ریاض میں نبی رحمت (صلی الله علیہ وسلم) کانفرنس
مولانا بدرالحسن ، کویت
حضور صلی الله علیہ وسلم کی شان میں اہل یورپ کی گستاخیوں کا عملی جواب

نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی محبت ایمان کا جز ہے، حضور صلی الله علیہ وسلم کی اتباع، آپ صلی الله علیہ وسلم کی توقیر، آپ صلی الله علیہ وسلم کی تعظیم اور آپ صلی الله علیہ وسلم کے دین کی نصرت اور آپ صلی الله علیہ وسلم کی طرف سے دفاع کا حکم قرآن کریم میں صراحت کے ساتھ دیا گیا ہے۔ پھر آپ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے :

لا یکون العبد مؤمنا حتی أکون أحب إلیہ من ولدہ ووالدہ والناس أجمعین․ (رواہ مسلم)

اور آپ صلی الله علیہ وسلم کا نام مبارک سن کر درود بھیجنا اور آپ صلی الله علیہ وسلم کی پاکیزہ زندگی کو اپنے لیے آئیڈیل بنانا دنیا اور آخرت دونوں جگہ کی سعادتوں کا ضامن ہے۔

آپ صلی الله علیہ وسلم کی ذات سے پرخاش اور آپ صلی الله علیہ وسلم سے دشمنی اور آپ صلی الله علیہ وسلم کی ذات اور آپ صلی الله علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کے خلاف ریشہ دوانیاں یہود ونصاریٰ کی طرف سے ابتدائے بعثت سے ہی چلی آرہی ہیں، لیکن آپ صلی الله علیہ وسلم کی ذات کی کشش اور آپ صلی الله علیہ وسلم کی سیرت کی پاکیزگی وبلندی ایسی ہے کہ اہل مغرب میں سے سیکڑوں اہل انصاف آپ صلی الله علیہ وسلم کی مخالفت ترک کرنے اور آپ صلی الله علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان لانے پر مجبور ہوگئے یا پھر انہوں نے خاموشی اختیار کرلی یا کم ازکم آپ صلی الله علیہ وسلم کی شریعت کے محاسن بیان کرنے پر مجبور ہوئے۔

کچھ ایسے کور باطن بھی ہیں جنہوں نے اپنی ریسرچ اور تحقیق کو افتراپردازیوں کا ذریعہ بنایا اور انہوں نے اپنی کتابوں میں آپ صلی الله علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کیں اور آپ صلی الله علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین سے لوگوں کو متنفر کرنے کے لیے طرح طرح کے الزامات گھڑے، مستشرقین کی ایک بڑی تعداد ایسی ہی ہے گوکہ ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو حق کا اعتراف کرنے اور آپ صلی الله علیہ وسلم کی یا آپ صلی الله علیہ وسلم کے دین کی بہت سی خوبیوں کا اقرار کیے بغیر نہ رہ سکے۔

استشراق کی تحریک کے پیچھے سیاسی اور ثقافتی اور دیگر کئی عوامل تھے، صلیبی جنگوں کے مقابلہ میں صلاح الدین ایوبی کی کامیابی، پھر ترکوں کے ذریعہ اسلامی خلافت کا صدیوں تک برقرار رہنا اور فتح قسطنطنیہ کے علاوہ یورپ کے کئی ملکوں پر ترکوں کا قبضہ یہ ساری چیزیں ایسی تھیں جن کا مقابلہ کرنے کے لیے مغربی قوموں یا اہل یورپ نے کئی طرح کے جتن کیے جس کا ایک جزء استشراق کی تحریک بھی ہے۔ اس کے علاوہ عیسائی مشنریوں کی طرف سے مختلف اسلامی ملکوں میں کمزور طبقوں کو نشانہ بنانا کالجوں اور یونیورسیٹیوں کے ذریعہ الحاد ودہریت کو فروغ دینا، خود مسلم ملکوں کی تعلیم گاہوں کو دینی تعلیم سے بے بہرہ کردینا مسلم نوجوانوں میں اباحیت پسندی کو فروغ دینا اور اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ کو مسخ کرنا یہ ساری ہی چیزیں ایک طویل مدتی اسکیم کا حصہ ہیں، تاکہ مسلمان بحیثیت قوم کے پھر کبھی دنیا میں غالب نہ آسکیں اور داخلی طور پر کھوکھلے ہوکر اہل مغرب اور دنیا کی دوسری قوموں کے دست نگر بنے رہیں۔

حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی شان میں گستاخیوں کا معاملہ بھی نیا نہیں ہے۔ مشرکین مکہ نے آپ صلی الله علیہ وسلم کو قتل کرنے کا پروگرام بنا ہی لیا تھا، آپ صلی الله علیہ وسلم ایک دیوار کے سایہ میں تشریف فرما تھے کہ اوپر سے پتھر کی چٹان گراکر آپ صلی الله علیہ وسلم کو غفلت میں ختم کردینے کی حرکت بعض یہودیوں نے مدینہ طیبہ میں کی ہی تھی، آپ صلی الله علیہ وسلم کو بکری کے گوشت میں زہر ڈال کر مار ڈالنے کی کوشش بھی ایک یہودی عورت نے کی ہی تھی، اس کے علاوہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو طرح طرح سے ستانے، تکلیف دینے اور اذیت پہنچانے میں آپ کے دشمنوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

زبانی طور پر اس زمانہ کے میڈیا (شعر) کا استعمال بھی آپ کے خلاف بھرپور کیا جاتا رہا، چناں چہ ہجو کرنے والے شاعروں کے مقابلہ میں شاعر رسول صلی الله علیہ وسلم حضرت حسان بن ثابت کھڑے ہوئے اور آپ نے ان کی کام یابی کے لیے دعا کی اور ان کے شعر سننے کے لیے مسجد میں کرسی رکھوائی۔

اسی زمانہ کے بدبخت شاعروں میں ابو عزہ الجحمی بھی تھا، جو آپ صلی الله علیہ وسلم کی ہجو کیا کرتا تھا اور مشرکین مکہ کو آپ صلی الله علیہ وسلم کے خلاف جنگ کے لیے ورغلایا کرتا تھا، چناں چہ بخاری ومسلم کی روایت میں تفصیل درج ہے کہ غزوہ بدر میں جب وہ گرفتار ہوکر آیا تو اس نے آپ صلی الله علیہ وسلم سے التجا شروع کردی کہ مجھے رہا کر دیا جائے اور قتل نہ کیا جائے، کیوں کہ میں نادار آدمی ہوں اور میری چھوٹی چھوٹی بچیاں ہیں، جو میرے قتل ہونے کے بعد بے سہارا ہوجائیں گی۔

چناں چہ رحمت عالم صلی الله علیہ وسلم نے یہ عہدلے کر اسے رہا کردیا کہ وہ آئندہ پھر ہجو گوئی نہ کرے گا اور نہ کبھی مشرکین کے ساتھ مل کر آپ صلی الله علیہ وسلم کے بارے میں زباں درازی کرے گا، لیکن رہائی پانے کے بعد پھر وہ اپنی سابقہ حرکت پر آگیااور حضور صلی الله علیہ وسلم کی ہجو اور مذمت کے ساتھ مشرکین کو آپ صلی الله علیہ وسلم کے خلاف ورغلانے لگا، لیکن غزوہ حمراء الأسد میں وہ دوبارہ گرفتار ہوگیا اور پھر وہی رحم کی درخواست کرنی شروع کی کہ میری بیٹیاں بے سہارا ہوجائیں گی، مجھے رہا کردیا جائے۔

حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم ایک طرف سراپائے رحمت تھے تو دوسری طرف بصیرت کے نور سے منور، وحی الٰہی سے بہرہ ور اور حکمت ودوراندیشی اور عزم وحزم کے ساتھ کام کرنے میں بھی اپنی نظیر آپ ہی تھے۔

آپ صلی الله علیہ وسلم نے بڑے جزم سے فرمایا :

لا، واللّٰہ لا تمسح عارضیک بمکة، وتقول: خدعت محمدا مرتین، لا یلدغ المؤمن من جحر واحد مرتین، إضرب عنقہ یا زید․

بخدا !اب ہرگز تمہیں چھوٹ نہیں دی جاسکتی، اب تم کو دوبارہ یہ موقع نہیں دیا جائے گا، تاکہ مکہ میں اطمینان کے ساتھ پہنچ کر لوگوں سے کہہ سکو کہ: میں نے محمد صلی الله علیہ وسلم کو دو بار دھوکہ دیاہے، مؤمن ایک ہی بل سے دوبارہ ڈسا نہیں جاتا، زید اسے لے جاؤ اور اس کی گردن اُتار دو۔ چناں چہ وہ اپنے جرم کی پاداش میں قتل کردیا گیا۔

حضور صلی الله علیہ وسلم کا یہ جملہ کہ لا یلدغ المؤمن من جحر واحد مرتین (مؤمن ایک ہی بل سے دوبار ڈسا نہیں جاتا) تو محاورہ بن گیا ہے اور اس میں بڑی حکمت ودانائی اور فہم وفراست سے مسلمانوں کو رہنے کی تلقین ہے۔

اُس عہد کے اور بھی واقعات ہیں جن کا ذکر حدیث وسیرت اور تاریخ وتراجم کی کتابوں میں مذکور ہیں۔

بعد کے زمانہ میں حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا مسئلہ فقہاء کے یہاں زیر بحث آتا رہا، اسی وجہ سے امام ابن تیمیہ کو الصارم المسلول علی شاتم الرسول اور علامہ ابن عابدین شامی کو تنبیہ الولاة والحکام علی أحکام شاتم خیر الأنام جیسی کتابیں لکھنی پڑیں۔

قریب کے زمانے میں رسوائے زمانہ سلمان رشدی کی دشنام طرازی اور اب یورپ کے بعض ملکوں میں توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں۔

اسی ماہ اکتوبر کے شروع میں اب سے پانچ سال پہلے توہین آمیز کارٹون شائع کیے گئے تھے اور پانچ سال گزرنے کے بعد اسی بدبختانہ حرکت کی سالگرہ مناتے ہوئے ڈنمارک کے بدطینت آرٹسٹ نے کارٹونوں کو کتاب کی شکل میں شائع کردیا ہے۔

ظاہر ہے کہ

﴿ولقد کفیناک المستھزئین ﴾ (اور مذاق اڑانے والوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہم ہی آپ کے لیے کافی ہیں۔)

اور ﴿واللّٰہ یعصمک من الناس﴾ (اللہ تعالیٰ لوگوں سے آپ کی حفاظت کرے گا) کی خدائی یقین دہانی کے بعد کیسے ممکن ہے کہ سارے زمانہ کے بدبخت مل کر بھی حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم یا آپ کے دین کو کوئی نقصان پہنچا سکیں۔

اس کے باوجود حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی ذات سے محبت اور وفاداری کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے ایسے اسباب اختیار کیے جائیں جن سے اس طرح کی گستاخیوں کا تدارک ہوسکے اور ان کا ہمیشہ کے لیے سدباب ہوجائے۔

ڈنمارک، سویڈن اور بعض دوسرے ملکوں کے چند بدبخت آرٹسٹوں اور قلم کاروں نے حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی شان میں جو گستاخانہ حرکت توہین آمیز کارٹون کی اشاعت کے ذریعہ کی تھی اور دنیا بھر کے مسلمانوں نے اس کے خلاف احتجا ج کیا تھا، اب بجائے ندامت اور معذرت کے اظہار کرنے کے انہیں بدطینتوں نے اس شرمناک واقعہ کی سالگرہ منائی ہے اور پانچ سال گزر جانے کے باوجود پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وسلم کی ذات سے عداوت کا اظہار کرنے کے لیے ان کارٹونوں کو ایک کتاب کی شکل میں شائع کیا ہے۔

لیکن جیسا کہ کہا گیا ہے کہ ہر فرعونے را موسیٰاللہ کے فضل وکرم سے ٹھیک انہیں دنوں میں سعودی عرب کے پایہٴ تخت ریاض میں ایک اہم ترین عالمی کانفرنس منعقد ہوئی اور اس کا عنوان نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنس رکھا گیا، تاکہ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی ذات کی طرف سے بھرپور علمی دفاع کیا جاسکے اور بجائے وقتی اور جذباتی ردعمل کے حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی زندگی میں رحمت کے پہلوؤں کو دنیا کے سامنے اُجاگر کیا جاسکے۔

اس کانفرنس کا نظم سعودی علمی ایسوسی ایشن برائے سنت وعلوم سنت (جس کا مخفف سننہے) نے محمد بن سعود یونیورسٹی (جامعة الامام) کے تعاون سے کیا اور جس میں دنیا بھر سے نمائندے بلائے گئے، اور اس میں پیش کیے جانے والے مقالات کو 9 ضخیم جلدوں میں شائع کیا گیا ہے، جب کہ بہت سے مقالات اس مجموعہ میں شامل ہونے سے رہ گئے ہیں۔

احقر جمعہ یکم اکتوبر کو خصوصی دعوت پر کانفرنس میں شرکت کے لیے ریاض گیا، ریاض کے ایک بڑے ہوٹل فندق مداریم کراؤن میں رہائش کا نظم کیا گیا تھا اور کانفرنس کی عام نشستوں کا بھی، سوائے افتتاحی اجلاس کے جو جامعة الامام کے ایک ہال میں منعقد ہوا۔

کانفرنس کے آغاز سے پہلے شنبہ ۲/ اکتوبر کو ریاض کے قائم مقام گورنر پرنس سطام بن عبد العزیز نے اپنے قصر الحکم میں تمام مہمانوں سے ملاقات کی اور کانفرنس کے اغراض ومقاصد سے واقفیت حاصل کی اور اسلام کی خدمت اور پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وسلم کی نصرت کے لیے اپنی حکومت کی طرف سے بھرپور تعاون کے جذبہ کا اظہار کیا۔ لبنان کے مفتی محمد رشید قبانی موریتانیا کے مفتی احمد ولد مرابط، محمد بن سعود یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سلیمان ابا الخیل اور سنت ایسوسی ایشن کی مجلس انتظامیہ کے سربراہ ڈاکٹر عبد العزیز السعید اس ملاقات میں پیش پیش تھے۔

بعد نماز مغرب کانفرنس کی کارروائیوں کا باقاعدہ آغاز افتتاحی اجلاس سے ہوا، جس کے لیے محمد بن سعود یونیورسٹی کے اندر واقع شیخ محمد بن ابراھیم ہال کا انتخاب کیا گیا تھا۔

تلاوت قرآن کے بعد اجلاس سے پہلے سنت ایسوسی ایشن کی مجلس انتظامیہ کے سربراہ اور کانفرنس کے روحِ رواں ڈاکٹر عبد العزیز السعید نے خطاب کیا۔

پھر یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سلیمان ابا الخیل نے اور آخر میں سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبد العزیز آل الشیخ نے کانفرنس کی اہمیت اور حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی نصرت کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔

اگلے دن 3 اکتوبر سے کانفرنس کی علمی نشستوں کا آغاز ہوا اور 3اور4 اکتوبر دو دنوں تک کانفرنس کی کارروائی جاری رہی اور کل ۲۱/ علمی نشستیں منعقد ہوئیں، جن میں سات سے زائد علمی مقالات پیش کیے گئے۔

شرکائے سمینار میں مقامی سعودی مقالہ نگاروں کے علاوہ مصر، سوڈان، شام، لیبیا، الجزائر، مراکش، ملیشیا، انڈونیشیا، ساحل العاج، بورکینا فاسو، لندن، ڈنمارک، ہندوستان ، پاکستان، موریتانیا، یونان، سویڈن، قطر ، بحرین، اُردن، یمن، لبنان جیسے متعدد ملکوں سے تعلق رکھنے والے اہل علم شامل تھے۔ مصر، اُردن، الجزائر اور مراکش کے توکئی کئی نمائندے شریک تھے اور مرد اہل قلم کے علاوہ عورتوں کے مقالات بھی شامل تھے۔

پہلے جلسے کی صدارت لبنان کے مفتی شیخ محمد رشید قبانی نے کی، جب کہ دوسری نشست کے صدر محمد بن سعود یونیورسٹی کے نائب مدیر ڈاکٹر عبد اللہ الششری تھے، جس میں ڈاکٹر فوزی درامن، ڈاکٹر سلیمان الشجراوی اور ڈاکٹر محمد اللعبون وغیرہ نے اپنے مقالات پیش کیے۔

تیسری نشست کی صدارت مصر کے ڈاکٹر مصطفی حلمی نے کی، اس نشست میں ایرانی شہریت رکھنے والے اور مجمع ملک فہد سے وابستہ ڈاکٹر عبد الغفور البلوشی نے حیوانات کے بارے میں اسلام کے رویہ اور حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات میں جانوروں کے ساتھ حُسن معاملہ کی جو تلقین کی گئی ہے اسے اپنے مقالہ کا موضوع بنایا تھا۔

اس کے بعد میرا نمبر تھا، میں نے اپنے مقالہ میں وعظ ونصیحت اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی زندگی میں رحمت کے جو پہلو ہیں ان کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔

مقالے کے آغاز میں رحمت کی حقیقت، شریعت میں رحمت کی تلقین اور رحمت ورافت کے فرق پر روشنی ڈالی گئی ہے، پھر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی شرعی اہمیت اور احتساب کی حکمت اور اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ معاشرہ کی سلامتی اور حکومتوں کی بقا اور ان کا ارتقا فریضہٴ احتساب یا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے ہی جڑا ہوا ہے۔

اس سلسلہ میں اپنی بات کو مدلل کرنے کے لیے شرعی نصوص یعنی قرآنی آیات واحادیث کے ساتھ ساتھ امام غزالی، امام عزالدین عبد السلام، امام قرافی اور امام ابن القیم وغیرہ کی عبارتیں بھی دلیل کے طور پر پیش کی گئی ہیں۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ سے ہی جڑا ہوا محتسب کا منصب بھی ہے جو اسلامی حکومتوں میں ایک باوقار منصب رہا ہے۔

قاضی عیاض، امام نووی، علامہ ابن الھمام اور مولانا ظفر احمد العثمانی وغیرہ کی عبارتوں سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے عمل میں حکمت ومصلحت اور توازن واعتدال کے ساتھ نرمی وخوش اُسلوبی کا رویہ اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے اور یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ شرعی احکام کی اصل روح مفاسد کا ازالہ اور مصالح کا تحقق ہے، لہٰذا جہاں منکر کے ازالہ سے اس سے بڑا منکر پیدا ہونے کا اندیشہ ہو یا معاشرہ میں فتنہ وفساد کو غذا ملتی ہو تو ایسی جگہ پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے وابستہ لوگوں کو حکمت سے کام لینے کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ بڑے منکر سے بچا جاسکے۔

پھر ہر شخص ہر منکر کے ازالہ کا مکلف نہیں ہوتااور بہت سی باتیں سرکاری اداروں کی ذمہ داری ہوتی ہیں، خاص طور پر سرکش طبیعتوں کو درست کرنے کے لیے تادیب اور سرزنش کا حق سرکاری اداروں کا ہوتا ہے، ہر شخص قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا، اپنے گھر اور اہل خاندان کے معاملہ میں تو آدمی اختیار رکھتا ہے، لیکن معاشرہ کے دیگر افراد اور گروہوں پر دباؤ ڈالنا ہر کسی کے بس میں نہیں ہوتا، چناں چہ ہر کوئی اگر قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے لگے تو معاشرہ میں بدامنی پھیل جائے گی اور انتقام در انتقام کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔

مقالہ میں جہاں مأمون الرشید کے اس واقعہ کو نقل کیا گیا ہے کہ ایک واعظ نے جب بد سلیقگی سے اسے کسی عمل سے روکنا چاہا تو اس نے بڑے قیمتی اور اہم جملہ سے اس کا جواب دیا اور اسے نہی عن المنکر کے آداب بتلائے، اس نے کہا کہ اللہ نے تم سے اچھے شخص (موسیٰ و ھارون ) کو مجھ سے زیادہ بُرے انسان (فرعون) کے پاس بھیجا تھا تب بھی تلقین یہ کی:

﴿فقولا لہ قولا لینا لعلہ یتذکر أو یخشیٰ ﴾ (اس کے پاس جاکر تم دونوں نرمی کے ساتھ بات کہو، شاید کہ وہ نصیحت حاصل کرلے یا ڈرنے لگے)اسی طرح اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا عمل کرنے والوں کو ہر طرح کے لالچ سے پاک ہونا چاہیے ورنہ وہ احتساب کا فریضہ صحیح طور پر انجام نہیں دے پائے گا۔

اس سلسلہ میں امام غزالی کا ذکر کردہ یہ واقعہ بھی نقل کردیا گیا ہے کہ ایک بزرگ نے اپنے گھر میں بلی پال رکھی تھی اور اس کے کھانے کے لیے گوشت کا چھیچھڑا وغیرہ پڑوس میں رہنے والے ایک قصاب سے لیا کرتے تھے۔

انہوں نے ضرورت محسوس کی کہ قصاب کو برائی سے روکنے کے لیے اس کا احتساب کرنا چاہیے چناں چہ سب سے پہلے انہوں نے بلی کو گھر سے بھگایا ،اس کے بعد قوت کے ساتھ قصاب کی سرزنش کی ، اس نے غصہ ہوکر کہا کہ اب میں آپ کی بلی کے لیے گوشت یا چھیچھڑے نہیں دوں گا تو بزرگ نے پورے اطمینان سے فرمایا کہ اب مجھے اس کی ضرورت بھی نہیں رہی، تمہارا احتساب کرنے سے پہلے ہی میں نے اپنے گھر سے بلی کو باہر کردیا تھا، تاکہ اس سے میرے عمل میں رکاوٹ نہ ہو۔

مقالہ کا اختتام اس حقیقت کے بیان پر ہوا ہے کہ موجودہ زمانہ میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا عمل بیحد نازک ہوگیا ہے اور بعض ملکوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ادارے مذاق کا موضوع بن گئے ہیں اور انکی کارروائیوں کا کوئی مثبت اثر ہونے کے بجائے وہ خود ہی بین الاقوامی میڈیا میں دین داروں کی بدنامی کا ذریعہ بنتے جارہے ہیں، جس کی وجہ واعظین کی طرف سے ترش روئی کا معاملہ، حالات کا جائزہ لیے بغیر کارروائی اور چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر روک ٹوک کو اپنا مشن بنا لینا ہے۔

