پرچے میں مضمون آیا تھا "ماں پر "
ًًمیں نے لکھنا شروع کیا
کہاں سے لاؤں وہ ماں جو پیپر میں جانے سے پہلے اپنے بچے کے چہرے پہ ھاتھ پھیر کر ڈھیر ساری دعاؤں میں نہلادیتی ھے
کہاں سے لاؤں ممتا کی وہ مٹھاس جس کے آگے سب امتحان پھیکے پڑ جاتے ھیں
کہاں سے لاؤں امی کی وہ طاقت بھری تھپکی جس سے ھر مقابلہ آسان ھوجاتاھے
نہیں ھے میرے پاس وہ ماں جس پر آپ نے مضمون مانگا ھے
اس مضمون کی طرح زندگی کے بہت سارے موڑوں پر میں اپنی ماں کو ڈھونڈھتی ہی رہ جاتی ھوں مگرماں کبھی نھیں ملی اور میں بس ماں کو بلاتی ھی رہ جاتی ھوں
ماں--- تو کہاں ھے ؟ تجھ پر مضمون لکھنا ھے
ماں--- بتا تو سہی کیسے لکھوں کہ تیری محبت کیسی ھوتی ھے ؟
تیری شفقت کیسی ھوتی ؟
تیری الفت کیسی ھوتی ھے ؟
اور تیری چاھت ,تیراخلوص ,تیراپیار,تیرارشتہ،
ماں--- ترے بن زندگی ویران ھے ,حیات میری سنسان ھے ,اپنوں کی نہ کوئی پہچان ھے ,سب غیر بھی انجان ہیں
ماں----حالات کی دھوپ بڑی سخت ھے، تیری آنچل کا ٹھنڈا سایہ کہاں ھے
ماں---زمانے کے تیر بڑے جان لیوا ہیں تیری آغوش کی پناہ گاہ کہاں ہے
ماں---آنسؤوں کے سیلاب کے سامنے کوئی بند باندھنے والانہیں
ماں---دکھوں کی بارش میں کوئی تسلی کی چھتری تھمانے والانہیں
ماں---جیت میں کوئی پلکوں پے بٹھانےوالا نہیں, ہارمیں کوئی سینے سے لگانے والانہیں
ماں---تیرے بن-- دردکی برسات ھے ,غم کی سوغات ھے,دکھ بھرے جذبات ہیں,تکلیف دہ ہربات ھے
ماں---میں تڑپ رہی ہوں,میں ترس رہی ہوں,میں لرزرہی ہوں
کہاں سے لاؤں وہ جذبات جو ماں کے لئے دل میں پلتے ہیں
کیسے لکھوں وہ احساسات جو اماں کے لئے جگر میں بستے ہیں
عاجزھے میرا قلم ماں پر لکھنے سےمیرے پاس تواماں کی وہ قبرھے جسے جاکے اپنے آنسؤوں سے سینچتی ہوں.