سال دوہزار گیارہ کے دوران ڈالر اور ین کے مقابلے میں روپے کی قدر کم ہوئی، تاہم بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی مہنگی ہوگئی۔

سال کے دوران روپے کی شرح تبادلہ ڈالر، یورو اور پائونڈ اسٹرلنگ کے مقابلے میں بالترتیب چار اعشاریہ نو پانچ، ایک اعشاریہ نو دو، اور چار اعشاریہ پانچ آٹھ فیصد کم ہوئی، جبکہ روپے کی شرح تبادلہ ساؤتھ افریقہ کے رینڈ کے مقابلے میں چودہ فیصد، انڈین روپے کے مقابلے میں گیارہ اعشاریہ نو چھ جبکہ بنگلہ دیشی ٹکہ کے مقابلے میں نو اعشاریہ چھ ایک فیصد بڑھ گئی۔