یاد
رونے سے غم دل کا گزارہ نہیں ہوتا ، ہر شخص دل کا سہارا نہیں ہوتا اس روز لگتا ہے بیکار جییۓ ہم ،جس روز کبھی ذکر تمہارا نہیں ہوتا




جدائی کا ڈر
آپ کو پیار کرنے سے ڈر لگتا ہے ، آپ کو کھونے سے ڈر لگتا ہے کہیں آنکھوں سے گم نہ ہو جائیں آپ ،اب رات میں سونے سے ڈر لگتا ہے




چاہت
کبھی تیری پلکوں میں جھلملاؤں میں ، تیرے خیالوں میں خود کو بھول جاؤں میں بیچ سمندر میں جا کر دھکا مت دینا ، کہو تو کنارے پر ہی ڈوب جاؤں میں




عشق
عشق کرنے کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں ،کھلی آنکھوں میں بھی کچھ خواب ہوتے ہیں ہر کوئی رو کے دیکھاۓ یہ ضروری تو نہیں ، خشک آنکھوں میں سیلاب ہوتے ہیں




پتھر کی دنیا
پتھر کی اس دنیا میں اکثر خواب ٹوٹ جایا کرتے ہیں پلکوں کو بھی سنبھال کر بند کرنا ، پلکوں کے پیچھے سپنے بھی ٹوٹ جایا کرتے ہیں
__________________