Amaan Ramazan Official - امان رمضان
چیف جسٹس انصاف دلائیں، امان رمضان میں مقتول ٹیکسی ڈرائیور کی بیوہ کی اپیل
کراچی(اسٹاف رپورٹر)تین روز قبل رینجرز اہلکاروں کے ہاتھوں بے گناہ ٹیکسی ڈرائیورکی بیوہ نے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری سے گڑگڑاتے ہوئے یہ اپیل کی ہے کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے اور ان کے شوہر کے قاتلوں کو سخت سے سخت سزادی جائے۔عامر لیاقت کی جانب سے مرید عباس کے اہل خانہ کیلئے عامر لیاقت کی جانب سے ایک لاکھ روپے کا عطیہ دیا گیا، اسلام کیلئے سیدہ خدیجہ  اور حضرت ابوطالب کی خدمات پر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے خراج تحسین پیش کیا۔جیوکی امان رمضان نشریات میں مقتول ٹیکسی ڈرائیور کی بیوہ نے اپنے یتیم بچوں اور خالہ کے ساتھ شرکت کی، دکھی خاتون نے ڈاکٹرعامرلیاقت حسین سے گفتگو کے دوران آبدیدہ ہوکر بتایا کہ محض شک کی بنیادپر بناء تحقیق کیے گولیاں برساکر میراسہاگ اجاڑاگیااورمیرے بچوں کے سر سے باپ کا سایہ چھینا گیا میں اپنے شوہر کے قاتلوں کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔ اپنے شوہرکاذکرکرتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ میرے شوہرایک محب وطن پاکستانی تھے اور انہوں نے گھرمیں قائداعظم کی تصویر بھی آویزاں کررکھی تھی ،وہ بیماربچے کی دوالینے کے لیے گھر سے نکلے تھے مگر رینجرزکی گولیوں کا نشانہ بن گئے ۔ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے خاتون نے بتایا کہ تین دن گزرنے کے باوجود رینجرزکے کسی ذمے داراورحکومتی عہدیدار نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیاجو بے حسی کی انتہا ہے۔ان کا کہناتھا کہ شوہر کے قتل کا معاملہ اٹھانے پر انہیں مختلف حلقوں کی جانب سے دھمکیاں بھی مل رہی ہیں ۔ مریدعباس کے قتل پرلواحقین سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے ڈاکٹر عامرلیاقت حسین نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں کے ہاتھوں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت بھی دہشت گردی ہی کی ایک قسم ہے۔ان کاکہنا تھا کہ حکومت سندھ کی مجرمانہ خاموشی اس حقیقت کی عکاسی کررہی ہے کہ وہ بھی اس جرم میں برابر کی شریک ہے۔اس موقع پرمتاثرہ خاندان کی دادرسی کرتے ہوئے انہوں نے ایک لاکھ روپے بطور عطیہ دینے کا اعلان کیا جس پر لواحقین نے انہیں ڈھیر ساری دعائیں دیں۔ سب کے پسندیدہ قرآنی لوح میں انعامات کی برسات کا سلسلہ بدستور جاری ہے، ایک اور خوش نصیب نے قرشی کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے صحیح جوابات دے کر کار جیت لی۔ گزشتہ بارہ برسوں سے الیکٹرونک میڈیا پر کامیابی کے ساتھ رمضان نشریات پیش کرکے کروڑوں ناظرین کا دل موہ لینے والے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی یہ بھی منفرد روایت رہی ہے کہ وہ ہر سال رمضان المبارک میں اسلام کی جلیل القدر شخصیات سے وابستہ ایام پربھرپور عقیدت ا وراحترام سے ان کاذکرکرتے ہیں، اس سلسلے میں جیو کی براہ راست خصوصی نشریات امان رمضانکے دسویں روزام المومنین سیدہ خدیجہ  کے یوم وصال پرسحروافطارکی نشریات ان کے ذکرسے معموررہی،عام الحزن کی مناسبت سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شفیق چچاحضرت ابوطالب کے شفقت بھرے واقعات بھی بیان کیے گئے۔شام میں رسول اللہ کی نواسی سیدہ زینب کے روضہٴ اطہر پر دہشت گردوں کے حملے کی واشگاف انداز میں مذمت کرتے ہوئے ڈاکٹر عامرلیاقت نے اسے مسلم امہ کی بے حسی اور عظیم المرتبت ہستیوں سے دوری کاشاخسانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ذاتی مفادات امت کے اجتماعی مفادات سے زیادہ عزیز ہوگئے ہیں اس لیے ایسے اندوہناک واقعات پیش آرہے ہیں ۔تاریخی نشریات کے دسویں روز دیوااکیڈمی میں زیرتعلیم خصوصی بچوں کومدعوکیا گیاتھاجومختلف امراض میں مبتلاہونے کے باوجودجرأت مندی کے ساتھ معاشرے میں اپنامقام بنارہے ہیں اورعلم وہنرکے شعبوں میں کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔بچوں سے گفتگو کے دوران میزبان بچوں میں گھل مل گئے اوران سے ان کی تعلیم اوردیگرمشاغل پر گفتگو کی اوران میں تحائف بھی تقسیم کیے ۔اس موقع پر ادارے کی پرنسپل مس مسرت بھی موجود تھیں۔پروگرام راہ نیکی میں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے دل کے مرض میں مبتلا اٹھارہ سالہ شمشیر علی اور اس کی بیوہ ماں کے لیے امدا د کی اپیل کی جس پر مخیر حضرات نے ان کے لیے عطیات کا اعلان کیا جبکہ باعزت روزگار کے متلاشی محمد فیاض کواس کی خواہش پرضروری اشیاء سے لداہوا فرنچ فرائزکاٹھیلا دیاگیاجس پر متاثرین نے خوشی کااظہار کیا۔ علاوہ ازیں جیو کے شہرہٴ آفاق عالم اورعالم میں سحروافطار میں علامہ سید حمزہ علی قادری ،ڈاکٹرحسن رضوی ،مفتی عبدالحمید ربانی اور مولانا ضامن عباس زیدی نے شرکت کی اور قرآن و سنت کی روشنی میں ناظرین وحاضرین کے سوالات کے جوابات دیے۔