Nice one bro
This is a discussion on my collection Ghazal`s in urdu font within the Ghazal forums, part of the Designed Poetry category; Nice one bro...
Nice one bro
Good work Keep it up
نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم
خموشی سے ادا ہو رسمِ دوری
کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم
یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں
وفاداری کا دعویٰ کیوں کریں ہم
وفا، اخلاص، قربانی،مرو ّت
اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم
سنا دیں عصمتِ مریم کا قصّہ؟
پر اب اس باب کو وا کیوں کریں ہم
زلیخائے عزیزاں بات یہ ہے
بھلا گھاٹے کا سودا کیوں کری ہم
ہماری ہی تمنّا کیوں کرو تم
تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم
کیا تھا عہد جب لحموں میں ہم نے
تو ساری عمر ایفا کیوں کریں ہم
اُٹھا کر کیوں نہ پھینکیں ساری چیزیں
فقط کمروں میں ٹہلا کیوں کریں ہم
جو اک نسل فرومایہ کو پہنچے
وہ سرمایہ اکٹھا کیوں کریں ہم
نہیں دُنیا کو جب پرواہ ہماری
تو پھر دُنیا کی پرواہ کیوں کریں ہم
برہنہ ہیں سرِبازار تو کیا
بھلا اندھوں سے پردا کیوں کریں ہم
ہیں باشندے اسی بستی کے ہم بھی
سو خود پر بھی بھروسہ کیوں کریں ہم
پڑی رہنے دو انسانوں کی لاشیں
زمیں کا بوجھ ہلکا کیوں کریں ہم
یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی
یہاں کارِ مسیحا کیوں کریں ہم
نہ اب مجھکو صدا دو تھک گیا میں
تمہیں جاؤ ارادوں تھک گیا میں
نہیں اُٹھتی میری تلوار مجھ سے
اُٹھو اے شا ہزادوں تھک گیا میں
ذرا سا ساتھ دو غم کے سفر میں
ذرا سا مسکرا دو تھک گیا میں
تمہارے ساتھ ہوں پھر بھی اکیلا
رفیقوں راستہ دو تھک گیا میں
کہاں تک ایک ہی تمثیل دیکھوں
بس اب پردا گرا دو تھک گیا میں
عدالت کیا قیامت تک چلے گی؟
مجھے جلدی سزا دو تھک گیا میں
کہاں آتی ہے مجھکو نیند پھر بھی
میرا بستر بچھا دو تھک گیا میں
بہت چپ ہو شکایت چھوڑ دی کیا؟
رہ و رسمِ محبت چھوڑ دی کیا؟
یہ کیا اندر ہی اندر بجھ رہے ہو
ہواؤں سے رقابت چھوڑ دی کیا؟
مناتے پھر رہے ہو ہر کسی کو
خفا رہنے کی عادت چھوڑ دی کیا؟
لئے بیٹھی ہیں آنکیھیں آنسوؤں کو
ستاروں کی سیاحت چھوڑ دی کیا؟
غبارِ شہر کیوں بیٹھا ہوا ہے؟
مرے آہو نے وحشت چھوڑ دی کیا؟
فقیروں کی طرف آنے لگے پھر
نمائش گاہِ شہرت چھوڑ دی کیا؟
میرے کمرے کو معبد کہنے والی
کہاں ہے تُو عبادت چھوڑ دی کیا؟
یہ دُنیا تو نہیں مانے گی عاصم
مگر تم نے بھی حجّت چھوڑ دی کیا؟
جو چل سکو تو کوئی ایسی چال چل جانا
مجھے گماں بھی نہ ہو اور تم بدل جانا
یہ شعلگی ہو بدن کی تو کیا کیا جائے
سو لازمی تھا ترے پیرہن کا جل جانا
تمہیں کرو کوئی درماں ، یہ وقت آپہنچا
کہ اب تو چارہ گروں کو بھی ہاتھ مل جانا
ابھی ابھی تو جدائی کی شام آئی تھی
ہمیں عجیب لگا زندگی کا ڈھل جانا
یہ کیا کہ تو بھی اسی ساعتِ زوال میں ہے
کہ جس طرح ہے سبھی سورجوں کو ڈھل جانا
ہر ایک عشق کے بعد اور اس کے عشق کے بعد
فراز اتنا بھی آساں نہ تھا سنبھل جانا
ہم جو گاتے چلے گئے ہوں گے
زخم کھاتے چلے گئے ہوں گے
تھا ستم بار بار کا ملنا
لوگ بھاتے چلے گئے ہوں گے
دور تک باغ اُسکی یادوں کے
لہلہاتے چلے گئے ہوں گے
دشتِ آشفتگی میں خاک بسر
خاک اُڑاتے چلے گئے ہوں گے
فکر اپنے شرابیوں کی نہ کر
لڑکھڑاتے چلے گئے ہوں گے
ہم خود آزار تھے سو لوگوں کو
آزماتے چلے گئے ہوں گے
ہم جو دُنیا سے تنگ آئے ہیں
تنگ آتے چلے گئے ہوں گے
دل پہ کرتے ہیں دماغوں پہ اثر کرتے ہیں
ہم عجب لوگ ہیں ذہنوں میں سفر کرتے ہیں
جب سراپے پہ کہیں اُس کے نظر کرتے ہیں
میر صا حب کی طرح عمر بسر کرتے ہیں
بندشیں ہم کو کسی حال گوارہ ہی نہیں
ہم تو وہ لوگ ہیں دیوار کو در کرتے ہیں
نقشِ پا اپنا کہیں راہ میں ہوتا ہی نہیں
سر سے کرتے ہیں مہم جب کوئی سر کرتے ہیں
ہمنشین خوب ہے یہ محفلِ یاراں کہ یہاں
وہ سلیقہ ہے کہ عیبوں کو ہنر کرتے ہیں
کیا کہیں حال تیرا اے متمدن دنیا
جانور بھی نہیں کرتے جو بشر کرتے ہیں
ہم کو دشمن کی بھی تکلیف گوارہ نہ ہوئی
لوگ احباب سے بھی صرفِ نظر کرتے ہیں
مرقدوں پے تو چراغاں ہے شب و روز مگر
عمر کچھ لوگ اندھیروں میں بسر کرتے ہیں
تذکرہ میر کا غالب کی زباں تک آیا
اعترافِ ہنر اربابِ ہنر کرتے ہیں
Bookmarks