روز کہنا کہ اب نہیں کرنا
روز پھر رابطہ وہیں کرنا
لاکھ یہ عقل عقل سکھلائے
اس محبت نے کب یقیں کرنا
...
سادگی دیکھئے محبت کی
اک دغا عمر بھر مکیں کرنا
دور منزل سے اور لے جائے
اسی رہبر کو ہم نشیں کرنا
عادتیں خوب ہیں محبت کی
بادشاہوں کو بے زمیں کرنا
بس محبت یہ سوچ کر کیجے
آپ کو اور کچھ نہیں کرنا
شاعری یوں خراب ہے ابرک
شبِ ہجراں کو بھی حسیں کرنا
اپنے لکھے پہ تو عمل کرنا
ایسی غلطی نہ پھر کہیں کرنا