Page 1 of 2 12 LastLast
Results 1 to 20 of 38

ننگے سر نماز پڑھنے کا حکم اللہ تعالٰی اور ا

This is a discussion on ننگے سر نماز پڑھنے کا حکم اللہ تعالٰی اور ا within the Zaarori Maloomat forums, part of the Mera Deen Islam category; ننگے سر نماز پڑھنے کا حکم اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں دیا :۔ ...

  1. #1
    www.rangonoor.com pakjihad's Avatar
    Join Date
    Dec 2009
    Location
    karachi
    Posts
    428

    ننگے سر نماز پڑھنے کا حکم اللہ تعالٰی اور ا

    ننگے سر نماز پڑھنے کا حکم اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں دیا :۔

    آجکل بہت سارے لوگ باطل کی سازشوں اور مکروہ پروپیگنڈے کا شکار ہو کر جہاں اور بہت اعمال بد میں مبتلا ہو چکے ہیں وہاں ننگے سر نماز پڑھنے والا عمل بھی شامل ہے ۔ حالانکہ نہ تو اس طرح نماز پڑھنے کا ثبوت قرآن پاک سے ملتا ہے اور نہ ہی ننگے سر نماز پڑھنے کا حکم رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیاہے ، بلکہ نی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو پوری زندگی میں ایک دفعہ بھی ننگے سر نماز پڑھنے کا ثبوت نہیں ملتا ، پھر نہ جانے لوگوں نے اس طرح نماز پڑھنے کی عادت کیوں بنا ڈالی ہے۔

    مسجد میں زیب و زینت اختیار کر کے آنے کا حکم خداوندی:۔

    مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے آنے والے حضرات کو اللہ تعالٰی نے کیا حکم دیا ہے ، اس کو اس آیت میں پڑھ لیجیے ۔ چنانچہ فرمان خداوندی ہے ” یبنی اٰدم خذوا زینتکم عند کل مسجد” (سورہ اعراف )۔ یعنی ہر نماز کے وقت زیب و زینت والا لباس پہن لیا کرو۔ اس اٰیت میں زیب و زینت کر کے نماز پڑھنے کے لیے آنے کو کہا جارہاہے ۔ اور زیب و زینت مکمل لباس کے بعد ہی اختیار کی جاتی ہے ۔ مکمل لباس میں لباس ساتر بھی شامل ہے اور پورے جسم کو ڈھانپ کر رکھنے والا لباس بھی۔ گویا ان دونوں کے علاوہ ایک ایسا لباس پہننے کا حکم ہو رہا ہے جس سے انسان کی زینت ظاہر ہو ۔ ذرا سوچیں کہ ایک آدمی نے سر پر ٹوپی یا عمامہ باندھا ہوا ہو اور دوسرے آدمی نے سر پر کچھ بھی نہ رکھا ہو ، بالوں کو سنوار کر یا بغیر سنوارے کھڑا ہوا ، دونوں کا موازنہ کر کے دیکھ لیں آپ کو خود ہی اندازہ ہو جایے گا کہ زیب و زینت کس نے اختیار کی ہے اور کون اس کا تارک ہے ۔ باادب ہو کر کون نماز پڑھ رہا ہے اور بے ادبی کس کی نماز سے ظاہر ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر پر عمامہ اور کپڑا رکھنا:۔

    اگر سر کو ننگا رکھنا بہتر ، سنت یا ضروری ہوتا تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپنے سر پر عمامہ رکھنے کا معمول نہ بناتے ۔ لیکن احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مباک پر عمامہ یعنی پگڑی کا ذکر اتنی کثرت سے آتا ہے کہ اس کے ضروری ہونے کا گمان ہونے لگتا ہے ۔ ان روایات کی ایک جھلک آپ بھی دیکھ لیجیے تاکہ آپ کو یقین ہو جایے کہ سر کو ننگا رکھن خلاف سنت ہے ۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن جب شہر میں داخل ہویے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر سیاہ عمامہ تھا ۔ اور دوسری روایت حضرت عمروابن حریث رضٰی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر سیاہ عمامہ دیکھا ۔ تیسری روایت بھی انہی سے خطبہ کے وقت عمامہ باندھنے کی ہے ۔ اور چوتھی روایت حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب عمامہ باندھتے تو اس کے شملہ کو اپنے دونوں مونڈھوں کے درمیان پچھلی جانب ڈال لیتے تھے ۔ اور پانچویں روایت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک خطبہ پڑھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر سیاہ عمامہ تھا یا چکنی پٹی تھی۔ یہ تمام روایات شمایل ترمذی میں امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے نقل کی ہیں ۔ کتب احادیث میں مختلف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے عمامہ باندھنے کی متعلق اتنی کثرت سے احادیث منقول ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو ہمیشہ ڈھانپ کر رکھتے تھے ۔ عمامہ سے یا کسی کپڑے سے لیکن سر ننگا رکھنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر گز عادت مباکہ نہ تھی۔

    عمامہ باندھنے کا حکم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حکما” بھی عمامہ باندھنے کا ثبوت احادیث کے اندر ملتا یے ۔ چنانچہ ایک روایت یوں ملتی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ “اعتموا تزدادو حلما” عمامہ باندھا کرو اس سے حلم میں بڑھ جاؤ ۔ ( رواہ الطبرانی فی الکبیر ج ا ص 194 مرفوعا )۔

    امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے ۔

    ۔ ( فتح البار ج 10 ص 335 )۔

    ایک اور روایت حضرت رُکانہ سے اس طرح آتی ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ” ہمارے اور مشرکوں کے درمیان ایک فرق یہ بھی ہے کہ ہم ٹوپیوں پر عمامہ باندھتے ہیں ” (مشکوۃ باب اللباس )۔

    ان روایات سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمامہ باندھا بھی ہے اور اس کے باندھنے کا اپنی امت کو حکم بھی دیا ہے ۔ اب اس بات کا اندازہ آپ خود ہی لگا لیں کہ جو کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہو اور اس کے کرنے کا حکم بھی دیں تو کیا وہ سنت نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔؟۔ لیکن غیر مقلدین کو کون سمجھائے کہ نہ تو وہ خود اس سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرتے ہیں اور نہ ہی دوسرے مسلمانوں کو اس سنت پر عمل کرنے دیتے ہیں بلکہ اس سنت کے برعکس ہر ایک کو سر ننگا کر کے گھومنے کی دعوت دیتے ہیں۔

    عمامہ اور ٹوپی کا ثبوت صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین اور تابعین رحمہ اللہ علیھم سے :۔

    صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین وہ شخصیات ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر دل وہ جان سے ایمان لائے ۔ انہوں نے آپ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر کام کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور پھر اس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کی ۔ اسی لئے اللہ تعالٰی نے قرآن میں فرمایا ” اٰمنوا کما اٰمن الناس ” (سورہ بقرہ)۔ کہ ایسے ایمان لاؤ جیسے یہ لوگ (یعنی صحابہ کرام ) ایما لائے ۔

    ظاہر ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صدق دل سے ایمان لانے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین ہی تھے ۔ اسی لئے اللہ تعالٰی نے ان کے ایمان کو آنے والی نسلوں کے لئے معیار حق قرار دیا ۔ آئیے ذرا ان کی زندگیوں کا مطالعہ کریں کہ انہوں نے سر پر عمامہ یا ٹوپی پہنا ہے کہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟۔

    چنانچہ حضرت ابو کبشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ٹوپیاں اس طرح کی ہوتی تھیں کہ سروں پر چپکی رہتی تھی ۔ (مشکوۃ باب اللباس )۔ اس روایت کو اگرچہ امام ترمذی نے منکر کہا ہے لیکن یہ روایت متناً صحیح ہے نیز اسے تلقی بالقبول کا درجہ بھی حاصل ہے کیونکہ امت میں ہر دور کے اندر اس روایت پر عمل ہوتا رہا ہے جو اس روایت کا مؤید ہے۔

    حضرت نافع رحمۃ اللہ علیہ تابعی فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہھا کو شملہ اپنے دونوں منڈھوں کے درمیان ڈالتے دیکھا ۔ (شمایل ترمذی باب ماجاء فی عمامہ)۔

    حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنھما سے کسی نے پوچھا کہ عمامہ باندھنا سنت ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟ ۔ فرمایا ” ہاں سنت ہے “۔ اور مزید فرمایا ” عمامہ باندھا کرو کہ اسلام کا نشان ہے ، مسلمان اور کافر میں فرق کرنے والا ہے ” ( عینی عمد ۃ القاری ج 21 ص30)۔

    عبید اللہ جو نافع رحمۃ اللہ علیہ تابعی کے شاگرد ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد رحمۃ اللہ علیہ ( حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پوتے )اورسالم بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پوتے ) کو ایسا کرتے ( یعنی شملہ اپنے دونوں مونڈھوں کے درمیان ڈالتے ) دیکھا۔ ۔ (شمایل ترمذی باب ماجاء فی عمامہ)۔

    اس روایت کے متعلق علامہ بیجوری رحمۃ اللہ علیہ مواہب لدنیہ میں فرماتے ہیں کہ ” واشارہ بذالک الی انہ سنۃ مؤکدہ محفوظۃ لم یترکھا الصلحا “(مواہب لدنیہ ص 101)۔ یعنی سر پر پگڑیاں باندھنا ایک ایسی سنت مؤکدہ ہے جو ہمیشہ محفوظ رکھی گئی اور اس کو صلحاء یعنی نیک بندوں نے کبھی نہیں چھوڑا ۔ نیز حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنھما کی مندرجہ بالا روایت جس میں سیاہ عمامہ باندھ کر خطبہ کا ذکر ہے اس کے بارے میں صاحب اتحافات والے لکھتے ہیں کہ ” ھذہ الخطبۃ وقعت فی مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم الذی توفٰی فیہ “۔( شرح شمایل اتحافات ص 159 )۔

    یعنی یہ خطبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الوفات میں دیا تھا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے آخر لمحات تک سر پر عمامہ باندھا۔ علامہ بیجوری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ بھی لکھا ہے کہ ” والعامۃ سنۃ لا سیما للصلوٰۃ و بقصد التجمل لا خبار کثیرۃ فیھا ” ۔ (مواہب لدنیہ )۔ اس عبات میں علامہ بیجوری رحمۃ اللہ علیہ نے چار چیزوں کا ذکر فرمایا ہے ۔

    ۔(۱) کہ عمامہ باندھنا سنت ہے ۔

    ۔(۲) کہ عمامہ نماز کے لئے اور زیادہ اہمیت رکھتا ہے ۔

    ۔(۳) کہ خوبصورتی کی علامت ہے ۔

    ۔(۴) کہ بہت ساری روایات سے اس کا ثبوت ملتا ہے ۔

    ان تمام روایات و آثار سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ، تابعین عظام رحمۃ اللہ علیھم اور شارحین حدیث سر پر ٹوپی بھی پہنتے تھے اور اس کے اوپر عمامہ بھی باندھا کرتے تھے ۔ نیز اس کو سنت بھی سمجھتے تھے ۔ اور یہی کچھ احناف اہلسنت والجماعت بھی کہتے ہیں۔

    غیر مقلدین کے اپنے علماء کی گواہی :۔

    غیر مقلدین کو اگر محدیثین اور مجتہدین کی باتوں پر یقین نہیں آتا تو اپنے علمائے غیر مقلدین ہی کو دیکھ لیں ۔ شاید انہیں ان پر یقین آجائے ۔ چنانچہ میاں نذیر حسین دہلوی لکھتے ہیں ” ٹوپی و عمامہ سے نماز پڑھنا اولٰی ہے کیونکہ یہ امر مسنون ہے “۔ ( فتاوٰی نذیریہ ج 1 ص 240 )۔

    غیرمقلد مولانا ثناء اللہ امرتسری لکھتے ہیں کہ “نماز کا مسنون طریقہ وہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بالدوام ثابت ہے یعنی بدن پر کپڑا اور سر ڈھکا ہوا، پگڑی یا ٹوپی سے”۔( فتاوٰ ی ثنایہ ج 1 ص 525 )۔

    یہی کچھ ابوداود غزنوی اور دیگر علمائے اہل حدیث نے لکھا ہے ۔ تفصیل کے لئے دیکھیے کنزل الحقائق۔ (ص 27 اور نزل الابرار ج1ص114)۔ یہاں پر غیر مقلدین کے دلدادہ علامہ ابن قیم کے حوالے سے بھی ایک بات سن لیجئے وہ فرماتے ہیں کہ ” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص کو اس وقت تک شہر کا حاکم مقرر نہ فرماتے تھے جب تک اسے عمامہ نہ بندھواتے تھے ۔(زادالمعاد ج 1ص50)۔ اسی طرح ابن قیم اپنے استاد علامہ ابن تیمیہ سے پگڑی اور سملہ کی حمایت میں ایک طویل روایت لانے کے بعد فرماتے ہیں ” جو اس سنت کا منکر ہے وہ جاہل ہے”۔

  2. #2
    *I am Banned*
    Join Date
    Apr 2009
    Posts
    916

    Re: ننگے سر نماز پڑھنے کا حکم اللہ تعالٰی اور ا

    JAZAKALALh mujahid bahye . dont worry ab zubair ali zzye ke tarjume wali hahdees ajey gi sudes sahib le kar aye ge in GM ko rakah is liye he ke pessy do aru apni marzi ke hahdees dal do.. dont worry abhi hajj aru umre wale amal ko nimaz ke sath fit na bethaya sudes ne to emra naem badal dena

  3. #3
    Student sudes_102's Avatar
    Join Date
    Jul 2009
    Location
    Islamabad
    Posts
    1,521

    Re: ننگے سر نماز پڑھنے کا حکم اللہ تعالٰی اور ا

    میری شئیر کردہ ایک حدیث آپ اہل البدعة و الضلال سے ہضم نہیں ہوئی تھی اور خود جی بھر کا یہاں اختلافی مضمون چھاپ رہے ہو بہت خوب۔۔۔
    بہرحال آپ جب بھی تھریڈ بناتے ہو اس میں خود ہی اپنے پاؤں میں کلہاڑی مار دیتے ہو اس سے پہلے فاتحہ خلف الامام والے تھریڈ میں خود ہی صحیح مسلم کی وہ حدیث شئیر کر دی تھی جس سے آپ کا اپنا رد ہوتا ہے اور اس دفعہ یہ
    غیر مقلدین کے اپنے علماء کی گواہی :۔

    غیر مقلدین کو اگر محدیثین اور مجتہدین کی باتوں پر یقین نہیں آتا تو اپنے علمائے غیر مقلدین ہی کو دیکھ لیں ۔ شاید انہیں ان پر یقین آجائے ۔ چنانچہ میاں نذیر حسین دہلوی لکھتے ہیں ” ٹوپی و عمامہ سے نماز پڑھنا اولٰی ہے کیونکہ یہ امر مسنون ہے “۔ ( فتاوٰی نذیریہ ج 1 ص 240 )۔

    غیرمقلد مولانا ثناء اللہ امرتسری لکھتے ہیں کہ “نماز کا مسنون طریقہ وہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بالدوام ثابت ہے یعنی بدن پر کپڑا اور سر ڈھکا ہوا، پگڑی یا ٹوپی سے”۔( فتاوٰ ی ثنایہ ج 1 ص 525 )۔

    یہی کچھ ابوداود غزنوی اور دیگر علمائے اہل حدیث نے لکھا ہے ۔ تفصیل کے لئے دیکھیے کنزل الحقائق۔ (ص 27 اور نزل الابرار ج1ص114)۔ یہاں پر غیر مقلدین کے دلدادہ علامہ ابن قیم کے حوالے سے بھی ایک بات سن لیجئے وہ فرماتے ہیں کہ ” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص کو اس وقت تک شہر کا حاکم مقرر نہ فرماتے تھے جب تک اسے عمامہ نہ بندھواتے تھے ۔(زادالمعاد ج 1ص50)۔ اسی طرح ابن قیم اپنے استاد علامہ ابن تیمیہ سے پگڑی اور سملہ کی حمایت میں ایک طویل روایت لانے کے بعد فرماتے ہیں ” جو اس سنت کا منکر ہے وہ جاہل ہے”۔
    جب خود ہی تسلیم کرتے ہو کہ ہم نماز میں سر ڈھانپنے کے انکاری نہیں تو پھر جہالت امیز اعتراضات کی تک؟؟؟
    بلاشبہ ہمارا یہی موقف ہے جو مذکورہ علماء نے بیان کیا کہ نماز میں سر ڈھانپنا سنت ہے لیکن ساتھ ہی سر نہ ڈھانپنا بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور اس پر صحابہ کا عمل بھی موجود ہے۔ دلیل کے طورپر میں صرف چند احادیث پر اکتفاء کر رہا ہوں
    امام بخاری نے صحیح بخاری میں یہ باب باندھا ہے
    صحیح بخاری -> کتاب الصلوٰۃ
    باب : اس بیان میں کہ صرف ایک کپڑے کو بدن پر لپیٹ کر نماز پڑھنا جائز و درست ہے

    اس باب کے تحت امام بخاری رحمہ اللہ نے درج زیل احادیث نقل کی ہیں

    حدیث نمبر : 354
    حدثنا عبيد الله بن موسى، قال حدثنا هشام بن عروة، عن أبيه، عن عمر بن أبي سلمة، أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى في ثوب واحد قد خالف بين طرفيه‏.‏
    ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد کے حوالہ سے بیان کیا، وہ عمر بن ابی سلمہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں نماز پڑھی اور آپ نے کپڑے کے دونوں کناروں کو مخالف طرف کے کاندھے پر ڈال لیا۔



    حدیث نمبر : .355
    حدثنا محمد بن المثنى، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا هشام، قال حدثني أبي، عن عمر بن أبي سلمة، أنه رأى النبي صلى الله عليه وسلم يصلي في ثوب واحد في بيت أم سلمة، قد ألقى طرفيه على عاتقيه‏.‏
    ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انھوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ ہم سے ہشام نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ مجھ سے میرے والد نے عمر بن ابی سلمہ سے نقل کر کے بیان کیا کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ام سلمہ کے گھر میں ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا، کپڑے کے دونوں کناروں کو آپ نے دونوں کاندھوں پر ڈال رکھا تھا۔



    حدیث نمبر : 356
    حدثنا عبيد بن إسماعيل، قال حدثنا أبو أسامة، عن هشام، عن أبيه، أن عمر بن أبي سلمة، أخبره قال رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي في ثوب واحد مشتملا به في بيت أم سلمة، واضعا طرفيه على عاتقيه‏.‏
    ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے ہشام کے واسطے سے بیان کیا، وہ اپنے والد سے جن کو عمر بن ابی سلمہ نے خبر دی، انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ آپ اسے لپیٹے ہوئے تھے اور اس کے دونوں کناروں کو دونوں کاندھوں پر ڈالے ہوئے تھے



    حدیث نمبر : 357
    حدثنا إسماعيل بن أبي أويس، قال حدثني مالك بن أنس، عن أبي النضر، مولى عمر بن عبيد الله أن أبا مرة، مولى أم هانئ بنت أبي طالب أخبره أنه، سمع أم هانئ بنت أبي طالب، تقول ذهبت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفتح، فوجدته يغتسل، وفاطمة ابنته تستره قالت فسلمت عليه فقال ‏"‏ من هذه‏"‏‏. ‏ فقلت أنا أم هانئ بنت أبي طالب‏.‏ فقال ‏"‏ مرحبا بأم هانئ‏"‏‏. ‏ فلما فرغ من غسله، قام فصلى ثماني ركعات، ملتحفا في ثوب واحد، فلما انصرف قلت يا رسول الله، زعم ابن أمي أنه قاتل رجلا قد أجرته فلان بن هبيرة‏.‏ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قد أجرنا من أجرت يا أم هانئ‏"‏‏. ‏ قالت أم هانئ وذاك ضحى‏.‏
    ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک بن انس نے عمر بن عبیداللہ کے غلام ابونضر سالم بن امیہ سے کہ ام ہانی بنت ابی طالب کے غلام ابومرہ یزید نے بیان کیا کہ انھوں نے ام ہانی بنت ابی طالب سے یہ سنا۔ وہ فرماتی تھیں کہ میں فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ میں نے دیکھا کہ آپ غسل کر رہے ہیں اور آپ کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہ پردہ کئے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ نے پوچھا کہ کون ہے؟ میں نے بتایا کہ ام ہانی بنت ابی طالب ہوں۔ آپ نے فرمایا اچھی آئی ہو، ام ہانی۔ پھر جب آپ نہانے سے فارغ ہو گئے تو اٹھے اور آٹھ رکعت نماز پڑھی، ایک ہی کپڑے میں لپٹ کر۔ جب آپ نماز پڑھ چکے تو میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! میرے ماں کے بیٹے ( حضرت علی بن ابی طالب ) کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک شخص کو ضرور قتل کرے گا۔ حالانکہ میں نے اسے پناہ دے رکھی ہے۔ یہ ( میرے خاوند ) ہبیرہ کا فلاں بیٹا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام ہانی جسے تم نے پناہ دے دی، ہم نے بھی اسے پناہ دی۔ ام ہانی نے کہا کہ یہ نماز چاشت تھی۔


    حدیث نمبر : 358
    حدثنا عبد الله بن يوسف، قال أخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن أبي هريرة، أن سائلا، سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الصلاة في ثوب واحد فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أولكلكم ثوبان‏"‏‏. ‏
    ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انھوں نے کہا ہمیں امام مالک نے ابن شہاب کے حوالہ سے خبر دی، وہ سعید بن مسیب سے نقل کرتے ہیں، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ ایک پوچھنے والے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( کچھ برا نہیں ) بھلا کیا تم سب میں ہر شخص کے پاس دو کپڑے ہیں؟


    یہ تمام احادیث ننگے سر نماز پڑھنے کے مسنون ہونے پر صریح نص ہیں۔ اس کے بعد امام بخاری نے یہ باب باندھا ہے

    صحیح بخاری -> کتاب الصلوٰۃ
    باب : ایک کپڑے میں کو ئی نماز پڑھے تو اس کو مونڈھوں پر ڈالے

    پھر اس باب کے تحت درج زیل احادیث نقل کی ہیں جن میں ایک کپڑا پہننے کی کیفئت کا بیان ہے اور جو کیفئت بیان ہوئی ہے اس میں سر ننگا رہنے کا واضح ثبوت موجود ہے۔
    حدیث نمبر : 359
    حدثنا أبو عاصم، عن مالك، عن أبي الزناد، عن عبد الرحمن الأعرج، عن أبي هريرة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لا يصلي أحدكم في الثوب الواحد، ليس على عاتقيه شىء‏"‏‏. ‏
    ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے امام مالک رحمہ اللہ علیہ کے حوالہ سے بیان کیا، انھوں نے ابوالزناد سے، انھوں نے عبدالرحمن اعرج سے، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص کو بھی ایک کپڑے میں نماز اس طرح نہ پڑھنی چاہیے کہ اس کے کندھوں پر کچھ نہ ہو۔



    حدیث نمبر : 360
    حدثنا أبو نعيم، قال حدثنا شيبان، عن يحيى بن أبي كثير، عن عكرمة، قال سمعته ـ أو، كنت سألته ـ قال سمعت أبا هريرة، يقول أشهد أني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ‏"‏ من صلى في ثوب واحد، فليخالف بين طرفيه‏"‏‏. ‏
    ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان بن عبدالرحمن نے یحییٰ بن ابی کثیر کے واسطہ سے، انھوں نے عکرمہ سے، یحییٰ نے کہا میں نے عکرمہ سے سنایا میں نے ان سے پوچھا تھا تو عکرمہ نے کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے۔ میں اس کی گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے یہ ارشاد فرماتے سنا تھا کہ جو شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے اسے کپڑے کے دونوں کناروں کو اس کے مخالف سمت کے کندھے پر ڈال لینا چاہیے۔





    التحاف اور توشیح اور اشتمال سب کے ایک ہی معنی ہیں یعنی کپڑے کا وہ کنارہ جو دائیں مونڈھے پر ہو اس کو بائیں ہاتھ کی بغل سے اور جو بائیں مونڈھے پر ڈالا ہو اس کو داہنے ہاتھ کی بغل کے نیچے سے نکال کر دونوں کناروں کو ملا کر سینے پر باندھ لینا، یہاں بھی مخالف سمت کندھے سے یہی مراد ہے۔



    الحاصل نماز میں سر ڈھانپنا اور نہ ڈھانپنا دونوں طریقے مسنون ہیں اور نمازی کو اختیار حاصل ہے کہ دونوں میں سے جو مرضی طریقہ اختیار کر لے۔
    جو لوگ سر ڈھانپنے کو زینت سےتعبیر کرتے ہیں ان سے ہمارا سوال ہے کہ اگر سر ڈھانپنا زینت ہے تو اللہ نے حج پر کیوں اس زینت کو اختیار کرنے کا حکم نہیں دیا؟؟؟ حج پر تمام حاجی اللہ کے سب سے عظمت والے گھر بیت اللہ میں ننگے سر طواف کرتے ہیں۔
    فاعتبرو یا اھل العقل
    Last edited by sudes_102; 26th October 2010 at 04:39 PM.
    توحید ڈاٹ کام - کتاب و سنت کی پکار
    http://www.tohed.com/

  4. #4
    iTT Student
    Join Date
    Apr 2010
    Location
    Islamabad, Pakistan
    Age
    49
    Posts
    89

    Re: ننگے سر نماز پڑھنے کا حکم اللہ تعالٰی اور ا

    Na samjh deeni bahoo aap kayun topi aur pagri par larh rahay hain, ye sab angrezoon ka banaya huwa fitna hai, kay chotay chotay masail par aapis main larhtay raho, bahayuo lagoon ko pehlay namaz ki taraf to bulaou phir deen ki taleem do. afsoos hota hai, musalmanoon ki faroi aur *****i *****i larhayun par. Allah kay wastay yehan laugoon ko mohabat say deen ki bunyadi aqaid batain takay saray apna eman sahih kar lain, Main nay sab masalak ki kitabain parhi hain, koi insaan ya us ki samjh 100% sahih nain hoti, hum sirf ana parast laug hain ek doosaray ko necha dekhanay ki liya jatan kartay rehtain hain. Deen wohi sab ka ek hai, jo Humaray payaray nabi par nazil howa aur sahaba e karam nay us ki amli shakal nafiz kar kay dekhai, Ulma e karam nay us ki tashree ki, tashree main aoni samjh kay mutabiq likha, laikan kisi nay ye nahin kaha ka main 100% sahih hom aima e karam na humesha is tarah likha kay ye humari samjh hai, laikan agar koi baat ahadess ya Quran say sabit ho jati hai to wo follow ki jai. Fiqa likhnay ka maqsad Quran o hadees ki tashree karna tha, wo koi naya firqa ya Mazhab nahin laye, Han Fiqay sirf 2 hain, Sunni and Shia, sunnayn main sirf tashree kay ikhtalafat hain, jo kay mohabbat say daleel say khatam ho saktay hain, Baqi agar koi (sAHIH)ulma e karam ki ezat nahin karta to ye alamat e Qayamat main say hain. jIN LAUGOON NAY APNI ZINDGIAN DEEN KI KHIDMAT MAIN SARF KEEN, MUSHKALAT AUR MASAHIB KA SAMNA KIYA, UN KO EK DAM RAD KARNA YA BURA KENHA (YAQEENAN ACHI BAAT NAHIN) gHAIR MUSALMANOON KA SAATH DENAY KAY MUTRADIF HAI, KISI KO AGAR MERI BAAT BURI LAGAY TO MUAFI CHAHTA HOON,

  5. #5
    *I am Banned*
    Join Date
    Apr 2009
    Posts
    916

    Re: ننگے سر نماز پڑھنے کا حکم اللہ تعالٰی اور ا

    Quote Originally Posted by azkraja View Post
    Na samjh deeni bahoo aap kayun topi aur pagri par larh rahay hain, ye sab angrezoon ka banaya huwa fitna hai, kay chotay chotay masail par aapis main larhtay raho, bahayuo lagoon ko pehlay namaz ki taraf to bulaou phir deen ki taleem do. afsoos hota hai, musalmanoon ki faroi aur *****i *****i larhayun par. Allah kay wastay yehan laugoon ko mohabat say deen ki bunyadi aqaid batain takay saray apna eman sahih kar lain, Main nay sab masalak ki kitabain parhi hain, koi insaan ya us ki samjh 100% sahih nain hoti, hum sirf ana parast laug hain ek doosaray ko necha dekhanay ki liya jatan kartay rehtain hain. Deen wohi sab ka ek hai, jo Humaray payaray nabi par nazil howa aur sahaba e karam nay us ki amli shakal nafiz kar kay dekhai, Ulma e karam nay us ki tashree ki, tashree main aoni samjh kay mutabiq likha, laikan kisi nay ye nahin kaha ka main 100% sahih hom aima e karam na humesha is tarah likha kay ye humari samjh hai, laikan agar koi baat ahadess ya Quran say sabit ho jati hai to wo follow ki jai. Fiqa likhnay ka maqsad Quran o hadees ki tashree karna tha, wo koi naya firqa ya Mazhab nahin laye, Han Fiqay sirf 2 hain, Sunni and Shia, sunnayn main sirf tashree kay ikhtalafat hain, jo kay mohabbat say daleel say khatam ho saktay hain, Baqi agar koi (sAHIH)ulma e karam ki ezat nahin karta to ye alamat e Qayamat main say hain. jIN LAUGOON NAY APNI ZINDGIAN DEEN KI KHIDMAT MAIN SARF KEEN, MUSHKALAT AUR MASAHIB KA SAMNA KIYA, UN KO EK DAM RAD KARNA YA BURA KENHA (YAQEENAN ACHI BAAT NAHIN) gHAIR MUSALMANOON KA SAATH DENAY KAY MUTRADIF HAI, KISI KO AGAR MERI BAAT BURI LAGAY TO MUAFI CHAHTA HOON,
    Mohtram yahe to almiya raha he ahlhahdees ke maskad he ki bando ko nima se hataya jaye. aur hamri koshsih he ke 1888 ke bani fitne se logo ko bachye ab dekh lo sudes ne zubai ali zia ke book chap di he ab zubair ali zia shiya tha.. aur jo hawala diya he woh hajj aru umreh ka hawal fit kar diya he..
    yakeen jano GM ka nimaz swe koye wasta nahi. dorr door tak koye wsta nahi bus angreiz ke kushnoodi aru dollars ke lalich me logo ko gumrah karna aru fitna pahalan he.
    aru jub tak saasnein hien ham ne jihad karna he is fitne ke khilaf..

    Sudes sahib aap ko kaha ke zubair ali zia ke tarjuma nahi chale ga..
    sunnat me h e ke sir ko dhammpa jaye siwaye hajj aru umre ke doran aap hajj and umreh wali hahdees her jaga fir na kare bahtar he ke ilem hasil karo phir aoo

  6. #6
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    Re: ننگے سر نماز پڑھنے کا حکم اللہ تعالٰی اور ا

    .
    Attached Images Attached Images
    • File Type: jpg 1.jpg (160.5 KB, 89 views)
    • File Type: jpg 2.jpg (174.1 KB, 88 views)
    • File Type: jpg 3.jpg (166.4 KB, 88 views)
    • File Type: jpg 4.jpg (111.7 KB, 88 views)

  7. #7
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    Re: ننگے سر نماز پڑھنے کا حکم اللہ تعالٰی اور ا

    PEER2009 BHAI. AAP JIHAD KI BAAT KER RAHAY HAIN.

    HUM AAP KAY SAATH HAIN. BISMILLAH KEREEN.

    LAKIN AIK MINUTE THAHRAYIA. SAB SAY PAHLAY SHIA HAZRAT KAY KHILAF JIHAD SHROOH KAREEN. KEW KEH WOH AISAY AISAY ****** KERTAY HAIN JIN KO PARH KER AUR SUN KER AAP KAY RONGHTAY KHARAY HO JAIAN GAY.

    AMIN KUCH ATTACH KER RAHA HOON. MAQSAD TANQEED KERNA NAHIN HAI. SIRF SAB KO SUCH BATANA HAI.

    UN KO PARH KER BATAIN PEER BHAI. PLEASE.
    Attached Images Attached Images

  8. #8
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    Re: ننگے سر نماز پڑھنے کا حکم اللہ تعالٰی اور ا

    .
    Attached Images Attached Images
    • File Type: jpg 1.jpg (75.1 KB, 79 views)
    • File Type: jpg 2.jpg (111.4 KB, 80 views)
    • File Type: jpg 3.jpg (86.5 KB, 81 views)
    • File Type: jpg 4.jpg (71.8 KB, 79 views)
    • File Type: jpg 5.jpg (77.1 KB, 80 views)
    • File Type: jpg 6.jpg (75.7 KB, 79 views)
    • File Type: jpg 7.jpg (110.8 KB, 79 views)

  9. #9
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    Re: ننگے سر نماز پڑھنے کا حکم اللہ تعالٰی اور ا

    .
    Attached Images Attached Images
    • File Type: jpg 1.jpg (185.9 KB, 78 views)
    • File Type: jpg 2.jpg (173.9 KB, 82 views)
    • File Type: jpg 3.jpg (46.8 KB, 79 views)
    • File Type: jpg 4.jpg (60.5 KB, 79 views)
    • File Type: jpg 5.jpg (54.2 KB, 76 views)
    • File Type: jpg 6.jpg (68.8 KB, 78 views)
    • File Type: jpg 7.jpg (55.8 KB, 77 views)
    • File Type: jpg 8.jpg (76.3 KB, 76 views)
    • File Type: jpg 9.jpg (37.7 KB, 74 views)
    • File Type: jpg 10.jpg (43.5 KB, 76 views)

  10. #10
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    Re: ننگے سر نماز پڑھنے کا حکم اللہ تعالٰی اور ا

    ..
    Attached Images Attached Images

  11. #11
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    Re: ننگے سر نماز پڑھنے کا حکم اللہ تعالٰی اور ا

    ...
    Attached Images Attached Images

  12. #12
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    Re: ننگے سر نماز پڑھنے کا حکم اللہ تعالٰی اور ا

    PEER BHAI KAHAN MARA GAY HOOOOOO TUM.

    ZINDA HO JAO PLEASE.
    AUR SHIA KAY KHILAF JIHAD SHROOH KAROOOOO.

  13. #13
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    Re: ننگے سر نماز پڑھنے کا حکم اللہ تعالٰی اور ا

    Quote Originally Posted by peer2009 View Post
    Mohtram yahe to almiya raha he ahlhahdees ke maskad he ki bando ko nima se hataya jaye. aur hamri koshsih he ke 1888 ke bani fitne se logo ko bachye ab dekh lo sudes ne zubai ali zia ke book chap di he ab zubair ali zia shiya tha.. aur jo hawala diya he woh hajj aru umreh ka hawal fit kar diya he..
    yakeen jano GM ka nimaz swe koye wasta nahi. dorr door tak koye wsta nahi bus angreiz ke kushnoodi aru dollars ke lalich me logo ko gumrah karna aru fitna pahalan he.
    aru jub tak saasnein hien ham ne jihad karna he is fitne ke khilaf..

    Sudes sahib aap ko kaha ke zubair ali zia ke tarjuma nahi chale ga..
    sunnat me h e ke sir ko dhammpa jaye siwaye hajj aru umre ke doran aap hajj and umreh wali hahdees her jaga fir na kare bahtar he ke ilem hasil karo phir aoo

    PEER 2009 ZINDA HO JAO AUR JIHAD SHROON KAROOO. SHIA KAY KHILAFFF.

    APNI ZUBAN PER QAIM RAHOO.



  14. #14
    *I am Banned*
    Join Date
    Apr 2009
    Posts
    916

    Re: ننگے سر نماز پڑھنے کا حکم اللہ تعالٰی اور ا

    pahle to mardoodon ka sifaya karoon chal riyadh me akar tujh ko murgha banaoon phir age bat chale ge . lantiuo ka bolna mamnoo he sipah sahaba tera baap chala raha he

  15. #15
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    Re: ننگے سر نماز پڑھنے کا حکم اللہ تعالٰی اور ا

    KON SEE SIPAHE SIHABA. WOH TOO JHANGVI GROUP HAI.

    TABLEGHI TOO NAHIN HAIN.

    JIHAD TOO TABLEGHI JAMMAT KAY SYLLABUS SAY NIKAL GIYA HAI.

    JIHAD ABHI FARZ NAHIN HUA. KEW PAKISTAN AUR INDIA MAIN SAB KAY SAB MOUMIN HOO GAY HAIN.

    WAH WAH PEER2009.

    TERA GHATYA JAWAB.

    ALLAH TUGH PER KAROOR BAR LANAT KERAY.

    TUM JANTAY HOO KEH TUM JHOOTAY HOO LAKIN MANTAY NAHIN HOOOOOO.



  16. #16
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    Re: ننگے سر نماز پڑھنے کا حکم اللہ تعالٰی اور ا

    HUM TOO KEHTAY HAIN KEH SHIA KAFFIR HAI.

    LAKIN TARIQ JAMEIL AUR RAIWIND NAHIN KEHTA.

    MERA KHIYAL HAI KEH DRATA HAI.

    SIRF MOHLRA SHARIF JA KER BRELVI HOO JATA HAI.


  17. #17
    *I am Banned*
    Join Date
    Apr 2009
    Posts
    916

    Re: ننگے سر نماز پڑھنے کا حکم اللہ تعالٰی اور ا

    Quote Originally Posted by lovelyalltime View Post
    HUM TOO KEHTAY HAIN KEH SHIA KAFFIR HAI.

    LAKIN TARIQ JAMEIL AUR RAIWIND NAHIN KEHTA.

    MERA KHIYAL HAI KEH DRATA HAI.

    SIRF MOHLRA SHARIF JA KER BRELVI HOO JATA HAI.

    oh duniya ke lanti insan jhoot mat bak tere ko akal nahi kahbees insan admin soye howe hien herr psot me ****** molana tariq jameel sahib ne tere bahan ko chera he jo itan bakta he kahbees jahil maloon kafir
    ahlehaghleez per lanat lanat beshuamr

    ab sun apne molla jin ko pechewara dhona nahi ata apne betiyan de kar logo ko ahleghleez banate hien ja kar un ke talwe chat shayeh koye kuri mil jaye
    samjhe ainda bhoonke ga to is se bara jwab aye ga

    akhri bat iek hanfi bacha sare ahlegahleezon per bahri samjhe

  18. #18
    Senior Student
    Join Date
    Nov 2010
    Location
    Pakistan
    Posts
    274

    Re: ننگے سر نماز پڑھنے کا حکم اللہ تعالٰی اور ا

    Afsos Sub Par Sub Afsos

    Firqay Baazi Ki Laanat Se ALLAH Mehfooz Rakhe

  19. #19
    Senior Student
    Join Date
    Apr 2011
    Location
    pakistan
    Age
    40
    Posts
    335

    Re: ننگے سر نماز پڑھنے کا حکم اللہ تعالٰی اور ا

    PLEASE MERAY BHAYIO FIRQA BAZI KHAAM KARO.

    AAPIN MAIN BHAI BHAI BAN JAO. PLEASE.

    HUMARAY DUSHMAN HUMARAY SAROON PER KHARAY HAIN AUR HUM ABHI TAK FARQOON MAIN PARAY HAIN.

    DUSHMAN KI NAZAR MAIN HUM SAB BARABER HAIN.

    BRELVI HOO YA DEOBANDI HOO AHLEHADEES HOO YA SHIA HOO.

    AIS LIYA PLEASE YEH LARAI KHATAM KAROO.

    PEER BHAI AUR LOVELY BHAI PLEASE AAPIS MAIN BHAI BHAI BAN JAO.

    MAIN AAP DOONOO KAY JAWABAT KA INTIZAR KAROON GAA.

  20. #20
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    Re: ننگے سر نماز پڑھنے کا حکم اللہ تعالٰی اور ا

    ;;;;;;;;
    Attached Images Attached Images
    • File Type: jpg 1.jpg (82.7 KB, 37 views)
    • File Type: jpg 2.jpg (105.5 KB, 36 views)
    • File Type: jpg 3.JPG (98.9 KB, 37 views)
    • File Type: jpg 4.JPG (40.8 KB, 36 views)

Page 1 of 2 12 LastLast

Similar Threads

  1. Replies: 4
    Last Post: 4th August 2013, 11:52 AM
  2. Replies: 12
    Last Post: 26th October 2011, 11:27 AM
  3. Replies: 2
    Last Post: 1st April 2011, 01:41 PM
  4. Replies: 5
    Last Post: 17th November 2010, 01:24 AM
  5. Replies: 0
    Last Post: 15th March 2010, 12:10 AM

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •