Page 3 of 3 FirstFirst 123
Results 41 to 48 of 48
Like Tree10Likes

کیا قرآن و حدیث براہ راست سمجھنا باعث گمرا

This is a discussion on کیا قرآن و حدیث براہ راست سمجھنا باعث گمرا within the Open Forum forums, part of the Mera Deen Islam category; ap k die gae link me aik hadees bayan ki gai hai k: meri ummat me aik mard peda hoga ...

  1. #41
    iTT Student shizz's Avatar
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    karachi,pakistan
    Posts
    76

    Re: کیا قرآن و حدیث براہ راست سمجھنا باعث گمرا

    ap k die gae link me aik hadees bayan ki gai hai k:
    meri ummat me aik mard peda hoga jis ka naam abu hanifa hoga wo qayamat me meri ummat ka chiragh hoga
    is ki sanad ye hai
    أخبرني الصدر الكبير شرف الدين أحمد بن مؤيد بن موفق بن أحمد المكي بخوارزم قال أخبرني جدي الصدر العلامة أبو المؤيد موفق ابن أحمد المكي قال أخبرنا الشيخ الزاهد محمد بن إسحاق السراجي الخوارزمي أخبرنا أبو جعفر عمر بن أحمد الكرابيسي أخبرنا الإمام أبو الفضل محمد بن الحسن الناصحي حدثنا أبو محمد الحسن بن محمد حدثنا أبو سهل عبد الحميد ابن محمد الطوافي حدثنا أبي حدثنا أبو القاسم يونس بن طاهر البصري حدثنا أبو يوسف أحمد بن محمد الواعظ في رباط إبراهيم بن أدهم حدثنا أبو عبد الله محمد بن نصير الوراق قال أخبرنا أبو عبد الله المأمون بن أحمد بن خالد حدثنا أبو علي بن أحمد بن علي الحنفي حدثنا فضل بن موسى السيناني عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يكون في أمتي رجل يقال له أبو حنيفة هو سراج أمتي يوم القيامة[جامع المسانيد للخوارزمي: 1/ 14]۔
    is me aik rawi hai
    مأمون بن أحمد الهروي يضع الحديث دجال
    ye hadeesen ghrhta tha
    lovelyalltime likes this.
    http://www.islamghar.blogspot.com/

  2. #42
    iTT Student shizz's Avatar
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    karachi,pakistan
    Posts
    76

    Re: کیا قرآن و حدیث براہ راست سمجھنا باعث گمرا

    الراوي: أنس بن مالك المحدث:أبو أحمد الحاكم - المصدر: المدخل - الصفحة أو الرقم: 112
    خلاصة حكم المحدث: موضوع

    2 - يكون في أمتي رجل يقال له محمد بن إدريس أضر على أمتي من إبليس ويكون في أمتي رجل يقال له أبو حنيفة هو سراج أمتي هو سراج أمتي
    الراوي: - المحدث:ابن القيسراني - المصدر: معرفة التذكرة - الصفحة أو الرقم: 257
    خلاصة حكم المحدث: فيه أحمد بن عبد الله الهروي يضع الحديث دجال

    الراوي: أنس بن مالك المحدث:الجورقاني - المصدر: الأباطيل والمناكير - الصفحة أو الرقم: 1/445
    خلاصة حكم المحدث: موضوع باطل

    الراوي: أنس بن مالك المحدث:ابن الجوزي - المصدر: موضوعات ابن الجوزي - الصفحة أو الرقم: 2/304
    خلاصة حكم المحدث: موضوع

    الراوي: أنس بن مالك المحدث:السيوطي - المصدر: تدريب الراوي - الصفحة أو الرقم: 1/470
    خلاصة حكم المحدث: [موضوع]

    الراوي: أنس بن مالك المحدث:ابن حبان - المصدر: المجروحين - الصفحة أو الرقم: 2/384
    خلاصة حكم المحدث: موضوع

    الراوي: أنس بن مالك المحدث:ابن همات الدمشقي - المصدر: التنكيت والإفادة - الصفحة أو الرقم: 47
    خلاصة حكم المحدث: [فيه] مأمون بن أحمد كذاب مشهور

    الراوي: أبو هريرة المحدث:الشوكاني - المصدر: الفوائد المجموعة - الصفحة أو الرقم: 420
    خلاصة حكم المحدث: موضوع

    الراوي: أنس بن مالك المحدث:أحمد شاكر - المصدر: الباعث الحثيث - الصفحة أو الرقم: 1/248
    خلاصة حكم المحدث: [موضوع]

    الراوي: أنس بن مالك المحدث:الألباني - المصدر: السلسلة الضعيفة - الصفحة أو الرقم: 570
    خلاصة حكم المحدث: موضوع

    الراوي: أنس بن مالك المحدث:ابن القيسراني - المصدر: تذكرة الحفاظ - الصفحة أو الرقم: 404
    خلاصة حكم المحدث: [فيه] مأمون بن أحمد الهروي يضع الحديث دجال

    الراوي: أبو هريرة المحدث:الحاكم - المصدر: تاريخ بغداد - الصفحة أو الرقم: 2/379
    خلاصة حكم المحدث: منكر

    الراوي: أبو هريرة المحدث:الحاكم - المصدر: تاريخ بغداد - الصفحة أو الرقم: 2/379
    خلاصة حكم المحدث: منكر

    الراوي: أبو هريرة المحدث:المعلمي - المصدر: التنكيل - الصفحة أو الرقم: 1/460
    خلاصة حكم المحدث: وضعه الجويباري

    jis jis kitaab main ye hadees aayi hai sb ki sab zaeefi hai

    blki garhi hui hai
    http://www.islamghar.blogspot.com/

  3. #43
    Senior Student BoOr's Avatar
    Join Date
    Mar 2013
    Location
    Pakistan
    Posts
    268

    Re: کیا قرآن و حدیث براہ راست سمجھنا باعث گمرا

    lovelyalltime bhai ma na ap hi ki kisi post ma parha ha k " agar tum nai janty to kisi aalim sa pooch lo" asal ap dono ki batian sahi hain agar ap ko Ilm ha or ap khud samaj sakty hain k kia sahi or kia galat ha to fir to sahi ha k ap Quran o hadees ki batai hui rah pr chalain pr agar jesa k paki786 bhai sahab na kaha k bhot sary log Quran parhna b nai janty to wo zahir ha kisi molvi sahab ki baat hi manege to un k liya ma samjta hoon k sahi q k kuch na karny sab behtar ha kuch to koshish kar rahay hain na k khuda kareem tak jane k liya kisi or molvi ka sahara lete hain. iss ma koi harj nai bal k achi bat ha k wo deen ko samany ki koshish kar rahy hian.

  4. #44
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    Re: کیا قرآن و حدیث براہ راست سمجھنا باعث گمرا

    Quote Originally Posted by BoOr View Post
    lovelyalltime bhai ma na ap hi ki kisi post ma parha ha k " agar tum nai janty to kisi aalim sa pooch lo" asal ap dono ki batian sahi hain agar ap ko Ilm ha or ap khud samaj sakty hain k kia sahi or kia galat ha to fir to sahi ha k ap Quran o hadees ki batai hui rah pr chalain pr agar jesa k paki786 bhai sahab na kaha k bhot sary log Quran parhna b nai janty to wo zahir ha kisi molvi sahab ki baat hi manege to un k liya ma samjta hoon k sahi q k kuch na karny sab behtar ha kuch to koshish kar rahay hain na k khuda kareem tak jane k liya kisi or molvi ka sahara lete hain. iss ma koi harj nai bal k achi bat ha k wo deen ko samany ki koshish kar rahy hian.


    salam meray bhai please yeh thread zaroor parh laian.


    http://www.ittaleem.com/zaarori-maloomat/334321-1.html

    مجھے اللہ کافی ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، میرا بھروسہ اسی پر ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے

  5. #45
    iTT Captain
    Join Date
    Aug 2009
    Location
    pakistan
    Posts
    547

    Re: کیا قرآن و حدیث براہ راست سمجھنا باعث گمرا

    زبیر علی زئی نے شفیق الرحمان کی کتاب نماز نبوی کے پرانے ایڈیشن میں مقدمہ میں یہ بیان کیا کہ اس کتاب میں کوئی ضعیف حدیث نہیں ہے۔
    ( مقدمہ نماز نبوی، پران ایڈیشن صفحہ 16)

    اس کتاب میں شفیق الرحمٰن نے سینہ پہ ہاتھ باندھنے کے لئے حضرت وائل بن حجر رضی اللہ کی صحیح ابن خزیمہ والی حدیث پیش کی کہ نبی کریم ﷺ سینہ پہ ہاتھ باندھتے تھے۔
    (نماز نبوی، شفیق الرحمٰن، صفحہ 117، مقدمہ زبیر علی زئی)

    اسی کتاب نماز نبوی کا جدید ایڈیشن غیر مقلدین کے متکبہ دار السلام سے شائع ہوا اور اس کا مقدمہ بھی زبیر علی زئی کا ہے جس نے یہاں بھی کہا ہے کہ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ اس کتاب میں ضعیف حدیث نہیں ہے۔
    ( مقدمہ نماز نبوی، صفحہ 38)
    لیکن جدید ایڈیشن میں سینہ پہ ہاتھ باندھنے والے موضوع میں سے انہوں نے حضرت وائل بن حجر کی صحیح ابن خزیمہ والی وہ روایت نکال دی جو انہوں نے پرانے ایڈیشن میں شائع کی تھی۔
    ( نماز نبوی، جدید ایڈیشن، مکتبہ دار السلام، صفحہ 184)

    اس طرح حضرت وائل بن حجر کی سینہ پہ ہاتھ باندھنے والی روایت کو اپنی کتاب سے نکال دینا اور مقدمہ میں زبیر زئی کا یہ تسلیم کرنا کہ اس کتاب میں کوئی ضعیف حدیث نہیں ہے اس بات کی دلیل ہے کہ سینہ پہ ہاتھ باندھنے کی یہ روایت ضعیف ہے۔کیونکہ اگر یہ روایت صحیح ہوتی تو غیر مقلد اس روایت کو جدید ایڈیشن سے نہ نکالتے لیکن غیر مقلدین کا اس روایت کو جدید ایڈیشن سے نکالنا اس بات کی تصدیق ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے۔
    Attached Images Attached Images
    [IMG]http://i29.*******.com/oqabf5.jpg[/IMG]

  6. #46
    Senior Student
    Join Date
    Dec 2009
    Location
    Karachi
    Posts
    142

    Re: کیا قرآن و حدیث براہ راست سمجھنا باعث گمرا

    Quote Originally Posted by lovelyalltime View Post



    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوگا اور جو کچھ ہم نے چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے۔
    آپ نے جو حوالے پیش کیے

    وہ تو آپ کے اپنے خلاف ہیں

    آپ خود ان احادیث سے ثابت کر رھے ہیں کہ تقلید جائز نہیں

    کیوں کہ یہاں حضرت ابو بکر راضی اللہ اور حضرت عائشہ صدیقہ راضی اللہ حضور

    صلی اللہ وسلم

    کی حدیث پیش کر رھے ہیں

    اور جہاں صحیح احادیث آ جاے وہاں ہر بندے کی بات کو رد کر دیا جا ے گا

    حضور صلی اللہ وسلم کی صحیح حدیث کے مقابلے میں حضور صلی اللہ وسلم کی بیٹی

    کی بات کو بھی نہیں مانا گیا

    اور کتنی حیرت کی بات ہے کہ

    آپ لوگ اپنے امام صاحب کی بات کو صحیح احادیث آ جانے پر بھی رد نہیں کرتے


    آپ بھی پڑھ لیں



    "لاوارثی "حدیث اور قرآن
    اس حدیث کے متعلق عرض ہے کہ اس حدیث کے واحد راوی حضرت ابو بکر ہیں اسی حدیث کی طرح حضرت ابو بکر سے ایک اور حدیث بھی مروی ہے ۔
    جس وقت رسول خدا کا وصال ہوا اور مسلمانوں میں اختلاف ہوا کہ حضور اکرم کو کہاں دفن کیا جائے تو حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ جناب رسول خدا کا فرمان ہے
    "ما قبض نبی الا ودفن حیث قبض " جہاں کسی نبی کی وفات ہوئی وہ اسی جگہ ہی دفن ہوا ۔جب کہ مورخ طبری ہمیں بتاتے ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام اپنی جائے وفات کے علاوہ دوسرے مقامات پر دفن ہوئے ہیں ۔
    حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے اس حدیث کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ۔کیونکہ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ اگر انبیاء کی میراث ان کی اولاد کو نہیں ملتی تھی تو حق تویہ بنتا تھا کہ رسول خدا خود اپنی بیٹی سے کہہ دیتے کہ میری میراث تمہیں نہیں ملے گی ۔طرفہ یہ ہے کہ جس شخصیت کو میراث ملتی تھی اسے نہیں کہا اور چپکے سے یہ بات ایک غیر متعلقہ شخص کے کان میں کہہ دی گئی اور یہ "لاوارثی حدیث" حضرت علی نے بھی نہیں سنی تھی کیوں کہ اگر انہوں نے سنی ہوتی تو اپنی زوجہ کو حق میراث کے مطالبہ کی کبھی اجازت نہ دیتے ۔علاوہ ازایں اتنی اہم بات حضور اکرم نے صرف حضرت ابو بکر کو ہی کیوں بتائی دوسرے مسلمانوں کو اس سے بے خبر کیوں رکھا ؟ "لا وارثی حدیث"قرآن کے منافی ہے
    مذکورہ حدیث لاوارثی حدیث کے متعلق حضرت فاطمہ کا موقف بڑا واضح اور ٹھوس تھا ۔ انہوں نے اس حدیث کو یہ کہہ کر ٹھکرادیا کہ یہ حدیث قرآن کے منافی ہے ۔
    قرآن مجید میں اللہ تعالی کا فرمان ہے : یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین " اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے متعلق وصیت کرتا ہے ۔بیٹےر کو بیٹی کی بہ نسبت دوحصے ملیں گے

    النساء 11
    اس آیت میں کسی قسم کا استثناء نہیں ہے ۔
    اللہ تعالی نے ہر شخص کی میراث کےمتعلق واضح ترین الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے : "ولکلّ جعلنا موالی ممّا ترک الوالدان و الاقربون" اور ہر کسی کے ہم نے وارث ٹھہرا دئیے اس مال میں جو ماں باپ اور قرابت چھوڑ جائیں

    النساء 33۔
    قارئین کرام سے التماس ہے کہ وہ لفظ "ولکلّ" پر اچھی طرح سے غور فرمائیں اس آیت مجیدہ میں بڑی وضاحت سے "ہر کسی " کی میراث کا اعلان کیا گیا ۔
    میراث سے تعلق رکھنے والی جملہ آیات کی تلاوت کریں ۔ آپ کو کسی بھی جگہ یہ نظر نہیں آئے گا کہ اللہ نے فرمایا ہو: کہ ہر کسی کے وارث ہوتے ہیں لیکن انبیاء کے نہیں ہوتے ۔میراث انبیاء کی اگر قرآن مجید میں کسی جگہ نفی وارد ہوئی ہے تو اس آیت مجیدہ کوبحوالہ سورت بیان کیا جائے اور قیامت تک تمام دنیا کو ہمارا یہ چیلنج ہے کہ اگر قرآن میں ایسی آیت ہے تو پیش کریں لاوارثی حدیث کے تین اجزاء ہیں
    1:-انبیاء کسی کے وارث نہیں ہوتے ۔
    2:- انبیاء کی اولاد وارث نہیں ہوتی ۔
    3:- انبیاء کا ترکہ صدقہ ہوتا ہے ۔
    قرآن مجید مذکورہ بالا تینوں اجزا کی نفی کرتا ہے ۔
    اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :- سلیمان علیہ السلام ،داؤد علیہ السلام کے وارث بنے ۔سورہ نمل :16

    اگر نبی کسی کا وارث نہیں ہوتا تو سلیمان علیہ السلام اپنے والد حضرت داؤد
    علیہ السلام کے وارث کیوں بنے ؟
    معلوم ہوتا ہے کہ "لاوارثی " حدیث کا پہلا جز صحیح نہیں ہے ۔
    علاوہ ازیں مذکورہ آیت میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ سلیمان "داؤد کے وارث بنے ۔
    اب جس کے سلیمان وارث بنے وہ بھی تو نبی تھے ۔ اگر "لاوارثی" حدیث کا دوسرا جز صحیح ہوتا یعنی نبی کا کوئی وارث نہیں ہوتا تو داؤد کی میراث کا اجراء کیوں ہوا ۔ ان کی میراث کو صدقہ کیوں قراردیا گیا ۔تو گویا یہ ایک آیت "لاوارثی " حدیث کے تینوں اجزا کو غلط ثابت کرتی ہے ۔
    حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا قرآن مجید میں مذکور ہے :-
    " زکریا نے کہا میرے رب میری ہڈیاں کمزورہوگئیں اور سربڑھاپے کی وجہ سے سفید ہوچکا اور اے رب میں تجھ سے دعا کرکے محروم نہیں ہوا اور میں اپنے پیچھے بھائی بندوں سے ڈرتا ہوں اور میری عورت بانجھ ہے مجھے اپنی طرف سے ایک وارث عطا کر جو میرا وارث ہو اور آل یعقوب کی جو میراث مجھے ملی ہے اس کا بھی وارث ہو اے میرے رب اسے نیک بنانا ۔اللہ تعالی نے کہا : اے زکریا ! ہم تجھے ایک لڑکے کی خوش خبری دیتے ہیں جس کا نام یحیی ہے اس پہلے ہم نے کسی کا یہ نام نہیں رکھا .
    مریم :4-7)
    درج بالا آیت کو مکرر پڑھیں ،حضرت زکریا نے اللہ سے اپنا وارث مانگا اور اللہ نے انہیں وارث بھی دیا اور اس وارث کا نام بھی خود ہی تجویز فرمایا ۔
    اگر انبیاء کی میراث ہی نہیں ہوتی تو حضرت زکریا علیہ السلام نے وارث کی درخواست کیوں کی ؟
    اور اگر بالفرض انہوں نے وارث کے لئے دعا مانگ بھی لی تھی تو اللہ نے انہیں یہ کہہ کر خاموشی کیوں نہ کرا دیا کہ تم تونبی ہو ۔تم یہ کیا کہہ رہ ہو؟
    نبی کی میراث ہی نہیں ہوتی ۔لہذا تمہیں وارث کی دعا ہی سرے سے نہیں مانگنی چاہیے ؟
    اگر انبیاء کی میراث ہی نہیں ہوتی تو اللہ تعالی نے انہیں وارث کیوں عطا فرمایا اور اس وارث کا نام بھی خود ہی تجویز کیوں کیا؟
    حضرت سیدہ سلام اللہ علیھا نے مذکورہ بالا آیات کی اور ان آیات سے "لا وارثی " حدیث کی تردید فرمائی ۔
    لیکن حضرت ابوبکر نے تمام آیات سن کربھی حضرت سیدہ کو حق دینے سے انکار کردیا ۔


  7. #47
    Senior Student
    Join Date
    Dec 2009
    Location
    Karachi
    Posts
    142

    Re: کیا قرآن و حدیث براہ راست سمجھنا باعث گمرا

    Quote Originally Posted by lovelyalltime View Post





    سلام

    میرے تقلید کے مارے اندھے بھائی

    جب کوئی

    احادیث پڑھے گا تو وہ شیعہ حضرا ت کی طرح صرف آپ کی پیش کردہ احادیث ہی

    نہیں

    پڑھے

    گا

    بلکہ

    یہ بھی پڑھے گا



    کتاب صحیح بخاری جلد 2 حدیث نمبر 1212 متفق علیہ 12


    ابراہیم بن موسی، ہشام، معمر، زہری، حضرت عروہ، حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ حضرت عباس اور حضرت فاطمہ الزہراء دونوں حضرت ابوبکر کے پاس آکر اپنا ترکہ زمین فدک اور آمدنی خیبر سے مانگنے لگے،
    حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ہم لوگوں کا کوئی وارث نہیں ہوتا ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے البتہ آل محمد صلی اللہ علیہ اپنی گزر کے لیے اس میں سے لے سکتے ہیں، رہا سلوک کرنا تو خدا کی قسم! میں رسول اکرم کے رشتہ داروں سے سلوک کرنے کو اپنے رشتہ داروں سے زیادہ پسند کرتا ہوں۔


    کتاب صحیح بخاری جلد 3 حدیث نمبر 1635


    عبد اللہ بن مسلمہ، مالک، ابن شہاب، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وفات ہوگئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں نے حضرت عثمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھیجنا چاہا تاکہ ان سے اپنی میراث طلب کریں،
    حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوگا اور جو کچھ ہم نے چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے۔



    قاله ابن عباس،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن النبي صلى الله عليه وسلم

    یہ حدیث حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔



    حدیث نمبر: 3654

    حدثني عبد الله بن محمد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا أبو عامر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا فليح،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال حدثني سالم أبو النضر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن بسر بن سعيد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبي سعيد الخدري ـ رضى الله عنه ـ قال خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم الناس وقال ‏"‏ إن الله خير عبدا بين الدنيا وبين ما عنده فاختار ذلك العبد ما عند الله ‏"‏‏.‏ قال فبكى أبو بكر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فعجبنا لبكائه أن يخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم عن عبد خير‏.‏ فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم هو المخير وكان أبو بكر أعلمنا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إن من أمن الناس على في صحبته وماله أبا بكر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ولو كنت متخذا خليلا غير ربي لاتخذت أبا بكر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ولكن أخوة الإسلام ومودته،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ لا يبقين في المسجد باب إلا سد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ إلا باب أبي بكر ‏"‏‏.


    مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر نے بیان کیا، ان سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سالم ابوالنضر نے بیان کیا، ان سے بسربن سعید نے اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کودنیا میں اور جو کچھ اللہ کے پاس آخرت میں ہے ان دونوں میں سے کسی ایک کا اختیار دیا تو اس بندے نے وہ اختیار کر لیا جو اللہ کے پاس تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے۔ ابوسعید کہتے ہیں کہ ہم کو ان کے رونے پر حیرت ہوئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو کسی بندے کے متعلق خبردے رہے ہیں جسے اختیار دیا گیا تھا، لیکن بات یہ تھی کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ بندے تھے جنہیں اختیار دیا گیا تھا اور (واقعتا) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ اپنی صحبت اور مال کے ذریعہ مجھ پر ابوبکر کا سب سے زیادہ احسان ہے اور اگر میں اپنے رب کے سوا کسی کو جانی دوست بناسکتاتو ابوبکر کو بناتا۔ لیکن اسلام کا بھائی چارہ اور اسلام کی محبت ان سے کافی ہے۔ دیکھو مسجد کی طرف تمام دروازے (جو صحابہ کے گھروں کی طرف کھلتے تھے) سب بند کر دیئے جائیں۔ صرف ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دروازہ رہنے دو۔





    صحیح بخاری

    کتاب فضائل اصحاب النبی









    آپ نے جو حوالے پیش کیے

    وہ تو آپ کے اپنے خلاف ہیں

    آپ خود ان احادیث سے ثابت کر رھے ہیں کہ تقلید جائز نہیں

    کیوں کہ یہاں حضرت ابو بکر راضی اللہ اور حضرت عائشہ صدیقہ راضی اللہ حضور

    صلی اللہ وسلم

    کی حدیث پیش کر رھے ہیں

    اور جہاں صحیح احادیث آ جاے وہاں ہر بندے کی بات کو رد کر دیا جا ے گا

    حضور صلی اللہ وسلم کی صحیح حدیث کے مقابلے میں حضور صلی اللہ وسلم کی بیٹی

    کی بات کو بھی نہیں مانا گیا

    اور کتنی حیرت کی بات ہے کہ

    آپ لوگ اپنے امام صاحب کی بات کو صحیح احادیث آ جانے پر بھی رد نہیں کرتے

    ایک اور حدیث بھی پڑھنے والا پڑھے گا

    آپ بھی پڑھ لیں

    جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 804

    حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحِ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ
    أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ وَهُوَ يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَی الْحَجِّ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ هِيَ حَلَالٌ فَقَالَ الشَّامِيُّ إِنَّ أَبَاکَ قَدْ نَهَی عَنْهَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَرَأَيْتَ إِنْ کَانَ أَبِي نَهَی عَنْهَا وَصَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَأَمْرَ أَبِي نَتَّبِعُ أَمْ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الرَّجُلُ بَلْ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَقَدْ صَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

    جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 804

    عبد بن حمید، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، ابوصالح بن کیسان، ابن شہاب سے روایت ہے کہ ان سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا کہ
    انہوں نے ایک شامی کو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے حج کے ساتھ عمرے کو ملانے (یعنی تمتع) کے متعلق سوال کرتے ہوئے سنا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا یہ جائز ہے - شامی نے کہا آپ کے والد نے اس سے منع کیا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا دیکھو اگر میرے والد کسی کام سے منع کریں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہی کام کریں تو میرے والد کی اتباع کی جائے گی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی۔ شامی نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی۔ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمتع کیا ہے یہ حدیث صحیح ہے۔

    پڑھنے والا یہ بھی پڑھے گا













    یہ حدیث کیوں نہیں پڑھی جاتی جیسے امام حجر عسقلانی نے پیش کیا ہے آپ بھی پڑھ لیں

    أَمرَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ بأبوابِ المسجدِ فسُدَّت إلَّا بابَ عليٍّ . وفي روايةٍ ( وأَمرَ بسدِّ الأبوابِ غيرَ بابِ عليٍّ فَكانَ يدخُلُ المسجدَ وَهوَ جُنبٌ ليسَ لَهُ طريقٌ غيرُهُ
    الراوي: عبدالله بن عباس المحدث:ابن حجر العسقلاني - المصدر: فتح الباري لابن حجر - الصفحة أو الرقم: 7/18
    خلاصة حكم المحدث: رجاله ثقات

  8. #48
    iTT Student moqeem's Avatar
    Join Date
    Jul 2013
    Location
    rawalpindi
    Age
    29
    Posts
    73

    Re: کیا قرآن و حدیث براہ راست سمجھنا باعث گمرا

    mary bahi imam azam abu hanifa ko hr banda ni phar skta jo samja a jy main to yai kahon ga k Imam Ahmed raza khan baralvi ko jo shak phar lyta h samjo os ny imam azam abu hanifa ko phar liya .....
    Join All for pakistan (www.dealsmar.com)

Page 3 of 3 FirstFirst 123

Similar Threads

  1. Replies: 0
    Last Post: 27th August 2011, 05:50 AM
  2. Replies: 2
    Last Post: 7th May 2011, 02:30 AM
  3. Replies: 4
    Last Post: 26th March 2011, 03:19 AM
  4. Replies: 2
    Last Post: 10th October 2010, 04:30 PM
  5. Replies: 10
    Last Post: 28th June 2010, 04:30 PM

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •