چنیوٹ میں سرعام دو نوجوانوں کو برہنہ کر کے کوڑے مارے گئے۔ یہ ایسا ہی واقعہ ہے کہ سوات میں مبینہ طور پر طالبان نے ایک عورت کو لوگوں کے ہجوم کے درمیان کوڑے مارے تھے ۔ غالباً لڑکی کے بھائی نے اسے پکڑ رکھا تھا تا کہ کسی غیر محرم کا ہاتھ لڑکی کو نہ لگے۔ کوڑے مارنے والا غیر محرم تھا مگر طالبان تھا۔ تب فارن فنڈڈ این جی اوز کی ماڈرن عورتیں میڈیا پر آ کے چیختی چلاتی رہیں۔ آج تک یہ واقعہ ایک راز ہے اور ہمراز کوئی بھی نہیں۔ یقیناً انہوں نے چنیوٹ کے دو نوجوانوں کو پولیس والوں سے کوڑے لگتے دیکھے ہوں گے۔ انہوں نے برا نہیں محسوس کیا ہو گا بلکہ انجوائے کیا ہو گا۔ ایک تو کوڑے کھانے والے مرد ہیں۔ دوسرا کوڑے مارنے والے طالبان نہیں تھے جو امریکہ کے لئے ناپسندیدہ ہیں اس سے پاکستان کی بدنامی کا پہلو بھی نکلتا تھا یہ ایک طرح کے واقعات ہیں تو ردعمل مختلف کیوں ہے۔ آئی جی پنجاب طارق سلیم ڈوگر نے فوری طور پر ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کو معطل کر دیا ہے۔ طارق صاحب کے لئے میرے دل میں عزت ہے میں ان کے آئی جی بننے پر بہت خوش ہوا تھا۔ پہلے ان سے کبھی کبھی ملاقات ہو جاتی تھی۔ اب وہ بہت مصروف ہونگے مگر انہوںنے تھانہ کلچر تبدیل کرنے کے لئے کچھ نہیں کیا۔ شاید انہیں کچھ کرنے نہیں دیا گیا وہ خود اچھے دل والے آدمی ہیں۔ امانت اور استقامت والے پولیس افسر ہیں مگر تاریخ میں ان کا نام بھی نہیں ہو گا کسی آئی جی نے ایسا کام نہیں کیا کہ اسے یاد کیا جائے۔ وہ جب ایس پی اور ڈی آئی جی لاہور تھے تو آج سے بہت اچھے تھے ان کو کرنے کچھ نہیں دیا جاتا تو پھر وہ آئی جی کیوں بنے ہیں۔ یہ واردات ہر تھانے میں ہوتی ہے۔ ایک بار کسی ایک پولیس والے کو عبرت کا نشان بنا دیا گیا ہوتا تو پھر ایسا کبھی نہ ہوتا۔ ڈوگر صاحب اللہ کے دربار میں کس کس ظلم کا حساب دیں گے۔
چنیوٹ کے اس شرمناک اور توہین آمیز واقعہ کے بعد متعلقہ پولیس افسروں کو سرعام لٹا کر برہنہ کر کے کوڑے مروائے جاتے خود طارق سلیم ڈوگر اس نیک کام کی نگرانی کرتے۔ انہوں نے یہ مناظر ٹی وی چینلز پر دیکھے ہونگے تو پھر انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کیسا اس کے علاوہ کسی تفتیش کی ضرورت ہے۔ وہ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ اس سے پہلے انہوں نے خود کئی پولیس ملازمین کو معطل کیا ہو گا۔ کیا وہ اب بھی ملازمت میں نہیں۔ ان میں سے کئی کی ترقی ہو گئی ہو گی۔ ایک جگہ سے معطل ہونے والے بحال ہو کے اس سے زیادہ مرغوب جگہ پر لگا دئیے جاتے ہیں۔ کارروائی رانا ثناءاللہ کی محض ایک بیان ہوتا ہے البتہ شہباز شریف نے پولیس کے خلاف کارروائی کے لئے ہدایات دی ہیں۔ یہ ہدایات وہ دیتے رہتے ہیں۔ وہ کئی جگہوں پر مظلوم لڑکیوں اور بے گناہ ستم رسیدوں کے گھر گئے ہیں یہ سب لوگ صرف اور صرف پولیس کی زیادتیوں کا شکار خواتین و حضرات ہی ہوتے ہیں۔ اس کے بعد کوئی خبر نہیں آتی کہ کسی کو انصاف ملا کہ نہیں ملا۔ یقیناً نہیں ملا ہو گا۔ اسی جگہ پر پھر اس سے بڑھ کر ظلم کی واردات ہوتی ہے اور اس میں کسی نہ کسی طرح پولیس والے ملوث ہوتے ہیں۔ یہ ظالموں کے ساتھی ہیں۔ کھلی کچہریوں میں 99 فیصد شکایتیں اور فریادیں پولیس والوں کے خلاف ہوتی ہیں۔ لوئر مڈل کلاس سے آئے ہوئے وردی پہن کر غریبوں پر ظلم کرتے ہیں کیا انہوں نے کبھی کسی امیر زادے یا وزیر کے بیٹے یا ایسے کسی نوجوان کے ساتھ زیادتی کا سوچا بھی ہے۔ برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر یہاں برق کا مطلب پنجاب پولیس ہے۔ تھانے، عقوبت خانے ہیں ان میں ایسے کمرے بھی ہیں جہاں معصوم عورتوں کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے۔
حافظ آباد میں چند دن پہلے پولیس والے یہی تماشا لگائے ہوئے تھے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ عام لوگ انجوائے کر رہے ہیں۔ یہ بے غیرتی ہے اس توہین اور تشدد کا کوئی جواز نہیں۔ وہ لوگ کیا ہیں جو تھانوں کو آگ لگا دیتے ہیں یہ بھی کبھی ہو گا کہ ظالم پولیس والوں کو لوگ خود کیفرکردار تک پہنچا دیں گے۔ ڈیفنس تھانے میں ایسی ہی واردات کی گئی ہے۔ غالبا گیارہ جنوری کو ایک نوجوان کی چھترول کی گئی۔ پچھلے ایک ماہ کے دوران پنجاب پولیس کی یہ تیسری معرکہ آرائی ہے۔ پچھلے ایک سال کا حساب لگا لیں پھر کئی سالوں کا حساب لگائیں۔ پولیس افسران اور افسران تکبر اورتکدر میں ایک جیسے ہیں۔ یہ افسران بالا کہلاتے ہیں انہیں افسران تہہ و بالا بھی کہا جاتا ہے۔ تھانہ کلچر اور دفتری زیادتیوں کو بدلنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ افسرانہ کلچر تبدیل کیا جائے۔ افسران اور پولیس افسران ظالم اور کرپٹ ہیں۔ بیورو کریسی براکریسی ہے۔ انہوں نے کبھی کچھ بھی اچھا نہیں کیا۔ افسران کو کبھی معطل نہیں کیا گیا۔ انہیں صرف کچھ دیر کے لئے او ایس ڈی بنایا جاتا ہے۔ یعنی آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی تو اس سے پہلے وہ کس طرح کی ڈیوٹی پر ہوتے ہیں ان کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کے لئے کمشن بنایا جائے۔
سی سی پی او پرویز راٹھور کے لئے بھی میرے دل میں نرم گوشہ ہے۔ وہ دیہاتی مزاج کے دل والے آدمی ہیں۔ انہیں بھی پتہ ہوگا کہ تھانوں میں کیا ہوتا ہے۔ وہ جو کیمرے کی آنکھ میں اور قلم کی نوک پر نہیں آتا مگر ڈیفنس تھانے کے واقعے پر تو کوئی ایکشن لیں حافظ آباد کے لئے آر پی او ذوالفقار چیمہ سے گزارش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے۔ اغواءبرائے تاوان کی قیامت گوجرانوالہ میں طاری کرنے والے نتھو گورایہ کی نعش کو شہر بھر میں پھرایا گیا جو پنجاب پولیس کی تاریخ میں ایک کارنامہ ہے مگر کیا یہ بھی کارنامہ ہے جو حافظ آباد پولیس کے جوانوں نے سرعام چھترول کر کے انجام دیا۔ ملزم اور مظلوم میں فرق نہیں رہا۔ کیا چیمہ صاحب اپنی پولیس کی خبر بھی لیں گے؟۔ طارق سلیم ڈوگر نے اس موقع پر پولیس کے شہید جوانوں کو یاد کیا۔ ان کی قدر ہمارے دل میں بھی ہے مگر یہ موقعہ نہ تھا۔ میرے ایک کالم پر فوراً وہ اوکاڑہ پہنچے تھے ۔ ظالم پلسیوں کو جیل بھجوانے سے پہلے ان کی سرعام چھترول ضروری تھی۔ کیا یہ پولیس والے کیفر کردار تک پہنچائے جائیں گے۔ یقین نہیں آتا۔ لوگ صبر کریں گے اور انتظار کریں گے مگر طارق سلیم ڈوگر ریٹائر ہو جائیں گے۔