Results 1 to 2 of 2

اہلحدیثوں کی نماز باطل۔ امام السيوطي رحمۃ

This is a discussion on اہلحدیثوں کی نماز باطل۔ امام السيوطي رحمۃ within the Open Forum forums, part of the Mera Deen Islam category; تمام مسلمانوں کو السلامُ علیکم علامہ سیوطی رح کی بات کی تمہارے نزدیک کیا حیثیت ہے؟ تمہارا دعوی ہے کہ ...

  1. #1
    iTT Captain
    Join Date
    Aug 2009
    Location
    pakistan
    Posts
    547

    اہلحدیثوں کی نماز باطل۔ امام السيوطي رحمۃ


    تمام مسلمانوں کو السلامُ علیکم

    علامہ سیوطی رح کی بات کی تمہارے نزدیک کیا حیثیت ہے؟
    تمہارا دعوی ہے کہ تم صرف قرآن اور حدیث کو مانتے ہو۔ جب تم کسی عالم کی بات مانتے نہیں تو علامہ سیوطی رح ایک اُمتی کی بات کیسے تمہارے لئے حجت ہو گئی؟
    علامہ سیوطی رح شافعی مقلد ہیں جبکہ تم تقلید کو شرک کہتے ہو تو پھر ایک مقلد کی بات تمہارے لئے کیسے حجت ہو گئی؟
    علامہ سیوطی رح نے کہا ہے کہ (ومن أداها على مذھب مخالف) ''جس نے نماز شافعی مذھب کے مطابق نماز ادا کی ،اس کو اس کے صحیح ہونے کا یقین ہے، اور جس نے اس کے مخالف مذہب (حنفی مذہب) پر ادا کی اس کی نماز کئی وجوہ سے صحیح نماز کے خلاف ہے''
    یعنی کہ جس نے شافعی مذہب کے مخالف نماز ادا کی اس کی نماز صحیح نہیں تو کیا تم نام نہاد اہلحدیثوں کی نماز شافعی مذہب کے مطابق ہے؟
    اس فتوے کے مطابق تو تم اہلحدیثوں کی نماز بھی باطل ہے۔

    لولی یہ جو ترجمہ میں (حنفیوں اور احناف) کا ذکر کیا ہے بریکٹ میں تو علامہ سیوطی رح کی کتاب کے اصل صفحے پہ کہاں ہے؟
    اب اگر اس کا ترجمہ میں ایسے کر دوں تو شاید پھر بھی کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔


    اہلحدیثوں کی نماز باطل۔ امام السيوطي رحمۃ الله



    فمن أدى صلاته على مذهب الشافعي ، كان على يقين من صحتها ، ومن أداها على مذهب مخالف ، وقع الخلاف في صحة صلاته من وجوه


    إجازتهم الوضوء في السفر بنبيذ التمر، وتطهير البدن والثوب عن النجاسات بالمائعات ، وأجازوا الصلاة في جلد الكلب المذبوح من غير دباغ ، وأجازوا الوضوء بغير نية ولا ترتيب ، وأسقطوه في مس الفرج والملامسة ، وأجازوا الصلاة على ذرق الحمام مع قدر الدرهم من النجاسات الجامدة ، أو ربع الثوب من البول ، أو مع كشف بعض العورة ، وأبطلوا تعيين التكبير والقراءة .
    وأجازوا القرآن منكوساً وبالفارسية ، وأسقطوا وجوب الطمأنينة في الركوع والسجود والإعتدال من الركوع وبين السجدتين ، والتشهد والصلاة على النبي صلی الله علیه وسلم في الصلاة مع الخروج عنها بالحدث .
    وأبطلنا نحن الصلاة في هذه الوجوه ، وأوجبنا الإعادة على من صلى خلف واحد من هؤلاء ، وهم لا يوجبون الإعادة على من صلى خلفنا على مذهبنا في هذه المسائل . انتهى



    جس نے نماز شافعی مذھب کے مطابق نماز ادا کی ،اس کو اس کے صحیح ہونے کا یقین ہے، اور جس نے اس کے مخالف مذہب (اہلحدیث) پر ادا کی اس کی نماز کئی وجوہ سے صحیح نماز کے خلاف ہے
    انہوں نے (اہلحدیثوں نے) سفر میں کھجور کی نبیذ سے وضوء کو جائز قرار دیا ہے

    بدن اور کپڑوں کی نجاست کوپانی کے علاوہ دیگر مایعات سے پاک کرنا

    اور انہوں نے(
    اہلحدیثوں نے) ذباح کئے ہوئے کتے کی چمڑی جو غیر مدبوغ ہے اس پر نماز کو جائز قرار دیا ہے۔اور انھوں نے(اہلحدیثوں نے) وضوء کو بغیر نیت اور بغیر ترتیب کے جائز قرار دیا ہے، اور شرم گاہ کو چھونے اور شرم گاہوں کو آپس میں ملانے سےوضوء کے ٹوٹنے کے حکم کو ساقط کر دیا
    (یعنی اہلحدیثوں کے نزدیک اس سے وضوء نہیں ٹوٹتا)

    اور انہوں نے(حنفیوں نے) نماز کو جائز قرار دیا ہے حمام میں اور نجاسات جامدہ کا ساتھ لگے ہوئے یا کپڑے کے چوتھائی حصے کو پیشاب لگا ہو،یا بعض ستر کا ننگا ہونا

    اور انہوں نے(
    اہلحدیثوں نے) تکبیر اور قرات (یعنی اللہ اکبر اور سورہ فاتحہ کی قراءت) کا معین ہونا باطل قرار دیا ہے،اور انہوں نے(اہلحدیثوں نے) (نماز میں) قران کو الٹا پڑھنے اور فارسی میں پڑھنے کو جائز قرار دیا ہے

    اور انہوں نے(
    اہلحدیثوں نے) رکوع اور سجدے میں اطمینان اور رکوع اور دو سجدوں کے درمیان اعتدال کے واجب ہونے کو ساقط قرار دیا ہے، اور نماز میں تشہد اور درود کے واجب ہونے کو بھی ساقط قرار دیا۔ اور (سلام کے بجائے) ہوا خارج کر کے (یعنی پاد مار کر) نماز کا اختتام کرنا جائز قرار دیا۔

    ان وجوہات کی بنا پر ہم (
    اہلحدیثوں کی) نماز کو باطل قرار دیتے ہیں اور ہم نے ہر اس شخص پر نماز کے دہرانے کو لازم قرار دیا ہے جو ان (اہلحدیثوں ) کے پیچھے نماز پڑھے۔اور وہ (اہلحدیثو) ہمارے پیچھے ہمارے مذہب کے مطابق نماز ادا کرنے والے کی نماز دہرانے کو لازم قرار نہیں دیتے۔

    جزيل المواهب في اختلاف المذاهب ۔ للامام السيوطي رحمه الله ۔ صفحہ 17۔ 18


    [IMG]http://i29.*******.com/oqabf5.jpg[/IMG]

  2. #2
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    Re: اہلحدیثوں کی نماز باطل۔ امام السيوطي رحم&a

    Quote Originally Posted by i love sahabah View Post

    تمام مسلمانوں کو السلامُ علیکم

    علامہ سیوطی رح کی بات کی تمہارے نزدیک کیا حیثیت ہے؟
    تمہارا دعوی ہے کہ تم صرف قرآن اور حدیث کو مانتے ہو۔ جب تم کسی عالم کی بات مانتے نہیں تو علامہ سیوطی رح ایک اُمتی کی بات کیسے تمہارے لئے حجت ہو گئی؟
    علامہ سیوطی رح شافعی مقلد ہیں جبکہ تم تقلید کو شرک کہتے ہو تو پھر ایک مقلد کی بات تمہارے لئے کیسے حجت ہو گئی؟
    علامہ سیوطی رح نے کہا ہے کہ (ومن أداها على مذھب مخالف) ''جس نے نماز شافعی مذھب کے مطابق نماز ادا کی ،اس کو اس کے صحیح ہونے کا یقین ہے، اور جس نے اس کے مخالف مذہب (حنفی مذہب) پر ادا کی اس کی نماز کئی وجوہ سے صحیح نماز کے خلاف ہے''
    یعنی کہ جس نے شافعی مذہب کے مخالف نماز ادا کی اس کی نماز صحیح نہیں تو کیا تم نام نہاد اہلحدیثوں کی نماز شافعی مذہب کے مطابق ہے؟
    اس فتوے کے مطابق تو تم اہلحدیثوں کی نماز بھی باطل ہے۔

    لولی یہ جو ترجمہ میں (حنفیوں اور احناف) کا ذکر کیا ہے بریکٹ میں تو علامہ سیوطی رح کی کتاب کے اصل صفحے پہ کہاں ہے؟
    اب اگر اس کا ترجمہ میں ایسے کر دوں تو شاید پھر بھی کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔


    اہلحدیثوں کی نماز باطل۔ امام السيوطي رحمۃ الله



    فمن أدى صلاته على مذهب الشافعي ، كان على يقين من صحتها ، ومن أداها على مذهب مخالف ، وقع الخلاف في صحة صلاته من وجوه


    إجازتهم الوضوء في السفر بنبيذ التمر، وتطهير البدن والثوب عن النجاسات بالمائعات ، وأجازوا الصلاة في جلد الكلب المذبوح من غير دباغ ، وأجازوا الوضوء بغير نية ولا ترتيب ، وأسقطوه في مس الفرج والملامسة ، وأجازوا الصلاة على ذرق الحمام مع قدر الدرهم من النجاسات الجامدة ، أو ربع الثوب من البول ، أو مع كشف بعض العورة ، وأبطلوا تعيين التكبير والقراءة .
    وأجازوا القرآن منكوساً وبالفارسية ، وأسقطوا وجوب الطمأنينة في الركوع والسجود والإعتدال من الركوع وبين السجدتين ، والتشهد والصلاة على النبي صلی الله علیه وسلم في الصلاة مع الخروج عنها بالحدث .
    وأبطلنا نحن الصلاة في هذه الوجوه ، وأوجبنا الإعادة على من صلى خلف واحد من هؤلاء ، وهم لا يوجبون الإعادة على من صلى خلفنا على مذهبنا في هذه المسائل . انتهى



    جس نے نماز شافعی مذھب کے مطابق نماز ادا کی ،اس کو اس کے صحیح ہونے کا یقین ہے، اور جس نے اس کے مخالف مذہب (اہلحدیث) پر ادا کی اس کی نماز کئی وجوہ سے صحیح نماز کے خلاف ہے
    انہوں نے (اہلحدیثوں نے) سفر میں کھجور کی نبیذ سے وضوء کو جائز قرار دیا ہے

    بدن اور کپڑوں کی نجاست کوپانی کے علاوہ دیگر مایعات سے پاک کرنا

    اور انہوں نے(
    اہلحدیثوں نے) ذباح کئے ہوئے کتے کی چمڑی جو غیر مدبوغ ہے اس پر نماز کو جائز قرار دیا ہے۔اور انھوں نے(اہلحدیثوں نے) وضوء کو بغیر نیت اور بغیر ترتیب کے جائز قرار دیا ہے، اور شرم گاہ کو چھونے اور شرم گاہوں کو آپس میں ملانے سےوضوء کے ٹوٹنے کے حکم کو ساقط کر دیا
    (یعنی اہلحدیثوں کے نزدیک اس سے وضوء نہیں ٹوٹتا)

    اور انہوں نے(حنفیوں نے) نماز کو جائز قرار دیا ہے حمام میں اور نجاسات جامدہ کا ساتھ لگے ہوئے یا کپڑے کے چوتھائی حصے کو پیشاب لگا ہو،یا بعض ستر کا ننگا ہونا

    اور انہوں نے(
    اہلحدیثوں نے) تکبیر اور قرات (یعنی اللہ اکبر اور سورہ فاتحہ کی قراءت) کا معین ہونا باطل قرار دیا ہے،اور انہوں نے(اہلحدیثوں نے) (نماز میں) قران کو الٹا پڑھنے اور فارسی میں پڑھنے کو جائز قرار دیا ہے

    اور انہوں نے(
    اہلحدیثوں نے) رکوع اور سجدے میں اطمینان اور رکوع اور دو سجدوں کے درمیان اعتدال کے واجب ہونے کو ساقط قرار دیا ہے، اور نماز میں تشہد اور درود کے واجب ہونے کو بھی ساقط قرار دیا۔ اور (سلام کے بجائے) ہوا خارج کر کے (یعنی پاد مار کر) نماز کا اختتام کرنا جائز قرار دیا۔

    ان وجوہات کی بنا پر ہم (
    اہلحدیثوں کی) نماز کو باطل قرار دیتے ہیں اور ہم نے ہر اس شخص پر نماز کے دہرانے کو لازم قرار دیا ہے جو ان (اہلحدیثوں ) کے پیچھے نماز پڑھے۔اور وہ (اہلحدیثو) ہمارے پیچھے ہمارے مذہب کے مطابق نماز ادا کرنے والے کی نماز دہرانے کو لازم قرار نہیں دیتے۔

    جزيل المواهب في اختلاف المذاهب ۔ للامام السيوطي رحمه الله ۔ صفحہ 17۔ 18




    سلام

    جھوٹے پر اللہ کی لعنت

    اپنے جھوٹے مسلک کی بات کو اہلحدیث پر تھوپ دیا

    کوئی بات نہیں ایک جانور ہے جس کا کام ہر برتن میں منہ مارنا ہوتا ہے

    تمہاری مثال اسی جانور جیسی ہے

    لگتا ہے کہ تمھارے مسلک والوں نے تمھیں اسی کام لے لیے رکھا ہوا ہے

    چلو میں ہی اصلی کتاب کے ورق لگا دیتا ہوں

    شاید تم بھول گۓ



    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
    حنفیوں کی نماز باطل۔ امام السيوطي رحمۃ الله




    فمن أدى صلاته على مذهب الشافعي ، كان على يقين من صحتها ، ومن أداها على مذهب مخالف ، وقع الخلاف في صحة صلاته من وجوه




    إجازتهم الوضوء في السفر بنبيذ التمر، وتطهير البدن والثوب عن النجاسات بالمائعات ، وأجازوا الصلاة في جلد الكلب المذبوح من غير دباغ ، وأجازوا الوضوء بغير نية ولا ترتيب ، وأسقطوه في مس الفرج والملامسة ، وأجازوا الصلاة على ذرق الحمام مع قدر الدرهم من النجاسات الجامدة ، أو ربع الثوب من البول ، أو مع كشف بعض العورة ، وأبطلوا تعيين التكبير والقراءة .
    وأجازوا القرآن منكوساً وبالفارسية ، وأسقطوا وجوب الطمأنينة في الركوع والسجود والإعتدال من الركوع وبين السجدتين ، والتشهد والصلاة على النبي صلی الله علیه وسلم في الصلاة مع الخروج عنها بالحدث .
    وأبطلنا نحن الصلاة في هذه الوجوه ، وأوجبنا الإعادة على من صلى خلف واحد من هؤلاء ، وهم لا يوجبون الإعادة على من صلى خلفنا على مذهبنا في هذه المسائل . انتهى





    جس نے نماز شافعی مذھب کے مطابق نماز ادا کی ،اس کو اس کے صحیح ہونے کا یقین ہے، اور جس نے اس کے مخالف مذہب (حنفی مذہب) پر ادا کی اس کی نماز کئی وجوہ سے صحیح نماز کے خلاف ہے
    انہوں نے (حنفیوں نے) سفر میں کھجور کی نبیذ سے وضوء کو جائز قرار دیا ہے

    بدن اور کپڑوں کی نجاست کوپانی کے علاوہ دیگر مایعات سے پاک کرنا

    اور انہوں نے(حنفیوں نے) ذباح کئے ہوئے کتے کی چمڑی جو غیر مدبوغ ہے اس پر نماز کو جائز قرار دیا ہے۔اور انھوں نے(حنفیوں نے) وضوء کو بغیر نیت اور بغیر ترتیب کے جائز قرار دیا ہے، اور شرم گاہ کو چھونے اور شرم گاہوں کو آپس میں ملانے سےوضوء کے ٹوٹنے کے حکم کو ساقط کر دیا
    (یعنی حنفیوں کے نزدیک اس سے وضوء نہیں ٹوٹتا)

    اور انہوں نے(حنفیوں نے) نماز کو جائز قرار دیا ہے حمام میں اور نجاسات جامدہ کا ساتھ لگے ہوئے یا کپڑے کے چوتھائی حصے کو پیشاب لگا ہو،یا بعض ستر کا ننگا ہونا

    اور انہوں نے(حنفیوں نے) تکبیر اور قرات (یعنی اللہ اکبر اور سورہ فاتحہ کی قراءت) کا معین ہونا باطل قرار دیا ہے،اور انہوں نے(حنفیوں نے) (نماز میں) قران کو الٹا پڑھنے اور فارسی میں پڑھنے کو جائز قرار دیا ہے

    اور انہوں نے(حنفیوں نے) رکوع اور سجدے میں اطمینان اور رکوع اور دو سجدوں کے درمیان اعتدال کے واجب ہونے کو ساقط قرار دیا ہے، اور نماز میں تشہد اور درود کے واجب ہونے کو بھی ساقط قرار دیا۔ اور (سلام کے بجائے) ہوا خارج کر کے (یعنی پاد مار کر) نماز کا اختتام کرنا جائز قرار دیا۔

    ان وجوہات کی بنا پر ہم (حنفیوں کی) نماز کو باطل قرار دیتے ہیں اور ہم نے ہر اس شخص پر نماز کے دہرانے کو لازم قرار دیا ہے جو ان (حنفیوں) کے پیچھے نماز پڑھے۔اور وہ (احناف) ہمارے پیچھے ہمارے مذہب کے مطابق نماز ادا کرنے والے کی نماز دہرانے کو لازم قرار نہیں دیتے۔

    جزيل المواهب في اختلاف المذاهب ۔ للامام السيوطي رحمه الله ۔ صفحہ 17 ۔ 18





















    Last edited by lovelyalltime; 14th April 2013 at 01:52 AM.

    مجھے اللہ کافی ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، میرا بھروسہ اسی پر ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے

Similar Threads

  1. Replies: 2
    Last Post: 17th September 2012, 03:31 PM
  2. Replies: 0
    Last Post: 17th July 2012, 09:06 PM
  3. Replies: 1
    Last Post: 26th January 2012, 02:47 AM
  4. Replies: 0
    Last Post: 23rd August 2011, 10:46 AM
  5. Replies: 1
    Last Post: 1st May 2009, 06:52 PM

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •