Results 1 to 9 of 9

عورت کا مسجد میں نماز کے لیے جانا مکروہ ہے ۔ &

This is a discussion on عورت کا مسجد میں نماز کے لیے جانا مکروہ ہے ۔ & within the Open Forum forums, part of the Mera Deen Islam category; یہ بھی دیکھ لیں کہ ان دھوکہ بازوں نے اپنے اوپر بھیجی گئی لعنت کو دوسروں پر منتقل کر دیا ...

  1. #1
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    عورت کا مسجد میں نماز کے لیے جانا مکروہ ہے ۔ &




    یہ بھی دیکھ لیں کہ ان دھوکہ بازوں نے اپنے اوپر بھیجی گئی لعنت کو دوسروں پر منتقل کر دیا








    مگر اب کو بھول گیا کہ امام عبدللہ بن مبارک کیا کہتے ہیں ام ابو حنیفہ کے بارے میں



    أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللّٰہِ الحَنَّائِيُّ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الشَّافِعِيُّ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ السُّلَمِيُّ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبة الرَّبِیعُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْمُبَارَکِ، قَالَ : مَنْ نَّظَرَ فِي کِتَابِ الْحِیَلِ لِأَبِي حَنِیفَة أَحَلَّ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ، وَحَرَّمَ مَا أَحَلَّ اللّٰہُ .

    (تاریخ بغداد : 13/426)


    ''ہمیں محمد بن عبیداللہ حنائی نے خبر دی ، وہ کہتے ہیں : ہمیں محمد بن عبد اللہ شافعی نے خبر دی، انہوں نے کہا : ہمیں محمدبن اسماعیل سلمی نے بیان کیا ، وہ بیان کرتے ہیں : ہمیں ابوتوبہ ربیع بن نافع نے خبر دی ، وہ کہتے ہیں : ہمیں امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے یہ بات بتائی کہ: جو شخص امام ابوحنیفہ کی

    کتاب الحیل کا مطالعہ کرے گا ، وہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کوحلال کہنے لگے گا اور اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانے لگے گا۔



    اس روایت کی سند کے راویوں کے بارے میں ملاحظہ فرمائیے !

    1

    امام ابوبکر احمد بن علی، المعروف خطیب بغدادی رحمہ اللہ ثقہ
    امام ہیں۔
    ان کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ یوں رقمطراز ہیں :
    أَحَدُ الْحُفَّاظِ الْـأَعْلَامِ، وَمَنْ خَتَمَ بَہِ اتْقَانُ ہٰذَا الشَّأْنِ، وَصَاحِبُ التَّصَانِیفِ الْمُنْتَشِرَۃِ فِي الْبُلْدَانِ .

    ''آپ رحمہ اللہ ان علمائے کرام میں سے تھے جو حافظ الحدیث اور علامہ تھے۔ان پر علم کی پختگی ختم ہو گئی۔آپ کی بہت ساری تصانیف ہیں جو دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔''
    (تاریخ الإسلام للذہبي : 10/175)
    2
    محمد بن عبیداللہ بن یوسف حنائی کے بارے میں امام خطیب فرماتے ہیں
    کَتَبْنَا عَنْہُ، وَکَانَ ثِقَۃً مَّأْمُونًا، زَاہِدًا، مُلَازِمًا لِّبَیْتِہٖ
    ہم نے ان سے احادیث لکھی ہیں۔ وہ ثقہ مامون ، عابد و زاہد تھے اور اپنے گھر میں ہی مقیم رہتے تھے۔
    (تاریخ بغداد للخطیب البغدادي : 3/336)
    3
    امام ابوبکر محمد بن عبد اللہ بن ابراہیم شافعی کے بارے میں ناقد رجال حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اَلْإِمَامُ، الْمُحَدِّثُ، الْمُتْقِنُ، الْحُجَّۃُ، الْفَقِیہُ، مُسْنِدُ الْعِرَاقِ . ''آپ امام ، محدث، راسخ فی العلم ، حجت ، فقیہ اور عراق کے محدث تھے۔''
    (سیر أعلام النبلاء للذہبي : 16/40,39)
    4
    محمد بن اسماعیل سلمی ثقہ حافظ ہیں۔
    (تقریب التہذیب لابن حجر : 5738)
    5
    ابو توبہ ربیع بن نافع ثقہ حجت ہیں۔
    (تقریب التہذیب لابن حجر : 1902)
    6
    امام عبد اللہ بن مبارک ثقہ ، ثبت ، فقیہ ، عالم ، جواد اور مجاہد ہیں۔
    (تقریب التہذیب لابن حجر : 3570)
    أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللّٰہِ الحَنَّائِيُّ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الشَّافِعِيُّ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ السُّلَمِيُّ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبة الرَّبِیعُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْمُبَارَکِ، قَالَ : مَنْ نَّظَرَ فِي کِتَابِ الْحِیَلِ لِأَبِي حَنِیفَة أَحَلَّ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ، وَحَرَّمَ مَا أَحَلَّ اللّٰہُ .
    (تاریخ بغداد : 13/426)
    ''ہمیں محمد بن عبیداللہ حنائی نے خبر دی ، وہ کہتے ہیں : ہمیں محمد بن عبد اللہ شافعی نے خبر دی، انہوں نے کہا : ہمیں محمدبن اسماعیل سلمی نے بیان کیا ، وہ بیان کرتے ہیں : ہمیں ابوتوبہ ربیع بن نافع نے خبر دی ، وہ کہتے ہیں : ہمیں امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے یہ بات بتائی کہ: جو شخص امام ابوحنیفہ کی کتاب الحیل کا مطالعہ کرے گا ، وہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کوحلال کہنے لگے گا اور اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانے لگے گا۔''
    اس روایت کی سند کے راویوں کے بارے میں ملاحظہ فرمائیے !
    1
    امام ابوبکر احمد بن علی، المعروف خطیب بغدادی رحمہ اللہ ثقہ
    امام ہیں۔ان کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ یوں رقمطراز ہیں : أَحَدُ الْحُفَّاظِ الْـأَعْلَامِ، وَمَنْ خَتَمَ بَہِ اتْقَانُ ہٰذَا الشَّأْنِ، وَصَاحِبُ التَّصَانِیفِ الْمُنْتَشِرَۃِ فِي الْبُلْدَانِ .
    ''آپ رحمہ اللہ ان علمائے کرام میں سے تھے جو حافظ الحدیث اور علامہ تھے۔ان پر علم کی پختگی ختم ہو گئی۔آپ کی بہت ساری تصانیف ہیں جو دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔''
    (تاریخ الإسلام للذہبي : 10/175)
    2
    محمد بن عبیداللہ بن یوسف حنائی کے بارے میں امام خطیب فرماتے ہیں
    کَتَبْنَا عَنْہُ، وَکَانَ ثِقَۃً مَّأْمُونًا، زَاہِدًا، مُلَازِمًا لِّبَیْتِہٖ
    ہم نے ان سے احادیث لکھی ہیں۔ وہ ثقہ مامون ، عابد و زاہد تھے اور اپنے گھر میں ہی مقیم رہتے تھے۔
    (تاریخ بغداد للخطیب البغدادي : 3/336)
    3
    امام ابوبکر محمد بن عبد اللہ بن ابراہیم شافعی کے بارے میں ناقد رجال حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اَلْإِمَامُ، الْمُحَدِّثُ، الْمُتْقِنُ، الْحُجَّۃُ، الْفَقِیہُ، مُسْنِدُ الْعِرَاقِ . ''آپ امام ، محدث، راسخ فی العلم ، حجت ، فقیہ اور عراق کے محدث تھے۔''
    (سیر أعلام النبلاء للذہبي : 16/40,39)
    4
    محمد بن اسماعیل سلمی ثقہ حافظ ہیں۔
    (تقریب التہذیب لابن حجر : 5738)
    5
    ابو توبہ ربیع بن نافع ثقہ حجت ہیں۔
    (تقریب التہذیب لابن حجر : 1902)
    6
    امام عبد اللہ بن مبارک ثقہ ، ثبت ، فقیہ ، عالم ، جواد اور مجاہد ہیں۔
    (تقریب التہذیب لابن حجر : 3570)



    لنک

    http://www.tafreehmella.com/threads/روزہ-افطار-کرنے-کی-مسنون-دعا.225002/#post-2099427[quote="lovelyalltime, post: 113682, member: 1716"]

    یہ لوگ کس طرح اپنے امام کی پوجا کرتے ہیں خود دیکھ لیں
    اس پجاری نے یہ پیج پیش کیا

    این اصل پیج دیکھتے ہیں

    یہ لوگ کیسے لوگوں کو دھوکہ دیتے ھیں آپ خود دیکھ سکتے ہیں

    یہ کسی ایک حدیث سے بھی ثابت نہیں کر سکتے کہ عورتوں کا مسجد نماز کے لیے جانا مکروہ ہے
    اور ظلم یہ ہے کہ ایک طرف مکروہ کہتے ہیں اور دوسری طرف اجازت بھی دیتے ہیں


    فیصلہ آپ کا اپنا





    Last edited by lovelyalltime; 15th August 2013 at 04:01 PM.

    مجھے اللہ کافی ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، میرا بھروسہ اسی پر ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے

  2. #2
    iTT Captain
    Join Date
    Aug 2009
    Location
    pakistan
    Posts
    547

    Re: عورت کا مسجد میں نماز کے لیے جانا مکروہ ہے ®

    تمام مسلمانوں کو السلامُ علیکم

    غیر مقلد ہو اور دھوکہ نہ دے یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔
    تم نے یہ نقل نہیں کیا کہ علامہ وحید الزماں غیر مقلد کی تشریح پیش کی لیکن اس کا نام کاٹ دیا تھا تم نے اور میرے بار بار پوچھنے کے باوجود تم نے اس کا جواب نہیں دیا تھا۔۔

    علامہ وحید الزمان کے حوالے دیتے ہو لیکن ساتھ بتاتے کیوں نہیں کہ وہ تمہارا غیر مقلد عالم تھا۔

    تم نے ٹاپک عورتوں کے مسجد جانے پہ بنایا تھا اور جب تمہیں جواب نہیں ملا تو امام ابو حنیفہ رح کے بارے میں اپنا بغض ظاہر کرنے کے لئے تم نے ابن مبارک رح کا قول پیش کر دیا تھا۔
    یعنی اس شخص پر ریت کے زروں کے برابر لعنتیں ہو جو ابو حنیفہ کے قول کو رد کرتا ہے۔
    یہ تمہارا اعتراض تھا احناف پہ اور جب میں نے ثابت کیا کہ یہ ابن مبارک رح کا قول ہے تو لگاو فتوی ابن مبارک پہ تو تم نے بھاگ کے ٹاپک تبدیل کر دیا۔۔
    میرا اب بھی یہی کہنا ہے کہ اگر اتنا قران اور حدیث کو مانتے ہو تو لگاو فتوی ابن مبارک پہ یا پھر اپنے اس اعتراض کو واپس لے لو۔

    اب پھر تم لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے ادھورے حوالے دے رہے ہو۔۔


    أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللّٰہِ الحَنَّائِيُّ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الشَّافِعِيُّ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ السُّلَمِيُّ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبة الرَّبِیعُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْمُبَارَکِ، قَالَ : مَنْ نَّظَرَ فِي کِتَابِ الْحِیَلِ لِأَبِي حَنِیفَة أَحَلَّ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ، وَحَرَّمَ مَا أَحَلَّ اللّٰہُ .

    (تاریخ بغداد : 13/426)


    ''ہمیں محمد بن عبیداللہ حنائی نے خبر دی ، وہ کہتے ہیں : ہمیں محمد بن عبد اللہ شافعی نے خبر دی، انہوں نے کہا : ہمیں محمدبن اسماعیل سلمی نے بیان کیا ، وہ بیان کرتے ہیں : ہمیں ابوتوبہ ربیع بن نافع نے خبر دی ، وہ کہتے ہیں : ہمیں امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے یہ بات بتائی کہ: جو شخص امام ابوحنیفہ کی

    کتاب الحیل کا مطالعہ کرے گا ، وہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کوحلال کہنے لگے گا اور اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانے لگے گا۔


    سب سے پہلے تو امام صاحب سے کتاب الحیل ثابت کر کے دکھاو یا پھر اس کتاب الحیل کا سکین پیش کرو۔۔

    چلو یہی حوالہ لے کر اپنے محققین کے پاس جاؤ اور ان سے فتوے لے آو امام صاحب کے بارے میں۔
    ہے تمہارا کوئی عالم جو تمہارے اسی حوالے پہ فتوی دے۔

    abu hanifa.gif

    تمہارے اگلے اعتراض کا جواب وہاں سے ہی نقل کر رہا ہوں۔

    اتنا بتاو کہ اگر عورت کا مسجد میں نماز پڑھنا اتنا ہی افضل ہے تو علامہ شوکانی، البانی، عمران ایوب لاہوری نے گھر میں نماز پڑھنے کو افضل کیوں کہا؟؟

    لولی اگر حدیث میں نے کہ عورتیں نماز مسجد میں پڑھیں تو تمہارے اکابر ان کی گھر کی نماز کو افضل کیوں کہتے ہیں؟؟
    جو فتوی امام ابو حنیفہ رح پہ لگاتے ہو ذرا ان پہ لگا دو حدیث کی مخالفت کرنے پہ۔۔


    آپ کے اہلحدیث علماء کہتے ہیں کہ گھر میں افضل ہے لیکن لولی صاحب حدیث پیش کرتے ہیں مسجد میں نماز پڑھنے کی۔
    جب نبی کریم ﷺ نے مسجد میں نماز پڑھنے کا حکم عورتوں کو دیا ہے تو ان کی گھر کی نماز کیسے افضل ہو گئی؟؟؟
    کیا یہ آپ کے اہلحدیث علماء کا نبی کریم ﷺ کی حدیث کی مخالفت نہیں؟؟


    بات جب امام ابو حنیفہ رح کی آئے تو سب سے پہلے شرک اور حدیث کی مخالفت کے فتوے لگاتے ہو اور جب بات تمہارے ان علماء کی آ جائے یا وہی مسئلہ کسی اور صحابی یا تابعی سے پیش کر دو تو تم لوگوں کی بولتی بند ہو جاتی ہے اور کہتے ہو کہ علماء کے حوالے مت دو۔۔۔


    بات سیدھی سی ہے کہ امام ابو حنیفہ رح نے مکروہ کہا تو ان پہ فتوی لگاوحدیث کی مخالفت کا۔
    امام ابراہیم نخعی رح نے مکروہ کہا تو وہی فتوی ان پہ بھی لگاوحدیث کی مخالفت کا۔
    حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کےبیٹے عروہ عورتوں کو عیدگاہ جانے سے منع کرتے تھے تو ان پہ بھی فتوی لگاو۔۔

    جب عورتوں کے لئے مسجد جانے کا حکم نبی کریم ﷺ نے دیا تو تمہارے البانی، شوکانی اور عمران ایوب لاہوری کون ہوتے ہیں گھر میں نماز پڑھنے کا حکم دینے والے۔۔ کیا یہ حدیث کی مخالفت نہیں؟؟؟


    ایک کام حنفی کرتے تو وہ حدیث کا مخالف اور وہی کام کوئی اور تابعی یا تمہارا کوئی عالم کرے تو تم لوگوں کو قران اور حدیث یاد آجاتا ہے۔۔
    اب پھر میری پوسٹ کے جواب میں لولی کوئی ٹاپک تمہارے محدث فورم سے جا کے کاپی پیسٹ کر دے گا یا پھر جان چھڑانے کے لئے وہی تمہارے محققین کا رٹا رٹایا جملہ کہ جب کسی بات کا جواب نہ آئے تو کہہ دینا کہ ہم صرف قران اور حدیث کو مانتے ہیں ان علماء کو نہیں مانتے۔۔



    [IMG]http://i29.*******.com/oqabf5.jpg[/IMG]

  3. #3
    iTT Captain
    Join Date
    Aug 2009
    Location
    pakistan
    Posts
    547

    Re: عورت کا مسجد میں نماز کے لیے جانا مکروہ ہے ®

    اس کے علاوہ محدث فورم پہ تم میرے حوالے دے کر اپنے محققین سے جواب طلب کرتے رہے لیکن ان کو بھی تمہاری حالت اور تمہاری جہالت کا علم تھا اس لئے کسی نے جواب تک دینا گوارہ نہیں کیا۔۔

    کاپی پیسٹ چھوڑو اور جواب دو۔۔
    میری پوسٹ ختم نہیں کرنا پہلے کی طرح کہ جب جواب نہ آیا تو میری پوسٹ اور ٹاپک ہی فورم سے ختم کر دئے۔۔
    [IMG]http://i29.*******.com/oqabf5.jpg[/IMG]

  4. #4
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    Re: عورت کا مسجد میں نماز کے لیے جانا مکروہ ہے &

    Quote Originally Posted by i love sahabah View Post

    امام ابو حنیفہ رح کے بارے میں اپنا بغض ظاہر کرنے کے لئے تم نے ابن مبارک رح کا قول پیش کر دیا تھا۔
    یعنی اس شخص پر ریت کے زروں کے برابر لعنتیں ہو جو ابو حنیفہ کے قول کو رد کرتا ہے۔
    یہ تمہارا اعتراض تھا احناف پہ اور جب میں نے ثابت کیا کہ یہ ابن مبارک رح کا قول ہے تو لگاو فتوی ابن مبارک پہ




    امام ابن مبارک رحم اللہ کے تو بہت سارے اقوال ہیں

    کس کس پر فتویٰ لگاؤ گے







    Attached Images Attached Images
    • File Type: jpg 3.jpg (87.0 KB, 12 views)
    • File Type: jpg 7.jpg (139.4 KB, 12 views)

    مجھے اللہ کافی ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، میرا بھروسہ اسی پر ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے

  5. #5
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    Re: عورت کا مسجد میں نماز کے لیے جانا مکروہ ہے &

    Quote Originally Posted by i love sahabah View Post



    بات سیدھی سی ہے کہ امام ابو حنیفہ رح نے مکروہ کہا تو ان پہ فتوی لگاوحدیث کی مخالفت کا۔










    کیا فقہ حنفی کے مطابق حضرت عائشہ راضی اللہ نے مکروہ کام کیا






    عورت مسجد میں جا سکتی ہے یا نہیں




    امام ابو حنیفہ رحم اللہ کس بنیاد پر یہ کہ رھے ہیں کہ عورت کا نماز کے لیے مسجد جانا مکروہ ہے




    لکن دوسری طرف بوڑھی عورتوں کو مسسجد جانے کی اجازت دے رھے ہیں




    ایک بات کریں









































































    کیا سب کے لیے مکروہ ہے یا صرف جوان عورتوں کے لیے

    اگر گھر میں نماز افضل ہے تو امام ابو حنیفہ رحم للہ کو کیوں پتا نا چلا




    کیا افضل صرف جوان عورتوں کے لیے ہے یا بوڑھی عورتوں کے لیے بھی






    ایک صحیح حدیث پیش کردیں یہ لوگ جس میں حضور صلی اللہ وسلم نے عورتوں کو مسجد جانے سے روکا ھو اور اس کو مکروہ کہا ھو








    ساتھ میں بوڑھی عورتوں کو جانے کی اجازت دی ھو












    اگر حضور صلی اللہ وسلم نے روکا ہوتا تو حضرت عائشہ راضی اللہ نے کس بنیاد پر جنازہ کو مسجد میں لانے کا حکم دیا اور نماز جنازہ پڑھی بھی










    کتاب صحیح مسلم جلد 1 حدیث نمبر 2248


    ہارون بن عبد اللہ، محمد بن رافع، ابوفدیک، ضحاک بن عثمان، ابونضر، حضرت ابوسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ جب سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہو تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا جنازہ مسجد میں لے آؤ تاکہ میں ان پر نماز جنازہ پڑھوں لوگوں نے اس بات پر تعجب کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیضاء کے دو بیٹوں سہیل اور اس کے بھائی کا جنازہ مسجد میں پڑھا تھا۔






    کیا حضرت عائشہ راضی اللہ نے مکروہ کام کیا






























    مجھے اللہ کافی ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، میرا بھروسہ اسی پر ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے

  6. #6
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    Re: عورت کا مسجد میں نماز کے لیے جانا مکروہ ہے &

    Quote Originally Posted by i love sahabah View Post

    اب پھر تم لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے ادھورے حوالے دے رہے ہو۔۔


    سب سے پہلے تو امام صاحب سے کتاب الحیل ثابت کر کے دکھاو یا پھر اس کتاب الحیل کا سکین پیش کرو۔۔

    چلو یہی حوالہ لے کر اپنے محققین کے پاس جاؤ اور ان سے فتوے لے آو امام صاحب کے بارے میں۔
    ہے تمہارا کوئی عالم جو تمہارے اسی حوالے پہ فتوی دے۔

    abu hanifa.gif





    پورا حوالہ یہاں سے یہاں سے دیکھ لیں اپنے امام صاحب کی کتاب کا



    ??????? ?? ????? ?? ???? ????? ???? ????? ?? ?????? ??? ?? ?????? | ???? ???? [Mohaddis Forum]

    مجھے اللہ کافی ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، میرا بھروسہ اسی پر ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے

  7. #7
    iTT Captain
    Join Date
    Aug 2009
    Location
    pakistan
    Posts
    547

    Re: عورت کا مسجد میں نماز کے لیے جانا مکروہ ہے ®

    ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔ لولی تم بھی اپنی تحقیق کے لئے محدث فورم کے ان ممبران کے محتاج ہو۔۔

    یہ حوالہ تاریخ بغداد کا ہے کتاب الحیل کا نہیں۔۔
    تم تو قرآن اور حدیث کو مانتے ہو تو اتنا بتا دو کہ تاریخ بغداد کا حوالہ تمہارے لئے کس بناء پہ حجت ہے؟؟
    تمہار اعتراض کتاب الحیل پہ ہے تو یہ کتاب ثابت کرو اور اس کا سکین پیش کرو۔۔

    بلفرض اگر یہ حوالہ صحیح ہے تو یہی عبارت اپنے عالم کو دکھاو اور جا کے اپنے کسی عالم سے امام صاحب کے بارے میں فتوی لے آو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہے تمہارا کوئی ایسا عالم جو امام صاحب کے بارے میں فتوی دے سکے۔۔۔۔


    abu hanifa.gif


    [IMG]http://i29.*******.com/oqabf5.jpg[/IMG]

  8. #8
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    Re: عورت کا مسجد میں نماز کے لیے جانا مکروہ ہے &






    میرے بھائی ذرا یہاں بھی کچھ فرما دیں


    کیا فقہ حنفی کے مطابق حضرت عائشہ راضی اللہ نے مکروہ کام کیا






    عورت مسجد میں جا سکتی ہے یا نہیں




    امام ابو حنیفہ رحم اللہ کس بنیاد پر یہ کہ رھے ہیں کہ عورت کا نماز کے لیے مسجد جانا مکروہ ہے




