آئین کے مطابق صدر پاکستان کے پاس اختیار ہے کہ جب قومی اسمبلی کام نہ کر رہی ہو تو فوری ضرورت پوری کرنے کیلئے کسی بھی خاص مسئلہ پر آرڈیننس جاری کیا جا سکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ بعد میں اسے قومی اسمبلی اور سینٹ سے پاس کرا کر قانون شکل دی جاتی ہے۔ NRO کی طرح TOO بھی ناپسندیدہ ترین آرڈیننس ٹھہرا۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ گزشتہ حکومت کے تمام آرڈیننس قومی اسمبلی میں پیش کر کے ان کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے۔ NRO کو مسترد کرنے کے بعد اب TOO مسترد کرنے کی باری آ چکی ہے۔ اس سلسلہ میں دو میٹنگیں پہلے کراچی میں ہوئیں جبکہ کراچی کی آخری میٹنگ میں جوFPCCI کے صدر دفتر میں ہوئی تمام چچیمبرز اور ایسوسی ایشنز کے نمائندوں نے ڈائریکٹر جنرل ٹریڈ آرڈیننس کی موجودگی میں اسے نہ صرف مسترد کر دیا بلکہ ایک قرارداد بھی پاس کی گئی جس کے مطابق ٹریڈ آرڈیننس کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی جائے گی اور حکومت کو ہر جگہ سے ایک ہی پیغام دیا جائے گا کہ ہمیں ٹریڈ آرڈیننس مجریہ 2007ءمنظور نہیں ہے۔
اس ضمن میں ایک اہم اجلاس FPCCI کے لاہور آفس میں ہوا جس کی میزبانی ریجنل سربراہ میاں محمد ادریس نے کی۔ مہمان خصوصی سارک چیمبر آف کامرس کے نائب صدر افتخار علی ملک تھے اور خصوصی خطاب طارق سعید نے کیا جو اس وقت بزنس مین پینل کے چیئرمین ہیں اور اس تنظیم کے نوے فیصد ممبران اس وقت مختلف چیمبرز اور ایسوسی ایشنوں کی اعلیٰ سیٹوں پر فائز ہیں۔ طارق سعید نے ٹریڈ آرڈیننس کا پس منظر بیان کرتے ہوئے بتایا قیام پاکستان کے وقت صنعت وتجارتت کی نمائندہ تنظیمیں موجود تھیں لیکن حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ فیلڈ مارشل ایوب خان نے صنعت وتجارت کی سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے کیلئے 1961ءمیں ٹریڈ آرگنائزیشنز آرڈیننس جاری کیا بعد میں اسے اسمبلی سے منظور نہ کرایا گیا جس کی وجہ سے خود بخود ختم ہو گیا اور ختم ہونے کے 46 سال بعد 2007ءمیں سابقہ صدر نے اسے نئے سرے سے جاری کر دیا۔ جبکہ صنعت وتجارت کی سرگرمیوں کو مانیٹر کرنے اور نگرانی کرنے کیلئے سب سے اہم ادارہ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن موجود ہے جو کوآپریٹ سیکٹر ٹریڈ باڈیز پرائیویٹ لمیٹڈ کمپونیوں لمیٹڈ کمیٹیوں کیپٹل مارکیٹ انشورنس اور نان بنکنگ سیکٹر میں اپنی ذمہ داری بہت اچھے طریقے سے انجام دے رہا ہے۔
افتخار علی ملک نے کہا کہ SECP کے ہوتے ہوئے آئینی قانونی طور کسی دوسرے ادارے کی ضرورت نہیں ہے جو صنعت ورتجارت کی قانونی اور آئینی سرگرمیوں کو متاثر کرے اور آمرانہ ڈکٹیشن دے۔ اس لئے قومی اسمبلی کو چاہئے کہ ٹریڈ آرڈیننس مجریہ 2007ءکو بھی NRO کی طرح مسترد کر دے کیونکہ صنعت وتجارت کی تمام سرگرمیوں کی موثر نگرانی کیلئے حکومت کے پہلے سے ہی ایک فعال محکمہ موجود ہے