Page 1 of 5 123 ... LastLast
Results 1 to 20 of 88

Daily One Quran Kareem Ayat & Hadees Mubarak Project (Daily updated) Here

This is a discussion on Daily One Quran Kareem Ayat & Hadees Mubarak Project (Daily updated) Here within the Quran e Kareem forums, part of the Mera Deen Islam category; Daily One Quran Kareem Ayat & Hadees Mubarak Project (Daily updated) Here...

  1. #1
    iTT Captain iqbalkuwait's Avatar
    Join Date
    Jan 2010
    Location
    kuwait
    Posts
    583

    Lightbulb Daily One Quran Kareem Ayat & Hadees Mubarak Project (Daily updated) Here

    Daily One Quran Kareem Ayat & Hadees Mubarak Project (Daily updated) Here
    Attached Files Attached Files
    Last edited by iqbalkuwait; 13th February 2010 at 07:29 AM.

  2. #2
    iTT Captain iqbalkuwait's Avatar
    Join Date
    Jan 2010
    Location
    kuwait
    Posts
    583

    Lightbulb Quran 6/59

    Quran 6/59
    Attached Files Attached Files

  3. #3
    iTT Captain iqbalkuwait's Avatar
    Join Date
    Jan 2010
    Location
    kuwait
    Posts
    583

    Lightbulb Re: Daily One Quran Kareem Ayat & Hadees Mubarak Project (Daily updated) Here

    Quran 6/60
    Attached Files Attached Files

  4. #4
    iTT Captain iqbalkuwait's Avatar
    Join Date
    Jan 2010
    Location
    kuwait
    Posts
    583

    Lightbulb Re: Daily One Quran Kareem Ayat & Hadees Mubarak Project (Daily updated) Here

    Quran 6/61,62
    Attached Files Attached Files

  5. #5
    iTT Captain iqbalkuwait's Avatar
    Join Date
    Jan 2010
    Location
    kuwait
    Posts
    583

    Lightbulb Re: Daily One Quran Kareem Ayat & Hadees Mubarak Project (Daily updated) Here

    Quran 6/63,64
    Attached Files Attached Files

  6. #6
    iTT Captain iqbalkuwait's Avatar
    Join Date
    Jan 2010
    Location
    kuwait
    Posts
    583

    Lightbulb Re: Daily One Quran Kareem Ayat & Hadees Mubarak Project (Daily updated) Here

    Quran 6/65
    Attached Files Attached Files

  7. #7
    iTT Captain iqbalkuwait's Avatar
    Join Date
    Jan 2010
    Location
    kuwait
    Posts
    583

    Lightbulb Re: Daily One Quran Kareem Ayat & Hadees Mubarak Project (Daily updated) Here

    Quran 6/66,67
    Attached Files Attached Files

  8. #8
    iTT Captain iqbalkuwait's Avatar
    Join Date
    Jan 2010
    Location
    kuwait
    Posts
    583

    Lightbulb Re: Daily One Quran Kareem Ayat & Hadees Mubarak Project (Daily updated) Here

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِSaturday, 20 February 2010
    Quran. 6 Aya. 68,69
    وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ ۚ وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَىٰ مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ [٦:٦٨]وَمَا عَلَى الَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِنْ شَيْءٍ وَلَٰكِنْ ذِكْرَىٰ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ [٦:٦٩]
    اور جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں میں (کج بحثی اور استہزاء میں) مشغول ہوں تو تم ان سے کنارہ کش ہوجایا کرو یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں مشغول ہوجائیں، اور اگر شیطان تمہیں (یہ بات) بھلا دے تو یاد آنے کے بعد تم (کبھی بھی) ظالم قوم کے ساتھ نہ بیٹھا کرو،اور لوگوں پر جو پرہیزگاری اختیار کئے ہوئے ہیں ان (کافروں) کے حساب سے کچھ بھی (لازم) نہیں ہے مگر (انہیں) نصیحت (کرنا چاہیے) تاکہ وہ (کفر سے اور قرآن کی مذمت سے) بچ جائیں،
    And when you (Muhammad ) see those who engage in a false conversation about Our Verses (of the Qur'n) by mocking at them, stay away from them till they turn to another topic. And if Shaitn (Satan) causes you to forget, then after the remembrance sit not you in the company of those people who are the Zlimn (polytheists and wrongdoers, etc.).
    Those who fearAllah, keep their duty to Him and avoid evil are not responsible for them (the disbelievers) in any case, but (their duty) is to remind them, that they may avoid that (mockery at the Qur'n). [The order of this Verse was cancelled (abrogated) by the Verse 4:140].
    TAFSEER
    ف١ یعنی جو لوگ آیات اللہ پر طعن و استہزاء اور ناحق کی نکتہ چینی میں مشغول ہو کر اپنے کو مستحق عذاب بنا رہے ہیں تم ان سے خط ملط نہ رکھو کہیں تم بھی ان کے زمرے میں داخل ہو کر مورد عذاب نہ بن جاؤ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا ہے اِنَّکُمْ اِذًا مِّثْلُھُمْ ایک مومن کی غیرت کا تقاضا یہ ہونا چاہیے کہ ایسی مجلس سے بیزار ہو کر کنارہ کرے اور کبھی بھول کر شریک ہوگیا تو یاد آنے کے بعد فوراً وہاں سے اُٹھ جائے اس میں اپنی عاقبت کی درستی ' دین کی سلامتی اور طعن و استہزاء کرنے والوں کے لئے عملی نصیحت اور تنبیہ ہے۔[٧٦] کفار مکہ کی مجالس استہزاء میں بیٹھنے کی ممانعت اور استثنائی صورت:۔ ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ جو لوگ مجلسوں میں بیٹھ کر اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے ہیں ان کے گناہوں کا بار انہی پر ہے اور جو لوگ ایسی مجلسوں میں شامل ہونے یا بیٹھنے سے گریز کرتے ہیں ان پر نہیں۔ ہاں اگر کوئی شخص اس غرض سے ایسی مجلسوں میں جائے کہ انہیں جا کر سمجھائے اور نصیحت کرے تو یہ جائز بلکہ ضروری ہے۔ ممکن ہے وہ اس نصیحت سے متاثر ہو کر اپنی کرتوتوں سے باز آ جائیں۔ تاہم یہ حکم صرف مجالس سے ہی مخصوص نہیں بلکہ عام ہے۔ ظالموں کے گناہوں کا بار انہیں پر ہے جو لوگ ان سے اجتناب کرتے ہیں اور ان سے کسی قسم کا تعاون نہیں کرتے۔ ان پر نہیں بلکہ نھی عن المنکر کا فریضہ ہر شخص پر اور ہر ضرورت کے وقت واجب ہے اور اس سے بعض لوگوں کو فی الواقع ہدایت نصیب ہو ہی جاتی ہے۔
    HADEES MUBARAK
    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 347 حدیث مرفوع مکررات 15 عبدان، عبداللہ ، شعبہ، اشعث اپنے والد سے وہ مسروق سے وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرنے، جوتا پہننے اور کنگھی کرنے میں دائیں طرف سے حتی المقدور ابتدا کرنے کو پسند فرماتے تھے اور اس سے پہلے واسطہ میں بیان کیا تھا کہ اپنے تمام کام میں دائیں طرف سے ابتدا کرنے کو پسند فرماتے تھے۔
    Volume 1, Book 2, Number 36:
    Narrated Abu Huraira:Allah's Apostle said: "Whoever establishes prayers during the nights of Ramadan faithfullyout of sincere faith and hoping to attain Allah's rewards (not for showing off), all his past sinswill be forgiven."اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد
    اس عاجز بندے کو دعاؤں ميں ياد رکھيں

  9. #9
    iTT Captain iqbalkuwait's Avatar
    Join Date
    Jan 2010
    Location
    kuwait
    Posts
    583

    Lightbulb Re: Daily One Quran Kareem Ayat & Hadees Mubarak Project (Daily updated) Here

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
    Sunday, 21 February 2010
    Quran. 6 Aya. 70
    وَذَرِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَعِبًا وَلَهْوًا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۚ وَذَكِّرْ بِهِ أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا كَسَبَتْ لَيْسَ لَهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيٌّ وَلَا شَفِيعٌ وَإِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَا يُؤْخَذْ مِنْهَا ۗ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِمَا كَسَبُوا ۖ لَهُمْ شَرَابٌ مِنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ [٦:٧٠]
    اور آپ ان لوگوں کو چھوڑے رکھیئے جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا لیا ہے اور جنہیں دنیا کی زندگی نے فریب دے رکھا ہے اور اس (قرآن) کے ذریعے (ان کی آگاہی کی خاطر) نصیحت فرماتے رہئے تاکہ کوئی جان اپنے کئے کے بدلے سپردِ ہلاکت نہ کر دی جائے، (پھر) اس کے لئے اﷲ کے سوا نہ کوئی مدد گار ہوگا اور نہ کوئی سفارشی، اور اگر وہ (جان اپنے گناہوں کا) پورا پورا بدلہ (یعنی معاوضہ) بھی دے تو (بھی) اس سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے کئے کے بدلے ہلاکت میں ڈال دیئے گئے ان کے لئے کھولتے ہوئے پانی کا پینا ہے اور دردناک عذاب ہے اس وجہ سے کہ وہ کفر کیا کرتے تھے،
    And leave alone those who take their religion as play and amusement, and are deceived by the life of this world. But remind (them) with it (the Qur'n) lest a person be given up to destruction for that which he has earned, when he will find for himself no protector or intercessor besidesAllah, and even if he offers every ransom, it will not be accepted from him. Such are they who are given up to destruction because of that which they have earned. For them will be a drink of boiling water and a painful torment because they used to disbelieve.
    TAFSEER
    [٧٧] دین کو کھیل تماشا سمجھنے والے:۔ یعنی وہ لوگ جو پیروی تو اپنی خواہشات کی کرتے ہیں مگر خول مذہب کا چڑھا رکھا ہے۔ وہ اگر اپنے اپنے قبیلے کے الگ الگ خدا مقرر کر لیں تو بھی ان کے دین میں کچھ خلل نہیں آتا اور اگر دوسروں پر ظلم روا رکھیں ناجائز طریقوں اور لوٹ مار سے دوسروں کا مال ہتھیا لیں تو بھی جائز اور ہر طرح کے بے حیائی کے کام بھی ان کے لیے جائز۔ ان کے علاوہ اللہ کی آیات، اسلام، پیغمبر اسلام اور ان کے پیروکاروں کا مذاق اڑانا بھی انہوں نے اپنا دینی فریضہ سمجھ رکھا ہے اور چونکہ ان کی معاشی حالت اچھی ہے اور معاشرہ میں انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لہذا وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر سے فرمایا کہ انہیں بروقت اس بات سے متنبہ کر دیجئے کہ تم میں سے ہر ایک کا اور اس کے ایک ایک فعل کا حساب لیا جائے گا اور پھر اسے اس کی سزا بھگتنا ہوگی جس سے وہ کسی صورت بچ نہیں سکتا۔
    خ اُخروی عذاب سے نجات کی صورتیں:۔ سزا سے بچنے کی ممکنہ صورتیں تو یہی ہو سکتی ہیں کہ کوئی اس کا ایسا حمایتی اٹھ کھڑا ہو جو سزا دینے والے پر اثر انداز ہو سکتا ہو یا سزا دینے والے کا مقرب ہو اور وہ اس کی سفارش کرے تاکہ اسے سزا سے معاف رکھا جائے اور تیسری صورت یہ ہے کہ کچھ دے دلا کر اپنی گلو خلاصی کرا لے، وہاں یہ تینوں صورتیں ناممکن ہوں گی اور انہیں اپنے کرتوتوں کی سزا بہرحال بھگتنا ہی پڑے گی۔
    HADEES MUBARAK
    صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 683 حدیث مرفوع مکررات 12
    ابو عاصم، مالک سمی، ابوصالح، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ شہداء یہ لوگ ہیں جو ڈوب کر مرے اور جو پیٹ کے مرض میں مرے، اور جو طاعون میں مرے، اور جو دب کر مرے۔ اور آپ نے فرمایا کہ اگر لوگ جان لیں کہ بتداء وقت نماز پڑھنے میں کیا (فضیلت) ہے تو بے شک اس کی طرف سبقت کر یں، اور اگر وہ جان لیں کہ عشاء اور صبح کی نماز (باجماعت) میں کیا (ثواب) ہے، تو یقینا ان میں آکر شریک ہوں اگرچہ گھٹنوں کے بل چلنا پڑے، اور اگر وہ جان لیں کہ پہلی صف میں کیا (فضیلت ہے) تو بلا شبہ (اس کے لیے) قرعہ اندازی کریں۔
    Volume 1, Book 2, Number 37:
    Narrated Abu Huraira:
    Allah's Apostle said, "Whoever observes fasts during the month of Ramadan out of sincere
    faith, and hoping to attain Allah's rewards, then all his past sins will be forgiven."
    Muhammad Iqbal Kuwait
    اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد
    اس عاجز بندے کو دعاؤں ميں ياد رکھيں

  10. #10
    iTT Captain iqbalkuwait's Avatar
    Join Date
    Jan 2010
    Location
    kuwait
    Posts
    583

    Lightbulb Re: Daily One Quran Kareem Ayat & Hadees Mubarak Project (Daily updated) Here

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
    Monday, 22 February 2010
    Quran.6 Aya.71,72
    قُلْ أَنَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَىٰ أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا اللَّهُ كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّيَاطِينُ فِي الْأَرْضِ حَيْرَانَ لَهُ أَصْحَابٌ يَدْعُونَهُ إِلَى الْهُدَى ائْتِنَا ۗ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَىٰ ۖ وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ [٦:٧١]
    وَأَنْ أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَاتَّقُوهُ ۚ وَهُوَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ [٦:٧٢]
    فرما دیجئے: کیا ہم اﷲ کے سوا ایسی چیز کی عبادت کریں جو ہمیں نہ (تو) نفع پہنچا سکے اور نہ (ہی) ہمیں نقصان دے سکے اور اس کے بعد کہ اﷲ نے ہمیں ہدایت دے دی ہم اس شخص کی طرح اپنے الٹے پاؤں پھر جائیں جسے زمین میں شیطانوں نے راہ بھلا کر درماندہ و حیرت زدہ کر دیا ہو جس کے ساتھی اسے سیدھی راہ کی طرف بلا رہے ہوں کہ ہمارے پاس آجا (مگر اسے کچھ سوجھتا نہ ہو)، فرما دیں کہ اﷲ کی ہدایت ہی (حقیقی) ہدایت ہے، اور (اسی لیے) ہمیں (یہ) حکم دیا گیا ہے کہ ہم تمام جہانوں کے رب کی فرمانبرداری کریں،
    اور یہ (بھی حکم ہوا ہے) کہ تم نماز قائم رکھو اور اس سے ڈرتے رہو اور وہی اﷲ ہے جس کی طرف تم (سب) جمع کئے جاؤ گے،
    Say, :Should we invoke, besides Allah, something that can neither benefit us nor harm us? Should we turn back on our heels after Allah has guided us? (If we do so, we will be) like the one whom the *****s have abducted to a far off land, leaving him bewildered, even though he has friends who call him to the right path (saying), :Come to us. Say, :Allah‘s guidance is the guidance, and we have been ordered to submit to the Lord of the worlds,
    And to perform As-Salt (Iqmat-as-Salt)", and to be obedient toAllah and fear Him, and it is He to Whom you shall be gathered.
    TAFSEER
    [٧٨] الٰہ محتاج نہیں ہوسکتا:۔ اس آیت میں ایک بڑی حقیقت بیان کی جا رہی ہے جو یہ ہے کہ حقیقی معبود وہ ہستی ہو سکتی ہے جو دوسروں کو فائدہ پہنچا سکے اور ان کی مشکلات کو دور کرسکے۔ لیکن اپنی زندگی اور اس کی بقا کے لیے دوسروں کی محتاج نہ ہو۔ اس معیار پر اگر پرکھا جائے تو تمام معبودان باطل خواہ وہ زندہ شخصیتیں ہوں یا فوت شدہ ہوں، دیویاں ہوں یا دیوتا، پتھر ہوں یا شجر ہوں یا کوئی اور جاندار چیز ہو سب کی از خود نفی ہو جاتی ہے۔ جن، بتوں، پتھروں اور درختوں اور جانداروں کی تو بات ہی چھوڑیئے۔ جن انبیاء یا بزرگوں کو یااماموں کو یہ منصب عطا کیا جاتا ہے آپ دیکھئے کہ ان کی زندگی میں کوئی مشکل وقت آیا تھا؟ اور اگر آیا تھا تو کیا انہوں نے اپنے آپ کو اس سے بچا لیا تھا؟ اور اگر وہ اپنے آپ کو نہ بچا سکے تو پھر دوسروں کو کیسے بچا سکتے ہیں۔ جلب منفعت یا حاجت روائیوں کے لیے بھی یہی معیار اگر آپ مدنظر رکھیں گے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا۔ کہ معبود برحق صرف اللہ ہی کی ذات ہو سکتی ہے۔
    [٧٩] مشرکوں کی اپنے ساتھیوں کو دعوت:۔ جس طرح ہدایت کا راستہ صرف ایک ہے اور گمراہی کی راہیں لاتعداد ہیں اسی طرح اللہ کے پرستاروں کا حاجت روا اور مشکل کشا صرف اللہ ہی ہوتا ہے اور مشرکوں کے حاجت روا اور مشکل کشا لاتعداد ہوتے ہیں۔ عرب کے دور جاہلیت کو ہی لیجئے جہاں ہر قبیلے کا حاجت روا اور مشکل کشا الگ الگ تھا کسی کا ہبل تھا کسی کا لات کسی کا منات کسی کا عزیٰ اور کسی کے اساف اور نائلہ، پھر ہندوستان اور مصر کے دیوی دیوتاؤں پر نظر ڈالیے وہ بھی ان گنت نظر آئیں گے۔ عیسائیوں کے بھی تین خدا تو عقیدہ تثلیث کی رو سے ہوئے اور چوتھا انہوں نے سیدہ مریم کو بھی اسی مقام پر فائز کر دیا۔ مسلمانوں میں ہر پیر فقیر اور بزرگ ان کا حاجت روا اور مشکل کشا ہے۔ اگر کسی کی ایک قبر پر نذر و نیاز چڑھانے سے حاجت روائی نہیں ہوتی تو وہ کسی دوسرے بڑے بزرگ کی قبر پر چلا جاتا ہے اور پھر کسی تیسرے کے پاس اور انہیں بھیجنے والے شیاطین ہی ہوتے ہیں۔ اب اسے یہ سمجھ نہیں آتی کہ کرے تو کیا کرے ہر الٰہ کے پرستار اسے اپنے الٰہ کی طرف دعوت دیتے اور کہتے ہیں کہ ادھر آؤ یہاں سے تمام مرادیں بر آئیں گی۔ مشرکوں کی یہ مثال دے کر اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر سے فرماتے ہیں کہ ان سے زیادہ بحث و مناظرہ کی ضرورت نہیں۔ انہیں بس یہی کہہ دو کہ ہمیں تو اللہ کا یہی حکم ہے کہ ہم صرف اسی کے فرمانبردار بن کر رہیں۔ ادھر ادھر ہرگز نہ دیکھیں۔ اسی سے ڈریں اور اسی کے حکم کے مطابق نماز قائم کریں۔
    ٢ ف سو کوئی مانے یا نہ مانے اور تسلیم کرے یا نہ کرے، یہ بہرحال ایک اٹل اور قطعی حقیقت ہے کہ سب نے بہرحال آخرکار اسی وحدہ لاشریک کے حضور حاضر ہونا ہے، اور وہاں پہنچ کر اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا جواب دینا، اور اس کا پھل پانا ہے اور وہاں ہر انسان کو اس کے اپنے ایمان و عقیدہ عمل و کردار اور تقویٰ و پرہیزگاری کی پونجی ہی کام آسکے گی، پس ہر کوئی دیکھ لے کہ وہ آنے والے اس وقت کیلئے کیا پونجی لے کر جا رہا ہے؟ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَّاتَّقُوا اللّٰہَ، الایۃ۔
    HADEES MUBARAK
    صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 682 حدیث مرفوع مکررات 10
    احمد بن ابی رجاء، معاویہ بن عمر و، زائدہ بن قدامہ، حمید طویل، انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نماز قائم کی گئی تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا منہ ہماری طرف کرکے فرمایا کہ تم لوگ اپنی صفوں کو درست کر لو، اور مل کر کھڑے ہو اس لیے کہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں
    Volume 1, Book 2, Number 38:
    Narrated Abu Huraira:
    The Prophet said, "Religion is very easy and whoever overburdens himself in his religion will
    not be able to continue in that way. So you should not be extremists, but try to be near to
    perfection and receive the good tidings that you will be rewarded; and gain strength by
    worshipping in the mornings, the nights." (See Fath-ul-Bari, Page 102, Vol 1).
    اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد
    اس عاجز بندے کو دعاؤں ميں ياد رکھيں

  11. #11
    iTT Captain iqbalkuwait's Avatar
    Join Date
    Jan 2010
    Location
    kuwait
    Posts
    583

    Lightbulb Re: Daily One Quran Kareem Ayat & Hadees Mubarak Project (Daily updated) Here

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
    Tuesday, 23 February 2010
    Quran. 6 Aya. 73
    وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ۖ وَيَوْمَ يَقُولُ كُنْ فَيَكُونُ ۚ قَوْلُهُ الْحَقُّ ۚ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ ۚ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۚ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ [٦:٧٣]
    اور وہی (اﷲ) ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو حق (پر مبنی تدبیر) کے ساتھ پیدا فرمایا ہے اور جس دن وہ فرمائے گا: ہوجا، تو وہ (روزِ محشر بپا) ہو جائے گا۔ اس کا فرمان حق ہے، اور اس دن اسی کی بادشاہی ہوگی جب (اسرافیل کے ذریعے صور میں پھونک ماری جائے گے، (وہی) ہر پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے، اور وہی بڑا حکمت والا خبردار ہے،
    He is the One who created the heavens and the earth with purpose. On the day He says :Be , it (the Resurrection) will come to be. His word is the truth, and His is the kingdom on the day the Horn shall be blown. He is the Knower of the Unseen and the Seen. He is the Wise, the All-Aware.
    TAFSEER
    [٨٠] تخلیق کائنات کا مقصد:۔ یعنی اس لیے زمین و آسمان کو پیدا کیا گیا کہ اس سے تعمیری نتائج پیدا ہوں۔ محض کھیل اور شغل کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ جیسے بچے مٹی سے کھیلتے ہوئے اس سے مختلف شکلیں بناتے ہیں پھر انہیں خود ہی ڈھا کر مٹی میں ملا دیتے ہیں۔
    بلکہ زمین و آسمان کو ایک خاص مقصد کے تحت پیدا کیا ہے۔ اس خاص مقصد کا اگرچہ قرآن میں صریح الفاظ میں ذکر نہیں آیا تاہم بعض دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب چیزیں انسان کی خدمت پر مامور ہیں اور انسان ہی ساری کائنات میں اشرف المخلوقات ہے۔ انسان کو ہی قوت تمیز اور ارادہ و اختیار دیا گیا ہے تاکہ اسے آزمایا جا سکے کہ آیا وہ اختیاری امور میں بھی اللہ کا فرمانبردار بن کر رہتا ہے یا نہیں؟ گویا انسان کی تخلیق کا مقصد صرف ایک اللہ کی عبادت ہے پھر اس جہان کے بعد اسے فنا کر کے ایک دوسرا جہان پیدا کیا جائے گا اور جو کچھ اچھے یا برے اعمال انسان نے اس دنیا میں سر انجام دیئے ہوں گے اس دوسرے جہان میں ان کی جزا و سزا ملے گی اور یہ دنیا اور آخرت سارے کا سارا ایک مربوط نظام ہے۔
    HADEES MUBARAK
    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1406 حدیث مرفوع مکررات 3
    یحیی بن بکیر، لیث، عقیل، ابن شہاب، سعید بن مسیب سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں، تو تم بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے۔
    Volume 1, Book 2, Number 39:
    Narrated Al-Bara' (bin 'Azib):
    When the Prophet came to Medina, he stayed first with his grandfathers or maternal uncles
    from Ansar. He offered his prayers facing Baitul-Maqdis (Jerusalem) for sixteen or seventeen
    months, but he wished that he could pray facing the Ka'ba (at Mecca). The first prayer which
    he offered facing the Ka'ba was the 'Asr prayer in the company of some people. Then one of
    those who had offered that prayer with him came out and passed by some people in a mosque
    who were bowing during their prayers (facing Jerusalem). He said addressing them, "By
    Allah, I testify that I have prayed with Allah's Apostle facing Mecca (Ka'ba).' Hearing that,
    those people changed their direction towards the Ka'ba immediately. Jews and the people of
    the scriptures used to be pleased to see the Prophet facing Jerusalem in prayers but when he
    changed his direction towards the Ka'ba, during the prayers, they disapproved of it.
    Al-Bara' added, "Before we changed our direction towards the Ka'ba (Mecca) in prayers,
    some Muslims had died or had been killed and we did not know what to say about them
    (regarding their prayers.) Allah then revealed: And Allah would never make your faith
    (prayers) to be lost (i.e. the prayers of those Muslims were valid).' " (2:143).
    اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد
    اس عاجز بندے کو دعاؤں ميں ياد رکھيں

  12. #12
    iTT Captain iqbalkuwait's Avatar
    Join Date
    Jan 2010
    Location
    kuwait
    Posts
    583

    Lightbulb Re: Daily One Quran Kareem Ayat & Hadees Mubarak Project (Daily updated) Here

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
    Thursday, 25 February 2010
    Quran. 33 Aya. 43
    هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۚ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا [٣٣:٤٣]
    وہی ہے جو تم پر درود بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی، تاکہ تمہیں اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لے جائے اور وہ مومنوں پر بڑی مہربانی فرمانے والا ہے،
    He it is Who sends Salt (His blessings) on you, and His angels too (askAllah to bless and forgive you), that He may bring you out from darkness (of disbelief and polytheism) into light (of Belief and Islmic Monotheism). And He is Ever Most Merciful to the believers.
    TAFSEER
    ف ٦ یعنی اللہ کو بکثرت یاد کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ اپنی رحمت تم پر نازل کرتا ہے جو فرشتوں کے توسط سے آتی ہے۔ یہ ہی رحمت و برکت ہے جو تمہارا ہاتھ پکڑ کر جہالت و ضلالت کی اندھیریوں سے علم و تقویٰ کے اجالے میں لاتی ہے۔ اگر اللہ کی خاص مہربانی ایمان والوں پر نہ ہو تو دولت ایمان کہاں سے ملے اور کیونکر محفوظ رہے۔ اسی کی مہربانی سے مومنین رشد و ہدایت اور ایمان و احسان کی راہوں میں ترقی کرتے ہیں۔ یہ تو دنیا میں ان کا حال ہوا، آخرت کا اعزاو اکرام آگے مذکور ہے۔
    HADEES MUBARAK
    صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 15 حدیث مرفوع مکررات 11 متفق علیہ
    محمد بن مثنی، عبدالوہاب ثقفی، ایوب، ابوقلابہ، انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ تین باتیں جس کسی میں ہونگیں، وہ ایمان کی مٹھاس (مزہ) پائے گا، اللہ اور اس کے رسول اس کے نزدیک تمام ماسوا سے زیادہ محبوب ہوں اور جس کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ ہی کے لئے کرے اور کفر میں واپس جانے کو ایسا برا سمجھے جیسے آگ میں ڈالے جانے کو۔
    (ف67) آدم علیہ السلام نے زمین پر آنے کے بعد تین سو برس تک حیاء سے آسمان کی طرف سر نہ اٹھایا اگرچہ حضرت داؤد علیہ السلام کثیر البکاء تھے آپ کے آنسو تمام زمین والوں کے آنسوؤں سے زیادہ ہیں مگر حضرت آدم علیہ السلام اس قدر روئے کہ آپ کے آنسو حضرت داؤد علیہ السلام اور تمام اہل زمین کے آنسوؤں کے مجموعہ سے بڑھ گئے۔ (خازن) طبرانی و حاکم و ابو نعیم و بیہقی نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت کی کہ جب حضرت آدم علیہ السلام پر عتاب ہوا تو آپ فکر توبہ میں حیران تھے اس پریشانی کے عالم میں یاد آیا کہ وقت پیدائش میں نے سر اٹھا کر دیکھا تھا کہ عرش پر لکھا ہے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں سمجھا تھا کہ بارگاہِ الہٰی میں وہ رُتبہ کسی کو میسر نہیں جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام اپنے نام اقدس کے ساتھ عرش پر مکتوب فرمایا لہذا آپ نے اپنی دعا میں '' رَبَّنَا ظَلَمْنَا ''الآیہ ' کے ساتھ یہ عرض کیا '' اَسْئَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ اَنْ تَغْفِرَلِیْ '' ابن منذر کی روایت میں یہ کلمے ہیں۔
    '' اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْلَکَ بِجَاہِ محمَّدٍ عَبْدِکَ وَکَرَامَتِہٖ عَلَیْکَ اَنْ تَغفِرَلِیْ خَطِیْئَتِیْ '' یعنی یارب میں تجھ سے تیرے بندہ خاص محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جاہ و مرتبت کے طفیل میں اور اس کرامت کے صدقہ میں جو انہیں تیرے دربار میں حاصل ہے مغفرت چاہتا ہوں یہ دعا کرنی تھی کہ حق تعالیٰ نے ان کی مغفرت فرمائی مسئلہ اس روایت سے ثابت ہے کہ مقبولان بارگاہ کے وسیلہ سے دعا بحق فلاں اور بجاہ فلاں کہہ کر مانگنا جائز اور حضرت آدم علیہ السلام کی سنت ہے مسئلہ : اللہ تعالیٰ پر کسی کا حق واجب نہیں ہوتا لیکن وہ اپنے مقبولوں کو اپنے فضل و کرم سے حق دیتا ہے اسی تفضلی حق کے وسیلہ سے دعا کی جاتی ہے صحیح احادیث سے یہ حق ثابت ہے جیسے وارد ہوا '' مَنْ اٰمَنَ بِ اللہ ِ وَرَسُوْلِہٖ وَاَقَامَ الصَّلوٰۃَ وَصَامَ رَمَضَانَ کَانَ حَقاً عَلیٰ اللہ ِ اَنْ یُدْخِلَ الْجَنَّۃَ ''
    حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ دسویں محرم کو قبول ہوئی جنت سے اخراج کے وقت اور نعمتوں کے ساتھ عربی زبان بھی آپ سے سلب کرلی گئی تھی بجائے اس کے زبان مبارک پر سریانی جاری کردی گئی تھی قبول توبہ کے بعد پھر زبان عربی عطا ہوئی (فتح العزیز) مسئلہ : توبہ کی اصل رجوع الی اللہ ہے اس کے تین رکن ہیں ایک اعتراف جرم دوسرے ندامت تیسرے عزم ترک اگر گناہ قابل تلافی ہو تو اس کی تلافی بھی لازم ہے مثلا تارک صلوۃ کی توبہ کے لئے پچھلی نمازوں کی قضا پڑھنا بھی ضروری ہے توبہ کے بعد حضرت جبرئیل نے زمین کے تمام جانوروں میں حضرت آدم علیہ السلام کی خلافت کا اعلان کیا اور سب پر ان کی فرماں برداری لازم ہونے کا حکم سنایا سب نے قبول طاعت کا اظہار کیا ۔(فتح العزیز)
    Volume 1, Book 2, Number 44:
    Narrated Talha bin 'Ubaidullah:
    A man from Najd with unkempt hair came to Allah's Apostle and we heard his loud voice but
    could not understand what he was saying, till he came near and then we came to know that he
    was asking about Islam. Allah's Apostle said, "You have to offer prayers perfectly five times
    in a day and night (24 hours)." The man asked, "Is there any more (praying)?" Allah's
    Apostle replied, "No, but if you want to offer the Nawafil prayers (you can)." Allah's Apostle
    further said to him: "You have to observe fasts during the month of Ramad, an." The man
    asked, "Is there any more fasting?" Allah's Apostle replied, "No, but if you want to observe
    the Nawafil fasts (you can.)" Then Allah's Apostle further said to him, "You have to pay the
    Zakat (obligatory charity)." The man asked, "Is there any thing other than the Zakat for me to
    pay?" Allah's Apostle replied, "No, unless you want to give alms of your own." And then that
    man retreated saying, "By Allah! I will neither do less nor more than this." Allah's Apostle
    said, "If what he said is true, then he will be successful (i.e. he will be granted Paradise)."
    اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد
    اس عاجز بندے کو دعاؤں ميں ياد رکھيں

  13. #13
    iTT Captain iqbalkuwait's Avatar
    Join Date
    Jan 2010
    Location
    kuwait
    Posts
    583

    Lightbulb Re: Daily One Quran Kareem Ayat & Hadees Mubarak Project (Daily updated) Here

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
    Friday, 26 February 2010
    Quran. 33 Aya. 56
    إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا [٣٣:٥٦]
    بیشک اللہ اور ا س کے (سب) فرشتے نبیِ (مکرمّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجتے رہتے ہیں، اے ایمان والو! تم (بھی) اُن پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو،
    Allh sends His Salt (Graces, Honours, Blessings, Mercy, etc.) on the Prophet (Muhammad ) and also His angels too (askAllah to bless and forgive him). O you who believe! Send your Salt on (askAllah to bless) him (Muhammad ), and (you should) greet (salute) him with the Islmic way of greeting (salutation i.e. AsSalmu 'Alaikum).
    TAFSEER
    ف ٥ صلوٰۃ النبی کا مطلب ہے "نبی کی ثناء و تعظیم رحمت و عطوفت کے ساتھ"پھر جس کی طرف "صلوٰۃ" منسوب ہوگی اسی کی شان و مرتبہ کے لائق ثناء و تعظیم اور رحمت و عطوفت مراد لیں گے، جیسے کہتے ہیں کہ باپ بیٹے پر، بیٹا باپ پر اور بھائی بھائی پر مہربان ہے یا ہر ایک دوسرے سے محبت کرتا ہے تو ظاہر ہے جس طرح کی محبت اور مہربانی باپ کے بیٹے پر ہے اس نوعیت کی بیٹے کی باپ پر نہیں اور بھائی کی بھائی پر ان دونوں سے جداگانہ ہوتی ہے۔ ایسے ہی یہاں سمجھ لو۔ اللہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوٰۃ بھیجتا ہے یعنی رحمت و شفقت کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ثناء اور عزاز و اکرام کرتا ہے اور فرشتے بھی بھیجتے ہیں، مگر ہر ایک کی صلوٰۃ اور رحمت و تکریم اپنی شان و مرتبہ کے موافق ہوگی۔ آگے مومنین کو حکم ہے کہ تم بھی صلوٰۃ و رحمت بھیجو۔ اس کی حیثیت ان دونوں سے علیحدہ ہونی چاہیے۔ علماء نے کہا کہ اللہ کی صلوٰۃ رحمت بھیجنا اور فرشتوں کی صلوٰۃ استغفار کرنا اور مومنین کی صلوٰۃ دعا کرنا ہے۔ حدیث میں ہے کہ جب آیت نازل ہوئی صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! "سلام" کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہو چکا (یعنی نماز کے تشہد میں جو پڑھا جاتا ہے) "السلام علیک ایہا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ" "صلوٰۃ" کا طریقہ بھی ارشاد فرما دیجئے جو نماز میں پڑھا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ درود شریف تلقین کیا۔ "اللہم صل علٰی محمدٍ وعلٰی ال محمدٍ کما صلیت علی ابراہیم وعلی اٰل ابراہیم انک حمید مجید۔ اللہم بارک علی محمدٍ وعلیٰ اٰل محمدٍ کما بارکت علی ابراہیم وعلٰی اٰل ابراہیم انک حمید مجید۔" غرض یہ ہے کہ حق تعالٰی نے مومنین کو حکم دیا کہ تم بھی نبی پر صلوٰۃ (رحمت) بھیجو۔ نبی نے بتلا دیا کہ تمہارا بھیجنا یہ ہی ہے کہ اللہ سے درخواست کرو کہ وہ اپنی بیش از بیش ابدالآباد تک نبی پر نازل فرماتا رہے۔ کیونکہ اس کی رحمتوں کی کوئی حد و نہایت نہیں۔ یہ بھی اللہ کی رحمت ہے کہ اس درخواست پر جو مزید رحمتیں نازل فرمائے وہ ہم عاجز و ناچیز بندوں کی طرف منسوب کر دی جائیں۔ گویا ہم نے بھیجی ہیں۔ حالانکہ ہر حال میں رحمت بھیجنے والا وہ ہی اکیلا ہے کسی بندہ کی کیا طاقت تھی کہ سیدالانبیاء کی بارگاہ میں ان کے رتبہ کے لائق تحفہ پیش کر سکتا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں "اللہ سے رحمت مانگنی اپنے پیغمبر پر اور ان کے ساتھ ان کے گھرانے پر بڑی قبولیت رکھتی ہے۔ ان پر ان کے لائق رحمت اترتی ہے، اور ایک دفعہ مانگنے سے دس رحمتیں اترتی ہیں مانگنے والے پر۔ اب جس کا جتنا جی چاہے اتنا حاصل کر لے۔" (تنبیہ) صلوٰۃ علی النبی کے متعلق مزید تفصیلات ان مختصر فوائد میں نہیں سما سکتیں۔ شروع حدیث میں مطالعہ کی جائیں۔ اور اس باپ میں شیخ شمس الدین سخاوی کا رسالہ "القول ابدیع فی الصلوٰۃ علی الحبیب الشفیع" قابل دید ہے۔ ہم نے شرح صحیح مسلم میں بقدر کفالت لکھ دیا ہے فالحمد للہ علی ذلک۔
    HADEES MUBARAK
    صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 13 حدیث مرفوع مکررات 2
    ابو الیمان، شعیب، ابوالزنا د، اعرج، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس (پاک ذات) کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک ایماندار نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ اور اسکی اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔
    Volume 1, Book 2, Number 45:
    Narrated Abu Huraira:
    Allah's Apostle said, "(A believer) who accompanies the funeral procession of a Muslim out
    of sincere faith and hoping to attain Allah's reward and remains with it till the funeral prayer
    is offered and the burial ceremonies are over, he will return with a reward of two Qirats. Each
    Qirat is like the size of the (Mount) Uhud. He who offers the funeral prayer only and returns
    before the burial, will return with the reward of one Qirat only."
    اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد
    اس عاجز بندے کو دعاؤں ميں ياد رکھيں

  14. #14
    iTT Captain iqbalkuwait's Avatar
    Join Date
    Jan 2010
    Location
    kuwait
    Posts
    583

    Lightbulb Re: Daily One Quran Kareem Ayat & Hadees Mubarak Project (Daily updated) Here

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
    Saturday, 27 February 2010
    Quran. 49 Aya. 2
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ [٤٩:٢]
    اے ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو نبیِ مکرّم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز سے بلند مت کیا کرو اور اُن کے ساتھ اِس طرح بلند آواز سے بات (بھی) نہ کیا کرو جیسے تم ایک دوسرے سے بلند آواز کے ساتھ کرتے ہو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے سارے اعمال ہی (ایمان سمیت) غارت ہو جائیں اور تمہیں (ایمان اور اعمال کے برباد ہوجانے کا) شعور تک بھی نہ ہو،
    O you who believe, do not raise your voices above the voice of the Prophet, and be not loud when speaking to him, as you are loud when speaking to one another, lest your good deeds should become void while you are not aware.
    TAFSEER
    [٢] یعنی جب تم نبی کی مجلس میں بیٹھے ہو تو ان کاادب و احترام ملحوظ رکھو۔ اس آیت کا شان نزول درج ذیل حدیث میں ملاحظہ فرمائیے:
    ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ کے سامنے آوازیں بلند کرنے کی بنا پر دو نیک ترین آدمی تباہ ہونے کو تھے یعنی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر جبکہ بنی تمیم کا ایک وفد (٩ھ) میں آپ کے پاس آیا (اور آپ سے درخواست کی کہ آپ ان کا کوئی سردار مقرر فرما دیں) ان دونوں میں سے ایک نے اقرع بن حابس کی (سرداری) کا مشورہ دیا جو بنی مجاشع (بنو تمیم کی ایک شاخ) میں سے تھا اور دوسرے نے کسی دوسرے (قعقاع بن معبد) کے متعلق مشورہ دیا۔ نافع بن عمر کہتے ہیں کہ مجھے اس کا نام یاد نہیں رہا۔ اس پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سیدنا عمر سے کہنے لگے کہ: ''آپ تو مجھ سے اختلاف ہی کرنا چاہتے ہیں'' سیدنا عمر نے کہا: میں آپ سے اختلاف نہیں کرنا چاہتا'' (بلکہ یہ مصلحت کا تقاضا ہے) اس معاملہ میں دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ جب سے یہ آیت نازل ہوئی تو سیدنا عمر اتنی آہستہ بات کرتے کہ آپ کو ان سے پوچھنے کی ضرورت پیش آتی۔ لیکن انہوں نے یہ بات اپنے نانا (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ) کے متعلق نقل نہیں کی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
    یہ ادب اگرچہ نبی کی مجلس کے لئے سکھایا گیا اور اس کے مخاطب صحابہ کرامث یا وہ لوگ تھے جو آپ کے زمانہ میں موجود تھے اور یہ ادب اس لئے سکھایا گیا تھا کہ لوگ آپ کو ایک عام اور معمولی آدمی نہ سمجھیں بلکہ وہ یہ سمجھیں کہ وہ اللہ کے رسول کی مجلس میں بیٹھے ہیں۔ تاہم اس حکم کا اطلاق ایسے مواقع پر بھی ہوتا ہے۔ جہاں آپ کا ذکر ہو رہا ہو، یا آپ کا کوئی حکم سنایا جائے یا آپ کی احادیث بیان کی جائیں۔
    [٣] آواز مقابلتاً پست ہونی چاہئے:۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر نبی سے بات کرنا ہو تو بھی نبی کی آواز سے تمہاری آواز بلند نہ ہونا چاہئے۔ نیز مسجد نبوی میں کوئی بات عام آواز سے زیادہ اونچی آواز سے نہ کی جائے۔ اس بے ادبی کی تمہیں یہ سزا مل سکتی ہے کہ تمہارے نیک اعمال برباد کر دیئے جائیں۔ اس آیت کا جو اثر صحابہ کرامث پر ہوا وہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے:
    سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے ثابت بن قیس (بن شماس) کو (کئی روز تک اپنی صحبت میں) نہ دیکھا۔ ایک شخص (سعدبن معاذ) کہنے لگے: یا رسول اللہ ! میں اس کا حال معلوم کرکے آپ کو بتاؤں گا'' چنانچہ وہ گئے تو ثابت کو اپنے گھر سر جھکائے دیکھا اور پوچھا: ''کیا صورت حال ہے؟'' ثابت رضی اللہ عنہ کہنے لگے: برا حال ہے میری تو آواز ہی نبی سے بلند ہوتی تھی میرے تو اعمال اکارت گئے اور اہل دوزخ سے ہوا'' سعد نبی اکرم کے پاس آئے اور بتایا کہ وہ ''تو یہ کچھ بتاتا ہے'' موسیٰ بن انس کہتے ہیں۔پھر ایسا ہوا کہ سعد بن معاذ ایک بڑی بشارت لے کر دوسری بار ثابت بن قیس کے ہاں گئے۔ آپ نے خود سعد کو ثابت کے ہاں بھیجا اور کہا کہ اسے کہہ دو کہ: تم اہل دوزخ سے نہیں بلکہ اہل جنت سے ہو'' (بخاری۔ کتاب التفسیر)
    یہ ثابت بن قیس خطیب انصار تھے۔ جب مسیلمہ کذاب مدینہ میں آپ سے کچھ لو اور کچھ دو کے اصول کے تحت سمجھوتہ کرنے کی غرض سے آیا تھا تو رسول اللہ نے انہی ثابت بن قیس کو اس سے گفتگو کے لئے مامور فرمایا تھا۔ ان کی آواز قدرتی طور پر بھاری اور بلند تھی۔ اس لئے آپ اس حکم سے ڈر گئے۔ آپ نے انہیں اس لئے اس حکم سے مستثنیٰ قرار دیا کہ وہ بے ادبی یا عدم احترام کی وجہ سے آواز بلند نہیں کرتے تھے۔ بلکہ قدرتی طور پر ہی ان کی آواز بلند تھی۔
    HADEES MUBARAK
    مشکوۃ شریف:جلد دوم:حدیث نمبر 824 مکررات 0
    حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرا سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر کہنا بلا شبہ میرے نزدیک اس چیز سے جس پر آفتاب طلوع ہوتا ہے (یعنی دنیا اور دنیا کی چیزوں سے زیادہ پسندیدہ ہے)(مسلم)
    Volume 1, Book 2, Number 46:
    Narrated 'Abdullah:
    The Prophet said, "Abusing a Muslim is Fusuq (an evil doing) and killing him is Kufr
    (disbelief)." Narrated 'Ubada bin As-Samit: "Allah's Apostle went out to inform the people
    about the (date of the) night of decree (Al-Qadr) but there happened a quarrel between two
    Muslim men. The Prophet said, "I came out to inform you about (the date of) the night of Al-
    Qadr, but as so and so and so and so quarrelled, its knowledge was taken away (I forgot it)
    and maybe it was better for you. Now look for it in the 7th, the 9th and the 5th (of the last 10
    nights of the month of Ramadan)."
    اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد
    اس عاجز بندے کو دعاؤں ميں ياد رکھيں

  15. #15
    iTT Captain iqbalkuwait's Avatar
    Join Date
    Jan 2010
    Location
    kuwait
    Posts
    583

    Lightbulb Re: Daily One Quran Kareem Ayat & Hadees Mubarak Project (Daily updated) Here

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
    Tuesday-15-December-2009
    Quran. 6 Aya. 76,77
    فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأَىٰ كَوْكَبًا ۖ قَالَ هَٰذَا رَبِّي ۖ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ [٦:٧٦]
    فَلَمَّا رَأَى الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هَٰذَا رَبِّي ۖ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَمْ يَهْدِنِي رَبِّي لَأَكُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالِّينَ [٦:٧٧]
    پھر جب ان پر رات نے اندھیرا کر دیا تو انہوں نے (ایک) ستارہ دیکھا (تو) کہا: (کیا تمہارے خیال میں) یہ میرا رب ہے؟ پھر جب وہ ڈوب گیا تو (اپنی قوم کو سنا کر) کہنے لگے: میں ڈوب جانے والوں کو پسند نہیں کرتا،
    پھر جب چاند کو چمکتے دیکھا (تو) کہا: (کیا تمہارے خیال میں) یہ میرا رب ہے؟ پھرجب وہ (بھی) غائب ہوگیا تو (اپنی قوم کو سنا کر) کہنے لگے: اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ فرماتا تو میں بھی ضرور (تمہاری طرح) گمراہوں کی قوم میں سے ہو جاتا،
    So, when the night enveloped him, he saw a star. He said, :This is my Lord. But, when it vanished, he said, :I do not like those who vanish.
    Later, when he saw the moon rising, he said, :This is my Lord. But, when it vanished, he said, :Had my Lord not guided me, I would have been among those gone astray.
    TAFSEER
    ف ٨ کہ انھیں اپنا رب بنا لوں۔ کیا ایک مجبور قیدی اور بیگاری کو شہنشاہی کے تخت پر بٹھلانا کوئی پسند کر سکتا ہے باقی ابراہیم کا ھٰذا ربی کہنا یا تو استفہام انکاری کے لہجے میں ہے یعنی کیا یہ ہے راب میرا اور یا بطریق تہکم و تبکیت ہے۔ یعنی یہ ہے رب میرا تمہارے عقیدہ اور گمان کے موافق جیسے موسیٰ نے فرمایا وَانْظُرْاِلٰی اِلٰھِکَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْہٖ عَاکِفًااِیْ فِیْ زَعْمِکَ اس کے سوا مفسرین کے اور اقوال بھی ہیں۔ مگر ہمارے خیال میں یہ ہی راجح ہے وﷲ اعلم۔
    [٨٢] انبیاء کے والدین کو شرک سے بری ثابت کرنے کا نظریہ:۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ سیدنا ابراہیم کے باپ کا اصلی نام تارح تھا اور آزر ان کا لقب تھا۔ پھر وہ لقب سے زیادہ مشہور ہو گئے اور بعض یہ کہتے ہیں کہ ان کا اصل نام آزر تھا اور تارح لقب تھا۔ یہ باتیں تو ایسی ہیں جن میں کسی کے اختلاف کرنے کی ضرورت نہیں مگر جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابراہیم کے باپ کا نام تارح تھا اور آزر آپ کے چچا کا نام تھا اور اس کی وجہ یہ بتلاتے ہیں کہ پیغمبر کا باپ مشرک نہیں ہو سکتا۔ یہ بات ایک تو قرآن کے ظاہر الفاظ کے خلاف ہے دوسرے اس کی جو وجہ بیان کی گئی ہے وہ بناء فاسد علی الفاسد پر مبنی ہے کیونکہ پیغمبروں کے مبعوث ہونے کا وقت ہی وہ ہوتا ہے جب دنیا میں کفر و شرک اور فتنہ و فساد عام پھیل جاتا ہے اور اس کلیہ سے مستثنیٰ صرف وہ انبیاء ہیں جن کی قرآن یا حدیث میں صراحت آ گئی ہے۔ مثلاً سیدنا ابراہیم کے بیٹے اسماعیل اور اسحاق اور ان کے بیٹے اور پوتے یعنی یعقوب اور یوسف علیہ السلام سب نبی تھے یا سلیمان علیہ السلام کے باپ داؤد نبی تھے۔ ان انبیاء کے علاوہ دوسرے نبیوں کے باپ یا ماں باپ دونوں کو غیر مشرک ثابت کرنا ایسا تکلف ہے جسے تکلف کرنے کے باوجود بھی ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
    HADEES MUBARAK
    صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1430 حدیث مرفوع مکررات 25 متفق علیہ
    آدم، شعبہ، سیار ابوالحکم، ابوحازم، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے اللہ کے لئے حج کیا اور اس نے نہ فحش بات کی اور نہ گناہ کا مرتکب ہوا تو اس دن کی طرح (گناہ سے پاک وصاف) ہوگا جس دن سے اس کی ماں نے جنا تھا۔
    Volume 1, Book 2, Number 41:
    Narrated 'Aisha:
    Once the Prophet came while a woman was sitting with me. He said, "Who is she?" I replied,
    "She is so and so," and told him about her (excessive) praying. He said disapprovingly, "Do
    (good) deeds which is within your capacity (without being overtaxed) as Allah does not get
    tired (of giving rewards) but (surely) you will get tired and the best deed (act of Worship) in
    the sight of Allah is that which is done regularly."
    اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد
    اس عاجز بندے کو دعاؤں ميں ياد رکھيں

  16. #16
    iTT Captain iqbalkuwait's Avatar
    Join Date
    Jan 2010
    Location
    kuwait
    Posts
    583

    Lightbulb Re: Daily One Quran Kareem Ayat & Hadees Mubarak Project (Daily updated) Here

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
    Tuesday-15-December-2009
    Quran. 6 Aya. 78,79
    فَلَمَّا رَأَى الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هَٰذَا رَبِّي هَٰذَا أَكْبَرُ ۖ فَلَمَّا أَفَلَتْ قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ [٦:٧٨]
    إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ [٦:٧٩]
    پھر جب سورج کو چمکتے دیکھا (تو) کہا: (کیا اب تمہارے خیال میں) یہ میرا رب ہے (کیونکہ) یہ سب سے بڑا ہے؟ پھر جب وہ (بھی) چھپ گیا تو بول اٹھے: اے لوگو! میں ان (سب چیزوں) سے بیزار ہوں جنہیں تم (اﷲ کا) شریک گردانتے ہو،
    بیشک میں نے اپنا رُخ (ہر سمت سے ہٹا کر) یکسوئی سے اس (ذات) کی طرف پھیر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو بے مثال پیدا فرمایا ہے اور (جان لو کہ) میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں،
    Thereafter, when he saw the sun rising, he said, :This is my Lord. This is greater. Again, when it vanished, he said, :O my people, I disown whatever you associate with Allah
    Verily, I have turned my face towards Him Who has created the heavens and the earth Hanifa (Islmic Monotheism, i.e. worshipping none butAllah Alone) and I am not of Al-Mushrikn (see V.2:105)".
    TAFSEER
    (ف166) شمس مؤنث غیر حقیقی ہے اس کے لئے مذکر و مؤنث کے دونوں صیغے استعمال کئے جا سکتے ہیں ، یہاں ہذا مذکر لایا گیا اس میں تعلیمِ ادب ہے کہ لفظِ رب کی رعایت کے لئے لفظِ تانیث نہ لایا گیا اسی لحاظ سے اللہ تعالٰی کی صفت میں عَلّام آتا ہے نہ کہ علامہ ۔
    (ف167) حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ثابت کر دیا کہ ستاروں میں چھوٹے سے بڑے تک کوئی بھی رب ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا ، ان کا اِلٰہ ہونا باطل ہے اور قوم جس شرک میں مبتلا ہے آپ نے اس سے بیزاری کا اظہار کیا اور اس کے بعد دین حق کا بیان فرمایا جو آگے آتا ہے ۔
    ٢ ف سو اس موقع پر حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے عقیدہ توحید اور شرک سے اپنی برأت و بیزاری کے بارے میں صاف و صریح طور پر اعلان بھی فرما دیا اور اس کے لئے ان لوگوں کے سامنے ایک واضح حجت اور دلیل بھی پیش فرما دی۔ چنانچہ آپ نے اعلان فرمایا کہ میں نے تو اپنا رُخ اس ذات کی طرف موڑ دیا، اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دیا جو آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات کی خالق و مالک ہے۔ کہ جب اس کائنات کی تخلیق و تکوین، اور اسکی حکومت و فرمانروائی میں کوئی اس کا شریک نہیں، تو پھر اسکے حق عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم آخر کس طرح اور کیونکر ہو سکتا ہے؟ پس میں ہر طرف سے یکسو ہو کر اسی کا ہوگیا ہوں۔ اور میرا مشرکوں سے کسی بھی طرح کا کوئی لگاؤ نہیں۔
    HADEES MUBARAK
    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1338 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 26
    عبد اللہ بن مسلمہ، عبدالعزیزبن ابی حازم، ابوحازم، سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہے، کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جنت میں ایک کوڑے کی جگہ دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے بہتر ہے، اور اللہ کی راہ میں صبح یا شام کے وقت چلنا، دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے بہتر ہے۔
    Volume 1, Book 2, Number 42:
    Narrated Anas:
    The Prophet said, "Whoever said "None has the right to be worshipped but Allah and has in
    his heart good (faith) equal to the weight of a barley grain will be taken out of Hell. And
    whoever said: "None has the right to be worshipped but Allah and has in his heart good
    (faith) equal to the weight of a wheat grain will be taken out of Hell. And whoever said,
    "None has the right to be worshipped but Allah and has in his heart good (faith) equal to the
    weight of an atom will be taken out of Hell."
    اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد
    اس عاجز بندے کو دعاؤں ميں ياد رکھيں

  17. #17
    iTT Captain iqbalkuwait's Avatar
    Join Date
    Jan 2010
    Location
    kuwait
    Posts
    583

    Lightbulb Re: Daily One Quran Kareem Ayat & Hadees Mubarak Project (Daily updated) Here

    Quran 6/80
    Attached Files Attached Files

  18. #18
    iTT Captain iqbalkuwait's Avatar
    Join Date
    Jan 2010
    Location
    kuwait
    Posts
    583

    Lightbulb Re: Daily One Quran Kareem Ayat & Hadees Mubarak Project (Daily updated) Here

    Attachment
    Attached Files Attached Files

  19. #19
    iTT Student
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    karachi,Pakistan
    Age
    34
    Posts
    1

    Re: Daily One Quran Kareem Ayat & Hadees Mubarak Project (Daily updated) Here

    Allah Azwajal Aap ko jazaye khair ata farmay

  20. #20
    iTT Captain iqbalkuwait's Avatar
    Join Date
    Jan 2010
    Location
    kuwait
    Posts
    583

    Lightbulb Re: Daily One Quran Kareem Ayat & Hadees Mubarak Project (Daily updated) Here

    Quran 6/83,84
    Attached Files Attached Files

Page 1 of 5 123 ... LastLast

Similar Threads

  1. Daily Farman-e-Ilaahi(Ayat From Quran)
    By *Angel* in forum Quran e Kareem
    Replies: 379
    Last Post: 2nd June 2012, 01:25 PM
  2. Daily updated : Khabrain pg .17
    By Shonu in forum Behas-o-Mubahisa
    Replies: 0
    Last Post: 28th November 2007, 09:01 PM
  3. Daily updated : Khabrain pg .16
    By Shonu in forum Behas-o-Mubahisa
    Replies: 0
    Last Post: 28th November 2007, 09:00 PM
  4. Daily updated : Khabrain pg .14
    By Shonu in forum Behas-o-Mubahisa
    Replies: 0
    Last Post: 28th November 2007, 08:58 PM
  5. Daily updated : Khabrain pg .13
    By Shonu in forum Behas-o-Mubahisa
    Replies: 0
    Last Post: 28th November 2007, 08:57 PM

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •