کچھ عرصہ پہلے میری شادی ایک حسین اور پڑھی لکھی لڑکی سے ہوئی ۔ میں معمولی شکل و صورت کا اور کم پڑھا لکھا تھا۔ مگر ایک زعم تھا اپنی مر دانگی پر ، ایک تکبر تھا کہ یہ معاشرہ مر دو ں کا معاشرہ ہے ۔ یہا ں عورت پاﺅں کی جو تی سے زیا دہ اہمیت نہیں رکھتی ۔ عورت ایک چھوڑ دس مل جائیں گی اور اسی سو چ کے تحت میں نے زندگی کا آغاز کیا ۔
دوسرے ہی دن اپنی اصلیت اس کو دکھا دی کہ وہ کسی خوش فہمی کا شکا ر نہ ہو ۔ یہا ں ناز برداریا ں تو دور کی بات ،برا بر کا سلو ک بھی روانہ رکھا جائے گا۔ وہ اس حالت کو دیکھ کر متحیر رہ گئی ۔ وہ ایسی سو سائٹی سے آئی تھی جسے پوش علا قہ کہا جا تاہے ۔ اعلیٰ تعلیم یا فتہ ۔ اس کے گھر کا ماحول مذہبی تھا اور میں رنگین مزاج جوانی میں تھا۔ وہ پر دہ کر تی تو میرے تن من میں آگ لگ جاتی اور میں اس کی ہر ہر با ت میں کیڑے نکالتا ۔ مگر وہ خاموش آنکھوں میں آنسو بھر ے مجھے دیکھتی رہتی اور اس کی بے بسی کو دیکھ کر مجھے بڑا سکون ملتا ۔
اس کو ہر فن آتا تھا ۔ گھر داری میں طا ق تھی ۔ بچو ں کی پرورش بہترین انداز سے کر رہی تھی مگر مجھے اس میں کیڑے ہی نظر آتے اور میں ہر ممکن کو شش کر تاکہ بچو ں کے سامنے اس کی بے عزتی کروں اور میں ہر طر ح اس کی صحیح بات کو بھی غلط ثابت کرنے کی کوشش کر تا ۔
وہ بچو ں کو پڑھاتی کیو نکہ میری محدود آمدنی میں گھر کا گزارہ مشکل سے ہو تا تھا ۔ میں کرائے کے مکان میں رہتا تھا۔ اس کا کرایہ، آنے جا نے والوں کا خر چہ ، دکھ درد میں دوائی کا خر چہ مگر اس کی اچھا ئیو ں کو میں نے یکسر فراموش کر دیا تھا ۔ ہما ری شادی کو پندرہ سال ہو چکے تھے ۔ میں اسے کبھی بھی گھمانے نہ لے جا تا کہ اس طر ح میری سبکی ہو تی ۔ حسین آنچلو ں کے درمیا ن پردے میں لپٹی وہ مجھے زہر لگتی اور گھر آکر میں خو ب گالم گلو چ سے اس کی تواضع کیا کر تا اور اب اس کی ہمت جواب دینے لگی تھی اور یہ بھی میری کا میا بی تھی ۔ اب وہ کسی نہ کسی بات کا جواب دینے لگی اور یو ں میری رگ شیطانیت کواور ہوا ملی ۔ اب میں اس پر ہا تھ بھی اٹھانے لگا اور مجھے یہ کہنے کا مو قع بھی مل گیا کہ خرا ب عورتو ں کی یہ نشانی ہو تی ہے کہ وہ مردو ں سے زبان چلائیں ۔
گھر کا سکون میں نے غار ت کر دیا تھا ۔ پڑوسی بھی میری بدزبانی کا دبی زبان میں ذکر کرنے لگے تھے مگر مجھے کسی کی پرواہ نہ تھی ۔ میں تو اپنے پندار میں اپنے آپ کو اعلیٰ وارفع سمجھ رہا تھا ۔ مجھے کسی کی پرا وہ نہیں تھی ۔ مگربچوں کو میں بہت چاہتا تھا ۔ لیکن جب اپنی پر آتا تو بچوں کی بھی خوب خبر لے لیتا۔ بچوں کے معاملے میں وہ بہت حساس تھی اور ان کو کچھ نہ کہنے دیتی ۔ اس کی ہر ممکن کو شش ہو تی کہ میں بچو ں کو کچھ نہ کہو ں اور یہ ہی اس کی کمزوری اس کے لیے مصیبت بن گئی ۔
وہ ایسی بیمار پڑی کہ ڈاکٹرو ں نے اس کی زندگی ختم ہو نے کی نوید سنا دی کہ وہ اب کچھ دنو ں کی مہمان ہے۔ مگر میں اب بھی اپنی کسی کمزوری کو اس کے سامنے ظاہر نہ ہونے دیتا چاہتا تھا ۔ اس کو میں نے اس کے باپ کے گھر بھیج دیا تا کہ بچے اس کی حالت دیکھ کر مجھ سے بدظن نہ ہو جائیں ۔ وہ پورے ایک ماہ موت کا مقابلہ کر تی رہی مگر میں اس کو دیکھنے تک نہ گیا اور یہ بہا نا بنایا کہ بچو ں کو اکیلے چھوڑ کر کیسے جا ﺅں اور نہ بچو ں کو جانے دیا۔ مگر ان پر خو ب توجہ دی تاکہ بچے خوش رہیں اور ماں کی کمی محسو س نہ کر سکیں ۔ مگر نہ جانے کونسی انا تھا جس کو میں قائم رکھنا چاہتا تھا ۔
مسلسل بیماری کے بعدوہ صحت یا ب تو ہو گئی مگر وہ، وہ نہ تھی جو بیماری سے پہلے تھی ۔ اب وہ چڑچڑی ہو گئی تھی ۔اسے میری طر ف دیکھنا بھی گوارانہ تھا ۔ با ت با ت پر بچو ں کو ڈانٹتی اور مار بھی دیتی ۔ یہ سب دیکھ کر میں آگ بگولہ ہو جا تا اور خوب گالیو ں سے اسے نوازتا ۔ ما رتا، پیٹتا اور ایک دن وہ خامو شی سے میر ا گھر چھوڑ کر چلی گئی اور اس بات کو میں نے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا ۔ بچو ں نے بہت چاہا کہ میں اسے لے آﺅ ں مگر میں نے کسی کی نہ مانی ۔ ایک دن میں نے سورئہ بقرہ کی یہ آیات پڑھیں ۔ ترجمہ اور ان کو ستا نے اور زیا دتی کرنے کے لیے نہ روک رکھو ۔ جو ایسا کرے گا وہ اپنے اوپر آپ ظلم کرے گا ۔ اللہ کی آیا ت کا مذاق نہ بنا لو۔ میری راتو ں کی نیندیں اڑ گئیں ۔ پچھتا وے میرا تعاقب کرنے لگے اور میں سوچنے پر مجبو ر ہو گیا ۔ مگر میری جھو ٹی انا میرے آڑے آتی رہی اور میں یہ سو چنے ضرور لگا کہ وہ گھر بھی آجائے مگر مجھے لینے بھی نہ جا نا پڑے۔ لڑکیا ں جوان ہو رہی تھیں ۔ لڑکے بھی اپنا قد نکال رہے تھے اورمجھے فکر ان لڑکیو ں کی تھی۔ اب مجھے احساس ہو تا ہے کہ ما ں کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ۔ اسے گئے ہوئے پورا ماہ ہو گیا ہے ۔ سنا ہے وہ بیمار ہے مگر میں اپنی فطرت کو کیوں کر بدلوں ۔ یہ جو خیا ل ہے کہ میں مر دہو ں اور عورت پا ﺅ ں کی جو تی ، اس کو دما غ سے کیو ں کر نکالوں ۔ مگر یہ آیات بھی مجھے چین نہیں لینے دیتیں ، لیکن میں بھی بڑا کائیا ں ہوں۔ آخر تو راہ نکال ہی لی میں نے بیٹے کو بھیج کر اسے بلا لیا۔ وہ ما ں کی ما متا کے ہا تھو ں مجبو ر ہو کر آتو گئی مگر اپنا سب کچھ وہیں چھوڑ آئی ۔ آج میرے پا س پچھتا ﺅ ں کے علا وہ کچھ بھی نہیں ، کیو نکہ اب اس نے مجھ سے ہر تعلق توڑ لیا ہے۔ وہ صرف اپنے بچو ں کی خاطر اس گھر میں ہے ، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس نے ہر چیز سے منہ موڑ لیا ہے ۔ اور میں سو چ رہا ہوں کہ میں جو مر د ہوں جھوٹی انا کولے کر کہاں جا ﺅ ۔ کیونکہ اب میرے پا س کچھ بھی نہیں ہے ۔ میں اس گھر میں اجنبی بن گیا ہوں۔ بچے مجھے دیکھ کر اِدھر اُدھر ہو جاتے ہیں ۔ اب بڑھاپامجھے اِسی اذیت کے ساتھ گزارنا ہے۔ جو میں نے کل بویا تھا، آج کاٹنے پر مجبو ر ہو ں ۔

میں آپ سب سے گذارش کرتا ہوں کہ خدارا اپنے خاندان کو جھوٹی انا کی بھینٹ مت چڑھائیں ورنہ بربادی آپ کا مقدر بن جائے گی