بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

بچپن میں ہمیں ایک بات کی نصحت کی جاتی تھی کہ قرآن مجید کو بغیر وضو ہاتھ نہ لگانا اس سے بہت گناہ ہوتا ہے مگر جب میں نے قدرے بڑے ہوکر اس بات کی تحقیق کی کہ کیا واقعی بغیر وضو قرآن مجید کو ہاتھ لگانا منع ہے تو میں حیران رہ گیا کہ ایسا حکم قرآن و صحیح حدیث میں کہیں بھی نہیں ہے::یہ بھی ممکن ہے کہ مجھے ایسا حکم نہ ملا ہو اگر کسی بھائی کے علم میں ہوتو وہ رہنمائی فرمائے جزاک اللہ::اس کی تحقیق پیش کرنے سے پہلے یہ بتانا چاہوں کہ ایسی اور بھی بہت سی باتیں اور عقائد ہیں جو بنادی گئیں ہیں مگر ان کی اصل قرآن اور صحیح حدیث میں بالکل بھی نہیں ہے، ان عقائد میں نمازوں کی رکات بھی شامل ہیں مگر آج میں آپ کے سامنے اس بات کی تحقیق پیش کرونگا کہ کیا قرآن مجید کو بے وضو ہاتھ لگانا منع ہے کہ نہیں؟؟؟

اس پر جو سب سے بڑی دلیل دی جاتی ہے وہ قرآن کی یہ آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌ 77۝ۙفِيْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ 78۝ۙلَّا يَمَسُّهٗٓ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ 79۝ۭ
بیشک یہ قرآن ہے بڑا ہی عزت (و عظمت) والا، جو ایک محفوظ کتاب میں درج ہے، جسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔ سورۃ الواقعہ:۷۷۔۷۸۔۷۹
تفسیر تیسیر القرآن
مطہرون سے مراد کون؟ اس کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ پاکیزہ لوگوں سے مراد فرشتے ہیں۔ یعنی یہ کتاب قرآن کریم لوح محفوظ میں ثبت ہے اور وہاں سے پاکیزہ فرشتے ہی اسے لا کر رسول اللہ تک پہنچاتے ہیں۔ کسی شیطان کی وہاں تک دسترس نہیں ہوسکتی جو اسے لا کر کسی کاہن کے دل پر نازل کر دے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے مضامین و مطالب تک رسائی صرف ان لوگوں کی ہوسکتی ہے جن کے خیالات پاکیزہ ہوں۔ کفر و شرک کے تعصبات سے پاک ہوں۔ عقل صحیح اور قلب سلیم رکھتے ہوں۔ جن لوگوں کے خیالات ہی گندے ہوں۔ قرآن کے بلند پایہ مضامین و مطالب تک ان کی رسائی ہو ہی نہیں سکتی۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کو صرف پاکیزہ لوگ ہی چھو سکتے ہیں یا چھونا چاہئے۔ مشرک اور ناپاک لوگوں کو ہاتھ نہ لگانا چاہئے۔ اسی آیت سے بعض علماء نے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ بے وضو لوگوں کو قرآن کو ہاتھ نہ لگانا چاہیے۔ لیکن راجح تر بات یہی ہے کہ بے وضو بھی قرآن کو چھو سکتا اور اس سے تلاوت کرسکتا ہے۔ صرف جنبی اور حیض و نفاس والی عورت قرآن کو چھو نہیں سکتے۔ جب تک پاک نہ ہوں۔ البتہ حیض و نفاس والی عورت زبانی قرآن پڑھ بھی سکتی ہے اور پڑھا بھی سکتی ہے۔

اب اس آیت کے کئی مطالب سامنے آئے ہیں ان میں یہ بھی ہے کہ کوئی انسان اس کتاب کو ہاتھ نہ لگائے مگر جو پاک ہو، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا بغیر وضو انسان پلید، ناپاک ہوجاتا ہے؟ اگر تو ایسا ہی ہے پھر تو وضو لازم ہوا اور اگر ایسا نہیں ہے تو وضو کی شرط لگانا ٹھیک نہیں ہے کیونکہ یہ دین میں اضافہ کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سے مسائل کو جنم دیتا ہے مثلاً دیکھنے میں اکثر یہ آیا ہے کہ لوگ اکثر اس وجہ سے قرآن کی تلاوت کرنے سے رُک جاتے ہیں کہ وہ بے وضو ہیں اور اس طرح وہ قرآن سے دور ہوتے جا رہے ہیں بلکہ قرآن سے دور ہوچکے ہیں، میرے ساتھ خود کئی دفعہ ایسا ہوا کہ ہم کسی مسئلے پر بات چیت کر رہے ہوتے تو قرآن مجید کے حوالے کے لیے قرآن کی ضرورت پیش آئی اور ہم صرف اسی وجہ سے قرآن کو ہاتھ میں نہیں پکڑ رہے تھے کہ ہمارا وضو نہیں تھا اور وہ موقعہ محل بھی ایسا تھا کہ فوراً وضو بھی نہیں کیا جاسکتا تھا، اب اس مسئلے میں دین میں اضافہ کس مقصد کے لیے کیا گیا تھا اس کا مجھے علم نہیں مگر اس کی وجہ سے لوگ قرآن سے ضرور دور ہو چکے ہیں، وضو بعض لوگوں پر اتنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم نماز نہیں پڑھتے کہ وضو کرنا پڑتا ہے ۔اور سردیوں میں تو بڑے بڑوں کی نماز رہ جاتی ہے صرف سردی میں وضو کی تکلیف سے بچنے کے لیے۔ شاید وہ جہنم کی گرمی کی شدت کو نہیں جانتے۔
اصل میں ناپاک وہ انسان ہوتا ہے جو مرد یا عورت جنبی ہو یا عورت حیض و نفاس سے ہو مگر بے وضو کو بھی ناپاک سمجھنا کسی بھی طور ٹھیک نہیں ہے۔
اب عمر رضی اللہ عنہ کا اثر پیش کرتا ہوں۔
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ فِي قَوْمٍ وَهُمْ يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ وَهُوَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَلَسْتَ عَلَی وُضُوئٍ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ مَنْ أَفْتَاکَ بِهَذَا أَمُسَيْلِمَةُ
محمد بن سيرین سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ لوگوں میں بیٹھے اور لوگ قرآن پڑھ رہے تھے پس گئے حاجت کو اور پھر آکر قرآن پڑھنے لگے ایک شخص نے کہا آپ کلام اللہ پڑھتے ہیں بغیر وضوکے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تجھ سے کس نے کہا کہ یہ منع ہے کیا مسیلمہ نے کہا؟
موطاامام مالک:جلد نمبر 1:باب:کلا م اللہ بے وضو پڑھنے کی اجازت
عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یعنی ایسا حکم تو قرآن و حدیث میں کہیں نہیں ہے کہیں مسیلمہ کذاب نے تو ایسا حکم نہیں دے دیا؟؟؟اور آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ یہ مسیلمہ کذاب وہ شخص ہے جس نے نبیﷺ کی وفات کے بعد نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔
اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو قرآن و سنت کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین