عزیز فرینڈز۔السلام علیکم



میرے ایک قریبی دوست نے جب اپنے دادا کے چہلم کا دعوت نامہ میرے ٹیبل پر
رکھا۔یہ کم از کم ۱۰۰ روپیوں کا کارڈ رہا اس پر لال کلر کی لگی ڈوری سے میں لفافہ دیکھ کر مضمون سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔ میرے دوست نے مجھ سے کہا کہ چہلم کی دعوت اپکے بنا ادھوری رہ جاییگی۔اپ ضرور اییں۔۔میں نے دوست کہ دل رکھنے کی خاطر حامی بھرلی۔۔سبحان اللہ ۔۔میں تھوڑی دیر کے لیے تو خوشی سے پھولے نہ سمایا، لیکن جب لفافہ کھولا اور شادی خانہ ابادی کے انداز کے اس چہلم کے رقعہ کو دیکھا تو پانی کے انسو رونے کی ایک ناکام کوشش کرنے لگا۔۔(خون اجکل مہنگا ہے)۔۔۔ملاحظہ ہو۔۔۔


جناب صوفی چقندر صاحب مرحوم کا انتقال پر ملال



موصوف کی شخصیت اور انکے خدمات کا اعتراف کرتے ہوے ایک شاندار دعوت چہلم کا اہتما م کیا گیا ہے۔اس پر تکلف محفل مٰی٘ں ملک کے طول و عرض سے مہمان اور اپکے چاہنے والے تشریف لارہے ہیں۔ پر تکلف ڈنر کا اہتمام کیا گیا ہے۔ محفل چہلم میں اپکی شرکت کے ارزومند
فرزندان۔۔دختران اہلیان

میں اپنی مصرفیت کے باعث اس پر تکلف دعوت چہلم میں شریک نہ ہوسکا لیکن میرے بعض بو ذوق( یہ احباب بو ذوق اسلے کہ یہ بو سونگھ کر پہنچنے پر پی ۔ایچ ۔ ڈی ہیں ) احباب نے اسکی روداد مجھے سنایی بہت ہی شاندار سجے سجاے، شادی خانہ میں، ماڈرن بفے اسٹایل کی اس دعوت میں، اسپیشل حیدرابادی حلیم کے بعد، مختلف قسم کی بریانیوں اور سوکھے چکن اور مٹن کے ہمہ اقسام ڈشس کے بعد۔۔کدو کی کھیر اور خاص حیدرابادی قوبانی کا میٹھا بھی مینو میں شامل تھا۔۔میں نے سونچا کہ کتنا روحانی منظر رہا ہوگا۔اور پھر خاص کر اس سے موصوف کی روح کو کتنا سکوں ملا ہوگا۔۔۔۔(سب سے معذرت کے ساتھ)



نوٹ: تحریر حقایق پر مبنی ہے، نام اور انداز فرضی ہے۔۔ہماری ایک اور بگڑی ہوی تصویر