وامی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر صالح بن سلیمان وھبی نے کھا کہ انسانی فلاحی کاموں کو دعوت کی سرگرمیوں سے الگ کرنا ممکن نہیں۔

انہوں نے امریکہ اور یورپ کے اصرار کو بے جا قرار دیا۔جس میں اسلامی فلاحی تنظیموں کو پابند کیا گیا کہ وہ امدادی کاموں کے دوران

دعوت کا کام نہیں کر سکتے۔دعوت اور تبلیغ جیسے خیر کے کام کو امدادی کاموں سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

دیکھا جائے تو نصرانی تنظیمیں خود اس کام کی انجام دہی میں ملوث ہیں۔جو انسانی مجبوریوں کا ناجائز فائیدہ اٹھا کر نصرانیت کی دعوت اور تبلیغ کا کام کر رہی ھیں۔

دکھی انسنیت کی خدمت کی آڑ میں انجیل کی نشرواشاعت کا کام بہی انجام دیتی ھیں۔

عیسائی مشنری کی سرگرمیاں اب ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ھیں۔

چاڈ میں عیسائی تنظیموں نے انسانی امداد کے بہانے 90 بچوں کو اغوا کرنے کی کوشش کی تھی۔مگر عین وقت پر راز فاش ہونے پر ان

کو بچا لیا گیا۔اس عیسائی تنظیم کے اہلکاورں کو قانونی تحفظ دے کر بچا لیا گیا۔

کیا کبھی کسی مسلم تنظیم نے اس طرح کا کام کیا ھے،

نصرانی تنظیموں نے سونامی سے متاثرہ 30 ہزار انڈونیشی یتیم بچوں کو ان کے ملک سے یورپ لے جانے کی گھناوئنی سازش رچائی

لیکن انڈونیشی داعیوں نے اس سازش کو ناکام بنا دیا۔انڈونیشی حکومت نے براہ راست مداخلت کیاور اس عیسائی منصوبے کو ناکام بنا دیا۔

بعد ازاں خادمِ حرمین شریفین شاہ عبداللہ بن عبد العزیز نے ان بچوں کی کفالت کی ذمہ داری لےلی۔

اسی طرح چاڈ کے ایک عیسائی قبیلے کے 60 افراد نے اسلام قبول کیا تو عیسائی تنظیموں نے ان کی امداد بند کر دی۔