وفاقی حکومت کی طرف سے ٹریکٹروں کی فروخت پر سیلز ٹیکس کی شرح سولہ فیصد سے کم کرکے پانچ فیصد کرنے کے فیصلے کے بعد ملک کے دونوں بڑے بند ٹریکٹر ساز کارخانے اسی ماہ دوبارہ چالو ہونے کا امکان ہے، جبکہ اگلے ہفتے سے ٹریکٹر ساٹھ ہزار سے ایک لاکھ تیس ہزار روپے تک سستا ہوجائے گا۔


ٹریکٹر ساز انڈسٹری کے اعداد و شمار کے مطابق سولہ فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ کے بعد ملک میں گزشتہ چھ ماہ میں ٹریکٹروں کی فروخت اکسٹھ فیصد گر گئی تھی۔ جبکہ لاہور اور ڈیرہ غازی خان میں ٹریکٹر تیار کرنے کے کارخانوں کی پیداوار پچھلے برس کے بتیس ہزار چار سو انیس ٹریکٹروں کے مقابلے میں رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں صرف تیرہ ہزار چار سو تئیس رہ گئی۔ سب سے بڑی ٹریکٹر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افیسر لئیق انصاری نے دنیا نیوز کو بتایا ہے کہ سیلز ٹیکس کی شرح پانچ فیصد تک کم کرنے اور زرعی ترقیاتی بینک سے قرض کی سہولت بحال کرنے کا فوری اثر ٹریکٹر ساز انڈسٹری اور اس سے منسلک چھوٹے کاروبار پر پڑے گا۔

کم از کم پچیس ہزار مزدورں سے کام پر واپسی کے لئے رابطے شروع کر دئیے گئے ہیں جن کو بحران کے باعث عارضی طور پر فارغ کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سیلز ٹیکس کی شرح کم کرنے کا نوٹیفیکشن اگلے ہفتے اقتصادی رابطہ کمیٹی کی منظوری کے بعد جاری ہوتے ہی ٹریکٹر ساٹھ ہزار سے ایک لاکھ تیس ہزار روپے تک سستا ہوجائے گا۔

ماہرین کے مطابق ملک میں ہر سال ایک لاکھ ٹریکٹروں کی ضرورت ہے، لیکن یہ ہدف تب ہی پورا ہوسکتا ہے جب اس کی قیمت کسان کی قوت خرید کی حد پار نہ کرے۔