نماز میں کئے جانے والے مکروہ مباح اور مستحب امور

نماز میں کئے جانے والے مکروہ امور

٭نماز میں چہرے اور سینے کے ساتھ دائیں بائیں متوجہ ہونا مکروہ ہے ۔کیونکہ نبی کریمﷺ کا فرمان ہے:
((وھو اختلاس یختلسہ الشیطان من صلاۃ العبد))[بخاری]
یہ اچکنا ہے جو بندے کی نماز سے شیطان اچک لیتا ہے۔
ہاں البتہ عذر کی بنیاد پر جائز ہے ،جیسے حالت خوف وغیرہ میں متوجہ ہونے میںکوئی حرج نہیں ہے۔
اور اگر کوئی شخص حالت خوف کے علاوہ اپنے پورے جسم کے ساتھ گھوم گیا یا قبلہ کی طرف پیٹھ کر دی تو استقبال قبلہ نہ ہونے کہ وجہ سے اس کی نماز باطل ہو جائے گی۔
اس سے یہ واضح ہو گیا کہ دوران نماز حالت خوف میں متوجہ ہونا جائز ہے کیونکہ یہ قتال کی ضروریات میں سے ہے۔حالت خوف کے علاوہ کسی اور حاجت سے، اگر صرف چہرے اور سینے کے ساتھ (علاوہ پورے بدن کے) متوجہ ہوئے ہیں تو کوئی حرج نہیں ہے اور اگر پورے بدن سے متوجہ ہوئے ہیں تو نماز باطل ہو جائے گی۔بغیر حاجت کے متوجہ ہونا مکروہ ہے۔
٭نماز میں اپنی نگاہ کو آسمان کی طرف بلند کرنا بھی مکروہ ہے۔ایسا کرنے والوں پر نبی کریم ﷺ نے انکار کیا ہے :
((ما بال اقوام یرفعون أبصارھم الی السماء فی صلاتھم؟لینتھن أو لتخطفن أبصارھم))[بخاری]
لوگوں کا کیا مسئلہ ہے کہ نماز میں اپنی نگاہوں کو آسمان کی طرف بلند کر دیتے ہیں؟یہ اس عمل سے ضرور باز آجائیں یا پھر ان کی نگاہیں اچک لی جائیں گی۔
نماز میں سجدہ کی جگہ پر دیکھنا چاہئیے ،سامنے دیواروں پر یا نقوش پر دیکھنا غیر مناسب ہے کیونکہ یہ چیزیں انسان کو نماز سے ہٹا کر مشغول کر دیتی ہیں۔
٭نماز میں بغیر ضرورت آنکھیں بند کر لینا بھی مکروہ ہے ،کیونکہ یہ یہود کاعمل ہے۔اور اگر کسی ضرورت کے تحت آنکھیں بند کی ہیں تو کوئی حرج نہیں ہے مثلا سامنے نقوش و نگار نماز میں خلل ڈال رہے ہیں تو آنکھیں بند کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔کما ذکرہ ابن القیم ؒ
٭نماز میں حالت اقعاء میں بیٹھنا بھی مکروہ ہے۔اقعاء یہ ہے کہ دونوں پاؤں بچھا کر مقعد پر بیٹھ جانا ۔نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:
((اذا رفعت رأسک من السجود فلا تقع کما یقعی الکلب))[ابن ماجہ]
جب آپ سجود سے اپناسر اٹھائیں تو کتے کی مانند حالت اقعاء میں مت بیٹھیں۔
اس معنی کی اور بہت ساری روایات موجود ہیں۔
٭دوران نماز حالت قیام میں بلا عذر دیوار وغیرہ سے ٹیک لگانا بھی مکروہ ہے۔کیونکہ ٹیک لگانا قیام کی مشقت کو ختم کر دینے والا ہے جو صرف عذر کی بنیاد پر جائز ہے جیسے مریض شخص ٹیک لگا سکتا ہے۔
٭دوران نماز سجدوں میں اپنی کلائیوں کو لمبا کرتے ہوئے زمین پر بچھا دینا بھی مکروہ ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
((اعتدلوا فی السجود ،ولا یبسط أحدکم ذراعیہ انبساط الکلب))[متفق علیہ]
تم سجدوں میں اعتدال کرو،اور تم میں سے کوئی بھی کتے کی طرح اپنی کلائیوں کو زمین پر نہ پھیلائے۔
دوسری جگہ فرمایا:
((ولا یفترش ذراعیہ افتراش الکلب))
اور اپنی کلائیوں کو کتے کی مانند زمین پر نہ بچھائے۔
٭اسی طرح دوران نماز ہاتھ،پاؤں، کپڑوں اور داڑھی وغیرہ سے کھیلنا یا بلا ضرورت زمین کو چھونا بھی مکروہ ہے۔
٭دوران نماز اپنے ہاتھوں کو پہلؤوں پر رکھنابھی مکروہ ہے۔ کیونکہ پہلؤوں پر ہاتھ رکھنا کافروں اور متکبرین کی عادت ہے اور ہمیں ان کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔جیسا کہ صحیح حدیث میں بھی ثابت ہے۔
٭دوران نماز ہاتھوں کی انگلیوں کو چٹخانا یا تشبیک دینا ( ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کرنا)بھی مکروہ ہے۔
٭نماز سے توجہ ہٹا دینے والی کسی چیز کو سامنے رکھ کر نماز پڑھنا بھی مکروہ ہے کیونکہ اس سے نماز میں نقص واقع ہو جاتا ہے۔
٭ تصاویر والی جگہ پر نماز پڑھنا بھی مکروہ ہے خواہ تصاویر لٹکی ہوئی ہوں یاراجح قول پر نہ بھی لٹکی ہوں ۔کیونکہ اس سے بتوں کی پوجا کرنے والوں کی مشابہت ہے۔
٭تشویش میں ڈالنے والی أشیاء کی موجودگی میں نماز پڑھنا بھی مکروہ ہے۔جیسے کاروباری فکر،پیشاب ،پاخانہ،شدیدسردی یا گرمی ،سخت پیاس یا بھوک وغیرہ وغیرہ ،کیونکہ ان چیزوں کی موجودگی خشوع وخضوع میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔
٭اسی طرح لذیذ کھانے کی موجودگی میں نماز میں داخل ہونا بھی مکروہ ہے۔کیونکہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:
(( ولا صلا ۃ بحضرۃالطعام،ولا وھو یدافعہ الأخبثان))[مسلم]
کھانے کی موجودگی میں نماز نہیں ہے،اور نہ ہی اس وقت نماز ہے جب انسان کو دو خبیث چیزیں (یعنی قضائے حاجت یا پیشاب )تنگ کر رہی ہو ں۔
تاکہ نماز میں دل حاضر اور کامل خضوع وخشوع ہو۔
٭دوران سجدہ کسی مخصوص چیز پر اپنی پیشانی کو رکھنا بھی مکروہ ہے ۔کیونکہ یہ رافضہ کا شعار ہے اور ان کی مشابہت اختیار کرنا منع ہے۔
٭دوران نماز اپنی پیشانی اور ناک وغیرہ سے گرد وغبار کو جھاڑنا بھی مکروہ ہے۔نماز سے فراغت کے بعد جھاڑنے میں کوئی حرج نہیں۔
٭دوران نمازفضول اپنی داڑھی سے کھیلنا،کپڑے درست کرنا اورناک کی صفائی کرنا وغیرہ بھی مکروہ ہے۔کیونکہ اس سے نماز میں توجہ نہیں رہتی اور خضوع وخشوع میں کمی واقع ہوتی ہے۔
مقصود صرف یہ ہے کہ مسلمان کلی طور پر اپنی نماز میں مگن ہو جائے اوردوران نماز کسی دوسرے عمل میں مشغول نہ رہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
((حَافِظُوْا عَلٰی الصَّلَوٰاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطیٰ وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ))[البقرۃ :۸ ۲۳]
نمازوں کی حفاظت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لئے باادب کھڑے رہا کرو۔
تا کہ نماز میں دل حاضر ہو اور کامل خشوع وخضوع کے ساتھ نبی کریمﷺ کی سنت کے مطابق نماز ادا کی جاسکے ،جس میں غیر شرعی امور کا دخل نہ ہو۔اور انسان ایسی نماز پڑھے جو اس پر عائد فریضہ کو صحیح معنوں میں ادا کر دے۔
نماز میں کئے جانے والے مباح اور مستحب امور
٭نمازی کے لئے اپنے سامنے سے گزرنے والے شخص کو روکنا مسنون ہے۔کیونکہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:
((اذا کان أحدکم یصلی،فلا یدعن أحدا یمر بین یدیہ ،فان ابی فلیقاتلہ ،فان معہ القرین))[مسلم]
تم میں سے جو شخص نماز ادا کررہاہو، اسے چاہئیے کہ اپنے سامنے سے کسی کو نہ گذرنے دے ،اگر گزرنے والا انکار کرے تو اس کے ساتھ لڑائی کرے،بیشک اس کے ساتھ شیطان ہے۔
لیکن جب نمازی کے سامنے دیوار،ستون یا کسی بھی بلند چیز کا سترہ ہو توسترہ کے آگے سے گزرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔اسی طرح حرم میں نمازی کے سامنے سے گزرنے کی اجازت ہے ،کیونکہ نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے کہ وہ مکہ میں نماز ادا کر رہے ہوتے تھے اور لوگ آپ کے سامنے سے گزر جاتے تھے،اور آپ کے سامنے کوئی سترہ بھی نہیں ہو تا تھا۔[رواہ الخمسۃ]
٭امام اور منفرد کے لئے سترہ استعمال کرنا سنت ہے ۔کیونکہ نبی کریمﷺ سے حضرت ابو سعید نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:
((اذا صلی أحدکم فلیصل الی سترۃ،ولیدن منھا))[ابو داؤد،ابن ماجہ]
تم میں سے جب کوئی نماز پڑھے تو سامنے سترہ رکھ لے ،اور اس کے قریب ہو کر نماز پڑھے۔
جبکہ امام کا سترہ ہی مقتدی کا سترہ ہے۔سترہ رکھنا واجب نہیں ہے کیونکہ حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فضامیں نماز ادا کی اور آپ کے سامنے کسی چیز کا بھی سترہ نہیں تھا۔اور بہتر ہے کہ سترہ کھڑا ہو جیسے سواری کا کجاوہ وغیرہ تاکہ گزرنے والے کو بھی معلوم ہو جائے ،اور نمازی بھی اس کے پرے والی چیز میں مشغول نہ ہو۔
اور صحراء میں درخت کی شاخ، پتھر یالاٹھی وغیرہ کو گاڑ کر سترہ بنایا جا سکتا ہے اگر لاٹھی کو گاڑنا ممکن نہ ہو تو سامنے لمبا رکھ دیا جائے۔
٭دوران قراء ت اگر امام بھول جائے تو مقتدی کے لئے امام کو درست قراء ت بتانا جائز ہے۔
٭نمازی کے لئے کپڑے پہننا ، کسی چیز کو اٹھانا یا رکھنا ،دروازہ کھولنا اور سانپ یا بچھو کو قتل کرنا جائز ہے ۔کیونکہ نبی کریم ﷺ نے دوران نماز دو کالی چیزیں سانپ اور بچھو کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔[ابو داؤد،ترمذی]لیکن اس جواز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بلا ضرورت کثرت سے حرکات کرنا غیر مناسب ہے کیونکہ حرکات مسلسلہ نماز کو باطل کر دینے والا عمل ہے ،جس سے نماز میں خلل واقع ہوتا ہے۔
٭دوران نماز اگر کوئی عارضہ پیش آجائے۔ مثلا کوئی آنے کی اجازت طلب کررہا ہو ،یاامام بھول جائے یا کسی انسان کے ہلاکت میں پڑنے کا خدشہ ہو تو نمازی کے لئے تنبیہ کرنا جائز ہے ۔مرد سبحان اللہ کہہ کر جبکہ عورتیں تالی بجا کر امام کو متنبہ کریں۔نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:
((اذا نابکم شیء فی صلاتکم فلتسبح الرجل وتصفق النسائ))[متفق علیہ]
جب تمہیں نماز میں کوئی عارضہ پیش آجائے تو مرد سبحان اللہ کہہ کر اور عورت تالی بجا کر متنبہ کرے۔
٭نمازی کو سلام کرنا جائز ہے جبکہ یہ معلوم ہو کہ دوران نماز کیسے جواب دیا جاتا ہے۔کیونکہ دوران نماز ہاتھ کے اشارہ سے جواب دیا جاتا ہے ۔الفاظ کے ساتھ وعلیکم السلامکہنے سے نماز باطل ہو جائے گی۔اور سلام کا جواب نماز سے فارغ ہونے کے بعد بھی دیا جا سکتا ہے۔
٭نمازی کے لئے ایک رکعت میں کئی سورتوں کو پڑھنا جائز ہے ۔کیونکہ نبی کریمﷺ سے صحیح ثابت ہے کہ انہوں نے ایک ہی رکعت میں سورۃ بقرہ،سورۃ آل عمران اور سورۃ نساء پڑھی۔اسی طرح ایک ہی سورت کو دو رکعات میں مکرر پڑھنا یا ایک سورت کو دورکعات میں تقسیم کر کے پڑھنا بھی جائز ہے۔سورتوں کے اواخر اور درمیان سے پڑھنا بھی جائز ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ عمومانماز فجر کی پہلی رکعت میں((قُوْلُوْا آمَنَّا بِاللّٰہِ وَمَا أُنْزِلَ اِلَیْنَا۔۔۔))[البقرۃ:۱۳۶]اور دوسری رکعت میں ((قُلْ یٰا أَھْلَ الْکِتَابِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآئٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ۔۔۔))[آل عمران:۶۴]پڑھا کرتے تھے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
((فَاقْرَئُ وْا مَا تَیَسَّرَ مِنْہُ )) [المزمل:۲۰]
سو تم بہ آسانی جتنا جتنا قرآن پڑھ سکو پڑھو۔
٭دوران نماز عذاب والی آیات آنے پر اللہ سے پناہ مانگنا،رحمت والی آیات آنے پر اللہ سے رحمت کا سوال کرنااور نبی کریمﷺ کے نام والی آیات آنے پر درود پڑھنا بھی جائز ہے۔