السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
ملک ممتاز حسین قادری اعوان (ولادت: 1985ء -وفات: 2016ء راولپنڈی)پاکستان کی پنجاب پولیس کے کمانڈو یونٹ ایلیٹ فورس کے ایک سپاہی تھے جو گورنر پنجاب سلمان تاثیر[1] کے سرکاری محافظوں میں شامل تھے۔آپ ہی نے گورنر کی جانب سے قانون توہین رسالت کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے پر اس کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا. ممتاز قادری کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر 2011ء میں دو مرتبہ موت کی سزا سنائی تھی۔ سزا کے خلاف اپیل پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے فروری 2015ء میں اس مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات تو خارج کر دی تھیں تاہم سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم دیا تھا۔اسی فیصلے کو دسمبر 2015ء میں سپریم کورٹ نے برقرار رکھا تھا۔ ممتاز قادری کو 29 فروری 2016ء کو سزائے موت دے دی گئی۔

واقعہ

ممتاز قادری کو یکم اکتوبر 2011ء کو راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی کی ایک عدالت نے قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا حکم دیا،سنایا، جس پر اسلام آباد کی عدالت عالیہ نے فوری طور پر حکم امتناعی جاری کر دیا۔ ممتاز قادری کے بقول اس نے ایسا اس لیے کیا، کیونکہ سلمان تاثیر نے توہین رسالت کے قانون کی مخالفت کی تھی۔ سلمان تاثیر نے 2010ء میں پاکستان میں قانون توہین رسالت کی شدید مخالفت کی اور اس میں ضیاء الحق کے دور میں کی گئی ترمیم کو کالا قانون قرار دیا۔ اس کے نتیجہ میں علماء کی ایک بڑی تعداد نے اسے واجب القتل قرار دے دیا اور 4 جنوری 2011ء کو اس کے اپنے محافظ ملک ممتاز حسین قادری نے اسلام آباد کے علاقے ایف -6 کی
کوہسار مارکیٹ میں اسے قتل کر دیا۔
ممتاز قادری کو 29 فروری 2016ء کو اڈیالہ جیل میں پھانسی دی گئی۔جیل حکام کے مطابق ممتاز قادری کو اتوار اور پیر کی درمیانی رات پھانسی دی گئی۔پھانسی کے وقت اڈیالہ جیل جانے والے راستے کو سیل کر دیا گیا تھا اور ان کی لاش قانونی کارروائی پوری کرنے کے بعد اہلِ خانہ کے حوالے کر دی گئی ہے۔ممتاز قادری کو پھانسی دیے جانے کا معاملہ انتہائی خفیہ رکھا گیا اور اس بارے میں پنجاب کے محکمہ جیل خانہ جات کے چند افسران ہی باخبر تھے۔ پھانسی دینے والے شخص کو خصوصی گاڑی کے ذریعے اتوار کی شب لاہور سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل پہنچایا گیا جبکہ عموماً پھانسی دینے والے جلاد کو دو دن پہلے آگاہ کیا جاتا ہے کہ اسے کس جیل میں قیدیوں کو تختہ دار پر لٹکانا ہے۔ پھانسی گھاٹ میں موجود لو گوں کا کہنا ہے کہ ممتاز قادری پھانسی کے وقت حالت روزہ میں تھا اور تختہ دار پر لٹکتے ہوئے اس کی زبان پر درود سلام جاری تھا۔