اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ’ن‘ لیگ اور پیپلز پارٹی کا دور ختم ہونے والا ہے ،نئے پاکستان کا آغاز ہوچکا، 30 اکتوبر کے جلسہ کے اعلان کے بعد مخالفین نے خوف کے باعث 28 کا جلسہ رکھ لیا، اقتدار پر قابض حکمران عوام کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں یہی وجہ ہے انہیں تحریک انصاف کے کراچی جلسہ میں عوام کا سونامی نظر نہیں آیا،نوجوانوں کو اسلام کی اصل روح سے روشناس کرانے کے لیے اقبال کی شاعری سمجھنا ناگزیر ہے ،آج پوری قوم انا پرست اور خود غرض حکمرانوں کو بددعائیں دے رہی ہے، چھوٹے چور جیلوں میں پڑے ہیں، سپریم کورٹ جب بڑے چوروں پر ہاتھ ڈالتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ جمہوریت خطرے میں ہے،اللہ مجھے ایمان نہ دیتا تو سیاست میں کبھی نہ آتا، آدمی دولت سے امیر نہیں ہوتا،امیر وہ ہے جسے کوئی خرید نہ سکے، سیاسی حریف میرے نظریات کو سمجھ ہی نہیں سکے،قوم کو حقیقی معنوں میں آزاد ہونے کے لیے ’’میں‘‘ سے نکل کر خوف کی زنجیریں توڑنا ہوں گی، قوم کے دل سے خوف نکالنا چاہتا ہوں، اگر یہ دور ہوجائے تو کوئی سپر پاور پاکستان کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھ سکتی۔ ان خیالات کا انہوں نے اتوار کو اپنی اردو خود نوشت ’’میں اور میرا پاکستان‘‘ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب کے مہمان خصوصی پروفیسر احمد رفیق اختر تھے جب کہ پاکستان کے ممتاز تجزیہ نگار ہارون رشید نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔عمران خان نے کہا کہ میرے کتاب لکھنے کا مقصد نوجوان نسل بالخصوص اورعوام بالعموم میں موجود ابہام کو دور کرنا ہے، اسی ابہام کا نتیجہ ہے کہ مجھے کبھی یہودی لابی کہا جاتا ہے اور کبھی طالبان خان بنا دیا جاتا ہے،مذہب اور کلچر کو آپس میں ملا دیا گیا ہے،جو انسان اپنے دین اور کلچر کو نہیں جانتا باشعور ہو ہی نہیں سکتا، ہمارے ہاں اسلام کے حوالے سے نوجوانوں میں کنفیوژن ہے، کوئی اسلام کی بات کرے تو اسے مُلا کہا جاتا ہے جب کہ کوئی جینز پہنے تو مولانا اسے دہریہ کہہ دیتے ہیں،مغرب ہمیں ہمارے مذہب اور کلچر سے دور کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ کس طرح مغرب اور پاکستان کا ماحول مجھ پر اثر انداز ہوا لیکن یہ ایمان کی طاقت تھی جس نے میرے اندر سے خوف اور ڈر کا خاتمہ کر دیا۔عمران خان کے بقول کرکٹ میں بھی مجھ سے بڑے کھلاڑی موجود تھے لیکن ڈر اور خوف نے انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا، آج کتنے لوگ ہیں جو نواز شریف اور زرداری کے خوف سے سامنے نہیں آ رہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک ملٹری ڈکٹیٹر نے ایک فون کال پر پاکستان کی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا،نیلسن منڈیلا نے اصولوں کی خاطر 27 سال جیل میں گزار دیے لیکن اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا، اگر میرا مقصد پیسے بنانا اورکرسی حاصل کرنا ہوتا تو ماضی میں ملنے والے مواقع کبھی ضائع نہ کرتا،میں آج بھی انہی نظریات اور اصولوں پر قائم ہوں جن پر 15 سال پہلے تھا۔انہوں نے کہا کہ جانوروں اور انسان کے معاشروں میں بنیادی فرق انسانیت اور انصاف کا ہے، آج امریکا مختلف بہانوں سے طاقت کے بل پر لاکھوں افراد کا قتل عام کر رہا ہے۔عمران خان نے کہا کہ اقبال نے جتنی بھی پیش گوئیاں کیں وہ درست ثابت ہو رہی ہیں، میں نے بھی مئی میں لکھی جانے والی اس کتاب میں ایک پیش گوئی کی تھی کہ سونامی آ رہا ہے، کراچی میں جلسہ میں اڑھائی لاکھ لوگ شریک ہوئے لیکن بڑی پارٹیاں ڈرامے کر رہی ہیں، اصل میں وہ عوام کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں، اس لیے انہیں سونامی نظر نہیں آیا، کہا جاتا ہے کہ ایجنسیاں لوگوں کو تحریک انصاف کے جلسوں میں بھیج رہی ہیں، کیا عوام اتنے ناسمجھ ہیں کہ ان کی باتوں میں آ جائیں گے؟ عمران خان کا کہنا تھا کہ ان حکمرانوں کا وقت ختم اور نئے پاکستان کا آغاز ہو چکا ہے۔تقریب کے مہمان خصوصی پروفیسر احمد رفیق اختر نے کہا کہ انصاف محض خارجی حقیقت نہیں اور نہ ہی صرف انسانوں تک محدود ہے بلکہ انصاف تو وہ ہوتا ہے جسے عالم کل محسوس کرے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان مقدر پرست ضرور ہے مگر چیزوں کو مقدر کے حوالے نہیں کرتا، یہ آدھے رستے میں تھکتا نہیں اور نہ ہی میدان سے بھاگنے والوں میں سے ہے، عمران خان میں بناوٹ نہیں، وہ میچ فکس نہیں کرتا، جھوٹ نہیں بولتا، جس کام کے پیچھے پڑجائے وہ پورا کرتا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ عمران خان کا تربیتی سفر ملک کی تلخیوں میں بہار کی طرح نظر آتا ہے جب کہ ملک کا لوئر و مڈل کلاس طبقہ ملکی مسائل میں صرف تنقید کرتا ہے، جب انسانی زندگی میں توفیق شامل ہوجاتی ہے تو کوئی بھی موقع ایسا نہیں ہوتا کہ وہ رجوع نہ کرے، کتاب پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ عمران خان کو بھی قدرت نے توفیق دی ہے۔تقریب سے کتاب کے مترجم اور معروف کالم نگار ہارون الرشید نے مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے چند سالوں سے انہیں سازشوں میں ملوث کیا جارہا ہے لیکن سازشیں کرنے والے مجھ سے یہ توقع نہ رکھیں کہ میں ان کی سازشوں کا جواب دوں گا، سب لوگ میرے ماضی اور حال سے واقف ہیں۔