Results 1 to 5 of 5

Sahih Bokhari Volume 8, Book 73, Number 8,9,10

This is a discussion on Sahih Bokhari Volume 8, Book 73, Number 8,9,10 within the Hadith-o-Sunnat forums, part of the Mera Deen Islam category; IN THE NAME OF "ALLAH" Assalam o Alaikum W'Rahmatullah W'Barakatuhu ! Volume 8, Book 73, Number 8: Narrated Anas bin ...

  1. #1
    iTT Captain iqbalkuwait's Avatar
    Join Date
    Jan 2010
    Location
    kuwait
    Posts
    583

    Lightbulb Sahih Bokhari Volume 8, Book 73, Number 8,9,10

    IN THE NAME OF "ALLAH"
    Assalam o Alaikum W'Rahmatullah W'Barakatuhu !

    Volume 8, Book 73, Number 8:

    Narrated Anas bin Malik:
    Allah's Apostle mentioned the greatest sins or he was asked about the greatest sins. He said,
    "To join partners in worship with Allah; to kill a soul which Allah has forbidden to kill; and to be undutiful or unkind to one's parents." The Prophet added, "Shall I inform you of the
    biggest of the great sins? That is the forged statement or the false witness." Shu'ba (the subnarrator) states that most probably the Prophet said, "the false witness."

    Volume 8, Book 73, Number 9:
    Narrated Asma' bint Abu Bakr:
    My mother came to me, hoping (for my favor) during the lifetime of the Prophet asked the Prophet, "May I treat her kindly?" He replied, "Yes." Ibn 'Uyaina said, "Then Allah revealed: 'Allah forbids you not with regards to those who fought not against you because of religion, and drove you not out from your homes, that you should show them kindness and deal justly with them.'.......(60.8)

    Volume 8, Book 73, Number 10:
    Narrated Abu Sufyan:
    That Heraclius sent for him and said, "What did he, i.e. the Prophet order you?" I replied, "He orders us to offer prayers; to ive alms; to be chaste; and to keep good relations with our
    relatives.
    (Was Salaatu Was Salaam 'ala Rasulillah.)
    اورصبع شام آپنے رب کےنام کا ذکر کيا کريں = قرآن 76/25
    Last edited by iqbalkuwait; 19th April 2011 at 01:32 AM.

  2. #2
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    Re: Sahih Bokhari Volume 8, Book 73, Number 8,9,10

    jazzak allah

  3. #3
    iTT Captain Rahi's Avatar
    Join Date
    Feb 2009
    Location
    Karachi
    Age
    62
    Posts
    1,198

    Re: Sahih Bokhari Volume 8, Book 73, Number 8,9,10

    جزاک اللہ

  4. #4
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    Re: Sahih Bokhari Volume 8, Book 73, Number 8,9,10

    صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1247 حدیث مرفوع مکررات 13 متفق علیہ 9 بدون مکرر


    عبیداللہ بن موسی، شیبان، ہلال بن وزان، عروہ، عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس مرض میں وفات پائی، اس میں فرمایا کہ اللہ یہود ونصاری پر لعنت کرے انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنالیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ کی قبر ظاہر کردی جاتی، مگر مجھے ڈر ہے کہ کہیں مسجد نہ بنالی جائے۔

  5. #5
    Moderator lovelyalltime's Avatar
    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    3,630

    Re: Sahih Bokhari Volume 8, Book 73, Number 8,9,10

    مشکوۃ شریف:جلد اول:حدیث نمبر 53

    " حضرت صفواں بن عسال( صفوان بن عسال مرادی کی نسبت سے مشہور ہیں حضرت علی المرتضیٰ کے دور خلافت میں آپ کا انتقال ہوا۔) فرماتے ہیں کہ (ایک دن) ایک یہودی نے اپنے ایک (یہودی) ساتھی سے کہا کہ آؤ اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں! اس کے ساتھی نے کہا! انہیں نبی نہ کہو ، کیونکہ اگر انہوں نے سن یا (کہ یہودی بھی مجھے نبی فرماتے ہیں) تو ان کی چار آنکھیں ہو جائیں گی (یعنی خوشی سے پھولے نہیں سمائیں گے) بہر حال وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نو واضح احکام کے بارہ میں سوال کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ، چوری نہ کرو، جس جان کو مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کا ناحق قتل نہ کرو، کسی بے گناہ کو قتل کرانے کے لیے ( اس پر غلط الزام عائد کر کے ) حاکم کے پاس مت لے جاؤ، جادو نہ کرو، سود نہ کھاؤ پاک دامن عورت کو (زنا کی) تہمت نہ لگاؤ، میدان جنگ میں دشمن کو پیٹھ نہ دکھاؤ اور اے یہودیو! تمہارے لیے خاص طور پر واجب ہے کہ یوم شنبہ کے معاملہ میں (حکم الہٰی سے) تجاوز نہ کرو، راوی فرماتے ہیں کہ (یہ سن کر) دونوں یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پیر چوم لیے اور بولے ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واقعی نبی ہیں۔ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، (جب تمہیں میری رسالت پر یقین ہے تو) میری اتباع سے تم کو کون سا امر مانع ہے؟ انہوں نے کہا : حقیقت یہ ہے کہ داؤد علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی تھی کہ ان کی اولاد میں ہمیشہ نبی ہوا کرے لہٰذا ہم ڈرتے ہیں کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں تو یہودی ہمیں مار ڈالیں گے۔" (جامع ترمذی ، سنن ابوداؤد، سنن نسائی)

    تشریح

    حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے اللہ کی جانب سے دنیا میں تشریف لائے تھے۔ نبوت کی دلیل طور پر ان کو جو دو بڑے معجزے عطا کئے گئے تھے ان میں ایک عصا تھا " عصا " حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سب سے بڑا معجزہ تھا جس کے ذریعہ وہ بڑے بڑے کام انجام دیا کرتے تھے۔ چنانچہ جب فرعون کی جانب سے ان کے اور اس زمانہ کے مشہور ساحروں اور جادوگروں کے درمیان مقابلہ ہوا تو اللہ نے ان کو عصا ہی کے ذریعے اس طرح کامیابی عنایت فرمائی کہ ان جادو گروں نے جب اپنے سحر و جادو کے بل بوتہ پر رسیوں کو سانپ بنا کر زمین پر ڈالا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا جس نے دیکھتے دیکھتے ایک عظیم اور ہیبت ناک اژدھے کا روپ دھار کر تمام سانپوں کو نگل لیا۔ اس طرح ان کا دوسرا بڑا معجزہ " یدبیضا " تھا جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنا دست مبارک بغل میں ڈال کر باہر نکالتے تو وہ آفتاب کی مانند شعاعیں بکھیرنے لگتا تھا۔ اتنے بڑے معجزوں کے باوجود جب ان کی قوم راہ راست نہیں آئی تو اللہ نے ان کو بلائے عام میں اس طرح مبتلا کر دیا کہ ان پر قحط مسلط کر دیا، اور ان کے پھلوں کی پیداوار میں کمی کر دی پھر بعد میں جب ان کی سر کشی اور نافرمانیاں اور زیادہ بڑھیں تو ان پر مختلف قسم کے عذاب بھیجے جانے لگے۔ مثلاً بارش اتنی کثرت سے برسادی گئی کہ طوفان نے ان کو آگھیرا، ان کے کھیتوں پر ٹڈیاں بھیج دی گئیں جس کی وجہ سے ان کی تیار فصلیں تباہ و برباد ہونے لگی، یا ان کے غلوں میں گھن کا کیڑا لگا دیا جس نے ان کے غلوں کے انبار کو ختم کرنا شروع کر دیا، ان پر مینڈک کا عذاب بھیج دیا گیا کہ ان کی ہر چیز میں خواہ کھانے کی ہو یا پینے کی مینڈک ہی مینڈک ہوگئے اور پھر ان کا پانی خون کر دیا گیا کہ جب بھی وہ پانی پیتے وہ خون کی شکل اختیار کر لیتا۔ بہر حال یہ نو چیزیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزے اور ان کی نبوت کی خاص نشانیاں تھیں۔
    اس حدیث میں ان دونوں یہودیوں نے جن نو واضح احکام کے بارے میں سوال کیا، ان سے یا تو وہی احکام مراد تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمائے یا پھر ان کی مراد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے انہی نو معجزات اور نشانیوں کے بارہ میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مقدس سے آگاہی اور توثیق حاصل کرنا تھی اس صورت میں کہا جائے گا کہ یا تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ذکر اس لیے نہیں کیا کہ یہ قرآن کریم میں تفصیل کے ساتھ موجود ہیں اور جو ضروری احکام تھے ان کا حکم ان کو بتا دیا، یا یہ کہ ان کے سوال کے جواب میں ان نو چیزوں کا ذکر فرما کر پھر ان کو اپنی طرف سے یہ احکام دیئے اور راوی نے ان کے مشہور ہونے کی وجہ سے ان کا ذکر نہیں کیا۔ راہی اس خاص حکم کی بات جو رسول اللہ نے مذکورہ نو احکام کے علاوہ خاص طور پر یہودیوں کو دیا تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ جس طرح تمام قوموں کے لیے ہفتہ میں ایک دن عبادت کے لیے مخصوص تھا اسی طرح یہودیوں کے لیے بھی شنبہ کا دن عبادت کے لیے متعین کر دیا گیا تھا اور ان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اس دن اللہ کی عبادت میں مشغول رہا کریں چونکہ یہ قوم شکار کا خاص ذوق اور شغف رکھتی تھی اس لیے ان کو اس دن شکار سے بھی منع کر دیا گیا، لیکن اس قوم نے اس حکم کو کوئی اہمیت نہیں دی اور سخت ممانعت کے باوجود اس دن مچھلی وغیرہ کا شکار کرنے لگے، اللہ کی جانب سے ان کو بار بار متنبہ کیا گیا لیکن جب نہیں مانے تو آخر کار ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا گیا! اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان یہودیوں کو اس کے بارہ میں بطور خاص تاکید کی کہ تم اس معاملہ میں اللہ کی قائم کی ہوئی حد سے تجاوز نہ کرو اور چونکہ تمہیں اس دن شکار کھیلنے سے منع کر دیا گیا ہے اس لیے اس ممانعت پر عمل کرو اور اس حکم کی نافرمانی مت کرو۔
    ان یہودیوں کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احکام سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دینا بطور قبول اور صدق دل سے نہیں تھا بلکہ اپنے علم کے اظہار اور اعتراف کے طور پر تھا۔ مطلب یہ کہ یہودیوں نے اپنی مذہبی کتابوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نبی مرسل ہونا پڑھ لیا تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ محمد واقعۃً اللہ کے بھیجے ہوئے نبی اور رسول ہیں۔ مگر یہ ان کی بدبختی تھی کہ اس صحیح علم کے باوجود ان کو قبول اسلام کی توفیق نہیں ہوتی تھی اور تعصب و ہٹ دھرمی نے ان کو اتنا اندھا کر دیا تھا کہ ان کو بالکل سامنے کی راہ حق نظر نہیں آتی تھی۔ چنانچہ ان دونوں یہودیوں نے بھی اس موقع پر بس اتنا ہی کیا کہ اپنے علم کا اعتراف کر لیا اور گواہی دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واقعۃً اللہ کے نبی اور رسول ہیں۔ ظاہر ہے کہ محض علم ہونا یا اپنے علم کا اعتراف کرنا وجود ایمان کے لیے کافی نہیں ہو سکتا ہے۔ رہا ان دونوں یہودیوں کا یہ کہنا کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے یہ دعا کی تھی کہ ان کی اولاد میں ہمیشہ ایک نبی ہوا کرے اور ان کی یہ دعا چونکہ یقینا قبول ہوئی ہوگی اس لیے ان کی اولاد میں سے کسی کا نبی ہونا بھی یقینی ہے اور جب وہ نبی ظاہر ہوگا اور تمام یہودی اس نبی کے تابع و مطیع ہو کر شوکت و غلبہ پائیں گے تو پھر ہماری شامت آجائے گی۔ یعنی تمام یہودی ہمیں اس جرم میں مار ڈالیں گے کہ ہم نے آپ کا دین کیوں قبول کیا۔ اس خوف سے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لا رہے ہیں۔ ظاہر ہے یہ ان دونوں یہودیوں کا حضرت داؤد علیہ السلام کی طرف ایک غلط بات کی نسبت کرنا اور یقینی طور پر کہ ایک مفروضہ اور واہمہ تھا۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے ہر گز یہ دعا نہیں کی تھی اور وہ اس طرح کی دعا کرتے بھی کیسے، انہوں نے تو خود تو رات اور زبور میں پڑھ رکھا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور ان کا دین تمام دینوں کا ناسخ ہے۔

Similar Threads

  1. Sahih Bokhari Volume 8, Book 73, Number 1:
    By iqbalkuwait in forum Hadith-o-Sunnat
    Replies: 2
    Last Post: 13th April 2011, 03:05 PM
  2. Sahih Bokhari Volume 8, Book 73, Number 5:
    By iqbalkuwait in forum Hadith-o-Sunnat
    Replies: 3
    Last Post: 10th April 2011, 10:53 PM
  3. Hadees Bokhari Volume 3, Book 29, Number 47:
    By iqbalkuwait in forum Hadith-o-Sunnat
    Replies: 0
    Last Post: 3rd November 2010, 11:23 PM
  4. Hadees Bokhari Volume 2, Book 26, Number 635:
    By iqbalkuwait in forum Hadith-o-Sunnat
    Replies: 0
    Last Post: 3rd November 2010, 11:21 PM
  5. Hadees Bokhari Volume 3, Book 31, Number 174
    By iqbalkuwait in forum Hadith-o-Sunnat
    Replies: 1
    Last Post: 2nd November 2010, 08:42 PM

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •