View RSS Feed

SamJIya

اسم نکرہ کی اقسام اسم ذات- اسم استفہام- اسم مص

Rate this Entry
by , 1st May 2013 at 11:49 PM (1371 Views)
اسم ذات: یہ وہ اسم ہے جس سے ایک چیز کی حقیقت دوسری چیز سے الگ سمجھی جائے۔ پہلے وہ چیز خاندان ہوا کرتی تھی اب پیسہ ہے کہ جیسے جیسے پیسہ آتا ہے ویسے ویسے اسم ذات سے اچھے وصف منسوب ہوتے جاتے ہیں مثلاً میراثی کا سید بننا، کمہار کا شیخ ہونا وغیرہ وغیرہ۔چونکہ ہم ترقی پسند قوم ہیں لہذا ہمیں کسی بھی قیمت پر ترقی منظور ہے خواہ خاندان کا نام ہی کیوں نہ بدلنا پڑ جائے۔ ویسے تو اسم ذات کی پانچ اقسام ہیں پر آج کل دو استعمال میں ہیں پیسہ اور عہدہ۔باقی پانچ جگہ کی کمی کے باعث کسی گرائمر کی کتاب میں پڑھ لیں۔


اسم استفہام: وہ اسم ہے جو پوچھنے کے محل پر بولا جائے۔ جیسے کون ۔یہ اسم عدالت اور تھانوں میں زیادہ چلتا ہے-اس کے جواب میں لاعلمی کا ہی مظاہرہ کیا جاتا تھا۔ اور اس پر پردہ ڈالنے کو ہر دو مقام پر کمیشن چلتا ہے خواہ پیسوں والا ہو خواہ پیشی والا ہو۔تاہم عام آدمی کے لیے اس کے سب سے اہم مثال ہے کہ "بجلی آنے والے ہے یا جانے والی ہے"؟


اسم مصدر: یہ وہ اسم ہے جس سے اور تو بہت سے الفاظ تو بنائے جاسکتے ہوں مگر وہ خود کسی سے نہ بنا ہومثلاً کھیلنا، لوٹنا،بنانا وغیرہ گویا یہ کسی آزاد ادارے کی طرح کام کرتا ہے اور پاکستان میں آزاد ادارے کی مثال دینے سے راقم قاصر ہے اگر آپ کے ذہن میں کوئی ہو تو اسی سے کام چلا لیں-


اسم حاصل مصدر(اسم کیفیت): وہ اسم جس سے کسی شخص یا شے کی کوئی حالت یا کیفیت معلوم ہو۔ جیسے ہن آرام اے؟ اور ووٹ دو ان کو۔ایسی کی تیسی میں بھی پاکستانی ہوں وغیرہ وغیرہ ۔ -


اسم فاعل: یہ وہ اسم ہے جو کسی کام کرنے والے کو ظاہر کرے۔ تاہم آج کل کام کرنے والے انتہائی کم ہیں اور مفت کی توڑنے اور حرام کی کھانے والے زیادہ ہیں تو اصل زندگی سے اس کی مثال دینا خاصا مشکل ہے تاہم گرائمر میں اس کی مثال محنتی، محسن، مجاہد وغیرہ ملتی ہیں جس سے آپ خود اس کی کمیابی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ -


اسم مفعول: یہ وہ اسم ہے جو اس شخص یا چیز کو ظاہر کرے جس پر کوئی کام واقع ہوا ہو۔اسکی سب سے بڑی مثال پاکستانی قوم ہے جس پر اسم مفعول پسا ہوا، لٹا ہوا، مرا ہوا وغیرہ وغیرہ فٹ بیٹھتے ہیں۔


اسم حالیہ: یہ وہ اسم ہے جو فاعل یا مفعول کی حالت ظاہر کرے جیسے فلاں صاحب بڑے امیر ہیں۔ یہ ہمارے قانون کی طرح سابقہ حساب کتاب نہیں مانگتا کہ چار سال پہلے تو وہ سوزکی جیپ پر چڑھے پھرتے تھے آج لکسس کہاں سے آ گئی بلکہ اسکا زور آج پر ہے کہ آج وہ ہر دل عزیز ہیں، امیر ہیں، سیاستدان ہیں، اور حکمران پارٹی میں ہیں وغیرہ وغیرہ-


اسم معاوضہ: یہ وہ اسم ہے جو پہلے کسی خدمت یا محنت کے عوض ملا کرتا تھا جیسے رنگائی، دھلائی، سلائی وغیرہ تاہم اب یہ بغیر محنت کے بھی عام مل جاتا ہے مثلاً تحفہ، نذرانہ، لفافہ، بریف کیس وغیرہ وغیرہ۔

Submit "اسم نکرہ کی اقسام اسم ذات- اسم استفہام- اسم مص" to Digg Submit "اسم نکرہ کی اقسام اسم ذات- اسم استفہام- اسم مص" to Twitter Submit "اسم نکرہ کی اقسام اسم ذات- اسم استفہام- اسم مص" to Facebook Submit "اسم نکرہ کی اقسام اسم ذات- اسم استفہام- اسم مص" to del.icio.us Submit "اسم نکرہ کی اقسام اسم ذات- اسم استفہام- اسم مص" to StumbleUpon

Categories
Uncategorized

Comments