    لکن دوسری طرف بوڑھی عورتوں کو مسسجد جانے کی اجازت دے رھے ہیں




    ایک بات کریں









































































    کیا سب کے لیے مکروہ ہے یا صرف جوان عورتوں کے لیے

    اگر گھر میں نماز افضل ہے تو امام ابو حنیفہ رحم للہ کو کیوں پتا نا چلا




    کیا افضل صرف جوان عورتوں کے لیے ہے یا بوڑھی عورتوں کے لیے بھی






    ایک صحیح حدیث پیش کردیں یہ لوگ جس میں حضور صلی اللہ وسلم نے عورتوں کو مسجد جانے سے روکا ھو اور اس کو مکروہ کہا ھو








    ساتھ میں بوڑھی عورتوں کو جانے کی اجازت دی ھو












    اگر حضور صلی اللہ وسلم نے روکا ہوتا تو حضرت عائشہ راضی اللہ نے کس بنیاد پر جنازہ کو مسجد میں لانے کا حکم دیا اور نماز جنازہ پڑھی بھی










    کتاب صحیح مسلم جلد 1 حدیث نمبر 2248


    ہارون بن عبد اللہ، محمد بن رافع، ابوفدیک، ضحاک بن عثمان، ابونضر، حضرت ابوسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ جب سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہو تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا جنازہ مسجد میں لے آؤ تاکہ میں ان پر نماز جنازہ پڑھوں لوگوں نے اس بات پر تعجب کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیضاء کے دو بیٹوں سہیل اور اس کے بھائی کا جنازہ مسجد میں پڑھا تھا۔






    کیا حضرت عائشہ راضی اللہ نے مکروہ کام کیا






























    مجھے اللہ کافی ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، میرا بھروسہ اسی پر ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے

  9. #9
    iTT Captain
    Join Date
    Aug 2009
    Location
    pakistan
    Posts
    547

    Re: عورت کا مسجد میں نماز کے لیے جانا مکروہ ہے &

    Quote Originally Posted by i love sahabah View Post
    ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔ لولی تم بھی اپنی تحقیق کے لئے محدث فورم کے ان ممبران کے محتاج ہو۔۔

    یہ حوالہ تاریخ بغداد کا ہے کتاب الحیل کا نہیں۔۔
    تم تو قرآن اور حدیث کو مانتے ہو تو اتنا بتا دو کہ تاریخ بغداد کا حوالہ تمہارے لئے کس بناء پہ حجت ہے؟؟
    تمہار اعتراض کتاب الحیل پہ ہے تو یہ کتاب ثابت کرو اور اس کا سکین پیش کرو۔۔

    بلفرض اگر یہ حوالہ صحیح ہے تو یہی عبارت اپنے عالم کو دکھاو اور جا کے اپنے کسی عالم سے امام صاحب کے بارے میں فتوی لے آو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہے تمہارا کوئی ایسا عالم جو امام صاحب کے بارے میں فتوی دے سکے۔۔۔۔


    abu hanifa.gif



    لولی تمہارے غلط ہونے کا ثبوت یہی ہے کہ ہر پوسٹ پہ ٹاپک تبدیل کر تے ہو اور جب جواب نہیں ملتا تو امام صاحب اور فقہ حنفی پہ اعتراض شروع کر دیتے ہو۔۔۔
    میری اس پوسٹ کا جواب لے آو۔
    [IMG]http://i29.*******.com/oqabf5.jpg[/IMG]

Similar Threads

  1. Replies: 6
    Last Post: 18th August 2013, 09:02 PM
  2. Replies: 8
    Last Post: 30th June 2013, 01:56 AM
  3. Replies: 0
    Last Post: 2nd September 2012, 02:01 PM
  4. Replies: 0
    Last Post: 22nd July 2012, 05:17 AM
  5. Replies: 5
    Last Post: 29th October 2010, 04:05 PM

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •