Results 1 to 14 of 14

Sahi Bukhari, Kitab ul ilm {کتاب علم}

This is a discussion on Sahi Bukhari, Kitab ul ilm {کتاب علم} within the Hadith-o-Sunnat forums, part of the Mera Deen Islam category; حدثنا محمد بن سنان، قال حدثنا فليح، ح وحدثني إبراهيم بن المنذر، قال حدثنا محمد بن فليح، قال حدثني أبي ...

  1. #1
    Student sudes_102's Avatar
    Join Date
    Jul 2009
    Location
    Islamabad
    Posts
    1,521

    Lightbulb Sahi Bukhari, Kitab ul ilm {کتاب علم}

    حدثنا محمد بن سنان، قال حدثنا فليح، ح وحدثني إبراهيم بن المنذر، قال حدثنا محمد بن فليح، قال حدثني أبي قال، حدثني هلال بن علي، عن عطاء بن يسار، عن أبي هريرة، قال بينما النبي صلى الله عليه وسلم في مجلس يحدث القوم جاءه أعرابي فقال متى الساعة فمضى رسول الله صلى الله عليه وسلم يحدث، فقال بعض القوم سمع ما قال، فكره ما قال، وقال بعضهم بل لم يسمع، حتى إذا قضى حديثه قال ‏"‏ أين ـ أراه ـ السائل عن الساعة‏"‏‏. ‏ قال ها أنا يا رسول الله‏.‏ قال ‏"‏ فإذا ضيعت الأمانة فانتظر الساعة‏"‏‏. ‏ قال كيف إضاعتها قال ‏"‏ إذا وسد الأمر إلى غير أهله فانتظر الساعة‏"‏‏. ‏



    ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح نے بیان کیا ( دوسری سند ) اور مجھ سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے باپ ( فلیح ) نے بیان کیا، کہا ہلال بن علی نے، انھوں نے عطاء بن یسار سے نقل کیا، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ ایک بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں بیٹھے ہوئے ان سے باتیں کر رہے تھے۔ اتنے میں ایک دیہاتی آپ کے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی گفتگو میں مصروف رہے۔ بعض لوگ ( جو مجلس میں تھے ) کہنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیہاتی کی بات سنی لیکن پسند نہیں کی اور بعض کہنے لگے کہ نہیں بلکہ آپ نے اس کی بات سنی ہی نہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی باتیں پوری کر چکے تو میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا وہ قیامت کے بارے میں پوچھنے والا کہاں گیا اس ( دیہاتی ) نے کہا ( حضور ) میں موجود ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب امانت ( ایمانداری دنیا سے ) اٹھ جائے تو قیامت قائم ہونے کا انتظار کر۔ اس نے کہا ایمانداری اٹھنے کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب ( حکومت کے کاروبار ) نالائق لوگوں کو سونپ دئیے جائیں تو قیامت کا انتظار کر۔

    حوالہ:
    صحیح بخاری -> کتاب العلم حدیث نمبر۵۹

    تشریح : آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری باتوں میں مشغول تھے، اس لیے اس کا جواب بعد میں دیا۔ یہیں سے حضرت امام کا مقصود باب ثابت ہوا اور ظاہر ہوا کہ علمی آداب میں یہ ضروری ادب ہے کہ شاگرد موقع محل دیکھ کر استاد سے بات کریں۔ کوئی اور شخص بات کررہا ہو توجب تک وہ فارغ نہ ہو درمیان میں دخل اندازی نہ کریں۔ امام قسطلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وانما لم یجبہ علیہ الصلوہٰ والسلام لانہ یحتمل ان یکون لانتظار الوحی اویکون مشغولا بجواب سائل اخر و یوخذ منہ انہ ینبغی للعالم والقاضی ونحوہما رعایۃ تقدم الاسبق۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شاید وحی کے انتظار میں اس کو جواب نہ دیا یا آپ دوسرے سائل کے جواب میں مصروف تھے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ عالم اور قاضی صاحبان کو پہلے آنے والوں کی رعایت کرنا ضروری ہے۔
    جاری ہے رپلائے مت کیجیے

    Last edited by sudes_102; 31st May 2010 at 04:31 PM.
    توحید ڈاٹ کام - کتاب و سنت کی پکار
    http://www.tohed.com/

  2. #2
    Student sudes_102's Avatar
    Join Date
    Jul 2009
    Location
    Islamabad
    Posts
    1,521

    Re: Sahi Bukhari, Kitab ul ilm {کتاب علم}

    باب : اس بارے میں جس نے علمی مسائل کے لیے اپنی آواز کو بلند کیا

    حدثنا أبو النعمان، عارم بن الفضل قال حدثنا أبو عوانة، عن أبي بشر، عن يوسف بن ماهك، عن عبد الله بن عمرو، قال تخلف عنا النبي صلى الله عليه وسلم في سفرة سافرناها، فأدركنا وقد أرهقتنا الصلاة ونحن نتوضأ، فجعلنا نمسح على أرجلنا، فنادى بأعلى صوته ‏"‏ ويل للأعقاب من النار‏"‏‏. ‏ مرتين أو ثلاثا‏.‏
    ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے ابوبشر سے بیان کیا، انھوں نے یوسف بن ماہک سے، انھوں نے عبداللہ بن عمرو سے، انھوں نے کہا ایک سفر میں جو ہم نے کیا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے پیچھے رہ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے اس وقت ملے جب ( عصر کی ) نماز کا وقت آن پہنچا تھا ہم ( جلدی جلدی ) وضو کر رہے تھے۔ پس پاؤں کو خوب دھونے کے بدل ہم یوں ہی سا دھو رہے تھے۔ ( یہ حال دیکھ کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے پکارا دیکھو ایڑیوں کی خرابی دوزخ سے ہونے والی ہے دو یا تین بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یوں ہی بلند آواز سے ) فرمایا۔


    حوالہ صحیح بخاری حدیث نمبر60

    تشریح : بلندآوازسے کوئی بات کرنا شان نبوی کے خلاف ہے کیونکہ آپ کی شان میں لیس بصخاب آیا ہے کہ آپ شور وغل کرنے والے نہ تھے مگریہاں حضرت امام قدس سرہ نے یہ باب منعقد کرکے بتلادیا کہ مسائل کے اجتہاد کے لیے آپ کبھی آواز کو بلند بھی فرمادیتے تھے۔ خطبہ کے وقت بھی آپ کی یہی عادت مبارکہ تھی جیسا کہ مسلم شریف میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے تو آپ کی آواز بلند ہوجایا کرتی تھی۔ ترجمہ باب اسی سے ثابت ہوتا ہے۔ آپ کا مقصد لوگوں کو آگاہ کرنا تھا کہ جلدی کی وجہ سے ایڑیوں کو خشک نہ رہنے دیں، یہ خشکی ان ایڑیوں کو دوزخ میں لے جائیں گی۔ یہ سفر مکہ سے مدینہ کی طرف تھا۔



    جاری ہے رپلائے مت کیجیے

    Last edited by sudes_102; 31st May 2010 at 04:38 PM.
    توحید ڈاٹ کام - کتاب و سنت کی پکار
    http://www.tohed.com/

  3. #3
    Student sudes_102's Avatar
    Join Date
    Jul 2009
    Location
    Islamabad
    Posts
    1,521

    Re: Sahi Bukhari, Kitab ul ilm {کتاب علم}

    باب : استاد اپنے شاگردوں کا علم آزمانے کے لیے ان سے کو ئی سوال کرے۔ یعنی امتحان لینے کا بیان


    حدثنا خالد بن مخلد، حدثنا سليمان، حدثنا عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ إن من الشجر شجرة لا يسقط ورقها، وإنها مثل المسلم، حدثوني ما هي‏"‏‏. ‏ قال فوقع الناس في شجر البوادي‏.‏ قال عبد الله فوقع في نفسي أنها النخلة، ثم قالوا حدثنا ما هي يا رسول الله قال ‏"‏ هي النخلة‏"‏‏.


    ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انھوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے انھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ ( ایک مرتبہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے کہ اس کے پتے نہیں جھڑتے اور مسلمان کی بھی یہی مثال ہے بتلاؤ وہ کون سا درخت ہے؟ یہ سن کر لوگوں کے خیالات جنگل کے درختوں میں چلے گئے۔ عبداللہ نے کہا کہ میرے دل میں آیا کہ بتلا دوں کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن ( وہاں بہت سے بزرگ موجود تھے اس لیے ) مجھ کو شرم آئی۔ آخر صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ہی بیان فرما دیجیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔

    حوالہ: صحیح بخاری حدیث نمبر:62



    اس حدیث اور واقعہ نبوی سے طالب علموں کا امتحان لینا ثابت ہوا۔ جب کہ کھجور کے درخت سے مسلمان کی تشبیہ اس طرح ہوئی کہ مسلمان متوکل علی اللہ ہوکرہرحال میں ہمیشہ خوش وخرم رہتا ہے۔




    جاری ہے ابھی رپلائے مت کیجیے
    توحید ڈاٹ کام - کتاب و سنت کی پکار
    http://www.tohed.com/

  4. #4
    smi
    smi is offline
    itt captian smi's Avatar
    Join Date
    May 2010
    Location
    wah
    Posts
    791

    Re: Sahi Bukhari, Kitab ul ilm {کتاب علم}

    very informative. jazak allah

  5. #5
    Student sudes_102's Avatar
    Join Date
    Jul 2009
    Location
    Islamabad
    Posts
    1,521

    Re: Sahi Bukhari, Kitab ul ilm {کتاب علم}

    صحیح بخاری -> کتاب العلم
    باب : مناولہ کا بیان اور اہل علم کا علمی باتیں لکھ کر ( دوسرے ) شہروں کو بھیجنا

    حدثنا إسماعيل بن عبد الله، قال حدثني إبراهيم بن سعد، عن صالح، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، أن عبد الله بن عباس، أخبره أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث بكتابه رجلا، وأمره أن يدفعه إلى عظيم البحرين، فدفعه عظيم البحرين إلى كسرى، فلما قرأه مزقه‏.‏ فحسبت أن ابن المسيب قال فدعا عليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يمزقوا كل ممزق‏.‏


    اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن سعد نے صالح کے واسطے سے روایت کی، انھوں نے ابن شہاب سے، انھوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنا ایک خط دے کر بھیجا اور اسے یہ حکم دیا کہ اسے حاکم بحرین کے پاس لے جائے۔ بحرین کے حاکم نے وہ خط کسریٰ ( شاہ ایران ) کے پاس بھیج دیا۔ جس وقت اس نے وہ خط پڑھا تو چاک کر ڈالا ( راوی کہتے ہیں ) اور میرا خیال ہے کہ ابن مسیب نے ( اس کے بعد ) مجھ سے کہا کہ ( اس واقعہ کو سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل ایران کے لیے بددعا کی کہ وہ ( بھی چاک شدہ خط کی طرح ) ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔

    حوالہ: صحیح بخاری حدیث نمبر:64

    اللہ نے بہت جلد اپنے سچے رسول کی دعا کا اثر ظاہر کردیا۔



    حدثنا محمد بن مقاتل أبو الحسن، أخبرنا عبد الله، قال أخبرنا شعبة، عن قتادة، عن أنس بن مالك، قال كتب النبي صلى الله عليه وسلم كتابا ـ أو أراد أن يكتب ـ فقيل له إنهم لا يقرءون كتابا إلا مختوما‏.‏ فاتخذ خاتما من فضة نقشه محمد رسول الله‏.‏ كأني أنظر إلى بياضه في يده‏.‏ فقلت لقتادة من قال نقشه محمد رسول الله قال أنس‏.‏

    ہم سے ابوالحسن محمد بن مقاتل نے بیان کیا، ان سے عبداللہ نے، انھیں شعبہ نے قتادہ سے خبر دی، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کسی بادشاہ کے نام دعوت اسلام دینے کے لیے ) ایک خط لکھا یا لکھنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ وہ بغیر مہر کے خط نہیں پڑھتے ( یعنی بے مہر کے خط کو مستند نہیں سمجھتے ) تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی۔ جس میں محمد رسول اللہ کندہ تھا۔ گویا میں ( آج بھی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اس کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔ ( شعبہ راوی حدیث کہتے ہیں کہ ) میں نے قتادہ سے پوچھا کہ یہ کس نے کہا ( کہ ) اس پر محمد رسول اللہ کندہ تھا؟ انھوں نے جواب دیا، انس رضی اللہ عنہ نے۔

    حوالہ:حدیث نمبر : 65

    تشریح : مناولہ اصطلاح محدثین میں اسے کہتے ہیں اپنی اصل مرویات اور مسموعات کی کتاب جس میں اپنے استادوں سے سن کر حدیثیں لکھ رکھی ہوں اپنے کسی شاگرد کے حوالہ کردی جائے اور اس کتاب میں درج شدہ احادیث کو روایت کرنے کی اس کو اجازت بھی دے دی جائے، تو یہ جائز ہے اور حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کی مراد یہی ہے۔ اگراپنی کتاب حوالہ کرتے ہوئے روایت کرنے کی اجازت نہ دے تو اس صورت میں حدثنی یا اخبرنی فلاں کہنا جائز نہیں ہے۔ حدیث نمبر64 میں کسریٰ کے لیے بددعا کا ذکر ہے کیوں کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک چاک کر ڈالا تھا،چنانچہ خود اس کے بیٹے نے اس کا پیٹ پھاڑ ڈالا۔ سوجب وہ مرنے لگا تواس نے دواؤں کا خزانہ کھولا اور زہر کے ڈبے پر لکھ دیا کہ یہ دوا قوت باہ کے لیے اکسیر ہے۔ وہ بیٹا جماع کا بہت شوق رکھتا تھا جب وہ مرگیا اور اس کے بیٹے نے دواخانے میں اس ڈبے پر یہ لکھا ہوا دیکھا تو اس کو وہ کھاگیا اور وہ بھی مرگیا۔ اسی دن سے اس سلطنت میں تنزل شروع ہوا، آخر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہدخلافت میں ان کا نام ونشان بھی باقی نہیں رہا۔ ایران کے ہر بادشاہ کا لقب کسریٰ ہوا کرتا تھا۔ اس زمانے کے کسریٰ کا نام پرویز بن ہرمزبن نوشیروان تھا، اسی کو خسرو پرویز بھی کہتے ہیں۔ اس کے قاتل بیٹے کا نام شیرویہ تھا، خلافت فاروقی میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں ایران فتح ہوا۔
    مناولہ کے ساتھ باب میں مکاتبت کا ذکر ہے جس سے مراد یہ کہ استاد اپنے ہاتھ سے خط لکھے یا کسی اور سے لکھواکرشاگرد کے پاس بھیجے،شاگرد اس صورت میں بھی اس کو اپنے استاد سے روایت کر سکتا ہے۔
    حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی خداداد قوت اجتہاد کی بنا پر ہردو مذکورہ احادیث سے ان اصطلاحات کو ثابت فرمایا ہے پھر تعجب ہے ان کم فہموں پر جو حضرت امام کو غیرفقیہ اور زودرنج اور محض ناقل حدیث سمجھ کر آپ کی تخفیف کے درپے ہیں۔ نعوذ باللہ من شرورانفسنا۔

    توحید ڈاٹ کام - کتاب و سنت کی پکار
    http://www.tohed.com/

  6. #6
    Student sudes_102's Avatar
    Join Date
    Jul 2009
    Location
    Islamabad
    Posts
    1,521

    Lightbulb Re: Sahi Bukhari, Kitab ul ilm {کتاب علم}

    صحیح بخاری -> کتاب العلم
    باب : وہ شخص جو مجلس کے آخرمیں بیٹھ جائے اور وہ شخص جودرمیان میں جہاں جگہ دیکھے بیٹھ جائے ( بشرطیکہ دوسروں کو تکلیف نہ ہو )


    حدثنا إسماعيل، قال حدثني مالك، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، أن أبا مرة، مولى عقيل بن أبي طالب أخبره عن أبي واقد الليثي، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بينما هو جالس في المسجد والناس معه، إذ أقبل ثلاثة نفر، فأقبل اثنان إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وذهب واحد، قال فوقفا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فأما أحدهما فرأى فرجة في الحلقة فجلس فيها، وأما الآخر فجلس خلفهم، وأما الثالث فأدبر ذاهبا، فلما فرغ رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ ألا أخبركم عن النفر الثلاثة أما أحدهم فأوى إلى الله، فآواه الله، وأما الآخر فاستحيا، فاستحيا الله منه، وأما الآخر فأعرض، فأعرض الله عنه‏"‏‏. ‏

    ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ان سے مالک نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ کے واسطے سے ذکر کیا، بے شک ابومرہ مولیٰ عقیل بن ابی طالب نے انھیں ابوواقد اللیثی سے خبر دی کہ ( ایک مرتبہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے کہ تین آدمی وہاں آئے ( ان میں سے ) دو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پہنچ گئے اور ایک واپس چلا گیا۔ ( راوی کہتے ہیں کہ ) پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ اس کے بعد ان میں سے ایک نے ( جب ) مجلس میں ( ایک جگہ کچھ ) گنجائش دیکھی، تو وہاں بیٹھ گیا اور دوسرا اہل مجلس کے پیچھے بیٹھ گیا اور تیسرا جو تھا وہ لوٹ گیا۔ تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنی گفتگو سے ) فارغ ہوئے ( تو صحابہ رضی اللہ عنہ سے ) فرمایا کہ کیا میں تمہیں تین آدمیوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ تو ( سنو ) ان میں سے ایک نے اللہ سے پناہ چاہی اللہ نے اسے پناہ دی اور دوسرے کو شرم آئی تو اللہ بھی اس سے شرمایا ( کہ اسے بھی بخش دیا ) اور تیسرے شخص نے منہ موڑا، تو اللہ نے ( بھی ) اس سے منہ موڑ لیا۔

    حوالہ:
    حدیث نمبر66




    تشریح : ثابت ہوا کہ مجالس علمی میں جہاں جگہ ملے بیٹھ جانا چاہئیے۔ آپ نے مذکورہ تین آدمیوں کی کیفیت مثال کے طور پر بیان فرمائی۔ ایک شخص نے مجلس میں جہاں جگہ دیکھی وہاں ہی وہ بیٹھ گیا۔ دوسرے نے کہیں جگہ نہ پائی تومجلس کے کنارے جا بیٹھا اور تیسرے نے جگہ نہ پاکر اپنا راستہ لیا۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے اعراض گویا اللہ سے اعراض ہے۔ اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں سخت الفاظ فرمائے۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مجلس میں آدمی کو جہاں جگہ ملے وہاں بیٹھ جانا چاہئیے اگرچہ اس کو سب سے آخر میں جگہ ملے۔ آج بھی وہ لوگ جن کو قرآن وحدیث کی مجلس پسند نہ ہوبڑے ہی بدبخت ہوتے ہیں۔

    جاری ہے ابھی رپلائے مت کیجیے
    Last edited by sudes_102; 1st June 2010 at 07:10 AM.
    توحید ڈاٹ کام - کتاب و سنت کی پکار
    http://www.tohed.com/

  7. #7
    iTT Captain tauqirpk's Avatar
    Join Date
    Apr 2010
    Location
    Pakistan
    Posts
    785

    Re: Sahi Bukhari, Kitab ul ilm {کتاب علم}

    JAZZAK ALLAH
    Gunahon ki addat chora merey Moula
    Mujhe naik insaan bana merey Moula
    Jo tujh ko jo terey nabi ko Pasand hai
    Mujhe aisa Banda bana merey Moula

  8. #8
    Student sudes_102's Avatar
    Join Date
    Jul 2009
    Location
    Islamabad
    Posts
    1,521

    Re: Sahi Bukhari, Kitab ul ilm {کتاب علم}

    صحیح بخاری -> کتاب العلم
    باب : رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تفصیل میں کہ بسا اوقات وہ شخص جسے ( حدیث ) پہنچائی جائے سننے والے سے زیادہ ( حدیث کو ) یاد رکھ لیتا ہے۔


    حدیث نمبر : 67

    حدثنا مسدد، قال حدثنا بشر، قال حدثنا ابن عون، عن ابن سيرين، عن عبد الرحمن بن أبي بكرة، عن أبيه، ذكر النبي صلى الله عليه وسلم قعد على بعيره، وأمسك إنسان بخطامه ـ أو بزمامه ـ قال ‏"‏ أى يوم هذا‏"‏‏. ‏ فسكتنا حتى ظننا أنه سيسميه سوى اسمه‏.‏ قال ‏"‏ أليس يوم النحر‏"‏‏. ‏ قلنا بلى‏.‏ قال ‏"‏ فأى شهر هذا‏"‏‏. ‏ فسكتنا حتى ظننا أنه سيسميه بغير اسمه‏.‏ فقال ‏"‏ أليس بذي الحجة‏"‏‏. ‏ قلنا بلى‏.‏ قال ‏"‏ فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم بينكم حرام كحرمة يومكم هذا، في شهركم هذا، في بلدكم هذا‏.‏ ليبلغ الشاهد الغائب، فإن الشاهد عسى أن يبلغ من هو أوعى له منه‏"‏‏. ‏
    ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے بشر نے، ان سے ابن عون نے ابن سیرین کے واسطے سے، انھوں نے عبدالرحمن بن ابی بکرہ سے نقل کیا، انھوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ وہ ( ایک دفعہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر بیٹھے ہوئے تھے اور ایک شخص نے اس کی نکیل تھام رکھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا آج یہ کون سا دن ہے؟ ہم خاموش رہے، حتیٰ کہ ہم سمجھے کہ آج کے دن کا آپ کوئی دوسرا نام اس کے نام کے علاوہ تجویز فرمائیں گے ( پھر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا آج قربانی کا دن نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا، ہاں بے شک۔ ( اس کے بعد ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم ( اس پر بھی ) خاموش رہے اور یہ ( ہی ) سمجھے کہ اس مہینے کا ( بھی ) آپ اس کے نام کے علاوہ کوئی دوسرا نام تجویز فرمائیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا، بے شک۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تو یقینا تمہاری جانیں اور تمہارے مال اور تمہاری آبرو تمہارے درمیان اسی طرح حرام ہیں جس طرح آج کے دن کی حرمت تمہارے اس مہینے اور اس شہر میں ہے۔ پس جو شخص حاضر ہے اسے چاہیے کہ غائب کو یہ ( بات ) پہنچا دے، کیونکہ ایسا ممکن ہے جو شخص یہاں موجود ہے وہ ایسے شخص کو یہ خبر پہنچائے، جو اس سے زیادہ ( حدیث کا ) یاد رکھنے والا ہو۔


    تشریح : اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ضرورت کے وقت امام خطیب یا محدث یا استاد سواری پر بیٹھے ہوئے بھی خطبہ دے سکتا ہے، وعظ کہہ سکتا ہے۔ شاگردوں کے کسی سوال کوحل کر سکتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ شاگرد کو چاہئیے کہ استاد کی تشریح و تفصیل کا انتظار کرے اور خودجواب دینے میں عجلت سے کام نہ لے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض شاگرد فہم اور حفظ میں اپنے استادوں سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں۔ یہ چیز استاد کے لیے باعث مسرت ہونی چاہئیے۔ یہ حدیث ان اسلامی فلاسفروں کے لیے بھی دلیل ہے جو شرعی حقائق کو فلسفیانہ تشریح کے ساتھ ثابت کرتے ہیں۔ جیسے کہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے اپنی مشہور کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں احکام شرع کے حقائق وفوائد بیان کرنے میں بہترین تفصیل سے کام لیا ہے۔

    توحید ڈاٹ کام - کتاب و سنت کی پکار
    http://www.tohed.com/

  9. #9
    Student sudes_102's Avatar
    Join Date
    Jul 2009
    Location
    Islamabad
    Posts
    1,521

    Re: Sahi Bukhari, Kitab ul ilm {کتاب علم}

    صحیح بخاری -> کتاب العلم
    باب : اس بیان میں کہ علم ( کا درجہ ) قول و عمل سے پہلے ہے

    حدیث:68


    لقول الله تعالى ‏{‏فاعلم أنه لا إله إلا الله‏}‏ فبدأ بالعلم، وأن العلماء هم ورثة الأنبياء ـ ورثوا العلم ـ من أخذه أخذ بحظ وافر، ومن سلك طريقا يطلب به علما سهل الله له طريقا إلى الجنة‏.‏ وقال جل ذكره ‏{‏إنما يخشى الله من عباده العلماء‏}‏ وقال ‏{‏وما يعقلها إلا العالمون‏}‏ ‏{‏وقالوا لو كنا نسمع أو نعقل ما كنا في أصحاب السعير‏}‏‏.‏ وقال ‏{‏هل يستوي الذين يعلمون والذين لا يعلمون‏}‏‏.‏ وقال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ من يرد الله به خيرا يفقهه في الدين، وإنما العلم بالتعلم‏"‏‏. ‏ وقال أبو ذر لو وضعتم الصمصامة على هذه وأشار إلى قفاه ـ ثم ظننت أني أنفذ كلمة سمعتها من النبي صلى الله عليه وسلم قبل أن تجيزوا على لأنفذتها‏.‏ وقال ابن عباس ‏{‏كونوا ربانيين‏}‏ حكماء فقهاء‏.‏ ويقال الرباني الذي يربي الناس بصغار العلم قبل كباره‏.‏


    صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس شخص کے ساتھ اللہ بھلائی کرنا چاہتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے۔ اور علم تو سیکھنے ہی سے آتا ہے۔ اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ اگر تم اس پر تلوار رکھ دو، اور اپنی گردن کی طرف اشارہ کیا، اور مجھے گمان ہو کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو ایک کلمہ سنا ہے، گردن کٹنے سے پہلے بیان کر سکوں گا تو یقینا میں اسے بیان کر ہی دوں گا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ حاضر کو چاہیے کہ ( میری بات ) غائب کو پہنچا دے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ آیت کونوا ربانیین سے مراد حکماء، فقہاء، علماء ہیں۔ اور ربانی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو بڑے مسائل سے پہلے چھوٹے مسائل کو سمجھا کر لوگوں کی ( علمی ) تربیت کرے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاعلم انہ لا الہ الا اللہ ( آپ جان لیجیئے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ) تو ( گویا ) اللہ تعالیٰ نے علم سے ابتدا فرمائی اور ( حدیث میں ہے ) کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ ( اور ) پیغمبروں نے علم ( ہی ) کا ورثہ چھوڑا ہے۔ پھر جس نے علم حاصل کیا اس نے ( دولت کی ) بہت بڑی مقدار حاصل کر لی۔ اور جو شخص کسی راستے پر حصول علم کے لیے چلے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کی راہ آسان کر دیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ اور ( دوسری جگہ ) فرمایا اور اس کو عالموں کے سوا کوئی نہیں سمجھتا۔ اور فرمایا، اور ان لوگوں ( کافروں ) نے کہا اگر ہم سنتے یا عقل رکھتے تو جہنمی نہ ہوتے۔ اور فرمایا، کیا علم والے اور جاہل برابر ہیں؟ اور رسول اللہ


    بچوں کو قاعدہ،پارہ پڑھانے والے حضرات بھی اسی میں داخل ہیں۔


    جاری ہے ابھی رپلائے مت کیجیے


    توحید ڈاٹ کام - کتاب و سنت کی پکار
    http://www.tohed.com/

  10. #10
    Student sudes_102's Avatar
    Join Date
    Jul 2009
    Location
    Islamabad
    Posts
    1,521

    Re: Sahi Bukhari, Kitab ul ilm {کتاب علم}

    صحیح بخاری -> کتاب العلم
    باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کی رعایت کرتے ہوئے نصیحت فرمانے اور تعلیم دینے کے بیان میں تا کہ انھیں ناگوار نہ ہو


    حدیث نمبر68 :



    حدثنا محمد بن يوسف، قال أخبرنا سفيان، عن الأعمش، عن أبي وائل، عن ابن مسعود، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يتخولنا بالموعظة في الأيام، كراهة السآمة علينا‏.‏
    ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، انھیں سفیان نے اعمش سے خبر دی، وہ ابووائل سے روایت کرتے ہیں، وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نصیحت فرمانے کے لیے کچھ دن مقرر کر دیئے تھے اس ڈر سے کہ کہیں ہم کبیدہ خاطر نہ ہو جائیں۔


    حدیث نمبر : 69
    حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا شعبة، قال حدثني أبو التياح، عن أنس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ يسروا ولا تعسروا، وبشروا ولا تنفروا‏"‏‏. ‏
    ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے شعبہ نے، ان سے ابوالتیاح نے، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، آسانی کرو اور سختی نہ کرو اور خوش کرو اور نفرت نہ دلاؤ۔


    معلّمین واساتذہ وواعظین وخطباء اور مفتی حضرات سب ہی کے لیے یہ ارشاد واجب العمل ہے۔
    توحید ڈاٹ کام - کتاب و سنت کی پکار
    http://www.tohed.com/

  11. #11
    Student sudes_102's Avatar
    Join Date
    Jul 2009
    Location
    Islamabad
    Posts
    1,521

    Re: Sahi Bukhari, Kitab ul ilm {کتاب علم}

    صحیح بخاری -> کتاب العلم
    باب : اس بارے میں کہ کو ئی شخص اہل علم کے لیے کچھ دن مقرر کر دے ( تو یہ جائز ہے ) یعنی استاد اپنے شاگردوں کے لیے اوقات مقرر کر سکتا ہے۔

    حدیث نمبر : 70

    حدثنا عثمان بن أبي شيبة، قال حدثنا جرير، عن منصور، عن أبي وائل، قال كان عبد الله يذكر الناس في كل خميس، فقال له رجل يا أبا عبد الرحمن لوددت أنك ذكرتنا كل يوم‏.‏ قال أما إنه يمنعني من ذلك أني أكره أن أملكم، وإني أتخولكم بالموعظة كما كان النبي صلى الله عليه وسلم يتخولنا بها، مخافة السآمة علينا‏.‏



    ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ان سے جریر نے منصور کے واسطے سے نقل کیا، وہ ابووائل سے روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ ( ابن مسعود ) رضی اللہ عنہ ہر جمعرات کے دن لوگوں کو وعظ سنایا کرتے تھے۔ ایک آدمی نے ان سے کہا اے ابوعبدالرحمن! میں چاہتا ہوں کہ تم ہمیں ہر روز وعظ سنایا کرو۔ انھوں نے فرمایا، تو سن لو کہ مجھے اس امر سے کوئی چیز مانع ہے تو یہ کہ میں یہ بات پسند نہیں کرتا کہ کہیں تم تنگ نہ ہو جاؤ اور میں وعظ میں تمہاری فرصت کا وقت تلاش کیا کرتا ہوں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس خیال سے کہ ہم کبیدہ خاطر نہ ہو جائیں، وعظ کے لیے ہمارے اوقات فرصت کا خیال رکھتے تھے۔






    تشریح : احادیث بالا اور اس باب سے مقصود اساتذہ کو یہ بتلانا ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کے ذہن کا خیال رکھیں، تعلیم میں اس قدر انہماک اور شدت صحیح نہیں کہ طلباءکے دماغ تھک جائیں اور وہ اپنے اندر بے دلی اور کم رغبتی محسوس کرنے لگ جائیں۔ اسی لیے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنے درس ومواعظ کے لیے ہفتہ میں صرف جمعرات کا دن مقرر کررکھاتھا۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ نفل عبادت اتنی نہ کی جائے کہ دل میں بے رغبتی اور ملال پیدا ہو۔ بہرحال اصول تعلیم یہ ہے کہ یسروا والاتعسروا وبشروا ولاتنفروا۔

    جاری ہے ابھی رپلائے مت کیجیے


    توحید ڈاٹ کام - کتاب و سنت کی پکار
    http://www.tohed.com/

  12. #12
    Student sudes_102's Avatar
    Join Date
    Jul 2009
    Location
    Islamabad
    Posts
    1,521

    Re: Sahi Bukhari, Kitab ul ilm {کتاب علم}

    صحیح بخاری -> کتاب العلم
    باب : اس بارے میں کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے

    حدیث نمبر : 71

    حدثنا سعيد بن عفير، قال حدثنا ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، قال قال حميد بن عبد الرحمن سمعت معاوية، خطيبا يقول سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول ‏"‏ من يرد الله به خيرا يفقهه في الدين، وإنما أنا قاسم والله يعطي، ولن تزال هذه الأمة قائمة على أمر الله لا يضرهم من خالفهم حتى يأتي أمر الله‏"‏‏. ‏


    ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، ان سے وہب نے یونس کے واسطے سے نقل کیا، وہ ابن شہاب سے نقل کرتے ہیں، ان سے حمید بن عبدالرحمن نے کہا کہ میں نے معاویہ سے سنا۔ وہ خطبہ میں فرما رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرے اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے اور میں تو محض تقسیم کرنے والا ہوں، دینے والا تو اللہ ہی ہے اور یہ امت ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گی اور جو شخص ان کی مخالفت کرے گا، انھیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم ( قیامت ) آ جائے ( اور یہ عالم فنا ہو جائے )




    تشریح : ناسمجھ لوگ جو مدعیان علم اور واعظ ومرشدبن جائیں نیم حکیم خطرہ جان، نیم ملاخطرہ ایمان ان ہی کے حق میں کہا گیا ہے۔



    جاری ہے ابھی رپلائے مت کیجیے

    توحید ڈاٹ کام - کتاب و سنت کی پکار
    http://www.tohed.com/

  13. #13
    Student sudes_102's Avatar
    Join Date
    Jul 2009
    Location
    Islamabad
    Posts
    1,521

    Re: Sahi Bukhari, Kitab ul ilm {کتاب علم}

    صحیح بخاری -> کتاب العلم
    باب : علم میں سمجھداری سے کام لینے کے بیان میں

    حدیث نمبر : 72


    حدثنا علي، حدثنا سفيان، قال قال لي ابن أبي نجيح عن مجاهد، قال صحبت ابن عمر إلى المدينة فلم أسمعه يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا حديثا واحدا، قال كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم فأتي بجمار فقال ‏"‏ إن من الشجر شجرة مثلها كمثل المسلم‏"‏‏. ‏ فأردت أن أقول هي النخلة، فإذا أنا أصغر القوم فسكت، قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هي النخلة‏"‏‏. ‏

    ہم سے علی ( بن مدینی ) نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے ابن ابی نجیح نے مجاہد کے واسطے سے نقل کیا، وہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مدینے تک رہا، میں نے ( اس ) ایک حدیث کے سوا ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی اور حدیث نہیں سنی، وہ کہتے تھے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور کا ایک گابھا لایا گیا۔ ( اسے دیکھ کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ درختوں میں ایک درخت ایسا ہے اس کی مثال مسلمان کی طرح ہے۔ ( ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ سن کر ) میں نے ارادہ کیا کہ عرض کروں کہ وہ ( درخت ) کھجور کا ہے مگر چونکہ میں سب میں چھوٹا تھا اس لیے خاموش رہا۔ ( پھر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمایا کہ وہ کھجور ہے۔



    تشریح : اس حدیث کے آخر میں جو فرمایا، اس کا مطلب دوسری حدیث کی وضاحت کے مطابق یہ ہے کہ امت کس قدر بھی گمراہ ہوجائے مگر اس میں ایک جماعت حق پر قائم رہے گی، اس کی لوگ کتنی بھی مخالفت کریں مگر اس جماعت حقہ کو اس مخالفت کی کچھ پر وا نہ ہوگی، اس جماعت سےوہ جماعت مراد ہے۔ جس نے تقلید جامد سے ہٹ کر صرف کتاب وسنت کو اپنا مدار عمل قرار دیا ہے۔
    توحید ڈاٹ کام - کتاب و سنت کی پکار
    http://www.tohed.com/

  14. #14
    Student sudes_102's Avatar
    Join Date
    Jul 2009
    Location
    Islamabad
    Posts
    1,521

    Re: Sahi Bukhari, Kitab ul ilm {کتاب علم}

    صحیح بخاری -> کتاب العلم
    باب : علم و حکمت میں رشک کرنے کے بیان میں

    وقال عمر تفقهوا قبل أن تسودوا
    صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہ نے بڑھاپے میں بھی دین سیکھا۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ سردار بننے سے پہلے سمجھ دار بنو ( یعنی دین کا علم حاصل کرو ) اور ابوعبداللہ ( حضرت امام بخاری رحمہ اللہ ) فرماتے ہیں کہ سردار بنائے جانے کے بعد بھی علم حاصل کرو، کیونکہ رسول اللہ کے اصحاب رضی اللہ عنہ نے بڑھاپے میں بھی دین سیکھا۔

    حدیث نمبر : 73

    حدثنا الحميدي، قال حدثنا سفيان، قال حدثني إسماعيل بن أبي خالد، على غير ما حدثناه الزهري، قال سمعت قيس بن أبي حازم، قال سمعت عبد الله بن مسعود، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لا حسد إلا في اثنتين رجل آتاه الله مالا فسلط على هلكته في الحق، ورجل آتاه الله الحكمة، فهو يقضي بها ويعلمها‏"‏‏. ‏


    ہم سے حمیدی نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے دوسرے لفظوں میں بیان کیا، ان لفظوں کے علاوہ جو زہری نے ہم سے بیان کئے، وہ کہتے ہیں میں نے قیس بن ابی حازم سے سنا، انھوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ حسد صرف دو باتوں میں جائز ہے۔ ایک تو اس شخص کے بارے میں جسے اللہ نے دولت دی ہو اور وہ اس دولت کو راہ حق میں خرچ کرنے پر بھی قدرت رکھتا ہو اور ایک اس شخص کے بارے میں جسے اللہ نے حکمت ( کی دولت ) سے نوازا ہو اور وہ اس کے ذریعہ سے فیصلہ کرتا ہو اور ( لوگوں کو ) اس حکمت کی تعلیم دیتا ہو۔


    تشریح : شارحین حدیث لکھتے ہیں : اعلم ان المراد بالحسد، ہہنا الغبطۃ فان الحسد مذموم قدبین الشرع باوضح بیان وقد یجی الحسد بمعنی الغبطۃ وان کان قلیلا۔ یعنی حدیث ( 73 ) میں حسد کے لفظ سے غبطہ یعنی رشک کرنا مراد ہے کیونکہ حسد بہرحال مذموم ہے۔ جس کی شرع نے کافی مذمت کی ہے۔ کبھی حسد غبطہ رشک کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے بہت سے نافہم لوگ حضرت امام بخاری سے حسدکرکے ان کی توہین وتخفیف کے درپے ہیں، ایسا حسد کرنا مومن کی شان نہیں۔ اللہم احفظنا آمین۔
    توحید ڈاٹ کام - کتاب و سنت کی پکار
    http://www.tohed.com/

Similar Threads

  1. Replies: 11
    Last Post: 30th April 2011, 03:34 AM
  2. Replies: 11
    Last Post: 29th April 2010, 10:44 PM
  3. اللہ تعالئ کا بندے کے ساتھ معا ملہ
    By iqbalkuwait in forum Hadith-o-Sunnat
    Replies: 1
    Last Post: 25th March 2010, 08:56 PM
  4. Replies: 3
    Last Post: 11th March 2009, 08:25 PM

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •