جھوٹ کرتا سنگھار روز نئے
سچ تو منہ ہاتھ تک نہیں دھوتا

جھوٹ ملبوس , پر طوائف ہے
سچ ہے عریاں مگر حجاب میں ہے

... جھوٹ منڈی میں بکنے والی شے
سچ ملے مفت جتنا جی کرتا

جھوٹ کا پھل ہے موسمی سارا
سچ کا پودا کبھی نہیں مرتا

جھوٹ رستہ ہے دلنشیں لیکن
منزلیں سچ کی راہ پہ ہیں ملتی

جھوٹ کا گھر ہے خود اندھیرے میں
سچ تو روشن ہے چار سو کرتا