Results 1 to 1 of 1

گلزار: مکینک سے آسکر ایوارڈ تک

This is a discussion on گلزار: مکینک سے آسکر ایوارڈ تک within the Urdu Adab forums, part of the Urdu Poetry category; اردو شاعری کو آسکر ایوارڈ دلوانے والے سمپورن سنگھ کالرا گلزار 18 اگست 1936ء کو پنجاب کے ایک چھوٹے سے ...

  1. #1
    /*\Invisible Memories/*\ anjanarishta's Avatar
    Join Date
    Dec 2007
    Location
    Kuwait
    Posts
    4,649

    Arrow گلزار: مکینک سے آسکر ایوارڈ تک

    اردو شاعری کو آسکر ایوارڈ دلوانے والے سمپورن سنگھ کالرا گلزار 18 اگست 1936ء کو پنجاب کے ایک چھوٹے سے قصبے یں پیدا ہوئے تھے۔ اس وقت کون جانتا تھا کہ جہلم ضلع کے قصبے دینا میں ماکھن سنگھ کالرا اور سجن کور کے گھر جنم لینے والا بچہ ایک دن شوبز کی دنیا کا سب سے بڑا اعزاز حاصل کرے گا۔

    گلزار نے اپنی جنم بھومی کے بارے میں یہ شعر لکھا تھا، جو ان کی کتاب چاند پکھراج کا کے پہلے صفحے پر درج ہے:

    چاند پکھراج کا ، رات پشمینےکی
    ذکر جہلم کا ہے، بات ہے دینے کی

    گلزار جس گاؤں میں پیدا ہوئے وہ اب پاکستان میں شامل ہے۔ شاعر بننے سے پہلے گلزار نے کار میکینک کی حیثیت سے کام کیا۔ اسی دوران ملک تقسیم ہو گیا، جس کے دوران گلزار کا خاندان بعد از خرابِی بسیار ہندوستان منتقل ہو گیا۔

    گلزار کو بچپن ہی سے شاعری کا شوق تھا اور اسکول کے زمانے سے ہی وہ نظمیں لکھتے تھے اور ساز پر گانے کی کوشش کرتے تھے۔ تقسیم کے بعد گلزار کا خاندان امرتسر میں آکر بس گیا جب کہ گلزار اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے بمبئی آگئے۔ ابتدائی دن کافی مشکل سے گذر رہے تھے تو انہوں نے ورلی کے ایک میکینک کی نوکری کرلی اور وہیں جب بھی وقت ملتا شاعری کرلیتے تھے۔ انہوں نے فلموں میں کام کرنے کیلیے اسٹوڈیوز اور فلمی ہستیوں کے گھر کے کئی چکر لگائے۔

    آخر کار انھیں 1963ء میں بمل رائے کی فلم بندنی کے لیے گیت لکھنے کا موقع ملا،موراگورا انگ لے لے۔ یہ گانا نوتن پر فلمایا گیا تھا۔ اس گانے سے ظاہر ہو گیا تھا کہ فلمی افق پر ایک نیا روشن ستارہ نمودار ہو گیا ہے۔

    بمل رائے نوجوانوں کو آگے آنے کا موقع دیتے تھے انہوں نے گلزار کو بھی ان کی صلاحیتوں کو بہتر سے بہتر بنانے کا موقع دیا۔ گلزار نے بمل دا کے نام سے بمل داس کا خاکہ بھی لکھا ہے جس میں ان کی شخصیت اور ہدایت کارانہ انداز پر روشنی پڑتی ہے۔

    اس کے بعد آندھی کا گانا تیرے بنا زندگی سے کوئی... جسے لتا منگیشکر نے گایا تھا۔ اسی فلم کا ایک اور گانا آج بھی اتنا ہی مقبول ہے جتنا اس وقت ہوا تھا، تم آ گئے ہو، نور آ گیا ہے۔ آشا کا ہی گایا فلم اجازت کا گانا میرا کچھ سامان اور انوپ گھوشال اور لتا منگیشکر کا گایا فلم موسم کا گانا تجھ سے ناراض نہیں زندگی... آج بھی مشہور ہے۔

    کلزار کو 2002ء میں ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈ اور 2004ء میں پدم بھوشن ایوارڈ دیا گیا۔ جب کہ انہیں نیشنل فلم ایوارڈز کے علاوہ کئی فلم فیر ایوارڈز بھی حاصل ہوئے۔

    گلزار نے کئی فلمیں بھی بنائی ہیں، جن میں آندھی، موسم، اجازت، لیکن، ماچس، ہوتوتو، وغیرہ شامل ہیں۔

    گلزار کا ایک اور کارنامہ ٹیلی ویژن سیریل مرزا غالب ہے، جس میں نصیر الدین شاہ نے لافانی کردار ادا کیا تھا۔ اس ڈرامے کی مقبولیت اور پذیرائی کا یہ عالم ہے کہ آج بہت سے لوگ جب غالب کے بارے میں سوچتے ہیں تو ان کے ذہن میں نصیرالدین شاہ ہی کا خیال آتا ہے۔

    گلزار نے اداکارہ راکھی سے شادی کی تھی، جو کامیاب نہ ہو سکی۔ ان کی ایک بیٹی میگنھنا گلزار ہے جو فلم کی ڈائرکٹر ہیں۔ گلزار ہندوستانی فلم کے نوجوان شائقین میں اس وقت اہمیت اختیار کرگئے جب بالی ووڈ کے سب سے اعلی ترین آسکر ایوراڈ سے انہیں نوازا گیا۔ یہ ایوارڈ برطانوی ہدایت کار کی ڈائرکشن میں تیار فلم سلم ڈاگ ملینئر کے ایک گیت جئے ہو کے لیے دیا گیا۔

    Attached Images Attached Images

LinkBacks (?)

  1. 8th February 2013, 02:33 PM
  2. 5th February 2013, 02:20 AM

Similar Threads

  1. Replies: 14
    Last Post: 13th September 2011, 09:30 PM
  2. Replies: 3
    Last Post: 11th March 2009, 07:50 PM
  3. Replies: 5
    Last Post: 11th March 2009, 01:39 AM

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •