کیا اسلام میں توریت پڑھنا حرام ہے

مسند احمد کی روایت ہے

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكِتَابٍ أَصَابَهُ مِنْ بَعْضِ أَهْلِ الْكُتُبِ، فَقَرَأَهُ عَلَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ وَقَالَ: أَمُتَهَوِّكُونَ فِيهَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً، لَا تَسْأَلُوهُمْ عَنْ شَيْءٍ فَيُخْبِرُوكُمْ بِحَقٍّ فَتُكَذِّبُوا بِهِ، أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُوا بِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ مُوسَى كَانَ حَيًّا، مَا وَسِعَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي

جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ عمر بن الخطاب رضی الله تعالی عنہ اپنے باتھوں میں اہل کتاب کی کوئی تحریر لے کر آئے ہے نبی صلی الله علیہ وسلم کے سامنے اس کو پڑھا اپ صلی الله علیہ وسلم غضب ناک ہوئے اور فرمایا کہ اے ابن الخطاب! کیا تم لوگوں کو تردد اور اضطراب میں ڈالنا چاہتے ہو ۔ وہ ذات جس کے ہاتھ میں میری جان ہے بے شک میں ایک پاکیزہ چمکدارشریعت تمہارے لئے لایا ہوں تم ان سے سوال نہ کرو جس کی وہ تمہیں سچی خبردیں پھر تم تکذیب کرو یا باطل کہیں اور تم تصدیق کر بیٹھو. وہ ذات جس کے باتھ میں میری جان ہے اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے اور تم مجھے چھوڑ کر ان کا اتباع کرتے تو تم ضرور گمراہ ہوجاتے۔

شعيب الأرناؤوط کہتے ہیں إسناده ضعيف اسکی اسناد ضعیف ہیں

یہ روایت متن کی تبدیلی کے ساتھ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَابِتٍ سے بھی مروی ہے سند ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَابِتٍ

سنن دارمی کے مطابق یہ کتاب جو عمر رضی الله تعالی عنہ پڑھ رہے تھے التَّوْرَاةِ تھی سند ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

مسند احمد کے علاوہ بَيْهَقِيُّ كِتَابِ شُعَبِ الْإِيمَانِ میں اس کو مجالد کی سند سے نقل کرتے ہیں

مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں مبارکبوری لکھتے ہیں

فقد روي نحو عن ابن عباس عند أحمد وابن ماجه، وعن جابر عند ابن حبان، وعن عبد الله بن ثابت عند أحمد وابن سعد والحاكم في الكنى، والطبراني في الكبير، والبيهقي في شعب الإيمان

پس اسی طرح ابن عباس کی سند سے احمد اور ابن ماجہ نے اور جابر کی سند سے ابن حبان نے اور عبد الله بن ثابت سے احمد اور ابن سعد نے اور الحاکم نے لکنی میں اور طبرانی نے کبیر میں اور بیہقی نے شعب الإيمان میں روایت کیا ہے

اس روایت کی تمام اسناد میں راوی مُجَالِدُ بنُ سَعِيْدِ بنِ عُمَيْرِ بنِ بِسْطَامَ الهَمْدَانِيُّ المتوفی ١٤٤ ھ کا تفرد ہے

أَبُو حَاتِمٍ کہتے ہیں لاَ يُحْتَجُّ بِهِ اس سے دلیل نہ لی جائے

ابْنُ عَدِيٍّ کہتے ہیں اس کی حدیث: لَهُ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ أَحَادِيْثُ صَالِحَةٌ صالح ہیں

أَبُو سَعِيْدٍ الأَشَجُّ اس کو شِيْعِيٌّ یعنی شیعہ کہتے ہیں

الميموني کہتے ہیں ابو عبدللہ کہتے ہیں

قال أبو عبد الله: مجالد عن الشعبي وغيره، ضعيف الحديث. سؤالاته احمد کہتے ہیں مجالد کی الشعبي سے روایت ضعیف ہے

ابن سعد کہتے ہیں كان ضعيفا في الحديث، حدیث میں ضعیف ہے

المجروحین میں ابن حبان کہتے ہیں كان رديء الحفظ يقلب الأسانيد ويرفع، ردی حافظہ اور اسناد تبدیل کرنا اور انکو اونچا کرنا کام تھا

ابن حبان نے صحیح میں اس سے کوئی روایت نہیں لی

ابن حبان المجروحین میں لکھتے ہیں کہ امام الشافعی نے کہا

وَالْحَدِيثُ عَنْ مُجَالِدٍ يُجَالِدُ الْحَدِيثَ

اور مجالد يُجَالِدُ الْحَدِيثَ ہے

ابن حبان راوی مجالد بن سعید کی ایک مخدوش روایت المجروحین میں نقل کرتے ہیں

قَالَ أَبُو حَاتِم رَوَى مُجَالِدٌ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَرَوْنَ أَعْلَى عِلِّيِّينَ كَمَا تَرَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ فِي السَّمَاءِ

ابی سعید الخدری رضی الله تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرماتا کہ بے شک اہل جنت أَعْلَى عِلِّيِّينَ کو ایسے دیکھتے ہیں جسے آسمان میں تارہ

محدثین کے نزدیک اس مجروح روایت کو دلیل بناتے ہوئے ابو جابر دامانوی نے دین الخالص قسط اول میں لکھا تھا

سلف صالحین نے علیین اور سجین کو اعمال ناموں کے دفتر کے علاوہ روحوں کامسکن کہا ہےتوانکی یہ بات بالکل بے بنیاد نہیں

قارئین جس روایت کو محدثین راوی پر جرح میں پیش کر رہے ہیں فرقہ اہل حدیث اس کو دلیل میں پیش کر رہا ہے کیسا تضاد ہے. یہ ایک اعتراض تھا

مجالد کی کوئی روایت صحیح ابن حبان میں نہیں

بحر الحال مجالد کو دارقطنی ليس بثقة ثقه نہیں کہتے ہیں

بخاری تاریخ الکبیر میں لکھتے ہیں

كَانَ يَحيى القَطّان يُضَعِّفُهُ. يَحيى القَطّان اسکی تضعیف کرتے تھے

وكَانَ ابْن مَهديّ لا يروي عنه. ابْن مَهديّ اس سے روایت نہیں کرتے تھے

ابن حجر کہتے ہیں

ليس بالقوى و قد تغير فى آخر عمره


قوی نہیں اور آخری عمر میں تغیر ہو گیا تھا

نسائی کہتے ہیں ثقه ہے اور ليس بالقوى قوی نہیں بھی کہتے ہیں

امام مسلم نے صحیح میں الشّعبِيّ کی سند سے الطَّلَاق میں صرف ایک روایت نقل کی ہے. امام مسلم نے اس کی سند اس طرح پیش کی ہے

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ، وَحُصَيْنٌ، وَمُغِيرَةُ، وَأَشْعَثُ، وَمُجَالِدٌ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَدَاوُدُ، كُلُّهُمْ عَنِ الشَّعْبِيِّ،

یعنی سات راویوں بشمول َمُجَالِدٌ نے طلاق کی ایک روایت الشَّعْبِيِّ سے نقل کی ہے

بس صرف یہی روایت ہے جس پر اس کو صحیح مسلم کا راوی گردانا جاتا ہے

حیرت ہے کہ عرب علماء میں شعيب الأرناؤوط کے علاوہ عصر حاضر میں کوئی اس روایت کو ضعیف نہیں کہتا بلکہ سب شوق سے اس کو فتووں میں لکھتے ہیں

اس بحث کا لب لباب ہے کہ مجالد کی کتب سماوی کے بارے میں روایت منکر ہے

بخاری کی روایت ہے کہ ابن عبّاس کہتے ہیں

يا معشر المسلمين، كيف تسألون أهل الكتاب عن شيء، وكتابكم الذي أنزل الله على نبيكم صلى الله عليه وسلم أحدث الأخبار بالله، محضا لم يشب، وقد حدثكم الله: أن أهل الكتاب قد بدلوا من كتب الله وغيروا، فكتبوا بأيديهم الكتب، قالوا: هو من عند الله ليشتروا بذلك ثمنا قليلا، أولا ينهاكم ما جاءكم من العلم عن مسألتهم؟ فلا والله، ما رأينا رجلا منهم يسألكم عن الذي أنزل عليكم

اے مسلمانوں تم اہل کتاب سے کیسے سوال کر لیتے ہو ان چیزوں پر ان کا ذکر الله نے اس کتاب میں کیا ہے جو اس نے اپنے نبی صلی الله علیہ وسلم پر نازل کی ہے اور اللہ نے تم کو بتا دیا ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب بدلی اور اپنے ہاتھ سے لکھا اور کہا کہ یہ وہ ہیں جنہوں نے اس کو جو ان کے پاس ہے اس کو قلیل قیمت پر بیچ دیا- میں تم کو کیوں نہ منع کروں ان مسائل میں ان سے سوال کرنے سے جن کا علم تم کو آ چکا ہے- اللہ کی قسم میں نہیں دیکھتا کہ وہ تم سے سوال کرتے ہو جو تم پر نازل ہوا ہے

ابن عبّاس کی بات سے ظاہر ہے کہ یہ ان نو مسلموں کے لئے ہے جن کی تربیت رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے نہیں کی تھی اور وہ یہود و نصاری سے ان مسائل میں سوال کر رہے تھے جن کی وضاحت قران میں کی جا چکی ہے ان میں کعب الاحبار تھے جو عمر کے دور میں ایمان لائے لیکن ابن عباس ان کے بیٹے نوف البکالی کو ابن عباس کذاب کہتے تھے

کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ العنکبوت آیت ٥١ میں فرمایا ہے کہ

أوَلَمْ يَكْفِهِمْ اَنَّآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ يُتْلٰى عَلَيْهِمْ

ان کو کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل فرمائی جو ان پر پڑھی جاتی ہے

لیکن اس آیت کی یہ تفسیر نہیں ابن کثیر مقدمہ میں لکھتے ہیں

وَمَعْنَى ذَلِكَ: أو لم يَكْفِهِمْ آيَةٌ دَالَّةٌ عَلَى صِدْقِكَ إِنْزَالُنَا الْقُرْآنَ عَلَيْكَ وَأَنْتَ رَجُلٌ أُمِّيٌّ

اور اس کا معنی ہے أو لم يَكْفِهِمْ آيَةٌ دال ہے کہ قرآن الله نے نازل کیا ہے اور اپ ایک امی رسول ہیں

قرآن میں النَّحْلِ ٤٣ یہ بھی ہے

وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُوحِي إِلَيْهِمْ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

اور ہم نے اپ سے پہلے جن رسولوں کو بھیجا وہ سب مرد تھے ہم ان پر وحی کرتے تھے پس اہل ذکر سے پوچھ لو اگرتم (لوگوں) کو معلوم نہیں ہے

عربوں کو کہا جا رہا ہے کہ اہل کتاب سے پوچھ لو یہی تفسیر ابن عباس سے نقل کی گئی ہے. تفسیر ابن کثیر کے مطابق مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ الْمُرَادَ بِأَهْلِ الذِّكْرِ: أَهْلُ الْكِتَابِ

تفسیر ابن ابی حاتم ج ٧ ص ٢٨٨٤ کے مطابق

يَعْنِي فاسألوا أَهْل الذكر والكتب الماضية

پس اہل کتاب سے پوچھو اور کتب ماضی سے رجوع کرو

عَنْ ابْنِ عباس فسئلوا أَهْل الذِّكْرِ يَعْنِي مشركي قريش، إِنَّ محمدًا رسول الله في التوراة والإنجيل

سعید بن جبیر کہتے ہیں یہ عبدللہ بن سلام اور اہل توریت کے ایک گروہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے

عن سعيد بن جبير في قوله: فسئلوا أَهْل الذِّكْرِ قَالَ: نَزَلَتْ فِي عَبْد اللَّهِ بْنِ سَلامٍ ونفر مِنَ اهْل التوراة

ابوھریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک اور روایت ہے جو بخاری روایت کرتے

اہل کتاب (یہودی) تورات کو خود عبرانی زبان میں پڑھتے ہیں لیکن مسلمانوں کے لیے اس کی تفسیر عربی میں کرتے ہیں۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

تم اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ تم تکذیب کرو بلکہ یہ کہا کرو : آمنا بالله وما أنزل إليناہم ایمان لائے اللہ پر اور اس چیز پر جو ہماری طرف نازل کی گئی

صحيح بخاري

اب ان کتب کا تمام زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے لہذا یہ مسئلہ نہیں ہو گا بلکہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی زندگی ہی میں صحابہ نے نبی صلی الله علیہ وسلم کے حکم پر عبرانی سیکھ لی تھی جس کا مقصد خط و کتابت تھا

بخاری میں نبی صلی الله علیہ وسلم کی حدیث ہے

بلغوا عني ولو آية، وحدثوا عن بني إسرائيل ولا حرج، ومن كذب علي متعمدا، فليتبوأ مقعده من النار

‫ پہنچاؤ میری جانب سے خواہ ایک آیت ہی ہو اور روایت کرو بنی اسرائیل سے اس میں کوئی حرج نہیں اور جس کسی نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔

صحيح بخاري ، كتاب احاديث الانبياء ، باب : ما ذكر عن بني اسرائيل

اسرائیلیات اورسابقہ کتب سماوی میں فرق رکھنا ضروری ہے ان دونوں میں وہ چیزیں جو قرآن و حدیث سے متفق ہوں پیش کی جا سکتی ہیں لیکن ان کا مقصد احقاق حق اور تبین ہو تو کوئی حرج نہیں ہے ،قرآن میں خود کئی جگہ توریت و انجیل کا حوالہ دیا گیا ہے