اہم کردار ادا کرتی ہے
محمد رفیق اعتصامی
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہر شعبہ زندگی میں انسان کی رہنمائی کرتا ہے اسکے اصول سادہ اور آسان فہم ہیں اسلام ایک ایسا دین ہے جس میں تقوی اور اعلی اخلاق کو بڑی اہمیت حاصل ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگاکہ اعلی اخلاق ہی اسلام کی بنیاد ہیں نبی کریم کا ارشاد گرامی ہے کہ امیں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ اچھے اخلاق کی تکمیل کردوں (متفق علیہ) انحضرت ﷺ اچھے اخلاق و کردار کی زندہ تصویر تھے ارشاد باری تعالی ہے (ترجمہ ) بیشک آپؐ بلند اخلاق کے مالک ہیں (ن پ 29) اخلاق ان تمام عادات و خصائل کو کہا جاتا ہے جو انسان میں پختہ ہو جاتے ہیں اور اس سے بلا تکلف سرزد ہونے لگتے ہیں ان کی دو قسمیں ہیں اچھے اخلاق اور برے اخلاق اسلامی نظام اخلاق کی بنیاد تقویٰ اور پرہیز گاری پرہے ارشاد باری تعالی ہے (ترجمہ) یقیناتم میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو متقی اور پرہیز گار ہے ( الحجرات 130)
اچھے اخلاق و کردار کی تعمیر میں نماز اہم کردار ادا کرتی ہے نماز اسلام کا دوسرا رکن ہے جب کوئی شخص توحید و رسالت ؐ کی گواہی کے بعد دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتا ہے تو اس کی سب سے اہم ذمہ داری یہ ہے کہ وہ نماز باقاعدگی سے ادا کرے فرمان الہٰی ہے (ترجمہ) نماز قائم کرو زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو(البقرہ 43) اور فرمایا (ترجمہ) اے نبی اکرم ﷺ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کیجئے اور خود بھی اس کے پابند رہیے ہم آپ سے روزی کموانانہیں چاہتے روزی تو آپ کو ہم دیں گے اور اچھا انجام تو پرہیز گاری کا ہے (سورۃطٰہ 133)
طلوع اسلام سے قبل عرب طرح طرح کے اخلاق و معاشرتی برائیوں میں مبتلا تھے قتل و غارت گری زنا کاری شراب و جوا جیسے قبیح جرائم ان میں بدرجہ اتم موجود تھے معمولی سی بات پر جنگ چھڑ جاتی تو برسوں جاری رہتی جو شخص ان معاشرتی برائیوں کا ارتکاب نہ کرتا وہ معاشرے کا ذلیل شخص گردانا جاتا مگر جب انحضرت ﷺ نے اچھے اخلاق و کردار کا عملی نمونہ پیش کیا تو پھر حالت یہ تھی کہ وہی لوگ جو باہم دست و گریبان رہتے تھے اب اخوت محبت حسن اخلاق اور رواداری کی زندہ تصویریں بن گئے قرآن عملی زندگی میں انکا دستورحیات قرار پایا احادیث نبوی کو انہوں نے مشعل راہ بنایا نتیجہ یہ ہوا کہ وہی معاشرہ جو پہلے بغض و عداوت کا مظہر تھا اب امن وآشتی کا گہوارہ بن گیا اس عظیم انقلاب کے پس منظر میں ایک ہی بات کارفرما نظر آتی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے صحابہ کرامؓ کی اخلاق ی تربیت میں نماز کو اولین اہمیت دی تھی
آپ نماز ادا کرنیکی بہت تاکید کرتے تھے اور عدم ادائیگی نماز پرسخت ناراض ہوتے تھے آپ نے فرمایا کفر و ایمان کے درمیان فرق کرنے والی نمازہے اور یہ کہ کسی مسلمان کی ایک نماز فوت ہوجانا ایسا ہے گویا اس کا تمام مال و متاع اور اہل خانہ ہلاک ہوگئے ہیں (متفق علیہ) ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ فرمایا نبی پاک ﷺ نے کہ نماز دین کا ستون ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے یعنی جس طرح کوئی عمارت بغیر ستون کے قائم نہیں رہ سکتی اسی طرح کسی شخص کے دین کی عمارت بھی بغیر نماز کے قائم نہیں رہ سکتی اور آپ نے فرمایا کہ نماز مومن کی معراج ہے (بخاری و مسلم)
آج ہمارے معاشرے میں برائیاں عروج پر ہیں قتل و غارت گری لوٹ ماراغوا برائے تاوان بدعنوانی اور رشوت خوری جیسے امراض اخلاقی اقدار کو گھن کی طرح چاٹ رہے ہیں فحاشی و عریانی کا سیلاب ہے کہ امڈ ہی چلا آتا ہے اطمینان قلب مفقود ہو کر رہ گیا ہے گویا ہمارا معاشرہ دور جاہلیت کے معاشرہ کی عکاسی کرتا ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں کو نماز کی ترغیب دی جائے اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ حکومت پاکستان نظام صلوٰۃ قائم کرے ماضی میں اگرچہ حکومت نے نظام صلوٰۃ کیا تھا مگر وہ ناقص پلاننگ کی وجہ سے کامیاب نہ ہوسکا اس نظام کی بہتری کے لئے چند تجاویز پیش کی جاسکتی ہیں امید ہے حکومت اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔
ناظم صلوٰۃمعاشرہ کا بااثر آدمی ہونا چاہے جو خود بھی نماز کی پابندی کرتا ہو کیونکہ جو شخص خود نماز ادا نہیں کرتا وہ دوسروں کو ترغیب کیسے دے سکتا ہے۔صلوٰۃ کمیٹی کے ممبران اپنے محلے کے لوگوں سے ملیں اور انہیں نماز کی اہمیت سے آگاہ کرتے ہوئے نماز کی دعوت دیں۔ سرکاری ملازمین کے لئے نماز کی ادائیگی ضروری قرار دی جائے اور اس کی سالانہ پراگرس رپورٹ کی تیاری میں نماز کو بھی پیش نظر رکھا جائے۔
اخلاق وکردار کی تعمیرمیں نماز