کراچی: پاکستان کے جنوبی صوبے سندھ کے دارالحکومت کراچی کے کمشنر روشن علی شیخ کی ہدایت پر شہر میں دودھ کی خوردہ قیمت 60 روپے فی لیٹرمقرر کردی گئی ہے۔ دودھ کی قیمت 60 روپے مقرر کرنے کا فیصلہ ہفتہ کے روز کمشنر آفس میں ڈپٹی کمشنر ساؤتھ مصطفی جمال قاضی کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا، اجلاس میں کراچی ڈیری فارم ایسوسی ایشن، کراچی ڈیری فارمرز، ریٹیلرز، ہول سیلرز ایسوسی ایشن، کنزیومر رائٹس کونسل کے نمائندے اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس سے خطا ب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ساؤتھ مصطفی جمال قاضی نے کہا کہ دودھ آج سے 60 روپے فی لیٹر ہی فروخت کیا جائے، دودھ فروشوں کی دکانوں سے دودھ کے نمونے حاصل کئے جائیں، بھینس باڑوں کو ISO-9001 کے اسٹینڈرڈ کے مطابق اور صارفین کو معیاری دودھ کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
اس موقع پر ڈیری فارمرز ایسوسی ایشنز اور ریٹیلرز ایسوسی ایشن نے یقین دہانی کرائی کہ آج سے دودھ حکومت کے مقررہ کردہ نرخوں پر فروخت کیا جائے گا۔ساؤتھ مصطفی جمال قاضی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صارفین کی جانب سے مسلسل ددوھ کی زائد قیمت پر فروخت کی شکایت موصول ہورہی ہیں جس کا حکومت نے نوٹس لیتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ شہر میں دودھ 60 روپے فی لیٹر فروخت کیا جائے تاکہ شہریوں کو ریلیف مل سکے۔انہوں نے ہدایت کی کہ تمام ڈپٹی کمشنر اپنے اپنے اضلاع میں دودھ حکومت کے مقرر کردہ نرخ پر فروخت کو یقینی بنائیں اور ساتھ ساتھ اس کے معیار اور مقدار کو بھی چیک کیا جائے، انہوں نے ڈیری فارمرز کو ہدایت کی کہ جو دودھ مڈل مین کو فروخت کیا جاتا ہے اس کی لسٹ 3 یوم میں ڈپٹی کمشنر کے آفس میں جمع کرائی جائے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت کراچی میں روزانہ 60 لاکھ لیٹر دودھ فروخت ہوتا ہے اور قریباً 6 ہزار باڑے موجود ہیں جو 6 فیصد چکنائی کے ساتھ دودھ اوپن مارکیٹ میں فروخت کررہے ہیں، اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ جن دکانوں پر معیاری دودھ فروخت ہورہا ہے حکومت ان کو سرٹیفکیٹ فراہم کرے گی، دودھ کی دکانوں کے علاوہ باڑوں کا بھی سروے کیاجائے تاکہ اس کے معیار کو بھی دیکھا جاسکے۔