مندرجہ ذیل چیزیں نماز میں مسنون ہیں،ان کو بجا لانا چاہئے تاکہ نماز کامل و مکمل ہو،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے: صَلُّوْ اکَمَا رَأَیْتُمُوْنِیْ أُصَلِّی۔۔ (بخاري بَاب الْأَذَانِ لِلْمُسَافِرِ إِذَا كَانُوا جَمَاعَةً وَالْإِقَامَةِالخ۵۹۵) یعنی اس طرح نماز پڑھو جس طرح کہ تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۔

(۱)
تکبیر تحریمہ کے وقت اپنے سر کو جھکائے بغیر سیدھا کھڑا ہونا
عن ابن جريج قال :أخبرني عبد الرحمن بن سابط أن وجه الصلاة أن يكبر الرجل بيديه ، ووجهه ، وفيه ، ويرفع رأسه شيئا حين يبتدئ ، وحين يركع ، وحين يرفع رأسه.
( مصنف عبد الرزاق باب تكبيرة الافتتاح ورفع اليدين ۶۷/۲)

(۲)
تکبیر تحریمہ سے پہلے اپنے ہاتھوں کو کانوں کے برا بر اٹھانا۔
عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ
(مسلم، بَاب اسْتِحْبَابِ رَفْعِ الْيَدَيْنِ حَذْوَ الْمَنْكِبَيْنِ مَعَ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ ۵۸۹)

(۳)
[B]دونوں ہاتھوں کے اٹھاتے وقت دونوں ہتھیلیوں اور انگلیوں کے اندرونی حصہ کو قبلہ رخ کرنا۔[/B]
عن ابن عمر قال :قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إذا استفتح أحدكم الصلاة فليرفع يديه ، وليستقبل بباطنهما القبلة ، فإن الله أمامه
(المعجم الاوسط لطبراني باب من اسمه محمود ۸۰۲۵)

(۴)
ہاتھوں کے اٹھاتے وقت انگلیوں کو اپنے حال پر کھلا ہوا چھوڑنا، نہ پورے طرح سے ملانا اور نہ پوری طرح سے کشادہ کرنا۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ قَالَ :دَخَلَ عَلَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ مَسْجِدَ بَنِى زُرَيْقٍ فَقَالَ :ثَلاَثٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْمَلُ بِهِنَّ تَرَكَهُنَّ النَّاسُ ، كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ قَالَ هَكَذَا ، وَأَشَارَ أَبُو عَامِرٍ بِيَدِهِ وَلَمْ يُفَرِّجْ بَيْنَ أَصَابِعِهِ وَلَمْ يَضُمَّهَا.
(السنن الكبري للبيهقي باب كَيْفِيَّةِ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِى افْتِتَاحِ الصَّلاَةِ. ۲۴۱۰)

(۵)
اپنے داہنے ہاتھ کو اپنے بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھنا۔
عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مِنْ السُّنَّةِ وَضْعُ الْكَفِّ عَلَى الْكَفِّ فِي الصَّلَاةِ تَحْتَ السُّرَّةِ
(ابوداود بَاب وَضْعِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ ۶۴۵)

(۶)
اپنی داہنی ہتھیلی کے اندورنی حصہ کو اپنی بائیں ہتھیلی کے ظاہری حصہ پر ، انگوٹھے اور چھوٹی انگلی سے حلقہ بنا کر رکھنا۔
ان وائل بن حجر اخبرہ قال قلت:لأنظرت الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیف یصلی قال:فنظرت إلیہ قام فکبر ورفع یدیہ حتی حاذتا أذنیہ ثم وضع یدہ الیمنی علی ظہر کفہ الیسری والرسغ والساعد
(صحیح ابن خزیمہ، باب وضع بطن الکف الیمنی علی الکف الیسریٰ والرسغ والساعد جمیعا، حدیث نمبر:۴۸۰۔)

