اسلام میں عجمی نظریات کا نفوذ اور تاریخ



اللہ تعالی نے بندوں کے لیے سر چشمہ ہدایت نازل فرمایا- جس کی بنیاد پر ایک قوم وجود میں آئی جس کی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی- پھر گردش زمانہ نے اسلامی تحریک کو ایک ایسی راہ پر ڈال دیا جس نے اسلام کو عجمی نظریات کی آلودگیوں سے دو چار کردیا- یہ نظریات مسلمانوں کے مفتوحہ علاقوں اور اقوام کی معرفت اسلام میں داخل ہوئے-
جب اسلام عرب کی حدود سے باہر نکلا تو رومی، یونانی، قبطی، ایرانی اور ہندی اقوام اس میں داخل ہوئیں- جن کی معرفت ان کے نظریات بھی اسلام میں داخل ہونا شروع ہوئے- یہ اقوام اسلام سے قبل مختلف اور پیچیدہ قسم کے مذہبی نظریات کی حامل تھی-جو انسانی نظریات سے متصادم تھے- ان اقوام نے اسلام تو قبول کرلیا- لیکن ان کی اکثریت نے وہ نظریات ترک نہیں کیے جو انہیں اپنے ابا واجداد سے ورثے میں ملے تھے- ایرانی مذہب پر یونانی اور ہندی مذاہب کے اثرات تھے- وہ ویدانت اور نوافلاطونیت کا مرکب بن چکا تھا ان تمام مذاہب میں خاص کر وحدت الوجود کا نظریہ مشترک اور مرکزی حیثیت رکھتا تھا یہ نظریہ ہندی میں "ہر میں ہر"اور ایران میں "ہمہ اوست" کے نام سے معروف ہوچکا ہے-

عجمی دنیا میں اسلام کا داخلہ

عجمی دنیا میں اسلام سب سے پہلے ایران میں داخل ہوا- ایرانیوں کا قومی وقار اور شہنشاہیت کا عربوں کے ہاتھوں تباہ ہونا ایرانیوں کے لیے ناقابل برداشت تھا- عربوں کے ہاتھوں ایران کی تباہی کی وجہ سے اہل ایران عربوں سے نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے- چنانچہ انہوں نے کبھی بھی عربی دین اور عربی قیادت کو تسلیم نہیں کیا- بلکہ اسلام اور مسلماوں کے خلاف برسرپیکار رہے- جب انہیں اس بات کا یقین ہوگیا کہ عربوں کو فوجی محاذ پر شکست دینا ممکن نہیں تو انہوں نے بڑے ہی نازک محاذ کا انتخاب کیا-

ایرانی نظریات کا حملہ

یہ ایرانی نظریات کا حملہ تھا- جس کے ذریعے اس دین کا حلیہ بگاڑنے کا منصوبہ بنایا گیا جس کی بدولت عربوں نے عظیم الشان فتوحات حاصل کی تھیں- ایرانی شکست خوردہ گورنر (ہرمزان) قید ہوکر جب عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا (جو برے مکارانہ طریقے سے قتل ہونے سے بچ گیا تھا) تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا کہ "پہلے تو تم لوگوں نے عربوں سے کبھی شکست نہیں کھائی- اب کیا ہوگیا؟" تو اس نے جواب دیا "اب عرب تنہا نہیں تھے بلکہ ان کا اللہ ان کے ساتھ تھا" وہ میدان جنگ میں مسلم افواج کا جذبہ شہادت دیکھ چکا تھا- یہاں سے ایرانی انتقام کی وہ داستان شروع ہوتی ہے جس کا سلسلہ پھر کبھی ختم نہیں ہوسکا- ایرانی حملے کا ہدف وہ دین تھا جس کی بدولت عربوں نے ایران کی صدیوں پرانی بادشاہت کو ایک آن میں صفحہ ہستی سے مٹاڈالا تھا-
لیکن اسلام پر حملے سے قبل اس قلعے کو مسمار کرنا لازمی تھا جس کی موجودگی میں دین اسلام پر یلغار ممکن نہیں تھی- وہ قلعہ عمر فاروق کی ذات تھی- رضی اللہ عنہ


عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت اولین ایرانی سازش

عین اس وقت جبکہ اسلام چاروں طرف پوری قوت سے بڑھ رہا تھا عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا گیا یہ اولین ایرانی سازش تھی- جو ہرمزان نے تیار کی تھی- قاتل ابو لئولئو تھا جو جنگ نہادند میں قید ہوا تھا- غلام بناکرمدینہ الرسول صلی اللہ علیہ لایا گیا- اورمغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا گیا- ابو لئو لئو کے خنجر نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سینے کو جاک کرکے اسلام کو ہمیشہ کیلیے غیر محفوظ کردیا- اگر عمر رضی اللہ عنہ کو چند سال کی مہلت مل جاتی تو آج اسلامی دنیا کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا- اب ایرانیوں کیلیے میدان صاف تھا- 35ھ میں عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کرکے امت میں ایک ایسا فتنہ کھڑا کردیا جو بقول خلیفہ ثالث (عثمان رضی اللہ عنہ) تا قیامت جاری رہے گا-

یہ ایرانی سازش بھی ایرانی علاقے میں تیار ہوئی- مصر میں پروان چڑھی اور مدینہ میں پایہ تکمیل کو پہنچی- اسلام سے ایرنیوں کا یہ دوسرا بدلہ تھا-
شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد علی رضی اللہ عنہ اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان جنگ جمل برپاکراکے ایرانیوں نے تیسرا بڑا انتقام لےلیا- جو کمی رہ گئی تھی وہ جنگ صفین میں پوری کردی گئي- ان دو جنگوں میں تقریبا ایک لاکھ مسلمان دونوں جانب کام آئے- جنگ صفین کے چند ہی سال بعد 40ھ میں خلیفہ راشد علی رضی اللہ عنہ کو شہید کرکے اس مثالی دور کا خاتمہ ہی کردیاگیا جس کی مثال انسانی تاریخ پیش نہیں کرسکتی- علی رضی اللہ عنہ کا قاتل ابن ملجعم تھا- یہ بھی ایرانی تھا-

خلافت راشدہ کا خاتمہ

اور پھر چند ماہ بعد حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دست برداری کا اعلان کردیا- ایرانی کامیاب ہوگئے انہوں نے خلافت راشدہ کا خاتمہ کردیا-
خلافت کیا تھی

بقول علامہ ابوالکلام آزاد رح خلافت کا مقصد یہ تھا کہ دنیا میں نوع انسانی کی ہدایت و سیادت کیلیے ایک ایسی قومی حکومت قائم ہو جو اللہ کے نظام عدل کو دنیا میں نافذ کرے-

( مسلہ خلافت ابوالکلام آزد)

مزید لکھتے ہیں کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےبعد خلافت اپنے حضائص اور نتائج کے اعتبار سے دو بڑے سلسلوں میں بٹ گئی- پہلا سلسلہ خلافت خلفائے راشدین کا تھا جن کی خلافت منہاج نبوت پر تھی- یعنی وہ صحیح طور پر منصب نبوت کے جانشین تھے- جن کا طریقہ کار ٹھیک طریقہ نبوت کے مطابق تھا- یہ گویا کہ عہد نبوت کا آخری دور تھا ان کی شخصیت میں جامعیت پائی جاتی تھی- تمام اوصاف ان کی ذات واحد میں جمع تھی-

دوسرا سلسلہ منہاج نبوت سے الگ مجرد حکومت و بادشاہت کا تھا- جبکہ عجمی بدعتیں خالص اسلامی و عربی تمدن سے مل کر ایک نیا دور شروع کررہی تھیں-

خلفاء بنو امیہ سے لے کر آج تک جو سلسلہ خلافت جاری ہے اسی دوسری قسم میں داخل ہے-

( مسلہ خلافت ابوالکلام آزد)

"خلافت و ملوکیت" میں سید ابو الاعلی مودودی رح لکھتے ہیں

"خلافت راشدہ کا یہ دور ایک روشنی کا مینار تھا- جس کی طرف بعد کے ادوار کے محدثین و فقہا اور عام دیندار لوگ دیکھتے رہے- خلفائے راشدین مقام نبوت سے آشنا تھے- تلاوت آیات- تزکیہ نفس- اور کتاب و حکمت کی تعلیم تینوں منصبوں میں وہ وجود نبوت کے نائب تھے- وہ خدا کے کلام کی منادی کرتے- دلوں اور روحوں کو پاکی بخشتے اور امت کی تربیت کرتے- جسموں کا نظام بھی انہیں کے ہاتھ میں تھا اور دلوں کی حکمرانی بھی انہیں کے قبضے میں تھی- یہی حقیقی اور کامل منصب نبوت کی نیابت کے حقدار تھے------لیکن خلافت کے بعد یہ ساری یکجا قوتیں الگ الگ ہوگئيں- ایک وجود کی جگہ مختلف وجود سامنے آئے لیکن خلوص سے خالی نظر آتے ہیں"- یہ تھی خلافت جس کا ایرانیوں کے ہاتھوں خاتمہ ہوگیا-

فکری محاذ

اس میدان میں لاکھوں افسوسناک واقعات رونما ہوئے- وحدت فکر اسلامی کا شیرازہ بکھیرنے کے لیے بھی ایرانیوں نے سستی نہیں کی- صرف نمونے کے طور پر چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں-

ایرانیوں کا عقیدہ تھا کہ خیر و شر کے خلاق الگ الگ ہیں- جسے وہ بالترتیب "یزداں اور راہرمن" کہتے تھے- اسی عقیدے میں مسئلہ قدر کی بنیاد رکھی- پہلا شخص جس نے اس مسئلے کو مسلمانوں میں پھیلایا"سنوسیہ" تھا- یہ پہلے مجوسی تھا، بعد میں مسلمان ہوا- امام بخاری نے رسالہ "خلق افعال العباد" میں اس کا تذکرہ کیا ہے- البلاذری کے مطابق یہ شاہ ایران (یزدگرد) کے باڈی گارڈ کا افسر تھا-

فرقہ جبریہ

اس فرقے کے مقابلے میں دوسرا فرقہ سامنے آیا جو جبریہ کہلایا-اس کا بانی جہم بن صفوان تھا- ہشام بن عبدالمالک کے زمانے میں یہ ترمذ (ایران) کا گورنر تھا- اس کے نظریات بڑے عجیب تھے- مسئلہ جبر کے ساتھ ساتھ مسئلہ وحدت الوجود بھی یہیں سے مسلمانوں میں داخل ہوا- یہی وہ پہلا شخص تھا جس نے قرآن کریم کو کلام الہی کہنے کے بجائے "مخلوق اللہ" کہ کر مسلمانوں میں خلق قرآن کا ایک نہایت ہی سنگین مسئلہ کھڑا کردیا- اور جس کی تردید میں امام احمد بن حنبل رح نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کرکے امت کو اس فتنے سے بچالیا- یہ شخص بھی ایرانی تھا-

ابو مسلم حزاسانی نے اہل بیت کی حمایت کا ڈھونگ نچاکر بنو امیہ کے خلاف تحریک چلائی جس کے نتیجے میں 132ھ میں بنو امیہ کا اقتدار ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا اور عباسی آئے- مذہبی لحاظ سے یہ تبدیلی تباہ کن ثابت ہوئی- ابو مسلم الوہیت کا قائل تھا- اور یہ بھی ایرانی تھا-

139ھ میں حلیفہ منصور کے زمانے میں فرقہ راوندیہ کی پوری جماعت نے اپنے قائدین کےلیے الوہیت کا دعوی کیا- ان کا دعوی تھا کہ حضرت آدم کی روح نے عثمان بن نہک میں، جبرائیل علیہ السلام کی روح ہشیم بن معاویہ میں اور خود اللہ تعالی نے خلیفہ منصور میں حلول کیا- یہ تمام ایرانی تھے- (تاریخ ابن خلدون حصہ سوئم و طبری حصہ ہفتم)
خلیفہ منصور کے زمانے میں ابلق نامی ایک شخص نے دعوی خدائی کیا- اور اعلان کیا کہ جو روح عیسی ابن مریم علیہ السلام میں تھی وہ علی رضی اللہ عنہ میں اور پھر ابراہیم بن محمد سے ہوتی ہوئی خود اس تک آئی ہے- وہ ان سب لوگوں کو خدا کہتا تھا- یہ بھی ایرانی تھا-

( تاریخ طبری دور منصور)


خلیفہ مہدی کے زمانے میں مقنح نامی ایک شخص نے 171ھ مین دعوی خدائی کیا- اس کی دلیل تھی کہ "اللہ تعالی نے پہلے آدم علیہ السلام میں حلول کیا- پھر نوح علیہ السلام میں- پھر ابو مسلم حزاسانی میں اور پھر مجھ میں"- لوگوں کی بھاری اکثریت نے اس کا ساتھ دیا- یہ شخص بھی ایرانی تھا- (تاریخ ابن خلدون حصہ سوئم اور دور مہدی اور تاریخ طبری حصہ ہفتم)
خلیفہ ماموں کے عہد میں بابک خرمی نامی ایک شخص نے دعوی خدائی کیا اور کہا کہ خدا کی روح اس میں حلول کرگئی ہے- یہ بھی ایرانی تھا- (تاریخ کامل ابن اثیر جلد ششم اور تاریخ ابن خلدوں حصہ سوئم)
خلیفہ احمد بن متوکل کے دور میں _278ھ) قرامطہ کا ظہور ہوا- جن کے نظریات اسلامی کی ضد تھے- اس جماعت کا بانی ہمدان تھا- حس کا لقب قرامطہ تھا- اس کا عقیدہ تھا کہ اللہ تعالی نے خوداس میں حلول کیا ہے- یہ خود شیعہ مذہب رکھتا تھا- یہ بھی ایرانی تھا-

(تاریخ ابن خلدون حصہ سوم)


منصور حلاج نے 295ھ میں اناالحق (میں خدا ہوں) کا نعرہ لگانا شروع کیا- اس پر مقدمہ چلایا گیا اور بالآخر 309ھ میں (اس کے اعتراف پر) اسے سزاء موت دے دی گئی- یہ باطنی عقیدہ رکھتا تھا- یہ بھی ایرانی تھا-

(دائرہ معارف اسلامیہ لاہور جلد آٹھ)

یہ چند مثالیں ان لوگوں کی ہیں جنہوں نے دعوی خدائی کیا جبکہ نبوت کے دعویدار وں اور دیگر خرافات بکنے والوں کا تو شمار ہی نہیں- ان میں سے اکثر کو سزائے موت دی جاتی رہی- 19ویں صدی کے ایرانی خدا اور رسول (نعوذ باللہ) مرزا حسین علی بہا اللہ (پیدائش 1817ع) تک یہ سلسلہ جاری رہا- اسے بھی ترکی حکومت نے قید کردیا تھا جہاں 1792ع میں وہ فوت ہوگیا- پاکستان میں بہائی فرقہ کے لوگ اب بھی موجود ہیں-

علاوہ ازیں دیگر بےشمار فرقوں (خارجی، رافضی، صبائی اور باطنی) کا ظہور بھی انہی علاقوں سے ہوا جو سلطنت کسری میں شامل تھے- چنانچہ ان لوگوں نے فکری محاذ سے یلغار کی- یہ لوگ پارسیوں کی کتاب "زنداوستا" کی تعلیمات کا پرچار کرتے- صوفیانہ لباس میں لوگوں سے ملتے او ر انہیں معرفت کی باتیں بتاتے- جب لوگ ان کے جال میں پھنس جاتے تو انہیں زند اوستان کی تعلیم دیتے- تصوف کے روپ میں یہ ایک ایسا زہر تھا- جسے لوگ محسوس نہ کرسکے- بعد میں انہیں زندیق (زند اوستان کے دا‏عی) کہا جانے لگا- یہ سلسلہ صدیوں جاری رہا- اس حقیقت کا اعتراف 17ویں صدی کے ایک معروف ایرانی مصنف محسن خان نے "دبستان مذہب" میں لکھ کر کیا ہے کہ "ان لوگوں میں اکثر کے ساتھ میرے دوستانہ تعلقات تھے اور برائے نام مسلمان تھے- حقیقت وہ گبری عقائد کی پرچار کرتے تھے- یہ ایک منظم سازش تھے جس کے مطابق عرصہ دراز سے یہ کام ہوتا رہا- وہ لوگ فقیرانہ لباس میں رہتے تھے- اور عقیدتمندوں کو گبری عقائد کی تعلیم دیتے" (واضح رہے کہ منصور حلاج کا خاندان میں گبری عقائد رکھتا تھا-)

ایک اور ایرانی مصنف قاسم زادہ نے تو واشگاف الفاظ میں یہ اعلان کردیا کہ "ہمارے بزرگوں نے عربوں سے بدلہ لینے کی خاطر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بڑی بڑی سازشیں کیں- کیونکہ مسلمان اور اسلام ہی ایرانی زوال کے ذمہ دار تھے- ہمارے آباؤاجدا تک یہ تحریک جاری رہی- حتی کہ عربوں سے ہماری خلاصی ہوگئی- اب جبکہ ہماری اپنی حکومت ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم پر عربی زبان اور عربی دین مسلط رہے"

(جلوہ ریزی لوح ایران)

یہ بیسویں صدی کے (رضا شاہ پہلوی) مصنف کا حال ہے-

ایرانی تعصب کا ایک اور واقعہ ملاحظہ ہو- جب عباسی خلیفہ منصور نے بغداد شہر کی تعمیر کا ارادہ کیا تو اس کے لیے ملبے کی ضرورت پڑی- منصور نے اپنے دست راست اور وزیر اعظم خالد برمکی (یہ بھی ایرانی تھا) سے مشورہ کیا کہ اگر مدائین شہر (ایرانی شہر جو عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں فتح ہوا تھا) کا ملبہ اس شہر کی تعمیر کے لیے لے آئيں تو کیسا رہے گا؟ وزیر اعظم نے جواب دیا- "میں اس کا مشورہ نہیں دیتا" جب منصور نے وجہ دریافت کی تو اس نے جواب دیا- " مدائین کا ملبہ اسلام کی بے تعصبی اور رواداری کی یادگار ہے- اگر اس سے دنیاوی فوائد پیش نظر ہوں تو بھی یہ یادگار قائم رکھے جانے کے قابل ہے" اس پر خلیفہ منصور نے کہا "خالد تم میں ابھی تک عجمی تعصب باقی ہے"-

( تاریخ طبری حصہ ہفتم اردو ترجمہ)


ایران جدید (پہلوی دور) کے آخری معزول اور مفرور وزیراعظم شاہ پور بختیار نے جو خمینی کی آمد سے قبل فرار ہوگیا تھا- پیرس پہنچنے پر 5-اگست 1979ع پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا "ایران نے گزشتہ 1400 سال سے اسلام قبول نہیں کیا- اب اس کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کا وقت گذرچکا ہے"

(دیکھیے اداریہ نوائے وقت مورخہ 7- اگست 1979ء)


مرحوم شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کا بھی یہ ہی نظریہ تھا- اسی لیے تو اس نے اپنی بادشاہت کا سلسلہ قبل اسلام بادشاہوں سے ملاتے ہوئے 2500 سالہ جشن ایران منایا تھا- پاکستان کی نمائندگی اس وقت کے صدر یحی خان نے کی تھی

(یہ بھی ایرانی تھا)-

چنانچہ ثابت ہوا کہ ایرانیوں کی غالب اکثریت نے کسی دور میں بھی اسلام قبول نہیں کیا- بلکہ ہر دور میں اسلام سے انتقام لیتے رہے-


اقتباس: اہل حرم کے سومنات
از: زاہد حسین مرزا