لہٰذا اس بات کی ضرورت ہے کہ احتساب یا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے اہم کام کی انجام دہی کے لیے شرعی علوم حاصل کرنے والوں کو باقاعدہ ٹریننگ دی جائے، ان کو شرعی احکام کے ساتھ لوگوں سے معاملہ کرنے کا انداز، جرائم پیشہ گروہوں کی نفسیات اور ان کی چالبازیوں سے بھی آگاہ کیا جائے، ساتھ ہی نرمی کے ساتھ لوگوں کی فہمائش کے اُصول وآداب بھی سکھلائے جائیں، اس سلسلہ میں حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ سے مختلف مثالیں پیش کی گئی ہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے کس طرح مسجد میں پیشاب کرنے والے اَعرابی کے ساتھ نرمی کا معاملہ فرمایا اور درمیان میں پیشاب روکنے سے صحابہ کو منع فرمایا، پھر اسے نصیحت کی کہ مسجد ان کاموں کے لیے نہیں ہوا کرتی اور صحابہ سے فرمایا کہ پیشاب کی جگہ پر ایک ڈول پانی بہادو۔

اسی طرح ایک نوجوان نے جب زنا کرنے کی اجازت مانگی تو بجائے جھڑکنے اور غصہ کا اظہار کرنے کے اسے قریب بلایا، پھر اس کے ذہن میں زنا کی شناعت بٹھائی کہ جس طرح تم اپنی ماں اور بہن کے ساتھ اسے پسند نہیں کرتے، اسی طرح دوسرے لوگ بھی اس کو پسند نہیں کرتے ہیں، پھر اپنا دستِ مبارک اس کے سینہ پر رکھا اور اس کے لیے پاک دامنی اور عفت کی دعا فرمائی، چناں چہ آپ کے اس مشفقانہ برتاؤ سے اس کی اصلاح ہوگئی اور اس کے دل میں زنا سے نفرت پیدا ہوگئی۔

اس طرح کی اور بھی مثالیں دی گئی ہیں، جن میں آپ صلی الله علیہ وسلم کا جذبہ رحمت نمایاں ہے۔

ایک تجویز یہ بھی رکھی گئی ہے کہ چوں کہ احتساب کا عمل مختلف اسلامی ملکوں میں اس وقت موقوف ہے اس لیے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے ایک تفصیلی لائحہٴ عمل اور میثاق تیار کیا جائے، جس سے ہر معاشرہ میں فائدہ اٹھایا جاسکتا ہو۔

میرے مقالہ کے بعد یمن کے ڈاکٹر علی بہلول اور سعودی عرب کی ڈاکٹر عفاف نے بوڑھوں اور معذوروں سے متعلق حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات میں رحمت کے پہلو کو اپنے مقالات کے ذریعہ واضح کرنے کی کوشش کی۔

چوتھی نشست کے صدر سعودی عرب میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے اداروں کے سربراہ شیخ عبد العزیز حمین الحمین تھے۔

اس نشست میں اُردن کے ڈاکٹر محمد طلافحہ نے مالی معاملات میں رحمت کے پہلو اور مراکش کے ڈاکٹر محمد البوشواری نے حدود میں رحمت کے پہلو پر روشنی ڈالی، جب کہ ڈاکٹر سلویٰ الحمادی نے عورتوں کے حقوق میں رحمت کے پہلو کو اُجاگر کیا۔

پانچویں نشست کے بیشتر مقالات بھی مسکینوں اور یتیموں بوڑھوں اور معذوروں اور حیوانات وغیرہ سے متعلق تعلیمات پر مشتمل تھے، اس کی صدارت ڈاکٹر محمد فؤاد البرازی نے کی۔

چھٹی نشست کی صدارت ہیئتہ کبار العلماء کے رکن شیخ صالح اللحیدان کو سونپی گئی تھی اور اس نشست میں جامعہ الامام کے ڈائریکٹر سلیمان ابا الخیل، موریتانیا کے مفتی احمد ولد مرابط وغیرہ نے اپنے مقالات پیش کیے۔

ڈاکٹر سلیمان ابا الخیل کے مقالہ کو کتابی شکل میں بھی تقسیم کیا گیا، جو حضور صلی الله علیہ وسلم کی طرف سے دفاع میں ڈائیلاگ کے اثر کے عنوان پر ہے۔

ساتویں نشست کے صدر سعودی عرب کی مجلس شوریٰ کے صدر شیخ عبد اللہ بن محمد بن ابراھیم آل الشیخ تھے اور اس نشست میں کل آٹھ مقالات پیش کیے گئے۔

آٹھویں نشست کی صدارت موریتاینا کے مفتی احمد ولد مرابط نے کی، جس میں ڈاکٹر محمد فؤاد البرازی نے اپنے مقالہ میں مستشرقین کے عمل کا جائزہ لیا،جب کہ ڈاکٹر سیف الاسلام الہلالی نے اسپین کے مستشرقین کے رویہ پر روشنی ڈالی کہ انہوں نے حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی سیرت کس انداز سے لکھنے کی کوشش کی ہے اور شیخ عبد الحق الترکمانی نے سویڈن کے مستشرق توراندریہ کی کتاب کا جائزہ لیا اور ڈاکٹر عبد اللہ رفاعی نے مشہور جرمن مستشرق کارل بروکلمان کے وحی کے بارے میں خیالات کا تنقیدی جائزہ لیا۔

اسی طرح پروفیسر زرمان نے حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کے بارے میں یورپی مفکرین کی زیادتیوں کا جائزہ لیا۔

کانفرنس کی نویں نشست کی صدارت شاہی دیوان کے مشیر شیخ عبد المحسن العبیکان نے کی، اس نشست میں ڈاکٹر مصطفی حلمی، ڈاکٹر محمد عبد الواحد العبیدی، ڈاکٹر محمد عبد الرزاق اسود اور ڈاکٹر محمد الحافظ الروسی نے اپنے مقالات پیش کیے اور تمام ہی مقالات یورپی مصنفین کی ناانصافیوں اور مستشرقین کی تحریروں کے جائزہ پر مشتمل تھے۔

کانفرنس کے دسویں اجلاس کی صدارت محمد بن سعود یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سلیمان ابا الخیل نے کی ،جس میں ڈاکٹر عبدالحکیم عرمان، ڈاکٹر ابو عود، ڈاکٹر فہد بن سلیمان الفہد اور ڈاکٹر محمود عبد العزیز راضی نے مختلف مستشرقین کی تحریروں کا جائزہ لیا اور ان پر تنقیدیں کیں۔

ڈاکٹر عرمان نے موجودہ فرانسیسی استشراق کا جائزہ لیا، احمد ابو عود نے برطانوی مستشرق کاربن ارمسٹرونگ کی کتاب کا جائزہ لیا، ڈاکٹر فہد سلمان الفہد نے کریسٹر ہیڈن کے خیالات کا جائزہ لیا اور ڈاکٹر محمود راضی نے فرانسیسی ادیب والٹر کے نظریات کا ناقدانہ جائزہ لیا۔

ڈاکٹر عبد العزیز السعید کے مقالہ کا موضوع شیخ محمد بن عبد الوھاب کی دعوت میں سنت کی حیثیت واہمیت تھا، جب کہ ڈاکٹر عاصم القریوتی نے دین اسلام اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی رحمت شیخ البانی کی تحریروں میں اور ڈاکٹر عبد العظیم بدوی نے رحمت کے پہلووں کو اُجاگر کرنے میں مصر کی جماعت انصار السنہ کی کوششوں کا ذکر کیا۔

گیارہویں نشست میں اجلاس کی صدارت تو شاہزادہ ڈاکٹر سعود بن سلمان بن محمد آل سعود نے کی اور مقالہ پیش کرنے والوں میں یمن کے ڈاکٹر صالح الرفاعی، لیبیا کے ڈاکٹر نادر السنوسی العمرانی تھے۔

کانفرنس کے روح رواں سعودی علمی ایسوسی ایشن برائے سنت وعلوم سنت ڈاکٹر عبد العزیز السعید، ڈاکٹر عاصم القریوتی اور ڈاکٹر عبد العظیم بدوی بھی اس نشست کے مقالہ نگاروں میں تھے۔

ڈاکٹر صالح الرفاعی نے حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی طرف سے دفاع میں صحابہ کرام کی کوششوں پر روشنی ڈالی اور ڈاکٹر نادر السنوسی نے حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی طرف سے دفاع میں محدثین کے رول کا ذکر کیا۔

بارھویں نشست کی صدارت کے لیے امام حرم شیخ سعود الشریم کا انتخاب کیا گیا تھا اور اس نشست میں ۶/ مقالے پیش ہوئے جن میں:
* ... موجودہ دعوتی کاموں میں رحمت کے پہلو کو اُجاگر کرنے کی بنیادیں ۔
* ... تاریخ اسلامی کے نصاب میں رحمت النبی صلی الله علیہ وسلم کے موضوع کو شامل کرنے کی کوششیں۔
* ... حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی طرف سے دفاع میں شیخ ابن باز کا رول۔
* ... اسلام کے بارے میں امریکی میڈیا کا رویہ۔
* ... اور برصغیر میں حضور کی طرف سے دفاع کی کوششیں۔

افسوس ہے کہ برصغیر سے متعلق مقالہ میں نہ تو ان کوششوں کا ذکر کیا گیا ہے، جو دار المصنفین اعظم گڑھ، ندوة المصنفین دہلی کی ہیں، نہ سید علامہ سلیمان ندوی، ڈاکٹر محمد اقبال، ڈاکٹر محمد حمید اللہ وغیرہ کی کوششوں کی طرف کوئی اشارہ کیا گیا ہے، نہ مولانا محمد رحمت اللہ کیرانوی، مولانا محمد قاسم نانوتوی وغیرہ کی جد وجہد یا اظہار الحق جیسی کتاب ہی کا کوئی حوالہ یا ان کی کوششوں کی طرف کوئی اشارہ کیا گیا ہے۔

قادیانیت کے خلاف کوششوں میں بھی نہ تحریک ختم نبوت یا مفتی محمود یا مولانا محمد یو سف بنوری یا مولانا مفتی محمد شفیع صاحب وغیرہ کی کتابوں اور جدوجہد کا ہی کوئی ذکر کیا گیا ہے، جب کہ قادیانیوں کی تکفیر سراسر ان حضرات کی کوششوں کا ہی نتیجہ تھی، بہاولپور کا وہ تاریخی مقدمہ جس میں علامہ انور شاہ کشمیری بنفس نفیس شریک ہوئے تھے اسے بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے تھا، اسی طرح امیر شریعت عطاء اللہ شاہ بخاری کے نام اور کام کا ذکر زیادہ اہمیت سے آنا چاہیے تھا۔

حد تو یہ ہے کہ رسوائے زمانہ سلمان رشدی کی یاوہ گوئیوں کے خلاف ہونے والی کوششوں اور اس کے خلاف لکھی جانے والی کتابوں کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

موجودہ حالت میں اس مقالہ کو برصغیر میں حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی طرف سے ہونے والی دفاعی کوششوں کا عنوان دینا تو کسی طرح صحیح نہیں ہے، زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس سلسلہ میں برصغیر کی ایک مخصوص جماعت کی طرف سے کی جانے والی کوششیں اس کا عنوان ہونا چاہیے، پڑھے لکھے اور قریبی واقفیت رکھنے والے اہل قلم کی طرف سے اس طرح کا رویہ علمی امانت کے خلاف اور تحقیق وریسرچ کے اُصولوں سے بے میل نظر آتا ہے۔

اس مقالہ کو لکھنے اور پیش کرنے والے محترم ڈاکٹر سہیل عبد الغفار ہیں ،جو غالباً اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے کسی شعبہ سے وابستہ ہیں، اس لیے یہ کہنا تو مشکل ہے کہ قادیانیت کے خلاف لکھی جانے والی سیکڑوں کتابوں اور دیگر علماء کی قربانیوں سے وہ ناواقف ہوں گے، اس لیے #

ناطقہ سربگریباں ہے کہ اسے کیا کہیے؟

21 ویں نشست ہی کانفرنس کی آخری نشست قرار پائی اور جو وقت مقالات پر بحث ومناقشہ کے لیے مخصوص کیا جاسکتا تھا وہ یونان کے مفتی صاحب کی پرجوش تقریر کی نذر ہوگیا، جنہوں نے سعودی عرب اور خادم حرمین شریفین کی طرف سے دنیا کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کی بہبود کے لیے جو کوششیں ہورہی ہیں ان کا ذکر بڑے مؤثر اور جذباتی انداز سے کیا۔

اس کے بعد قراردادیں پڑھ کر سنائی گئیں اور کانفرنس کے ہال میں ہی حرم کے امام وخطیب شیخ سعود الشریم کی امامت میں شرکائے کانفرنس کو مغرب کی نماز ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی اور اس طرح یہ عالمی کانفرنس حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی زندگی میں رحمت کے پہلووں کو اُجاگر کرکے خیر وخوبی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی اور سیرت وسنت پر کام کرنے کے دسیوں نئے عنوانات سامنے آگئے۔

کانفرنس کے منتظمین نے 9جلدوں میں مقالات شائع کرنے کے علاوہ قطر کے سابق قاضی شیخ احمد بن حجر آل طامی کی گراں قدر کتاب کو بھی نئی آب وتاب کے ساتھ شائع کردیا ہے، جس میں حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کے بارے میں مغرب ومشرق کے غیر مسلم مصنفین ومفکرین کے اقوال کو بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ جمع کیا گیا ہے۔

نبی رحمت صلی الله علیہ وسلم کانفرنس کے منتظمین اپنے اس اہم کارنامہ پر یقینا قابل ستائش ہیں کہ انہوں نے یورپ والوں کی گستاخیوں کا جواب حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی شان رحمت کو اُجاگر کرکے دیا۔ واللّٰہ ولی التوفیق