(۷)
دونوں ہاتھوں کو ناف کے نیچے رکھنے کے بعد ثناء پڑھنا۔
سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَلاَاِلٰہَ غَیْرُکَ۔
ترجمہ:
اے اللہ تیری ذات پاک ہے اور تیرے ہی لئے تعریف ہے اور تیر انام با برکت ہے ، تیری عظمت بلند و بالا ہے ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔
عن ابی سعید رضی اللہ عنہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان اذاافتتح الصلاۃ قال سبحانک اللّٰھُمَّ وبحمدک تبارک اسمک وتعالی جدک ولاإلہ غیرك
( نسائی، باب نوع آخرمن الذکر بین افتتاح الصلاۃ وبین القرأۃ، حدیث نمبر:۸۸۹ )

(۸)
سورہ فاتحہ پڑھنے سے پہلےاَعُوْذُبِاللہ مِنَ الشَّیْطَان الرَّجِیْمِ کہنا۔
فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْم
(النحل:۹۸)

(۹)
ہر رکعت میں سورہ فاتحہ سے پہلے بِسْمِ اللہ الرَّحْمنِ الرَّحِیْمِ ۔ کہنا ۔
عن انس قال صلیت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وابی بکروعمر وعثمان فلم اسمع احداً منھم یقرأ بسم اللہ الرحمن الرحیم
(مسلم، باب حجۃ من قال لایجھربالبسملۃ، حدیث نمبر:۶۰۵)

(۱۰)
سورہ فاتحہ سے فراغت پر آہستہ سے آمَیْن کہنا۔
ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً
(الاعراف:۵۵)
پکارو اپنے رب کو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے
(ترجمہ:محمود الحسن)
"اللہ کو پکارنے کا طریقہ:
جب "عالم خلق و امر" کا مالک اور تمام برکات کا منبع وہ ہی ذات ہے تو اپنی دنیوی و اخروی حوائج میں اسی کو پکارنا چاہئے۔ الحاح و اخلاص اور خشوع کےساتھ بدون ریاکاری کے آہستہ آہستہ اس سے معلوم ہوا کہ دعاء میں اصل اخفاء ہے اور یہی سلف کا معمول تھا۔ بعض مواضع میں جہر و اعلان کسی عارض کی وجہ سے ہوگا۔ جس کی تفصیل روح المعانی وغیرہ میں ہے۔"

(تفسیر عثمانی)
عن ابی وائل قال:کان عمرؓ وعلیؓ لایجھران بسم اللہ الرحمن الرحیم ولابالتعوّذ ولابالتامین
( شرح معانی الآثار، باب قرأۃ بسم اللہ الرحمن الرحیم فی الصلاۃ:۱/۳۴۷ )

(۱۱)
قیام کی حالت میں دونوں پیروں کے درمیان چار انگلیوں کے بقدر کشادگی چھوڑنا۔
عن ابی عبیدۃ ان عبداللہ رضی اللہ عنہ رأی رجلاً یُصَلّی قَدْصَفَّ بَیْنَ قَدْمَیْہِ فقد خالف السنۃ ولوراوح بینھما کان أفضل
( نسائی، باب الصف بین القدمین فی الصلاۃ، حدیث نمبر:۸۸۲)
قال الحنفیۃ:یسن تفریج القدمین فی القیام قدر أربع أصابع؛ لأنہ أقرب إلی الخشوع
( الفقہ الاسلامی، تفریج القدمین، صفحہ نمبر:۲/۷۰)

(۱۲)
ظہر اور فجر میں سورہ فاتحہ کے بعد طوال مفصل (سورۂ حجرات سے بروج تک) پڑھنا، عصر اور عشاء میں اوساط مفصل (سورۂ بروج سے سورہ بینہ تک) اور مغرب میں قصار مفصل (سورۂ زلزال سے ختم قرآن تک) پڑھنا۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فُلَانٍ لِإِمَامٍ كَانَ بِالْمَدِينَةِ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍفَصَلَّيْتُ خَلْفَهُ فَكَانَ يُطِيلُ الْأُولَيَيْنِ مِنْ الظُّهْرِ وَيُخَفِّفُ الْأُخْرَيَيْنِ وَيُخَفِّفُ الْعَصْرَ وَيَقْرَأُ فِي الْأُولَيَيْنِ مِنْ الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ وَيَقْرَأُ فِي الْأُولَيَيْنِ مِنْ الْعِشَاءِ مِنْ وَسَطِ الْمُفَصَّلِ وَيَقْرَأُ فِي الْغَدَاةِ بِطُوَالِ الْمُفَصَّلِ
(مسند احمد مسند أبي هريرة رضي الله عنه۸۳۴۸)

(۱۳)
صرف فجر میں پہلی رکعت کو دوسری رکعت سے لمبی کرنا۔
عن ابی قتادۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یطول فی الرکعۃ الاولی مالایطوّل فی الرکعۃ الثانیۃ وھکذا فی العصر وھکذا فی الصبح
(بخاری، باب یقرأ فی الآخریین بفاتحۃ الکتاب، حدیث نمبر:۷۳۴)

(۱۴)
رکوع کی تکبیر کہنا ۔
عن أَبي هُرَيْرَةَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ
(بخاري بَاب التَّكْبِيرِ إِذَا قَامَ مِنْ السُّجُودِ ۷۴۷)

(۱۵)
رکوع کی حالت میں اپنے دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑنا اور انگلیوں کو کشادہ رکھنا۔
عن أنس بن مالك قال :قدم رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم المدينة وأنا يومئذ ابن ثمان سنين ، فذهبت بي أمي إليه ، فقالت :يا رسول الله ، إن رجال الأنصار ونساءهم قد أتحفوك غيري ، ولم أجد ما أتحفك إلا ابني هذا ، فاقبل مني يخدمك ما بدا لك قال :فخدمت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عشر سنين ، فلم يضربني ضربة قط ، ولم يسبني ، ولم يعبس في وجهي ، وكان أول ما أوصاني به أن قال : يا بني ، ثم قال لي : يا بني ، إذا ركعت فضع كفيك على ركبتيك ، وافرج بين أصابعك ، وارفع يديك على جنبيك
(المعجم الصغير للطبراني باب الميم من اسمه محمد ۴۹۷/۲)

(۱۶)
رکوع کی حالت میں اپنی پیٹھ کو کشادہ کرنا، سرکو سرین کے برابر کرنا اور اپنی پنڈلیوں کو کھڑا کرنا۔
عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ اعْتَدَلَ فَلَمْ يَنْصِبْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُقْنِعْهُ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ
(نسائي بَاب الِاعْتِدَالِ فِي الرُّكُوعِ۱۰۲۹)

(۱۷)
رکوع میں کم از کم تین مرتبہ سبحان ربی العظیم کہنا۔
عن ابن مسعود ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال اذارکع أحدکم فقال فی رکوعہ سبحان ربی العظیم ثلث مرات
( ترمذی، باب ماجاء فی التسبیح فی الرکوع والسجود، حدیث نمبر:۲۴۲)

(۱۸)
رکوع کی حالت میں آدمی کا اپنے ہاتھوں کو اپنے پہلووں سے الگ کرنا۔
قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ :أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ :ثُمَّ رَكَعَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ كَأَنَّهُ قَابِضٌ عَلَيْهِمَا ، وَوَتَّرَ يَدَيْهِ فَجَافَى عَنْ جَنْبَيْهِ.
(السنن الكبري للبيهقي باب صِفَةِ الرُّكُوعِ ۲۶۵۳)

(۲۰)
سجدہ کی تکبیریں کہنا۔
عن أَبي هُرَيْرَةَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ ثُمَّ يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنْ الرَّكْعَةِ ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ ثُمَّ يُكَبِّرُالخ
(بخاري بَاب التَّكْبِيرِ إِذَا قَامَ مِنْ السُّجُودِ ۷۴۷)

(۲۱)
سجدہ میں جاتے وقت پہلے گھٹنوں پھر ہاتھوں پھر چہرے کو رکھنا۔
عن وائل بن حجرقال:رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذاسجد یضع رکبتیہ قبل یدیہ وإذانہض رفع یدیہ قبل رکبتیہ
( ترمذی، باب ماجاء فی وضع الرکبتین قبل الیدین فی السجود، حدیث نمبر:۲۴۸)
عَنْ مسلم، بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ كَانَ إذَا سَجَدَ تَقَعُ رُكْبَتَاهُ ، ثُمَّ يَدَاهُ ، ثُمَّ رَأْسُهُ(مصنف ابن ابي شيبة في الرجل إذَا انْحَطَّ إلَى السُّجُودِ ۲۶۳/۱)

(۲۲)
سجدے سے اٹھتے وقت پہلے اپنے چہرے کو پھر ہاتھوں کو پھر گھٹنوں کو اٹھانا۔
عن وائل بن حجرقال:رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذاسجد یضع رکبتیہ قبل یدیہ وإذانہض رفع یدیہ قبل رکبتیہ
( ترمذی، باب ماجاء فی وضع الرکبتین قبل الیدین فی السجود، حدیث نمبر:۲۴۸)

(۲۳)
سجدے کی حالت میں اپنے چہرے کو اپنے ہتھیلیوں کے درمیان رکھنا۔
عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ قُلْتُ لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَيْنَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ وَجْهَهُ إِذَا سَجَدَ فَقَالَ بَيْنَ كَفَّيْهِ
(ترمذي بَاب مَا جَاءَ أَيْنَ يَضَعُ الرَّجُلُ وَجْهَهُ إِذَا سَجَدَ ۲۵۱)

(۲۴)
سجدے کی حالت میں اپنے پیٹ کو اپنے رانوں سے اور بازوؤں کو پہلوؤں سے اور کہنیوں کو زمین سے الگ رکھنا۔
عن أَحْمَر بْن جَزْءٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَجَدَ جَافَى عَضُدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ حَتَّى نَأْوِيَ لَهُ
(ابوداود بَاب صِفَةِ السُّجُودِ ۷۶۵)
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى فَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ
(بخاري بَاب يُبْدِي ضَبْعَيْهِ وَيُجَافِي فِي السُّجُودِ۳۷۷)
عَنْ جَابِرٍأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَعْتَدِلْ وَلَا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ
(ترمذي بَاب مَا جَاءَ فِي الِاعْتِدَالِ فِي السُّجُودِ ۲۵۵)

(۲۵)
سجدے کی حالت میں اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو بندرکھنا۔
عَنْ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا رَكَعَ فَرَّجَ أَصَابِعَهُ وَإِذَا سَجَدَ ضَمَّ أَصَابِعَهُ الْخَمْسَ
(دارِقطنی، باب التَّأْمِينِ فِى الصَّلاَةِ بَعْدَ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَالْجَهْرِ بِهَا، حدیث نمبر:۳۶ )

(۲۶)
سجدے کی حالت میں دونوں پیروں کی انگلیوں کو قبلہ رخ کرنا۔
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا صَلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ أَنَا كُنْتُ أَحْفَظَكُمْ لِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُهُ فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ غَيْرَ مُفْتَرِشٍ وَلَا قَابِضِهِمَا وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ الْقِبْلَةَ
(بخاري بَاب سُنَّةِ الْجُلُوسِ فِي التَّشَهُّدِ ۷۸۵)

(۲۷)
سجدے میں کم از کم تین مرتبہ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہنا۔
عن ابن مسعود ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال واذاسجد فقال فی سجودہ سبحان ربی الأعلی ثلاث مرات۔
( ترمذی، باب ماجاء فی التسبیح فی الرکوع والسجود، حدیث نمبر:۲۴۲۔ )

(۲۸)
سجدے سے اٹھنے کی تکبیر کہنا۔
عن أَبي هُرَيْرَةَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ ثُمَّ يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنْ الرَّكْعَةِ ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ ثُمَّ يُكَبِّرُحِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا
(بخاري بَاب التَّكْبِيرِ إِذَا قَامَ مِنْ السُّجُودِ ۷۴۷)

(۲۹)
سجدے سے بغیر بیٹھے اور بغیر زمین پر ٹیک لگائے اٹھ کر کھڑا ہونا مگر یہ کی اسے کوئی عذر ہو۔
عَنْ عَبَّاسٍ أَوْ عَيَّاشِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَبُوهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْمَجْلِسِ أَبُو هُرَيْرَةَ وَأَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ وَأَبُو أُسَيْدٍ بِهَذَا الْخَبَرِ يَزِيدُ أَوْ يَنْقُصُ قَالَ فِيهِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ يَعْنِي مِنْ الرُّكُوعِ فَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ وَرَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ فَسَجَدَ فَانْتَصَبَ عَلَى كَفَّيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ ثُمَّ كَبَّرَ فَجَلَسَ فَتَوَرَّكَ وَنَصَبَ قَدَمَهُ الْأُخْرَى ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ ثُمَّ كَبَّرَ فَقَامَ وَلَمْ يَتَوَرَّكْ ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ قَالَ ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ
(ابوداود بَاب افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ ۶۲۷)عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّهُ كَانَ لاَ يَرَى بَأْسًا أَنْ يَعْتَمِدَ الرَّجُلُ عَلَى يَدَيْهِ إذَا نَهَضَ فِي الصَّلاَةِ. عَنْ إبْرَاهِيمَ ؛ أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ ذَلِكَ ، إِلاَّ أَنْ يَكُونَ شَيْخًا كَبِيرًا ، أَوْ مَرِيضًا.
(مصنف ابن ابي شيبة في الرجل يَعْتَمِدُ عَلَى يَدَيْهِ فِي الصَّلاَةِ ۳۹۵/۱)

(۳۰)
دونوں سجدوں کے درمیان دونوں ہاتھوں کو رانوں پر رکھنا ، جیسا کہ تشہد کی حالت میں رکھا جاتا ہے ۔
عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ سَمِعْتُهُ وَهُوَ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ بْنُ رِبْعِيٍّ يَقُولُ أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا مَا كُنْتَ أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً وَلَا أَكْثَرَنَا لَهُ إِتْيَانًا قَالَ بَلَى قَالُوا فَاعْرِضْ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ اعْتَدَلَ قَائِمًا ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَاعْتَدَلَ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا ثُمَّ أَهْوَى إِلَى الْأَرْضِ سَاجِدًا ثُمَّ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ جَافَى عَضُدَيْهِ عَنْ إِبْطَيْهِ وَفَتَخَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ ثَنَى رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ عَلَيْهَا ثُمَّ اعْتَدَلَ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا ثُمَّ أَهْوَى سَاجِدًا ثُمَّ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ
(ترمذي بَاب مِنْهُ بعد بَاب مَا جَاءَ فِي وَصْفِ الصَّلَاةِ ۲۸۰ )

(۳۱)
قعدہ اخیرہ اور اولی میں اپنے دائیں پیر کو کھڑا رکھنا۔
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى
(مسلم، بَاب مَا يَجْمَعُ صِفَةَ الصَّلَاةِ وَمَا يُفْتَتَحُ بِهِ وَيُخْتَمُ بِهِ وَصِفَةَ الرُّكُوعِ ۷۶۸(

(۳۲)
تشہد میں شہادت کی انگلیوں سے اشارہ کرنا۔ "لاَ اِلٰہَ" کہتے وقت اسے اٹھانا اور "اِلاَّ اللہ" کہتے وقت رکھنا۔
عن ابن عمرؓ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان إذاقعد فی التشھد وضع یدہ الیسری علی رکبتہ الیسری ووضع یدہ الیمنی علی رکبتہ الیمنی وعقد ثلاثۃ وخمسین وأشار بالسَّبَّابَۃِ
(مسلم، باب صفۃ الجلوس فی الصلاۃ وکیفیۃ وضع الیدین علی الفخذین، حدیث نمبر:۹۱۲)
بَسْطُ الْأَصَابِعِ إلَى حِينِ الشَّهَادَةِ ، فَيَعْقِدُ عِنْدَهَا وَيَرْفَعُ السَّبَّابَةَ عِنْدَ النَّفْيِ وَيَضَعُهَا عِنْدَ الْإِثْبَاتِ
(ردالمحتار [ فُرُوعٌ ] قَرَأَ بِالْفَارِسِيَّةِ أَوْ التَّوْرَاةِ أَوْ الْإِنْجِيلِ: ۸۶/۴)۔

(۳۳)
ظہر، عصر، عشاء ، کی آخری دو رکعتوں اور مغرب کی تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنا۔
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ
(مسلم، بَاب الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ۶۸۶)

(۳۴)
قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا۔
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ لَهُ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ أَمَرَنَا اللَّهُ تَعَالَى أَنَّ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وَالسَّلَامُ كَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ
(مسلم، باب الصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم بعد التشھد، حدیث نمبر:۶۱۳۔)

(۳۵)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کے بعد منقولہ دعاؤں کے ذریعہ اپنے لئے دعا کرنا ۔
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الأَنْصَارِىِّ :أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً صَلَّى لَمْ يَحْمِدِ اللَّهَ وَلَمْ يُمَجِّدْهُ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى النَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم وَانْصَرَفَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم :عَجِلَ هَذَا . فَدَعَاهُ فَقَالَ لَهُ وَلِغَيْرِهِ :إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِتَحْمِيدِ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالثَّنَاءِ عَلَيْهِ ، وَلْيُصَلِّ عَلَى النَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ يَدْعُو بِمَا شَاءَ
(السنن الكبري للبيهقي باب الصَّلاَةِ عَلَى النَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم فِى التَّشَهُّدِ۲۹۶۸)
جیسے:
اَللّٰھُمَّ اِنّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْمًا کَثِیْرًا وَاِنَّہٗ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلاَّ أَنْتَ فَاغْفِرْلِیْ مَغْفِرَۃً مِّنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِیْ اِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُوْرالرَّحِیْم۔
ترجمہ:
اے اللہ میں نے اپنے نفس پر بہت ظلم کیا ہے ، گناہوں کی بخشش آپ ہی کرتے ہیں ، آپ اپنی جانب سے میری مغفرت کردیجئے ، مجھ پر رحم کیجئے ، آپ ہی بخشش کرنے والے اور رحم کرنے والے ہیں۔

(بخاري بَاب الدُّعَاءِ قَبْلَ السَّلَامِ ۷۹۰)

(۳۶)
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہ کہتے وقت دائیں اور بائیں جانب متوجہ ہونا۔
عن عبداللہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ کان یسلم عن یمینہ وعن یسارہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔
(ترمذی، باب ماجاء فی التسلیم فی الصلاۃ، حدیث نمبر:۲۷۲۔)

(۳۷)
تکبیرات انتقالیہ (ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف منتقل ہونے کی تکبیروں) کو امام کا بآوز بلندکہنا اور مقتدی كا آہستہ کہنا۔
عن ابی سلمۃ بن عبدالرحمن ان اباھریرۃرضی اللہ تعالیٰ عنہ کان یصلی لھم فیکبرکلما خفض ورفع
(مسلم، باب اثبات التکبیر فی کل خفض ورفع فی الصلاۃ، حدیث نمبر:۵۹۰)

(۳۸)
امام کا اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہ بآواز بلند کہنا اور مقتدی كا آہستہ کہنا۔
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَّسْلِيمِ
(مسلم، بَاب مَا يَجْمَعُ صِفَةَ الصَّلَاةِ وَمَا يُفْتَتَحُ بِهِ وَيُخْتَمُ بِهِ وَصِفَةَ الرُّكُوعِ ۷۶۸)
عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ
(ابن ماجه بَاب التَّسْلِيمِ ۹۰۶)

(۳۹)
امام کو دونوں سلاموں میں مردوں ،فرشتوں اور نیک جنات کی نیت کرنا، مقتدی امام کی جہت میں قوم کے ساتھ امام کی نیت کرے گا۔
عن عُمَرَ بْن الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ
(بخاري بدْءِ الْوحْيِ: ۱)

مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور سلام ایک ایسا عمل ہے جونیت کا محتاج ہوتا ہے؛ اس لیے اس کے لیے نیت کرنے كا حكم دیا گیا۔
قَالَ سَلْمَانُ :مَا كَانَ رَجُلٍ فِي أَرْضِ قِيٍّ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ ، إِلاَّ صَلَّى خَلْفَهُ مِنْ خَلْقِ اللهِ مَا لاَ يُرَى طَرَفَاهُ
(مصنف ابن ابي شيبة فِي الرَّجُلِ يَكُونُ وَحْدَهُ فَيُؤَذِّنُ أَوْ يُقِيمُ ۲۱۹/۱)
امام کے پیچھے مرد اور ان کے ساتھ رہنے والے فرشتے توہوتے ہی ہیں ان کے علاوہ پاک جناب بھی ہوتے ہیں؛ جیسا کہ مذکورہ اثر سے ان کے موجود ہونے کوبتلایا گیا؛ اس لیے ان تینوں کی نیت کرنے کا حکم دیا گیا؛ اسی طرح مقتدی کے حق میں بھی سمجھنا چاہیے۔

(۴۰)
امام کا بلند آواز سے سلام کہنا اور مقتدی كا آہستہ کہنا۔
عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ ، قَالَ :سَمِعْتُ أَبَا رَزِينٍ يَقُولُ :سَمِعْت عَلِيًّا يُسَلِّمُ فِي الصَّلاَةِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ، وَالَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَخْفَضُ.
( مصنف ابن ابي شيبة مَنْ كَانَ يُسَلِّمُ فِي الصَّلاَةِ تَسْلِيمَتَيْنِ ۲۹۹/۱)

(۴۱)
داہنی جانب سے سلام کی ابتداء کرنا۔
عَنْ سَعْدٍ قَالَ كُنْتُ أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى أَرَى بَيَاضَ خَدِّهِ
(مسلم، بَاب السَّلَامِ لِلتَّحْلِيلِ مِنْ الصَّلَاةِ عِنْدَ فَرَاغِهَا وَكَيْفِيَّتِهِ۹۱۶)

(۴۲)
مقتدی کے سلام کا امام کے سلام کے ساتھ ملا ہوا ہونا۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا
(بخاري بَاب الصَّلَاةِ فِي السُّطُوحِ وَالْمِنْبَرِ وَالْخَشَبِ ۳۶۵ )

(۴۳)
مسبوق کا امام کے دونوں جانب سلام پھیرنے کا انتظار کرنا لہذا امام کے دونوں سلام سے فارغ ہونے سے پہلے اپنی نماز مکمل کرنے کیلئے کھڑانہ ہو۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَقَطَ عَنْ فَرَسِهِ فَجُحِشَتْ سَاقُهُ أَوْ كَتِفُهُ وَآلَى مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا فَجَلَسَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ دَرَجَتُهَا مِنْ جُذُوعٍ فَأَتَاهُ أَصْحَابُهُ يَعُودُونَهُ فَصَلَّى بِهِمْ جَالِسًا وَهُمْ قِيَامٌ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا
(بخاري بَاب الصَّلَاةِ فِي السُّطُوحِ وَالْمِنْبَرِ وَالْخَشَبِ: ۳۶۵)۔
مقتدی کے لیے (خواہ مسبوق ہی کیوں نہ ہو) امام کی متابعت ضروری ہے؛ جیسا کہ مذکورہ حدیث میں بتلایا گیا؛ اگرمسبوق امام کے دونوں جانب سلام پھیرنے کا انتظار کیئے بغیر کھڑا ہوجائے تومتابعت کے چھوٹ جانے کا خطرہ ہوتا ہے، اس لیے فقہاء کرام نے مسبوق کوامام کے دونوں جانب سلام پھیرنے کا انتظار کرنے کا حکم دیا ہے۔


انوار اسلام ڈاٹ آرگ