Results 1 to 2 of 2

روزہ دار صبح کو جنابت کی حالت میں اٹھے تو کی&#

This is a discussion on روزہ دار صبح کو جنابت کی حالت میں اٹھے تو کی&# within the Hadith-o-Sunnat forums, part of the Mera Deen Islam category; حدیث نمبر: 1925 - 1926 حدثنا عبد الله بن مسلمة،‏‏‏‏ عن مالك،‏‏‏‏ عن سمى،‏‏‏‏ مولى أبي بكر بن عبد الرحمن ...

  1. #1
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    روزہ دار صبح کو جنابت کی حالت میں اٹھے تو کی&#



    حدیث نمبر: 1925 - 1926

    حدثنا عبد الله بن مسلمة،‏‏‏‏ عن مالك،‏‏‏‏ عن سمى،‏‏‏‏ مولى أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام بن المغيرة أنه سمع أبا بكر بن عبد الرحمن،‏‏‏‏ قال كنت أنا وأبي،‏‏‏‏ حين دخلنا على عائشة وأم سلمة ح‏. حدثنا أبو اليمان: أخبرنا شعيب،‏‏‏‏ عن الزهري قال: أخبرني أبو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام: أن أباه عبد الرحمن أخبر مروان: أن عائشة وأم سلمة أخبرتاه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يدركه الفجر،‏‏‏‏ وهو جنب من أهله،‏‏‏‏ ثم يغتسل ويصوم. وقال مروان لعبد الرحمن بن الحارث: أقسم بالله لتقرعن بها أبا هريرة،‏‏‏‏ ومروان يومئذ على المدينة،‏‏‏‏ فقال أبو بكر: فكره ذلك عبد الرحمن،‏‏‏‏ ثم قدر لنا أن نجتمع بذي الحليفة،‏‏‏‏ وكانت لأبي هريرة هنالك أرض،‏‏‏‏ فقال عبد الرحمن لأبي هريرة: إني ذاكر لك أمرا،‏‏‏‏ ولولا مروان أقسم علي فيه لم أذكره لك،‏‏‏‏ فذكر قول عائشة وأم سلمة،‏‏‏‏ فقال: كذلك حدثني الفضل بن عباس،‏‏‏‏ وهو أعلم. وقال همام وابن عبد الله بن عمر،‏‏‏‏ عن أبي هريرة: كان النبي صلى الله عليه وسلم يأمر بالفطر،‏‏‏‏ والأول أسند.


    ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام بن مغیرہ کے غلام سمی نے بیان کیا، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں اپنے باپ کے ساتھ عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ) اور ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے خبر دی، انہیں ان کے والد عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہیں مروان نے خبر دی اور انہیں عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ (بعض مرتبہ) فجر ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل کے ساتھ جنبی ہوتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے ہوتے تھے، اور مروان بن حکم نے عبدالرحمٰن بن حارث سے کہا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو تم یہ حدیث صاف صاف سنا دو۔ (کیونکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا فتوی اس کے خلا ف تھا) ان دنوں مروان، امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے مدینہ کا حاکم تھا، ابوبکرنے کہا کہ عبدالرحمٰن نے اس بات کو پسند نہیں کیا۔ اتفاق سے ہم سب ایک مرتبہ ذو الحلیفہ میں جمع ہو گئے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وہاں کوئی زمین تھی، عبدالرحمٰن نے ان سے کہا کہ آپ سے ایک بات کہوں گا اور اگر مروان نے اس کی مجھے قسم نہ دی ہوتی تو میں کبھی آپ کے سامنے اسے نہ چھیڑتا۔ پھر انہوں نے عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما کی حدیث ذکر کی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا (میں کیا کروں) کہا کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ حدیث بیان کی تھی (اور وہ زیادہ جاننے والے ہیں) کہ ہمیں ہمام اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے صاحبزادے نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے شخص کو جو صبح کے وقت جنبی ہونے کی حالت میں اٹھا ہو افطار کا حکم دیتے تھے لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت زیادہ معتبر ہے۔

    کتاب الصیام
    صحیح بخاری



    تشریح

    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فضل کی حدیث سن کر اس کے خلاف فتوی دیا تھا۔ مروان کا یہ مطلب تھا کہ عبدالرحمن ان کو پریشان کریں لیکن عبدالرحمن نے یہ منظور نہ کیا اور خاموش رہے پھر موقع پاکر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس مسئلہ کو ذکر کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما کی حدیث سن کر کہا کہ وہ خوب جانتی ہیں گویا اپنے فتوی سے رجوع کیا۔

    ( وحیدی )

    علامہ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے بہت سے فوائد نکلتے ہیں مثلاً علماءکا امراءکے ہاں جاکر علمی مذاکرات کرنا، منقولات میں اگر ذرا بھی شک ہو جائے تو اپنے سے زیادہ علم رکھنے والے عالم کی طرف رجوع کرکے اس سے امر حق معلوم کرنا، ایسے امور جن پر عورتوں کو بہ نسبت مردوں کے زیادہ اطلاع ہوسکتی ہے، کی بابت عورتوں کی روایات کو مردوں کی مرویات پر ترجیح دینا، اسی طرح بالعکس جن امور پر مردوں کو زیادہ اطلاع ہوسکتی ہے ان کے لیے مردوں کی روایات کو عورتوں کی مرویات پر ترجیح دینا، بہرحال ہر امر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداءکرنا، جب تک اس امر کے متعلق خصوصیت نبوی نہ ثابت ہو اور یہ کہ اختلاف کے وقت کتاب و سنت کی طرف رجوع کرنا اور خبر واحد مر دسے مروی ہو یا عورت سے اس کا حجت ہونا، یہ جملہ فوائد اس حدیث سے نکلتے ہیں اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے، جنہوں نے حق کا اعتراف فرما کر اس کی طرف رجوع کیا۔

    ( فتح الباری
    )

    مجھے اللہ کافی ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، میرا بھروسہ اسی پر ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے

  2. #2
    iTT Student
    Join Date
    Nov 2010
    Location
    Karachi
    Posts
    3

    Re: روزہ دار صبح کو جنابت کی حالت میں اٹھے تو ک®

    جو شخص ارادے کا پکا ہو، وہ دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال سکتا ہے۔ گوئٹے

Similar Threads

  1. Replies: 8
    Last Post: 30th June 2013, 01:56 AM
  2. Replies: 0
    Last Post: 2nd September 2012, 02:01 PM
  3. Replies: 0
    Last Post: 14th February 2012, 05:09 AM
  4. Replies: 2
    Last Post: 26th January 2012, 02:47 AM
  5. Replies: 0
    Last Post: 17th January 2012, 01:27 AM

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •