Results 1 to 2 of 2

#9 Al-Raheeq Ul Makhtoom (Seerat un Nabi S.A.W)

This is a discussion on #9 Al-Raheeq Ul Makhtoom (Seerat un Nabi S.A.W) within the Hayat-e-Rasool (S.A.W.W) forums, part of the Hadith-o-Sunnat category; نبوت سے پہلے کی اجمالی سیرت! نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا وجود ان تمام خوبیوں اور کمالات کا ...

  1. #1
    Student sudes_102's Avatar
    Join Date
    Jul 2009
    Location
    Islamabad
    Posts
    1,521

    Lightbulb #9 Al-Raheeq Ul Makhtoom (Seerat un Nabi S.A.W)

    نبوت سے پہلے کی اجمالی سیرت!
    نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا وجود ان تمام خوبیوں اور کمالات کا جامع تھا جو متفرق طور پر لوگوں کے مختلف طبقات میں پائے جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اصابتِ فکر، دوربینی اور حق پسندی کا بلند مینار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو حُسنِ فراست، پُختگیء فکر اور وسیلہ و مقصد کی درستگی سے حَظِ وافر عطا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنی طویل خاموشی سے مسلسل غور خوض، دائمی تفکیر اور حق کی کرید میں مدد لیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی شاداب عقل اور روشن فطرت سے زندگی کے صحیفے، لوگوں کے معاملات اور جماعتوں کے احوال کا مطالعہ کیا اور جن خرافات میں یہ سب لت پت تھیں ان سے سخت بیزاری محسوس کی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سب سے دامن کش رہتے ہوئے پوری بصیرت کے ساتھ لوگوں کے درمیان زندگی کا سفر طے کیا یعنی لوگوں کا جو کام اچھا ہوتا اس میں شرکت فرماتے ورنہ اپنی مقررہ تنہائی کی طرف پلٹ جاتے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے شراب کو کبھی منہ نہ لگایا، آستانوں کا ذبیحہ نہ کھایا اور بتوں کے لیے منائے جانے والے تہوار اور میلوں ٹھیلوں میں کبھی شرکت نہ کی۔

    آپ (ص) کو شروع ہی سے ان باطل معبودوں سے اتنی ہی نفرت تھی کہ ان سے بڑھ کر آپ کی نظر میں کوئی چیز مبغوض نہ گھی حتٰی کہ لات و عُزیٰ کی قسم سننا بھی آپ کو گوارا نہ تھا۔ (27)

    اس میں شبہ نہیں کہ تقدیر نے آپ پر حفاظت کا سایہ ڈال رکھا تھا۔ چنانچہ جب بعض دنیاوی تمتعات کے حصول کے لیے نفس کے جذبات متحرک ہوئے یا بعض نا پسندیدہ رسم و رواج کی پیروی پر طبیعت آمادہ ہوئی تو عنایتِ ربانی دخیل ہو کر رکاوٹ بن گئی۔ ابنِ اثیر کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اہلِ جاہلیت جو کام کرتے تھے مجھے دو دفعہ کے علاوہ کبھی ان کا خیال نہیں گذرا لیکن ان دونوں میں سے بھی ہر دفعہ اللہ تعالٰی نے میرے اور اس کام کے درمیان رکاوٹ ڈال دی۔ اس کے بعد پھر کبھی مجھے اس کا خیال نہ گذرا یہاں تک کہ اللہ نے مجھے پیغمبری سے مشرف فرما دیا۔ ہوا یہ کہ جو لڑکہ بالائی مکہ میں میرے ساتھ بکریاں چرایا کرتا تھا اس سے ایک رات میں نے کہا: کیوں نہ تم میری بکریاں دیکھو اور میں مکہ میں جا کر دوسرے جوانوں کی طرح وہاں کی شبانہ قصہ گوئی کی محفل میں شرکت کر لوں! اس نے کہا ٹھیک ہے۔ اس کے بعد میں نکلا اور ابھی مکہ کے پہلے ہی گھر کے پاس پہنچا تھا کہ باجے کی آواز سنائی پڑی۔ میں نے دریافت کیا کہ یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا فلاں کی فلاں سے شادی ہے۔ میں سننے بیٹھ گیا اور اللہ نے میرا کان بند کر دیا اور میں سو گیا۔ پھر سورج کی تمازت ہی سے میری آنکھ کھلی اور میں اپنے ساتھی کے پاس واپس چلا گیا۔ اس کے پوچھنے پر میں نے تفصیلات بتائیں۔ اس کے بعد ایک رات پھر میں نے یہی بات کہی اور مکہ پہنچا تو پھر اسی رات کی طرح کا واقعہ پیش آیا اور اسکے بعد پھر کبھی غلط ارادہ نہ ہوا۔(28)

    صحیح بخاری میں حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ جب کعبہ تعمیر کیا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور حضرت عباس (رض) پتھر ڈھو رہے تھے۔ حضرت عباس (رض) نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کہا: اپنا تہبند اپنے کاندھے پر رکھ لو۔ پتھر سے حفاظت رہے گی، لیکن جونہی آپ (ص) نے ایسا کیا آپ (ص) زمین پر جا گرے۔ نگاہیں آسمان کی طرف اُٹھ گئیں۔ افاقہ ہوتے ہی آواز لگائی: میرا تہبند ۔ میرا تہبند اور آپ کا تہبند آپ کو باندھ دیا گیا۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ اس کے بعد آپ کی شرمگاہ کبھی نہیں دیکھی گئی۔ (29)

    نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنی قوم میں شیریں کردار، فاضلانہ اخلاق اور کریمانہ عادات کے لحاظ سے ممتاز تھے۔ چنانچہ آپ سب سے زیادہ با مروت، سب سے خوش اخلاق، سب سے معزز ہمسایہ، سب سے بڑھ کر دور اندیش، سب سے زیادہ راست گو، سب سے نرم پہلو، سب سے زیادہ پاک نفس، خیر میں سب سے زیادہ کریم، سب سے نیک عمل، سب سے بڑھ کر پابندِ عہد اور سب سے بڑے امانت دار تھے، حتٰی کہ آپ کی قوم نے آپ کا نام ہی امین رکھ دیا تھا کیونکہ آپ احوالِ صالحہ اور خصالِ حمیدہ کا پیکر تھے۔ اور جیسا کہ حضرت خدیجہ کی شہادت ہے آپ صلی اللہ علیہ و سلم درماندوں* کا بوجھ اٹھاتے تھے، تہی دستوں کا بندوبست فرماتے تھے، مہمان کی میزبانی کرتے تھے اور مصائبِ حق میں اعانت فرماتے تھے۔ (30)

    ===========================================
    27 :: بُحَیرا کے واقعہ میں اس کی دلیل موجود ہے۔ دیکھئے ابنِ ہشام 1: 128
    28 :: اس حدیث کو حاکم ذہبی نے صحیح کہا ہے لیکن ابنِ کثیر نے البدایہ والنہایہ 2: 287 میں اس کی تعضیف کی ہے۔ 29 :: صحیح بخاری باب بنیان الکعبہ 1: 540 ۔ 30 :: صحیح بخاری 1: 3 ۔
    توحید ڈاٹ کام - کتاب و سنت کی پکار
    http://www.tohed.com/

  2. #2
    iTT Student
    Join Date
    Sep 2010
    Location
    Karachi
    Posts
    33

    Re: #9 Al-Raheeq Ul Makhtoom (Seerat un Nabi S.A.W)

    Jazakallah

    Shozeb

Similar Threads

  1. #8 Al-Raheeq Ul Makhtoom (Seerat un Nabi S.A.W)
    By sudes_102 in forum Hayat-e-Rasool (S.A.W.W)
    Replies: 0
    Last Post: 9th September 2010, 11:49 AM
  2. #4 Al-Raheeq Ul Makhtoom (Seerat un Nabi S.A.W)
    By sudes_102 in forum Hayat-e-Rasool (S.A.W.W)
    Replies: 0
    Last Post: 20th July 2010, 11:30 AM
  3. #3 Al-Raheeq Ul Makhtoom (Seerat un Nabi S.A.W)
    By sudes_102 in forum Hayat-e-Rasool (S.A.W.W)
    Replies: 0
    Last Post: 20th July 2010, 10:56 AM
  4. #2 Al-Raheeq Ul Makhtoom (Seerat un Nabi S.A.W)
    By sudes_102 in forum Hayat-e-Rasool (S.A.W.W)
    Replies: 0
    Last Post: 20th July 2010, 10:52 AM
  5. #1 Al-Raheeq Ul Makhtoom (Seerat un Nabi S.A.W)
    By sudes_102 in forum Hayat-e-Rasool (S.A.W.W)
    Replies: 0
    Last Post: 20th July 2010, 10:51 AM

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •