لکھی جا رہی ہیں

    امام مالک اور امام ابو حنیفہ رفع الیدین کے بغیر نماز کو صحیح سمجھتے تھے


    امام احمد ، امام الشافعی، امام بخاری اس پر عمل ضروری سمجھتے تھے


    احنآف متقدمین ترک رفع الیدین کے قائل ہیں بعض اس کو منسوخ عمل کہتے ہیں مالکیہ میں اس پر اختلاف ہے بعض کرتے ہیں بعض نہیں – دوسری طرف شوافع اور حنابلہ رفع الیدین کو ضروری سمجھتے ہیں اور غیر مقلدین بھی


    ان دونوں موقف رکھنے والوں نے ایک دوسرے کے خلاف کتب لکھیں اس میں راویوں کی شامت آئی کیونکہ ان دونوں گروہوں میں رفع الیدین پر منسوخ اور غیر منسوخ کی بحث چھیڑ گئی


    یہ اختلاف بہت قدیم ہے اس مسئلہ پر بہت سی کتب ہیں جو احناف اور غیر مقلدین نے لکھی ہیں دونوں میں اپنے مدعآ کی روایات ہیں اور ان کا تجزیہ نہیں کیا جاتا بس راوی دیکھا اور ضعیف کہہ دیا یا کوئی نقص نکال دیا – ایک عام قاری سخت خلجان میں مبتلا ہوتا ہے کہ یا الہی یہ ماجرا کیا ہے


    یہاں ان روایات کا علاقائی تجزیہ کیا گیا ہے تاکہ اختلاف کو سمجھا جا سکے اور مخالف و متضاد روایات میں تطبیق کی صورت دیکھی جائے


    مدینہ میں ابن عمر رضی الله عنہ ، أبو حميد الساعدي رضی الله عنہ الأَنْصَارِيّ (توفي فِي آخر خلافة معاوية)، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رضی الله عنہ ، أبو قتادة بن ربعي رضی الله عنہ ، مُحَمَّد بن مسلمة رضی الله عنہ رفع الیدین کرتے تھے لیکن وقت کے ساتھ یہ عمل وہاں ختم ہو گیا یہاں تک کہ امام مالک تک اس کو نہ کرتے تھے


    ابن عمر رضی الله عنہ نے رفع الیدین رکوع میں کیا لیکن سجدوں میں نہیں کیا یہ صحیح بخاری کی روایت ہے لیکن ایک دوسری روایت جو مسند الحمیدی کی ہے اس میں ہے


    حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَلَا يَرْفَعُ وَلَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ


    عبدالله بن عمر رضی الله عنه نے فرمایا میں نے رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم کو دیکها که جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے هاته کندهوں تک اٹهاتے اور جب رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹهاتے تو رفع یدین نه کرتے اور نه سجدوں کے درمیان رفع یدین کرتے


    یعنی ابن عمر رضی الله عنہ ہر نماز میں رفع الیدین نہیں کرتے تھے –


    نوٹ : غیر مقلدین دعوی کرتے ہیں کہ مسند حمیدی کا یہ نسخہ ناقص ہے اس کے مقابلے پر برصغیر کا نسخہ لیا جائے جس میں ابن عمر کا رفع الیدین کا ذکر ہے – جبکہ مسند حمیدی کا یہ نسخہ عرب دنیا کا ہے اور برصغیر کا نسخہ کس طرح غیر ناقص نہیں اس کی کوئی خارجی دلیل نہیں ہے


    موطآ امام محمد میں ہے


    قَالَ مُحَمَّدٌ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ فِي أَوَّلِ تَكْبِيرَةِ افْتِتَاحِ الصَّلاةِ، وَلَمْ يَرْفَعْهُمَا فِيمَا سِوَى ذَلِكَ


    مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ ، عبدالعزیز بن حکیم سے روایت هے وه کہتے هیں که میں نے عبدالله بن عمر رضی الله عنه کو دیکها که وه اپنے هاتهوں کو کانوں کے مقابل تک نماز کی پہلی تکبیر کے وقت اٹهاتے اور اس کے سوا کسی موقعه میں نه اٹهاتے تهے

    محدثین کی ایک جماعت مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ کو ضعیف کہتی ہے لیکن امام محمد اس روایت کے ساتھ اور روایات بھی نقل کرتے ہیں جن میں دیگر اصحاب رسول کا صرف تکبیر تحریمہ پر رفع الیدین کا ذکر ہے گویا ان کے نزدیک یہ روایت حسن ہے اور اس طرح وہ اس سے دلیل لیتے ہیں

    مصنف ابن ابی شیبه کی روایت أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ حُصَيْنِ بنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ کی سند سے ہے کہ

    حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَا يَفْتَتِحُ

    میں نے نہیں دیکھا کہ ابن عمر رفع الیدین کرتے ہوں سوائے نماز شروع کرنے کے

    لگتا ہے کہ ابن عمر رضی الله عنہ نے رفع الیدین کو ہر نماز میں نہیں کیا جیسا مسند الحمیدی میں ہے لیکن وہ اس کے قائل تھے کہ اس کو کیا جا سکتا ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے

    امام بخاری نے کتاب قرة العينين برفع اليدين في الصلاة میں اس أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ کے قول ایک انتہائی عجیب توجیہ کی ہے لکھتے ہیں کہ وَرَوَى عَنْهُ أَهْلُ الْعِلْمِ أَنَّهُ لَمْ يَحْفَظْ مِنِ ابْنِ عُمَرَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ ابْنُ عُمَرَ سَهَا كَبَعْضِ مَا يَسْهُو الرَّجُلُ فِي الصَّلَاةِ فِي الشَّيْءِ بَعْدَ الشَّيْءِ اصحاب رسول سے بعض دفعہ نماز میں غلطی ہو جاتی تھی جس پر وہ سہو کرتے تھے لیکن ظاہر ہے جب یہ مجاہد نے دیکھا ہی نہیں تو امام بخاری کی یہ توجیہ نا قابل قبول ہے

    محدثین جو رفع کے قائل تھے ان کے پاس اس کا کوئی جواز نہ تھا لہذا انہوں نے کہا

    قَالَ الْبُخَارِيُّ: ” قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ حُصَيْنٍ إِنَّمَا هُوَ تَوَهُّمٌ مِنْهُ لَا أَصْلَ لَهُ

    بخاری کہتے ہیں یحیی ابن معین نے کہا کی حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ حُصَيْنٍ ان کا وہم ہے اس میں اصل نہیں ہے

    لیکن یہ دعوی محدثین کے اس گروہ کا ہے جو رفع الیدین کا قائل ہے اور اس کے مخالف محدثین میں یہ وہم نہیں ہے

    امام بخاری حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ حُصَيْنٍ کے رد میں ایک اور قول پیش کرتے ہیں


    وَالثَّلَاثِ أَلَا تَرَى أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَرْمِي مَنْ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ بِالْحَصَى فَكَيْفَ يَتْرُكُ ابْنُ عُمَرَ شَيْئًا يَأْمُرُ بِهِ غَيْرَهُ , وَقَدْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ؟ .


    اور تیسری بات کیا تم دیکھتے نہیں کہ ابن عمر اس کو کنکر مارتے جو رفع نہ کرتا تو اس کو وہ کیسے چھوڑ سکتے ہیں جبکہ وہ انہوں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو کرتے دیکھا؟


    اس قول کی سند ہے


    مسند الحميدي – (ج 1 / ص 480)مسند عبد اللہ بن عمر
    حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِىُّ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَاقِدٍ يُحَدِّثُ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا أَبْصَرَ رَجُلاً يُصَلِّى لاَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ حَصَبَهُ حَتَّى يَرْفَعَ يَدَيْهِ.
    بے شک عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ جب کسی شخص کو دیکھتے کہ وہ اٹھتے بیٹھتے رفع الیدین نہیں کرتا تو اس کو کنکر مارتے۔


    اگر اس سند کو دیکھیں تو معلوم ہو جاتا ہے کہ سند منقطع ہے اس میں زید بن واقد نے کہا ہے کہ نافع سے روایت کیا ہے جبکہ ان سے اس کا سماع نہیں ہے


    مسند الشامییں طبرانی کی راویات کی سند میں ہے


    حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ


    یعنی زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ اور نافع کے بیچ مکحول ہیں جو مسند حمیدی کی روایت میں نہیں ہیں لہذا مسند حمیدی کی روایت منقطع ہے اور اس سے دلیل نہیں لی جا سکتی


    مکہ میں رفع الیدین نماز میں کیا جاتا تھا – وہاں عبد الله ابن زبیر کی روایت ہے جس کو البيهقي 2/ 73 نے أيوب السختياني، عن عطاء بن أبي رباح کی سند سے روایت کیا ہے جس میں رفع الیدین کا ذکر ہے


    قال: صليتُ خلف عبد الله بن الزبير، فكان يرفع يديه إذا افتتح الصلاة، واذا ركع، وإذا رفع رأسه من الركوع، فسألته فقال: صليت خلف أبي بكر الصديق رضي الله عنه فكان يرفع يديه إذا افتتح الصلاة، وإذا ركع، وإذا رفع رأسه من الركوع، وقال أبو بكر: صليت خلف رسول الله- صلى الله عليه وسلم -فكان يرفع يديه إذا افتتح الصلاة، وإذا ركع، وإذا رفع رأسه من الركوع.


    اس روایت پر بیہقی کہتے ہیں رواته ثقات اس کے راوی ثقہ ہیں لیکن ابن التركماني نے اس قول کا تعقب کیا اور واضح کیا ہے کہ اس کی سند میں محمد بن الفضل عارم ہے جو مختلط ہے .


    شعَيب الأرنؤوط سنن ابو داود کی تعلیق میں کہتے ہیں


    قلنا: ويؤيد رواية البيهقي ما أخرجه عبد الرزاق (2525) من طريق طاووس قال: رأيت عبد الله بن عمر وعبد الله بن عباس وعبد الله بن الزبير يرفعون أيديهم في الصلاة. وأخرج ابن أبي شيبة 1/ 235 عن عطاء مثله.


    ہم کہتے ہیں اس روایت کی تائید ہوتی ہے عبد الرزاق کی روایت سے جسے طاووس کے طرق سے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے ابن عمر اور ابن عباس اور ابن زبیر کو دیکھا نماز میں رفع کرتے ہوئے اس کو ابن ابی شیبه نے عطا سے اسی طرح بیان کیا ہے


    شعیب نے جس مصنف عبد الرزاق کی جس روایت کا حوالہ دیا ہے وہ یہ ہے


    عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا، وَهُوَ يُسْأَلُ عَنْ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ، وَعَبْدَ اللَّهِ، وَعَبْدَ اللَّهِ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي الصَّلَاةِ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ


    عبد الرزاق نے ابن جریج سے نقل کیا کہ ان کو حسن بن مسلم بْن يَنّاق المَكِّيّ نے خبر دی کہ انہوں نے طَاوُس سے سنا ان سے نماز میں رفع الیدین پر سوال ہوا تو انہوں نے کہا میں نے عبد الله بن عمر اور ابن عباس اور عبد الله ابن زبیر کو دیکھا نماز میں رفع الیدین کرتے ہوئے

    Last edited by lovelyalltime; 14th September 2016 at 08:32 PM.

    مجھے اللہ کافی ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، میرا بھروسہ اسی پر ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے

  2. #2
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    Re: رفع الیدین سے متعلق باہم مخالف روایات


    یعنی مکہ میں بسنے والے ابن زبیر اور ابن عباس رضی الله عنہما رفع الیدین کرتے تھے


    بصرہ میں سجدوں میں بھی رفع الیدین کیا جاتا تھا- مالك بن الحويرث ، أبو سليمان الليثى 9 ہجری میں مسلمان ہوئے بصرہ میں ٧٤ ھ میں وفات ہوئی مسند احمد کی روایت ہے


    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّهُ رَأَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي صَلَاتِهِ، إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ رُكُوعِهِ وَإِذَا سَجَدَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ سُجُودِهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ


    مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ کہتے ہیں انہوں نے سعید ابن أبي عروبة سے روایت کیا اور قتادہ نے نصر سے انہوں نے مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِث رضی الله عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول الله کو نماز میں رفع کرتے دیکھا جب رکوع سے سر اٹھاتے اور جب سجدہ کرتے اور جب سجدوں سے سر اٹھاتے ان کو کانوں تک لے جاتے


    اس روایت کے رد میں کہا جاتا ہے کہ راوی سعید ابن أبي عروبة اختلاط کا شکار تھے اور محمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ضعیف ہے لیکن محمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، کی سعید ابن أبي عروبة سے صحیح میں بخاری نے روایت لی ہے- دوسرا اعتراض پیش کیا جاتا ہے کہ اس میں قتادہ مدلس عن سے روایت کر رہا ہے اس کے مقابلے پر صحیح بخاری کی مالک بْنِ الْحُوَيْرِثِ رضی الله عنہ کی روایت پیش کی جاتی ہے جس میں سجدوں میں رفع الیدین کا ذکر نہیں ہے


    لیکن صحیح بخاری و مسلم کی مالک بْنِ الْحُوَيْرِثِ رضی الله عنہ کی روایت میں أبو قلابة عبد الله بن زيد البصري مدلس نے عن سے مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ سے روایت بیان کی ہے- اس کا ذکر بھی ہونا چاہیے أبو قلابة بصرہ سے شام گئے دارقطنی علل میں کہتے ہیں كثير الخطأ في الأسانيد والمتون، لا يحتج بما ينفرد به اسانید اور متن میں کثرت سے غلطیاں کیں اور ایسی روایت جس میں یہ منفرد ہوں اس سے دلیل نہیں لی جا سکتی


    بخاری نے خالد الحذّاء، عن أبي قلابة، عن مالك بن الحويرث کی سند سے روایت ہے جس میں سجدے میں رفع الیدین کے اضافی الفاظ نہیں ہیں لیکن اس میں خالد بن مهران الحذاء ہے جو خود مدلس ہے قال الحافظ في التقريب: ثقة يرسل وقد أشار حماد بن زيد إلى أن حفظه تغير لما قدم من الشام. حماد بن زید کہتے ہیں خالد بن مهران الحذاء شام پہنچے تو ان میں اختلاط آ چکا تھا- یعنی أبو قلابة کی روایت اتنی بھی ہی کمزور ہے جتنی قتادہ کی روایت تو ایک کو دوسری پر ترجیح کیسے دی جا سکتی ہے


    مالک بْنِ الْحُوَيْرِثِ رضی الله عنہ کی روایت کے علاوہ بصرہ منتقل ہونے والے انس بن مالک رضی الله عنہ بھی سجدوں میں رفع الیدین کرتے تھے اس روایت کو بہت سوں نے عبد الوہاب الثقفی کی سند سے نقل کیا ہے


    طحآوی مشکل الآثار میں کہتے ہیں


    وَأَمَّا حَدِيثُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ خَطَأٌ , وَأَنَّهُ لَمْ يَرْفَعْهُ أَحَدٌ إِلَّا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ خَاصَّةً , وَالْحُفَّاظُ يُوقِفُونَهُ , عَلَى أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ


    اور جہاں تک انس رضی الله عنہ کی روایت ہے اس پر دعوی کیا جاتا ہے کہ اس میں غلطی ہے اور اس کو صرف خاص عبد الوہاب نے بیان کیا ہے


    لیکن یہ احناف کا اعتراض صحیح نہیں ہے


    تفسیر قرطبی میں سوره کوثر کی تفسیر میں ہے


    فَرَوَى الدَّارَقُطْنِيُّ مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَإِذَا سَجَدَ. لَمْ يَرْوِهِ عَنْ حُمَيْدٍ مَرْفُوعًا إِلَّا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ. وَالصَّوَابُ: مِنْ فِعْلِ أَنَسٍ


    پس اس (سجدے میں رفع الیدین ) کو حمید نے انس سے روایت کیا ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب نماز میں داخل ہوتے تو ہاتھ اٹھاتے اور جب سر رکوع سے اٹھاتے اور جب سجدہ کرتے ، اسکو حمید سے مرفوعآ صرف عبد الوہاب نے روایت کیا ہے اور صحیح ہے کہ یہ انس رضی الله عنہ کا فعل ہے


    امام بخاری نے قرة العينين برفع اليدين في الصلاة میں لکھا ہے


    يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ


    یحیی بن ابی اسحاق نے کہا میں نے انس بن مالک رضی الله عنہ کو دیکھا وہ رفع الیدین کرتے جب سجدے کرتے


    امام بخاری نے بھی اس کو قبول کیا ہے کہ انس رضی الله عنہ سجدوں میں بھی رفع الیدین کرتے تھے


    البانی اس پر کتاب أصل صفة صلاة النبي صلى الله عليه وسلم میں جواب میں لکھتے ہیں


    أن زيادة الثقة مقبولة. وهو هنا عبد الوهاب الثقفي، وهو ثقة إمام، احتج به الشيخان وغيرهما، وقد رفع الحديث؛ فهي زيادة منه يجب قَبولها.


    بے شک ثقہ کی زیادت مقبول ہوتی ہے اور وہاں سند میں عبد الوہاب الثقفی ہے اور وہ ثقہ امام ہیں جن سے بخاری و مسلم نے دلیل لی ہے اور دیگر نے بھی . پس یہ زیادت واجب ہے کہ قبول کی جائے


    البانی مزید کہتے ہیں


    وإليك النصوصَ الواردة عن السلف في ذلك: 1- قال أبو سلمة الأعرج: أدركت الناس كلهم يرفع يديه عند كل خفض ورفع.


    رواه ابن عساكر كما في التلخيص (3/272) ، وسكت عليه.


    2- قال البخاري في رفع اليدين (24) : ثنا الهُذيل بن سليمان أبو عيسى قال: سألت الأوزاعي قلت:


    أبا عمرو! ما تقول في رفع الأيدي مع كل تكبيرة وهو قائم في الصلاة؟ قال: ذلك الأمر الأول. ثم ذكر (ص 18) عن عكرمة بن عمار قال: رأيت القاسم، وطاوساً، ومكحولاً، وعبد الله بن دينار، وسالماً يرفعون أيديهم إذا استقبل أحدهم الصلاة، وعند الركوع، وعند السجود. قال: وقال وكيع عن الربيع: قال: رأيت الحسن، ومُجاهداً، وعطاء، وطاوساً، وقيس بن سعد، والحسن بن مُسلِم يرفعون أيديهم إذا ركعوا، وإذا سجدوا. وقال عبد الرحمن بن مهدي: هذا من السنة.


    اور اس سلسلے میں سلف سے جو نصوص وارد ہوئے ہیں ان میں ہے کہ أبو سلمة الأعرج نے کہا میں لوگوں سے ملا جو ہر جھکنے اور اٹھنے پر رفع الیدین کرتے ہیں اس کو ابن عساکر نے روایت کیا ہے جیسا تلخیص میں ہے اور اس پر سکوت کیا ہے اور بخاری نے کتاب رفع الیدین میں کہا ہم سے الهُذيل بن سليمان أبو عيسى نے بیان کیا کہ انہوں نے امام الأوزاعي سے سوال کیا کہ اے ابا عمرو آپ کیا کہتے ہیں رفع الیدین ہر تکبیر پر اور وہ نماز میں کھڑا ہو الأوزاعي نے کہا یہ پہلے حکم تھا اور پھر عكرمة بن عمار کا ذکر کیا کہ انہوں نے کہا میں نے القاسم اور طاوس اور مكحول اور عبد الله بن دينار اور سالم کو دیکھا کہ نماز میں شروع میں رفع کرتے اور رکوع میں اور سجدے میں اور کہا کہ وكيع عن الربيع نے کہا میں نے حسن ، مجاہد اور عطا اور طاوس اور قیس اور حسن بن مسلم کو دیکھا رکوع میں رفع کرتے اور سجدوں میں بھی اور عبد الرحمن بن المہدی نے کہا یہ سنت ہے


    البانی نے سجدوں میں رفع الیدین والی روایت کو صحیح سنن نسائی میں بھی صحیح قرار دیا ہے اور روایت کو الإرواء میں ابن ابی شیبه کی سند سے صحیح کہا ہے


    یعنی بصرہ میں سجدے میں بھی رفع الیدین کیا جاتا تھا طحآوی مشکل الآثار میں روایت دیتے ہیں کہ بصرہ کے


    حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَ: كَانَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ يَرْفَعُ يَدَيْهِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ


    حماد بن زید سجدوں کے بیچ میں بھی رفع الیدین کرتے تھے


    مدینہ کے ابن عمر سجدوں میں رفع الیدین کے عمل کو بیان نہیں کرتے تھے بلکہ خاص اس کا ذکر کر کے کہتے کہ انہوں نے رسول الله کو یہ کرتے نہیں دیکھا جس سے ظاہر ہے بعض لوگ اس کو کر رہے تھے


    خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے میں جاتے ہوئے اور اٹھتے ہوئے ہاتھ اٹھائے ہیں، اور کبھی ہاتھ نہیں اٹھائے، چنانچہ ہر صحابی نے وہ بیان کیا ہے جو اس نے دیکھا تھا۔


    کوفہ میں عبد الله ابن مسعود رفع الیدین نماز کے ایک اہم جز کے طور پر بیان نہ کرتے تھے یہ مسلک احناف نے لیا ان کے مقابلے پر وائل بن حجر رضی الله عنہ کی روایت ہے جو کوفہ میں علی کے ساتھ لڑے اور جب معاویہ کوفہ پہنچے تو ان سے بیعت کر لی ان سے ان کے بیٹے عبد الجبار بن وائل بن حجر نے رکوع میں رفع الیدین کی حدیث نقل کی ہے امام بخاری کے نزدیک یہ روایت سماع ثابت نہ ہونے کی وجہ سے صحیح نہیں ہے


    صحیح مسلم کی روایت ہے
    عن جابر بن سمره رضی الله عنه قال خرج علینا رسول الله صلی الله علیه وسلم فقال مالی اراکم رافعی ایدیکم کانها اذناب خیل شمس اسکنوا فی الصلوته
    جابر بن سمره رضی الله عنه سے روایت هے که رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم همارے پاس تشریف لائے، آپ نے فرمایا که میں تم کو نماز میں شریر گهوڑوں کی دم کی طرح رفع یدین کرتے کیوں دیکهتا هوں نماز میں ساکن اور مطمئن رهو


    یہ روایت ایک اور سند سے طبرانی میں صحیح ابن خزیمہ میں نقل ہوئی ہے اس میں ہے کہ سلام کے وقت ہاتھ ران پر رکھو


    غیر مقلدین اس سے ثابت کرتے ہیں کہ سجدوں والا رفع الیدین منسوخ ہے اور احناف اس کو واضح کرتے ہیں کہ یہ دو الگ روایات ہیں لیکن راقم کا موقف ہے کہ صحیح ابن خزیمہ میں اس پر باب قائم کیا گیا ہے
    بَابُ الزَّجْرِ عَنِ الْإِشَارَةِ بِالْيَدِ يَمِينَا وَشِمَالًا عِنْدَ السَّلَامِ مِنَ الصَّلَاةِ


    باب ڈانٹ کا کہ ہاتھ سے نماز میں سلام (پھیرتے) کے وقت دائیں بائیں اشارہ کیا جائے


    صحیح ابن خزیمہ کی جابر بن سمرہ والی روایت کے الفاظ ہیں


    كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا بِأَيْدِينَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، يَمِينَا وَشِمَالًا


    ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے ہم نے اپنے ہاتھوں سے کہا السلام علیکم دائیں اوربائیں


    اسی کتاب کی دوسری روایت میں ہے


    أَشَارَ أَحَدُنَا إِلَى أَخِيهِ بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ


    ہم اپنے بھائیوں کو ہاتھ سے دائیں اور بائیں اشارہ کرتے


    یعنی اصحاب رسول ہاتھ اٹھا کر تشہد کے بعد سلام پھیرتے وقت اشارہ کر رہے تھے اس سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے منع کیا اور اسکو گھوڑوں کی دم کی طرح کہا


    معجم ابن عساکر میں روایت کے راوی مسعر بن کدام اس روایت میں کہتے ہیں


    قلنا السلام عليكم السلام عليكم ثم أشار مسعر بيده عن يمينه وعن شماله


    جابر نے کہا ہم نے کہا السلام علیکم السلام علیکم پھر مسعر نے ہاتھ سے دائیں بائیں اشارہ کیا


    امام بخاری کتاب قرة العينين برفع اليدين في الصلاة میں کہتے ہیں


    كَانَ يُسَلِّمُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَفْعِ الْأَيْدِي فِي التَّشَهُّدِ


    وہ ایک دوسرے کو سلام کرتے پس نبی صلی الله علیہ وسلم نے اس سے منع کیا کہ تشہد میں ہاتھ اٹھائیں


    امام بخاری نے معاملہ صاف کر دیا کہ جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کی روایت کا تعلق سجدوں والے رفع الیدین سے ہے ہی نہیں کیونکہ تشہد تو سجدوں کے بعد ہوتا ہے لہذا اس سے سجدوں میں کیے جانے والے رفع الیدین کی منسوخی لینا غلط ہے


    بعض غیر مقلدین نے جابر بن سمره رضی الله عنہ کی روایت سے دلیل لی ہے کہ سجدوں میں منسوخ ہے اور احناف متاخرین نے اس سے ہر طرح کے رفع الیدین کی منسوخی لے لی ہے جبکہ یہ روایت رفع الیدین کے بارے میں ہے ہی نہیں


    جامع الترمذی کی روایت ہے


    علقمه فرماتے هیں که عبدالله بن مسعود رضی الله عنه نے فرمایا کیا میں تمهیں رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم کی طرح نماز پڑه کر نه دکهاوں ، چناچه آپ نے نماز پڑهی اور صرف ایک مرتبه رفع یدین کیا.


    ترک رفع پر امام ترمذی سنن میں لکھتے ہیں


    که بهت سے اهل علم صحابه کرام رضوان الله اجمعین اور تابعین کا یهی مذهب هے اور سفیان ثوری اور اهل کوفه کا بهی یهی مسلک هے.


    اس قول کی مخالف حدیث بھی ہے جس میں ہے کہ کوفہ منتقل ہونے والے وائل بن حجر رضی الله عنہ سے کوفیوں نے روایت کیا ہے ابو داود کی بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ حدیث ہے


    حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: قُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي، قَالَ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَكَبَّرَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا، مِثْلَ ذَلِكَ فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ رَأْسَهُ بِذَلِكَ الْمَنْزِلِ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَحَدَّ مِرْفَقَهُ الْأَيْمَنَ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَقَبَضَ ثِنْتَيْنِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً وَرَأَيْتُهُ يَقُولُ: هَكَذَا وَحَلَّقَ بِشْرٌ الْإِبْهَامَ وَالْوُسْطَى وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ،


    وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوا کہ دیکھوں آپ نماز کیسے پڑھتے ہیں ، تو میں نے دیکھا کہ آپ نماز کیلئے قبلہ رخ ہوئے اور تکبیر کہی ،اور اپنے دونوں ہاتھ کانوں کی لو تک اٹھائے پھر الٹے ہاتھ کو سیدھے سے پکڑا پس جب رکوع کا ارادہ کیا تو رفع کیا اسی طرح پھر باتھ کو پر رکھا پس جب سر رکوع سے اٹھایا ان کو رفع کیا اسی طرح پس جب سجدہ کیا تو سر کو اس منزل پر رکھا جو باتھوں کے بیچ تھی پھر بیٹھے سیدھے پیر پر اور سیدھا ہاتھ ران پر رکھا


    لیکن مسند احمد میں یہی روایت جب عبد الواحد ابن زياد العبدي نے بیان کی تو اس میں الفاظ بدل گئے


    حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ كَيْفَ يُصَلِّي، قَالَ: فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَكَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى كَانَتَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ، قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ ، قَالَ: فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى كَانَتَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى كَانَتَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ مِنْ وَجْهِهِ، بِذَلِكَ الْمَوْضِعِ،فَلَمَّا قَعَدَ افْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ حَدَّ مِرْفَقِهِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَعَقَدَ ثَلَاثِينَ وَحَلَّقَ وَاحِدَةً، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ


    وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوا کہ دیکھوں آپ نماز کیسے پڑھتے ہیں ، تو میں نے دیکھا کہ آپ نماز کیلئے قبلہ رخ ہوئے اور تکبیر کہی ،اور اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھائے ، پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیا ، اور جب رکوع کا ارادہ کیا تو پھر اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھائے،اور رکوع میں اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے ،اور جب رکوع سے سر مبارک اٹھایا تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھائے


    سیر الاعلام النبلا کے مطابقعبد الواحد بن زياد کے لئے ہے


    وَقَالَ يَحْيَى بنُ مَعِيْنٍ: لَيْسَ بِشَيْءٍ کوئی چیز نہیں


    قَالَ ابْنُ المَدِيْنِيِّ: سَمِعْتُ القَطَّانَ يَقُوْلُ: مَا رَأَيتُ عَبْدَ الوَاحِدِ يَطلُبُ حَدِيْثاً قَطُّ بِالبَصْرَةِ، وَلاَ الكُوْفَةِ


    علی المدینی کہتے ہیں یحیی بن سعید القطان کہتے ہیں میں نے اس کو حدیث طلب کرتے نہ کوفہ میں دیکھا نہ بصرہ میں


    مسند احمد میں اس روایت کو شعبہ نے بھی روایت کیا ہے جس میں وائل بن حجر رضی الله عنہ رفع کا ذکر کرتے ہیں


    یعنی وائل بن حجر رضی الله عنہ نے کوفہ میں رفع الیدین کیا ہے


    بعض احناف کی رائے ہے کہ پہلے رفع الیدین ہر اونچ نیچ پر تھا پھر کم ہوتے ہوتے صرف تکبیر تحریمہ تک محدود گیا لیکن اوپر جیسا واضح ہے انس رضی الله عنہ اور تابعین کی کثیر تعداد اس کو کرتی تھی خاص کر بصرہ میں یہ عام تھا لہذا یہ منسوخ نہ تھا غیر مقلدین کے مطابق سجدوں میں رفع الیدین جابر بن سمرہ کی روایت سے منسوخ ہو گیا لیکن یہ بھی بلا دلیل ہے اگر منسوخ تھا تو انس رضی الله عنہ اس کو کیوں کرتے تھے


    واضح ہوا کہ


    مدینہ میں رکوع سے پہلے اور بعد میں رفع الیدین کیا جاتا تھا (بعض اوقات نہیں بھی کیا جاتا تھا) لیکن اکثر اوقات رفع الیدین پر عمل تھا لیکن امام مالک کے دور تک اس پر عمل اتنا شدید نہ رہا


    مکہ میں رکوع سے پہلے اور بعد میں رفع الیدین کیا جاتا تھا


    بصرہ میں سجدوں تک میں رفع الیدین کیا جاتا تھا


    کوفہ میں اختلاف ہے بعض صحابہ رفع الیدین نہیں کرتے اور بعض کرتے تھے


    اب ہم یا آپ تو صحابہ کا پا سنگ بھی نہیں جو ایک کی نماز کو منسوخ کہہ کر اس کو رد کریں یعنی سجدوں میں رفع الیدین اگر انس بن مالک یا بصرہ کے تابعین نے کیا تو اس کو قبول کرنا ہو گا اگر کوفہ کے عبد اللہ ابن مسعود رضی الله عنہ نے نہیں کیا تو اس کو بھی قبول کرنا ہو گا اگر مکہ و مدینہ کے ابن زبیر ، ابن عمر ، ابن عباس رضی الله عنھم نے رفع الیدین کیا تو اس کو بھی قبول کرنا ہو گا


    لہذا اگر کوئی انفرادی نماز پڑھ رہا ہے اور رفع الیدین کر لے تو بھی صحیح ہے نہ کرے تو بھی صحیح ہے لیکن جماعت کی نماز میں امام جیسا کرے ویسا ہی کرے


    نبی صلی الله علیہ وسلم نے نماز سکھائی تو کہیں بھی اس کا حکم نہ کیا صحیح بخاری کی ابو ہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث ہے


    صحيح بخاری کتاب الآذان باب وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا

    حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
    أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَجَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ فَرَجَعَ فَصَلَّى ثُمَّ سَلَّمَ فَقَالَ وَعَلَيْكَ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ فَأَعْلِمْنِي قَالَ إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغْ الْوُضُوءَ ثُمَّ اسْتَقْبِلْ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ وَاقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنْ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ وَتَطْمَئِنَّ جَالِسًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا۔
    ابوہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مسجد نبوی میں) تھے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہؤا اور نماز پڑھی اور آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ جا ۔۔۔ جاکر نماز پڑھ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ گیا اور جا کر نماز پڑھی اور پھر آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور پھر فرمایا کہ جا ۔۔۔ جاکر نماز پڑھ تو نے نماز نہیں پڑھی ۔ تیسری دفعہ یا تیسری دفعہ کے بعد اس شخص نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے نماز سکھلائیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے کھڑا ہو تو اچھی طرح وضو کر۔ پھر قبلہ رو کھڑا ہو۔ پھر اللہ اکبر کہہ۔ پھر قرآن سے پڑھ جو تجھے یاد ہو پھر رکوع کر یہاں تک کہ سکون سے رکوع کرنے والا ہو پھر کھڑا ہو یہاں تک کہ سیدھا کھڑا ہوجائے۔ پھر سجدہ کر یہاں تک کہ سکون سے سجدہ کرنے والا ہو۔ پھر سجدہ سے اٹھ کر سکون سے تشہد کی حالت میں بیٹھ جا۔ پھر سجدہ کر یہاں تک کہ سکون سے سجدہ کرنے والا ہو۔ پھر سجدہ سے اٹھ کر سیدھا کھڑا ہو جا۔ اسی طرح کر اپنی تمام نماز میں


    یعنی رفع الیدین نماز کا ایسا عمل تھا جس کو کرنا ضروری نہیں تھا یہی وجہ ہے کہ بعض صحابہ اس کو سجدوں میں بھی کر رہے تھے اور بعض صحابہ اس کو چھوڑ چکے تھے




    مجھے اللہ کافی ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، میرا بھروسہ اسی پر ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے

Similar Threads

  1. Replies: 2
    Last Post: 4th August 2013, 11:17 AM
  2. Replies: 0
    Last Post: 20th December 2012, 01:15 PM
  3. Replies: 2
    Last Post: 17th September 2012, 03:31 PM
  4. Replies: 0
    Last Post: 15th July 2012, 01:38 AM
  5. Replies: 1
    Last Post: 26th January 2012, 04:36 AM

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •