Results 1 to 16 of 16
Like Tree2Likes
  • 1 Post By adeelmmx
  • 1 Post By adeelmmx

شوال کے چھ روزے اور امام ابو حنیفہ

This is a discussion on شوال کے چھ روزے اور امام ابو حنیفہ within the Zaarori Maloomat forums, part of the Mera Deen Islam category; رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ، كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْرِ من ...

  1. #1
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    شوال کے چھ روزے اور امام ابو حنیفہ



    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان

    مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ، كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْرِ
    من شخص نے رمضان کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے ایک سال کے روزے رکھے۔





    (صحيح مسلم:كتاب الصيام13، باب39،حديث1164)




    ابو حنیفہ کے نزدیک

    صوم ست من شوال مكروه عند أبي حنيفة رحمه الله متفرقاً كان أو متتابعاً
    شوال کے چھ روزے رکھنا ابو حنیفہ کے نزدیک مکروہ ہیں خواہ علیحدہ علیحدہ رکھے جائیں یا اکٹھے۔





    فتاوی عالمگیر:ص١٠١،المحيط البرهاني في الفقه النعماني:کتاب الصوم،ج٢ص٣٩٣





  2. #2
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    Re: شوال کے چھ روزے اور امام ابو حنیفہ



    شوال کے 6 روزوں کی فضیلت



    عن ابي ايوب الانصاري رضي الله عنه ، ان رسول قال
    “من صام رمضان ، ثم اتبعه ستا من شوال كان كصيام الدهر “
    (رواه مسلم ، كتاب الصيام ، رقم الحديث1164 )

    حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
    ’’جس نے رمضان کے روزے رکھے اس کے بعد شوال کے چھ (نفلی) روزے رکھے تو یہ پورے زمانے کے روزے رکھنے کی مانند ہے۔‘‘








  3. #3
    iTT Captain
    Join Date
    Aug 2009
    Location
    pakistan
    Posts
    547

    Re: شوال کے چھ روزے اور امام ابو حنیفہ

    ان نام نہاد اہلحدیث نے علماء احناف کا حوالہ آدھا نقل کیا ہے اور اگلی بات نقل ہی نہیں کی جس سے مسئلہ کی وضاحت ہوتی ہے۔

    وَيُكْرَهُ صَوْمُ سِتَّةٍ من شَوَّالٍ عِنْدَ أبي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى مُتَفَرِّقًا كان أو مُتَتَابِعًا وَعَنْ أبي يُوسُفَ كَرَاهَتُهُ مُتَتَابِعًا لَا مُتَفَرِّقًا لَكِنْ عَامَّةُ الْمُتَأَخِّرِينَ لم يَرَوْا بِهِ بَأْسًا هَكَذَا في الْبَحْرِ الرَّائِقِ وَالْأَصَحُّ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ كَذَا في مُحِيطِ السَّرَخْسِيِّ وَتُسْتَحَبُّ السِّتَّةُ مُتَفَرِّقَةً كُلَّ أُسْبُوعٍ يَوْمَانِ
    فتاوی عالمگیری میں ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک شوال کے روزے مکروہ ہیں خواہ جدا رکھے یا اکھٹے رکھے اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت یہ ہے کہ پے درپے رکھا مکروہ ہے متفرق رکھنا مکروہ نہیں۔لیکن عامہ متاخرین کا یہ قول ہے کہ پے درپے رکھنے میں بھی مضائقہ نہیں ہے۔ یہ بحر الرائق میں لکھا ہے اور اصح یہ ہے کہ اس میں مضائقہ نہیں اوریہ ہی مخیط سرخسی میں لکھا ہے۔

    اور احناف کے متاخرین علماء ان روزوں کو مستحب سمجھتے ہیں۔
    اور یہ مزہب صرف امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا نہیں بلکہ امام مالک رحمہ اللہ کا بھی ہے۔

    یحییٰ کہتے ہیں: کہ میں نے عید الفطر کے بعد چھ روزوں کے بارے میں امام مالک کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: میں نے اہل علم وفقہ (اور اہل اجتہاد) میں سے کسی کو یہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ہے اور نہ ہی سلف میں سے (جن حضرات کو میں نے نہیں پایا جیسے صحابہ اور کبار تابعین) کسی سے کوئی روایت پہنچی چنانچہ اہل علم اس کو پسند نہیں کرتے تھے اور ان کو اس کے بدعت بن جانے اور بے علم لوگوں کا رمضان کے ساتھ غیر رمضان کو ملانے کا اندیشہ تھا۔ ( مغنی مع شرح الکبیر جلد 3 صفحہ 102،103)


    اب ان غیر مقلدین نام نہاد اہلحدیثوں کو چاہیے کہ جو اعتراض امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے بغض اور حسد میں یہ کرتے ہیں وہی اعتراض امام مالک رحمہ اللہ پہ بھی کریں کیونکہ وہ بھی ان روزوں کو مکروہ کہتے ہیں۔
    اور کتابیں چھاپیں امام مالک رحمہ اللہ کے خلاف کہ انہوں نے حدیث کے خلاف عمل کیا۔


    میرا سوال ہے تمام نام نہاد اہلحدیثوں سے کہ امام مالک رحمہ اللہ کا فتوی حدیث کے خلاف ہے یا نہیں۔
    اور ان جاہلوں نے اب تک کتنی کتابیں اور مضامین اس مسئلہ پہ امام مالک رحمہ اللہ کے خلاف لکھے ہیں۔
    جو فتوی یہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ پہ لگاتے ہیں وہی امام مالک رحمہ اللہ پہ بھی لگائیں۔

    Attached Images Attached Images
    [IMG]http://i29.*******.com/oqabf5.jpg[/IMG]

  4. #4
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    Re: شوال کے چھ روزے اور امام ابو حنیفہ

    Quote Originally Posted by i love sahabah View Post

    وَيُكْرَهُ صَوْمُ سِتَّةٍ من شَوَّالٍ عِنْدَ أبي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى مُتَفَرِّقًا كان أو مُتَتَابِعًا

    فتاوی عالمگیری میں ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک شوال کے روزے مکروہ ہیں خواہ جدا رکھے یا اکھٹے رکھے
    ۔

    ​صرف یہ بتا دیں کہ امام ابو حنیفہ رحم اللہ کی اس بات کی کیا دلیل ہے

  5. #5
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    Re: شوال کے چھ روزے اور امام ابو حنیفہ




    کیا بعض علماء کے قول کے مطابق شوال کے چھ روزے مکروہ ہیں



    رمضان المبارک کے بعد شوال کے چھ روزوں کے بارہ میں آپ کیا کہتے ہیں ؟
    کیونکہ موطا میں امام مالک بن انس رحمہ اللہ تعالی نے رمضان المبارک کے بعد شوال کے چھ روزوں کے بارہ میں کہا ہے : انہوں نے اہل علم اوراہل فقہ میں سے کسی کو بھی یہ روزے رکھتےہوئے نہيں دیکھا ، اورنہ ہی مجھے سلف میں سے کسی کی طرف سے یہ پہنچا ہے ، اوراہل علم یہ روزے رکھنا مکروہ سمجھتے تھے ، اوراس کی بدعت سے ڈرتے تھے کہ رمضان کے ساتھ وہ چيز ملحق کی جائے جورمضان میں شامل نہيں ۔
    یہ کلام موطا پہلی جلد ( 228 ) میں موجود ہے ؟


    ابو ایوب رضي اللہ تعالی عنہ سے ثابت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    ( جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تویہ پورے سال کے روزے ہیں ) مسند احمد ( 5 / 417 ) صحیح مسلم ( 2 / 822 ) سنن ابوداود حدیث

    نمبر ( 2433 ) سنن ترمذی حدیث نمبر ( 1164 ) ۔

    مندرجہ بالا حدیث صحیح ہے اوراس میں یہ دلیل ہے کہ شوال کے چھ روزے رکھنا سنت ہے ، اس حدیث پر امام شافعی ، امام احمد ، اورآئمہ کرام کی جماعت اورعلماء کرم نے عمل کیا ہے ، لھذا اس حدیث کے مقابلہ میں کسی عالم کی تعلیل بیان کرنا کہ کچھ علماء کرام نے اسے مکروہ جانا ہے کہ کہیں کوئي جاہل یہ نہ سمجھنے لگے کہ یہ بھی رمضان المبارک کےہی روزے ہیں ۔
    یا اس گمان کا خدشہ ہے ہو کہ یہ روزے واجب ہيں ، یا یہ کہنا کہ اسے یہ علم نہيں کہ پہلے علماء کرام میں سے کسی ایک نے یہ روزے نہيں رکھے ، یہ سب کچھ گمان اورظن ہی ہیں ، جوکہ سنت صحیحہ کے مقابلہ میں نہیں لائے جاسکتے ، اوربغیر دلیل والے کو دلیل والے پر مقدم نہيں کیا جاسکتا ۔
    اللہ تعالی ہی توفیق بخشنے والا ہے ۔

    واللہ اعلم .

    دیکھیں اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء

    ( 10 / 389 )



  6. #6
    iTT Captain
    Join Date
    Aug 2009
    Location
    pakistan
    Posts
    547

    Re: شوال کے چھ روزے اور امام ابو حنیفہ

    Quote Originally Posted by lovelyalltime View Post

    کیا بعض علماء کے قول کے مطابق شوال کے چھ روزے مکروہ ہیں

    رمضان المبارک کے بعد شوال کے چھ روزوں کے بارہ میں آپ کیا کہتے ہیں ؟
    کیونکہ موطا میں امام مالک بن انس رحمہ اللہ تعالی نے رمضان المبارک کے بعد شوال کے چھ روزوں کے بارہ میں کہا ہے : انہوں نے اہل علم اوراہل فقہ میں سے کسی کو بھی یہ روزے رکھتےہوئے نہيں دیکھا ، اورنہ ہی مجھے سلف میں سے کسی کی طرف سے یہ پہنچا ہے ، اوراہل علم یہ روزے رکھنا مکروہ سمجھتے تھے ، اوراس کی بدعت سے ڈرتے تھے کہ رمضان کے ساتھ وہ چيز ملحق کی جائے جورمضان میں شامل نہيں ۔
    یہ کلام موطا پہلی جلد ( 228 ) میں موجود ہے ؟

    ابو ایوب رضي اللہ تعالی عنہ سے ثابت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    ( جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تویہ پورے سال کے روزے ہیں ) مسند احمد ( 5 / 417 ) صحیح مسلم ( 2 / 822 ) سنن ابوداود حدیث

    نمبر ( 2433 ) سنن ترمذی حدیث نمبر ( 1164 ) ۔

    مندرجہ بالا حدیث صحیح ہے اوراس میں یہ دلیل ہے کہ شوال کے چھ روزے رکھنا سنت ہے ، اس حدیث پر امام شافعی ، امام احمد ، اورآئمہ کرام کی جماعت اورعلماء کرم نے عمل کیا ہے ، لھذا اس حدیث کے مقابلہ میں کسی عالم کی تعلیل بیان کرنا کہ کچھ علماء کرام نے اسے مکروہ جانا ہے کہ کہیں کوئي جاہل یہ نہ سمجھنے لگے کہ یہ بھی رمضان المبارک کےہی روزے ہیں ۔
    یا اس گمان کا خدشہ ہے ہو کہ یہ روزے واجب ہيں ، یا یہ کہنا کہ اسے یہ علم نہيں کہ پہلے علماء کرام میں سے کسی ایک نے یہ روزے نہيں رکھے ، یہ سب کچھ گمان اورظن ہی ہیں ، جوکہ سنت صحیحہ کے مقابلہ میں نہیں لائے جاسکتے ، اوربغیر دلیل والے کو دلیل والے پر مقدم نہيں کیا جاسکتا ۔
    اللہ تعالی ہی توفیق بخشنے والا ہے ۔

    واللہ اعلم .

    دیکھیں اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء

    ( 10 / 389 )

    لولی تمہارا امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے بغض اور حسد ظاہر ہو گیا ہے اس لئے تم امام مالک رحمہ اللہ پہ فتوی لگانے کی بجائے ان کے قول کی تاویل کر رہے ہو.

    علمائے احناف کی تاویل تمہیں پسند نہیں آتی اس لئے ان کے خلاف تو فتوی کہ حنفی احادیث کے خلاف ہیں اور جب بات آئی امام مالک رھمہ اللہ کی تو تاویل..

    یہاں تمہارا قرآن اور حدیث کا عقیدہ کہاں گیا......... کہ جو بھی قران اور حدیث کے خلاف فتوی دے وہ مردود ہے تو آو لگاو فتوی امام مالک رحمہ اللہ پہ اور ہمت کرو...

    ثابت ہو گیا کہ تم لوگ صرف احناف اور امام ابوحنیفہ رھمہ اللہ کے بغض میں مبتلا ہو ورنہ تمہارا یہ کہنا کہ صرف قرآن اور حدیث پہ ہی عمل کیا جائے باقی کچھ نہیں ہے یہ بلکل غلط ہے.

    اس مسئلہ پہ تاویل نہیں کرو اور لگاو فتوی امام مالک رحمہ اللہ پہ...........

    اگر امام ابوحنیفہ رھمہ اللہ شوال کے روزوں کو مکروہ کہیں تو حدیث کے مخالف اور اگر امام مالک رحمہ اللہ کہیں تو یہ نام نہاد اہلحدیث اس کے تاویل کریں یہ حدیث پہ عمل نہیں بلکہ دوغلی پالیسی اور احناف اور امام ابوحنیفہ رھمہ اللہ کا بغض اور حسد ہے.
    [IMG]http://i29.*******.com/oqabf5.jpg[/IMG]

  7. #7
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    Re: شوال کے چھ روزے اور امام ابو حنیفہ

    Quote Originally Posted by i love sahabah View Post
    لولی تمہارا امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے بغض اور حسد ظاہر ہو گیا ہے اس لئے تم امام مالک رحمہ اللہ پہ فتوی لگانے کی بجائے ان کے قول کی تاویل کر رہے ہو.

    علمائے احناف کی تاویل تمہیں پسند نہیں آتی اس لئے ان کے خلاف تو فتوی کہ حنفی احادیث کے خلاف ہیں اور جب بات آئی امام مالک رھمہ اللہ کی تو تاویل..

    یہاں تمہارا قرآن اور حدیث کا عقیدہ کہاں گیا......... کہ جو بھی قران اور حدیث کے خلاف فتوی دے وہ مردود ہے تو آو لگاو فتوی امام مالک رحمہ اللہ پہ اور ہمت کرو...

    ثابت ہو گیا کہ تم لوگ صرف احناف اور امام ابوحنیفہ رھمہ اللہ کے بغض میں مبتلا ہو ورنہ تمہارا یہ کہنا کہ صرف قرآن اور حدیث پہ ہی عمل کیا جائے باقی کچھ نہیں ہے یہ بلکل غلط ہے.

    اس مسئلہ پہ تاویل نہیں کرو اور لگاو فتوی امام مالک رحمہ اللہ پہ...........

    اگر امام ابوحنیفہ رھمہ اللہ شوال کے روزوں کو مکروہ کہیں تو حدیث کے مخالف اور اگر امام مالک رحمہ اللہ کہیں تو یہ نام نہاد اہلحدیث اس کے تاویل کریں یہ حدیث پہ عمل نہیں بلکہ دوغلی پالیسی اور احناف اور امام ابوحنیفہ رھمہ اللہ کا بغض اور حسد ہے.


    لگاؤ فتویٰ سعودی علما پر

    یہ جواب جو میں نے دیا ہے یہ اس ویب سا یت سے لیا گیا ہے

    کبھی کبھی تم بھی سعودی علما کے پیچھے چھپتے ھو

    یہاں خود پڑھ لو

    http://islamqa.info/ur/ref/34780

  8. #8
    iTT Captain
    Join Date
    Aug 2009
    Location
    pakistan
    Posts
    547

    Re: شوال کے چھ روزے اور امام ابو حنیفہ

    Asalam o alikum to all muslims.

    لولی تھوڑا عقل استعمال کر لیا کرو.
    میں نے اعتراض نہیں کیا مکروہ کہنے پہ بلکہ اعتراض تم لوگ کر رہے ہو کہ یہ حدیث کے خلاف ہے.
    ہم تو امام مالک رھمہ اللہ کے فتوے سے بھی اختلاف نہیں اور نہ ہی اس تاویل سے اختلاف ہے بلکہ تمہاری اطلاع کے لئے ہمارے اپنے حنفی علماء اس مسئلہ پہ خود امام مالک رحمہ اللہ کا دفاع کرتے ہیں کہو تو پروف بھی دے دیتا ہوں

    اعتراض تو جاہل اہلحدیثوں نے کیا کہ شوال کے روزوں کو مکروہ کہنا حدیث کے خلاف ہے اور امام ابو حنیفہ رھمہ اللہ کی توہین کرتے رہے اس وقت تم کوئی تاویل نہیں سنتے اور ایک ہی رٹ کہ حدیث کے خلاف ہے ، حدیث کے خلاف ہے لیکن جب امام مالک رحمہ اللہ کا وہی فتوی دکھا یا کہ وہ بھی ان روزوں کو مکروہ کہتے ہیں تو تم لوگ تاویل کرنا شروع ہو گئے


    اگر ایک مسئلہ بیان کر کےاس کی تاویل حنفی کریں تو تم قبول نہیں کرتے اور جب امام مالک کا فتوی بیان کیا جائے تو خود تاویل کرتے ہو... کہاں ہے تمہارا قرآن اور حدیث کا قانون

    امام ابو حنیفہ رھمہ اللہ کے وقت تم کو حدیث یاد آتی ہے اور جب امام مالک رھمہ اللہ مسئلہ بیان کر دیں تو تاویل یاد آتی ہے یہ حدیث پہ عمل نہیں بلکہ دوغلی پالیسی ہے

    امام ابو حنیفہ رھمہ اللہ کے وقت تم کو حدیث یاد آتی ہے اور جب امام مالک رھمہ اللہ مسئلہ بیان کر دیں تو تاویل یاد آتی ہے یہ حدیث پہ عمل نہیں بلکہ دوغلی پالیسی ہے

    چلو میں یہی تاویل پیش کرتا ہوں امام ابوھنیفہ رحمہ اللہ کے مسئلہ کی

    ابو حنیفہ کے نزدیک

    صوم ست من شوال مكروه عند أبي حنيفة رحمه الله متفرقاً كان أو متتابعاً
    شوال کے چھ روزے رکھنا ابو حنیفہ کے نزدیک مکروہ ہیں خواہ علیحدہ علیحدہ رکھے جائیں یا اکٹھے۔




    فتاوی عالمگیر:ص١٠١،المحيط البرهاني في الفقه النعماني:کتاب الصوم،ج٢ص٣٩٣


    یحییٰ کہتے ہیں: کہ میں نے عید الفطر کے بعد چھ روزوں کے بارے میں امام مالک کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: میں نے اہل علم وفقہ (اور اہل اجتہاد) میں سے کسی کو یہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ہے اور نہ ہی سلف میں سے (جن حضرات کو میں نے نہیں پایا جیسے صحابہ اور کبار تابعین) کسی سے کوئی روایت پہنچی چنانچہ اہل علم اس کو پسند نہیں کرتے تھے اور ان کو اس کے بدعت بن جانے اور بے علم لوگوں کا رمضان کے ساتھ غیر رمضان کو ملانے کا اندیشہ تھا۔ ( مغنی مع شرح الکبیر جلد 3 صفحہ 102،103)


    ( جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تویہ پورے سال کے روزے ہیں ) مسند احمد ( 5 / 417 ) صحیح مسلم ( 2 / 822 ) سنن ابوداود حدیث

    نمبر ( 2433 ) سنن ترمذی حدیث نمبر ( 1164 ) ۔

    مندرجہ بالا حدیث صحیح ہے اوراس میں یہ دلیل ہے کہ شوال کے چھ روزے رکھنا سنت ہے ، اس حدیث پر امام شافعی ، امام احمد ، اورآئمہ کرام کی جماعت اورعلماء کرم نے عمل کیا ہے ، لھذا اس حدیث کے مقابلہ میں کسی عالم کی تعلیل بیان کرنا کہ کچھ علماء کرام نے اسے مکروہ جانا ہے کہ کہیں کوئي جاہل یہ نہ سمجھنے لگے کہ یہ بھی رمضان المبارک کےہی روزے ہیں ۔
    یا اس گمان کا خدشہ ہے ہو کہ یہ روزے واجب ہيں ، یا یہ کہنا کہ اسے یہ علم نہيں کہ پہلے علماء کرام میں سے کسی ایک نے یہ روزے نہيں رکھے ، یہ سب کچھ گمان اورظن ہی ہیں ، جوکہ سنت صحیحہ کے مقابلہ میں نہیں لائے جاسکتے ، اوربغیر دلیل والے کو دلیل والے پر مقدم نہيں کیا جاسکتا ۔
    اللہ تعالی ہی توفیق بخشنے والا ہے ۔

    واللہ اعلم

    [IMG]http://i29.*******.com/oqabf5.jpg[/IMG]

  9. #9
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    Re: شوال کے چھ روزے اور امام ابو حنیفہ


    مجھے اللہ کافی ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، میرا بھروسہ اسی پر ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے

  10. #10
    iTT Captain
    Join Date
    Aug 2009
    Location
    pakistan
    Posts
    547

    Re: شوال کے چھ روزے اور امام ابو حنیفہ

    زبیر علی زئی نے شفیق الرحمان کی کتاب نماز نبوی کے پرانے ایڈیشن میں مقدمہ میں یہ بیان کیا کہ اس کتاب میں کوئی ضعیف حدیث نہیں ہے۔
    ( مقدمہ نماز نبوی، پران ایڈیشن صفحہ 16)

    اس کتاب میں شفیق الرحمٰن نے سینہ پہ ہاتھ باندھنے کے لئے حضرت وائل بن حجر رضی اللہ کی صحیح ابن خزیمہ والی حدیث پیش کی کہ نبی کریم ﷺ سینہ پہ ہاتھ باندھتے تھے۔
    (نماز نبوی، شفیق الرحمٰن، صفحہ 117، مقدمہ زبیر علی زئی)

    اسی کتاب نماز نبوی کا جدید ایڈیشن غیر مقلدین کے متکبہ دار السلام سے شائع ہوا اور اس کا مقدمہ بھی زبیر علی زئی کا ہے جس نے یہاں بھی کہا ہے کہ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ اس کتاب میں ضعیف حدیث نہیں ہے۔
    ( مقدمہ نماز نبوی، صفحہ 38)
    لیکن جدید ایڈیشن میں سینہ پہ ہاتھ باندھنے والے موضوع میں سے انہوں نے حضرت وائل بن حجر کی صحیح ابن خزیمہ والی وہ روایت نکال دی جو انہوں نے پرانے ایڈیشن میں شائع کی تھی۔
    ( نماز نبوی، جدید ایڈیشن، مکتبہ دار السلام، صفحہ 184)

    اس طرح حضرت وائل بن حجر کی سینہ پہ ہاتھ باندھنے والی روایت کو اپنی کتاب سے نکال دینا اور مقدمہ میں زبیر زئی کا یہ تسلیم کرنا کہ اس کتاب میں کوئی ضعیف حدیث نہیں ہے اس بات کی دلیل ہے کہ سینہ پہ ہاتھ باندھنے کی یہ روایت ضعیف ہے۔کیونکہ اگر یہ روایت صحیح ہوتی تو غیر مقلد اس روایت کو جدید ایڈیشن سے نہ نکالتے لیکن غیر مقلدین کا اس روایت کو جدید ایڈیشن سے نکالنا اس بات کی تصدیق ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے۔
    Attached Images Attached Images
    [IMG]http://i29.*******.com/oqabf5.jpg[/IMG]

  11. #11
    iTT Student
    Join Date
    Jul 2008
    Posts
    13

    Re: شوال کے چھ روزے اور امام ابو حنیفہ

    App google per Ahsan ul Maqal likh kar search kare or oska mutaliya main link send nhi kar sakta

  12. #12
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    Re: شوال کے چھ روزے اور امام ابو حنیفہ

    Quote Originally Posted by adeelmmx View Post
    App google per Ahsan ul Maqal likh kar search kare or oska mutaliya main link send nhi kar sakta

    صرف یہ بتا دیں کہ

    اہلحدیث ھو

    دیوبندی ھو

    بریلوی ھو

    کیا اس کے لیے اپنے اپنے امام ضروری ہیں

    یا

    قرآن اور صحیح احادیث



    مجھے اللہ کافی ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، میرا بھروسہ اسی پر ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے

  13. #13
    iTT Student
    Join Date
    Jul 2008
    Posts
    13

    Re: شوال کے چھ روزے اور امام ابو حنیفہ

    میرے دوست آپنے کتاب پڑھی یا نہی ظاہر ہے نہیں کیونکہ کتاب کے شروع میں ہی ستہ شوال کی حدیث پر کلام ہے۔ پہلے وہ پڑھ لیں آئمہ اربع کا نمبر بعد میں آئے گا-

  14. #14
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    Re: شوال کے چھ روزے اور امام ابو حنیفہ

    میرے بھائی کوئی تو لنک دے دو

    کتاب کا پورا نام لکھ دیں

    گوگل پر لکھ کر ڈھونڈنے سے ھو سکتا ہے کہ کوئی اور کتاب ہاتھ لگ جا ے

    مجھے اللہ کافی ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، میرا بھروسہ اسی پر ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے

  15. #15
    iTT Student
    Join Date
    Jul 2008
    Posts
    13

    Re: شوال کے چھ روزے اور امام ابو حنیفہ

    چھ پوسٹ ہوچکی ہیں کوشش کرکے دس جیسے ہی ہوتی ہیں لنک دیتا ہوں
    lovelyalltime likes this.

  16. #16
    iTT Student
    Join Date
    Jul 2008
    Posts
    13

    Re: شوال کے چھ روزے اور امام ابو حنیفہ

    lovelyalltime likes this.

LinkBacks (?)


Similar Threads

  1. Replies: 0
    Last Post: 9th January 2012, 03:06 AM
  2. Replies: 0
    Last Post: 11th September 2011, 12:38 AM
  3. Replies: 3
    Last Post: 7th April 2011, 10:06 PM
  4. اصحاب کہف کے نام اور دوسری معلومات
    By Mohammed Usman in forum Zaarori Maloomat
    Replies: 0
    Last Post: 4th August 2010, 08:39 PM
  5. Replies: 2
    Last Post: 26th April 2010, 03:33 PM

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •