اﷲ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو تمام روحانی اور جسمانی بیماریوں سے شفا نصیب
فرمائے کالم کا
آغازشِفا کی دعا سے ہوا. بیمار تو ہر آدمی ہوتا ہی رہتا ہے. اور آج کل
تو بیماریوں کا میلہ لگا ہوا ہے اور ڈاکٹر صاحبان خوب کما رہے ہیں. دنیا جب
سے وجود میں آئی ہے اس میں سب سے اچھی صحت ہمارے آقامدنی کی تھی. اور آپ
نے بہترین علاجالحجامہ یعنی پچھنے لگانے کو ارشاد فرمایا. ابھی تھوڑی
دیر پہلے میں نے علامہ ابن قیم(رح) کی معروف کتابزادالمعاد
میںالحجامہ کا باب پڑھا تو حیران رہ گیا. سبحان اﷲ وبحمدہ سبحان اﷲ
العظیم. اﷲ تعالیٰ نے اس آسان سے علاج میں کتنی بے شمار بیماریوں سے شفا
رکھی ہے. علامہ ابن قیم(رح) نے بہت سی خوفناک بیماریوں کے نام گنوائے ہیں
کہ وہ پچھنے لگوانے سے ٹھیک ہو جاتی ہیں. الحجامہ کہتے ہیں جسم کے
مختلف حصوں کی کھال سے تھوڑا سا خون نکالنا. بیماریاں اسی فاسد خون کے ساتھ
نکل جاتی ہیں اور جسم صحت مند اور توانا ہو جاتا ہے. ہمارے آقا و محبوب
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم بہت اہتمام کے ساتھ پچھنے لگواتے تھے. یہاں تک کہ روزے اور احرام کی
حالت میں بھی آپ نے پچھنے لگوائے. اِدھر ہمیں دیکھیں کہ ہم ساری زندگی اس
علاج اور نعمت سے محروم رہے. کچھ دن پہلے اچانک اِس علاج کی طرف توجہ ہوئی.
حالانکہ جب سے دینی تعلیم حاصل کی ہےالحجامہ کے بارے میں پڑھتے سنتے
رہے ہیں. اب اﷲ تعالیٰ نے توجّہ نصیب فرمائی تو سوچا کہمرکز رُشد و
انواربہاولپور میں اس سنت علاج کا احیا کیا جائے. سیکھنے کے لئے چند
ساتھی متعین ہوئے اور ایک ماہر استاد کا انتظام بھی ہو گیا. صرف تین دن کے
آسان سے کورس میں اب ماشا اﷲ چار ساتھی یہفن سیکھ چکے ہیں اور درجنوں
افراد کے جسم کو فاسد خون سے پاک کر چکے ہیں.ویسے بھی ہم لوگ کافی عرصہ سے
یہی کام کر رہے تھے. جہاد بھی تو پورے عالم کیالحجامہہے. گندے خون کو
نکال کر دنیا کو کفر، شرک، فتنے اور ظلم سے پاک کیا جاتا ہے. مکہ مکرمہ کا
گندا خون جب نکال کر بدر کے کنویں میں ڈال دیا گیا تو. مکہ مکرمہ کی صحت
بحال ہونا شروع ہوئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے مکہ مکرمہ پھر پورے عالم
کامرکز ہدایت بن گیا. خیر یہ الگ موضوع ہے . آپ میں سے بھی کئی لوگ
بیمار ہوں گے. الحجامہ کے ذریعہ جسمانی امراض کے علاوہ نظربد، عین حاسد،
اور جادو کا علاج بھی ہوجاتا ہے.ہمارے محبوب اور کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہمیں
جسم کے وہ مقامات بتا دیئے ہیں جہاں بیماریوں کے جراثیم کا چھتّہ بنتا ہے.
بس وہاں سے خون نکالیں تو تمام بیماریوں کی جڑیں کٹ جاتی ہیں. احادیث
مبارکہ میںالحجامہ کے مقامات، اس کے لئے مناسب تاریخیں. اور مناسب دنوں
تک کا تذکرہ ملتا ہے. بندہ نے اپنے ایک فاضل ساتھی سے عرض کیا کہالحجامہ
کے بارے میں کچھ احادیث و روایات جمع کر دیں. اﷲ تعالیٰ اُن کو جزائے خیر
نصیب فرمائے کہ انہوں نے فوری طور پر تیس روایات جمع کر دی ہیں. آئیے ہم سب
ان روایات کو پڑھیں اور اپنے محبوب ِقلب آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارک کے ایک اور
پہلو کو دیکھیں.اور پھر صبح شام، دن رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلمکی آل پر درود و
سلام بھیجیں.



الحجامہ چند احادیث مبارکہ

﴿۱﴾ حضرت ابن عباس(رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا شفا تین
چیزوں میں ہے پچھنا لگوانے، شہد پینے اور آگ سے داغنے میں، اور میں اپنی
امت کو آگ سے داغنے سے منع کرتا ہوں۔﴿بخاری ص ۸۴۸ ج ۲/زاد المعاد ص ۰۵۵ طبع
بیروت﴾

﴿۲﴾ حضرت ابن عباس(رض) سے مروی ہے کہ آپ نے ﴿ایک مرتبہ﴾ پچھنا لگوایا
درانحالیکہ آپ روزہ سے تھے۔﴿بخاری۹۴۸ ج ۲/ زادالمعاد ص ۴۵۵ بیروت﴾

﴿۳﴾ حضرت ابن عباس(رض) سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالتِ احرام میں پچھنا
لگوایا۔﴿بخاری ص ۹۴۸ ج ۲﴾

﴿۴﴾ حضرت انس(رض) سے مروی ہے ، آپ(رض) سے پچھنا لگانے کی اجرت کے بارے
پوچھا گیا﴿ کہ جائز ہے یا نہیں؟﴾ آپ(رض) نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا
لگوایا تھا آنحضور کو ابو طیبہ نے پچھنا لگایا تھا۔ آپ نے انہیں دو صاع
اناج﴿اجرت﴾ میں دیا تھا اور آپ نے ان کے آقاؤں سے گفتگو کی تو انہوں نے ان
سے وصول کی جانے والی لگان میں کمی کر دی تھی۔ اور آنحضور نے فرمایا
بہترین علاج جو تم کرتے ہو پچھنا لگانا ہے. ﴿بخاری ص ۹۴۸ ج ۲، مسلم ص۲۲ ج
۲، زادالمعاد ص ۱۵۵ طبع بیروت﴾

﴿۵﴾ حضرت جابر بن عبداﷲ (رض) مُقَنَّّع کی عیادت کے لئے تشریف لائے۔پھر ان
سے کہا جب تک تم پچھنا نہ لگوا لو گے میں یہاں سے نہیں جاؤنگا۔ میں نے
رسول اﷲ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس میں شفا ہے۔﴿بخاری ص ۹۴۸ ج ۲﴾

﴿۶﴾ حضرت ابن عباس(رض) سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر مبارک میں پچھنا
لگوایا۔﴿بخاری ص ۹۴۸ ج ۲﴾

﴿۷﴾ حضرت جابر(رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ
اگر تمہاری دوائیوں میں سے کسی میں خیر ہے تو شہد پینے میں، پچھنا لگوانے
میں اور آگ سے داغنے میں ہے لیکن میں آگ سے داغ کر علاج کرنے کو پسند نہیں
کرتا۔﴿بخاری ص۰۵۸ ج۲﴾

﴿۸﴾ حضرت انس(رض) فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم گردن کے دونوں جانب کی رگوں اور
شانوں کے درمیان پچھنے لگوایا کرتے تھے اور یہ عمل سترہ، انیس یا اکیس
تاریخ کو کیا کرتے تھے۔﴿ترمذی ص ۵۲ ج۲/ زادالمعاد ص ۳۵۵ بیروت﴾

﴿۹﴾ حضرت ابن مسعود(رض) فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج کا قصہ سناتے
ہوئے فرمایا کہ آپ فرشتوں کے جس گروہ پر بھی گزرتے وہ یہی کہتا کہ اپنی
امت کو پچھنے لگوانے کا حکم کیجئے گا۔﴿ترمذی ص ۵۲ ج ۲﴾

﴿۰۱﴾ حضرت عکرمہ(رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس(رض) کے پاس تین غلام تھے
جو پچھنے لگاتے تھے، ان میں سے دو تو اجرت پر کام کیا کرتے تھے اور ایک ان
کو اور ان کے گھر والوں کو پچھنے لگایا کرتا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت
ابن عباس(رض) رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل فرماتے تھے کہ آپ نے فرمایا: پچھنے
لگانے والا غلام کتنا بہترین ہے، خون کو لے جاتا ہے، پیٹھ کو ہلکا کر دیتا
ہے اور نظر کو صاف کر دیتا ہے۔ اور آپ(رض) نے یہ بھی فرمایا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلممعراج پر تشریف لے گئے تو فرشتوں کے جس گروہ سے بھی گزر ہوا انہوں نے یہی
کہا کہ حجامت ضرور کیا کریں اور آپ نے فرمایا پچھنے لگانے کے لئے بہترین
دن سترہ، انیس اور اکیس کے دن ہیں... اور یہ بھی فرمایا کہ بہترین علاج
سعوط لدود اور پچھنے لگانا ہے... ﴿ترمذی ص۵۲ ج۲/ زادالمعاد ص ۱۵۵ بیروت
﴿۱۱﴾ حضرت ابو ہریرہ(رض) سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم
لوگوں کی تمام ادویات میں سے کوئی دوا بہتر ہے تو وہ حجامت یعنی پچھنے
لگوانا ہے۔﴿ابوداؤد ص ۳۸۱ ج ۲﴾

﴿۲۱﴾ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ حضرت سلمیٰ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں جو شخص بھی رسول
اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سردرد کی شکایت کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پچھنے لگوانے کا فرماتے
اور جو شخص پاؤں کے درد کی شکایت کرتا اسے فرماتے ان کو مہندی
لگاؤ....!﴿ابو داؤد ص ۳۸۱ ج ۲﴾

﴿۳۱﴾ حضرت ابو کبشہ انماری(رض) سے مروی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سرمبارک کی مانگ
میں اور دونوں کندھوں کے درمیان فصد لگواتے ، اور ارشاد فرماتے جو شخص ان
جگہوں کا خون نکلوائے تو اس کو کسی مرض کے لئے کوئی دوا استعمال نہ کرنا
نقصان نہیں پہنچائے گا۔ ﴿ابو داؤد ص ۳۸۱ ج ۲/ ابن ماجہ ص ۹۴۲﴾

﴿۴۱﴾ حضرت ابو ہریرہ(رض) سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے
سترہ، انیس اور اکیس تاریخ کو سینگی لگوائی اس کے لئے یہ ہر مرض سے شفا ہو
گی۔﴿ ابو داؤد ص ۴۸۱ ج۲/ زاد المعاد ص ۳۵۵ بیروت﴾

﴿۵۱﴾ حضرت جابر(رض) سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اُبی(رض) کے پاس ایک طبیب
بھیجا چنانچہ اس طبیب نے ﴿پچھنے لگانے کیلئے﴾ ان کی ایک رگ کاٹی۔﴿ابو داؤد
ص ۴۸۱ ج ۲﴾

﴿۶۱﴾ حضرت جابر(رض) سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ران مبارک کے بالائی
حصہ پر ہڈی میں درد کی بنا پر پچھنے لگوائے۔﴿ابو داؤد ص ۴۸۱ ج۲/ زادالمعاد
ص ۲۵۵ بیروت﴾

﴿۷۱﴾ حضرت ابو ہریرہ(رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو علاج
تم کرتے ہو ان میں سے اگر کسی میں بہتری ہے تو وہ پچھنے لگانے میں ہے۔﴿ابن
ماجہ ص ۸۴۲﴾

﴿۸۱﴾ حضرت ابن عباس(رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شب معراج
میں فرشتوں کی جس جماعت پر بھی میرا گزر ہوا ہر ایک نے مجھے یہی کہا اے
محمد صلی اللہ علیہ وسلم! پچھنے لگانے کا اہتمام کیجئے۔﴿ ابن ماجہ ۸۴۲﴾

﴿۹۱﴾ حضرت ابن عباس(رض) سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اچھا ہے
پچھنے لگانے والا غلام۔ خون نکال دیتا ہے، کمر ہلکی کر دیتا ہے اور بینائی
کو روشن کر دیتا ہے۔ ﴿ ابن ماجہ ۸۴۲﴾

﴿۰۲﴾ حضرت انس بن مالک(رض) سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شب
معراج میں جس جماعت پر بھی میرا گذرہوا اس نے یہی کہا اے محمد اپنی امت کو
پچھنے لگانے کا حکم فرمائیے۔﴿ابن ماجہ ص۸۴۲/ زادالمعاد ص ۱۵۵﴾

﴿۱۲﴾ حضرت جابر(رض) سے روایت ہے کہ ام المؤمنین حضرت سلمہ(رض) نے نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنے لگوانے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طیبہ کو حکم فرمایا کہ
انہیں پچھنے لگاؤ۔ راوی کہتے ہیں کہ ابو طیبہ سیدہ ام سلمہ(رض) کے رضاعی
بھائی تھے یا کم سن لڑکے تھے۔﴿ابن ماجہ ص ۸۴۲﴾

﴿۲۲﴾ حضرت عبداﷲ بن بحینہ(رض) فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے لحی جمل﴿نامی
مقام﴾ میں بحالت احرام اپنے سر مبارک کے وسط میں پچھنے لگوائے۔﴿ابن ماجہ ص
۸۴۲/ زادالمعاد ص ۲۵۵﴾

﴿۳۲﴾ حضرت علی(رض) سے مروی ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے
پاس، گردن کے دونوں جانب کی رگوں اور کندھوں کے درمیان پچھنے لگانے کا حکم
لے کر آئے۔﴿ابن ماجہ ص ۹۴۲/ زادالمعاد ص ۲۵۵﴾

﴿۴۲﴾ حضرت انس(رض) فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن کے دونوں جانب کی رگوں
اور کندھوں کے درمیان پچھنے لگوائے۔ ﴿ابن ماجہ ص ۹۴۲ / زادالمعاد ص ۲۵۵﴾

﴿۵۲﴾ حضرت جابر(رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھوڑے سے کھجور کے ایک
تنے پر گرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک میں موچ آگئی۔ وکیع فرماتے ہیں مطلب یہ
ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی میں درد کی وجہ سے پچھنے لگوائے۔ ﴿ابن ماجہ ص ۹۴۲﴾

﴿۶۲﴾ حضرت انس بن مالک(رض) سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو
پچھنے لگانا چاہے وہ سترہ یا انیس یا اکیس تاریخ کو لگائے تاکہ ایسا نہ ہو
کہ خون کا جوش تم میں سے کسی کو ہلاک کر دے۔﴿ابن ماجہ ص ۹۴۲/ زادالمعاد ص
۳۵۵ بیروت﴾

﴿۷۲﴾ حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر(رض) نے فرمایا اے نافع! میرے
خون میں جوش ہو گیا ہے اس لئے کوئی پچھنے لگانے والا تلاش کرو، اگر ہو سکے
تو نرم خو آدمی کو لانا عمر رسیدہ ، بوڑھا یا کم سن بچہ نہ لانا۔ اس لئے کہ
میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا نہار منہ پچھنے لگوانا بہتر ہے اور اس
میں شفا ہے اور برکت ہے۔ یہ عقل بڑھاتا ہے، حافظ تیز کرتا ہے۔ اﷲ برکت دے
جمعرات کو پچھنے لگوایا کرو۔ اور بدھ، جمعہ، ہفتہ اور اتوار کے روز قصدا
پچھنے مت لگوایا کرو ﴿اتفاقاً ایسا ہو جائے تو کوئی حرج نہیں﴾ اور پیر اور
منگل کو پچھنے لگوایا کرو اس لئے کہ اسی دن اﷲ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ
السلام کو بیماری سے شفا عطائی فرمائی اور بدھ کے روز وہ بیمار ہوئے تھے۔
اور جذام اور برص ظاہر ہوا تو بدھ کے دن یا بدھ کی رات کو ظاہر ہوتا
ہے۔﴿ابن ماجہ ص ۹۴۲/ زادالمعاد ص ۴۵۵﴾

﴿۸۲﴾ حضرت ابوبکرہ(رض) سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ منگل کا
دن خون کا دن ہے اس میں ایک گھڑی ایسی آتی ہے کہ اس میں خون نہیں بند
ہوتا۔﴿ زادالمعاد ص ۴۵۵/ سنن ابی داؤد ص ۸۴۱ ج۲﴾

﴿۹۲﴾ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گُدی کے اوپر کی ہڈی کے وسط میں پچھنے ضرور
لگوایا کرو اس لئے کہ یہ پانچ بیماریوں سے شفا ہے۔﴿زادالمعاد ص ۲۵۵ بیروت﴾

﴿۰۳﴾ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گُدی سے اوپر کے گڑھے ﴿یعنی ہڈی کے اوپر﴾
میں ضرور پچھنے لگواؤ اس لئے کہ یہ بہتر﴿۲۷﴾ بیماریوں سے شفا ہے۔ ﴿
زادالمعاد ص ۲۵۵ بیروت﴾



اللھم صل علی سیدنا و مولانا محمد النبی الطَّاہر الزکیّ صلوٰۃً تُحَلُّ
بھا العُقَدُ وتُفَکُّ بھا الکُرَب وعلی الہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

ہفت روزہ القلم اخبار