Dr Aamir Liaquat Hussain Article Loud Speaker in Jang News "Chalo kuch to yaksa howa.load shedding hi sahi"


چلو کچھ تو یکساں ہوا۔لوڈشیڈنگ ہی سہی!...لاؤڈ اسپیکرڈاکٹرعامرلیاقت حسین

ہم لوگوں کو یکساں انصاف فراہم نہیں کر سکے، یکساں نظام تعلیم کے لئے کوئی کام نہیں کیا، یکساں حقوق کے لئے صرف آواز ہی اُٹھاتے رہے ، یکساں معیارِ زندگی صرف ایک خواب بن کر ہی رہا اور سب کے ساتھ یکساں سلوک کتابوں کے اوراق میں چَھپ کر چُھپا رہا مگر بڑی خوشی کی بات ہے کہ ہم نے کم از کم لوڈشیڈنگ کے سہارے کچھ تو یکساں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے سپریم کورٹ کے حکم پر خیبر سے کراچی تک اب یکساں لوڈشیڈنگ ہوا کرے گی، کیا ہوا جو اسمبلیوں میں نشستیں یکساں نہیں، کوئی بات نہیں کہ جو وسائل کی تقسیم میں توازن کو کبھی برقرار نہیں رکھاگیا اور حیرت کی بات نہیں اگر توانائی سب جگہ یکساں نہیں پہنچییہ انصاف کیا کم ہے کہ اب برابری کی بنیاد پر لوڈشیڈنگ ہوا کرے گیویسے بھی کراچی جیسے شہر میں جہاں ٹارگٹ کلنگ نے پہلے ہی خوشیوں کو اندھیروں میں دھکیلے رکھا ہو،جہاں انسانوں کو انسانوں سے ڈسوانے کا موسم کبھی جاتا ہی نہ ہو وہاں کچھ گھنٹوں کے لئے بجلی کا آنا خود بجلی کے لئے باعثِ شرم اور ارتکابِ توہین ہےایسے میں یکساں لوڈشیڈنگ کے نسخے سے بہتر اِس مرض کی کوئی تشخیص ہو ہی نہیں سکتی تھی اور اِس کا بروقت اطلاق کر کے ہیسکو،لیسکو،واپڈا اور کے ای ایس سی جیسے ڈراؤنے نام والے اداروں نے عوام کے دل جیت لئے ہیںمیں حیران ہوں کہ دلدل میں دھنسی قوم کے محفوظ رہنماؤں نے اِس عظیم تاریخی فیصلے پر خاموشی کیوں اختیار کر رکھی ہے؟ سب چپ کیوں سادھے بیٹھے ہیں؟ یہ تو تاریخ کاایک شاندار موڑ ہے ، بالکل اُس سورج گرہن کی طرح جو ستر سال میں ایک مرتبہ انسانی مشاہدوں کو جِلا بخشتا ہےکراچی والو! اب ناراض نہ ہوجانا اور اے ملک کے دوسرے صوبوں میں بسنے والو! تم بھی اِسے امتیازی سلوک سے تعبیر مت کرنا، یہ درست ہے کہ قیام پاکستان کے بعد سے ہی تمہیں کچھ بھی برابری کے تحت نہیں ملا لیکن اب یہ جو لوڈشیڈنگ مل رہی ہے ،اِسے قبول کرلینااورانکار نہ کرنادیکھو اگر تم نے ضد پکڑ لی اور مساوات کی اِس پھوار سے سیراب نہ ہوئے تو ہمیشہ کے لئے پیاسے رہ جاؤ گے، تم کتنے خوش نصیب ہو کہ تم سب سے ایک ساتھ بجلی لے لی جائے گی، وہ منظر کتنا دلفریب ہوگا جب کوئی صوبہ دوسرے صوبے کو کچھ دیر کے لئے روشن دیکھ کر یہ شکوہ نہیں کر سکے گا کہ وہ بجلی سے کیوں محروم ہے ؟کوئی فرق نہیں پڑتا اگر اُس کی آبادی بھرپور ہو،اِس پر بھی غور کرنے کی ضرورت نہیں کہ بجلی کی طلب کہاں زیادہ اور کہاں کم ہے؟ بس اِتنا یاد رکھنا ضروری ہے کہ عدل کو راستہ یہیں سے ملا ہے اور اُس نے اپنے سفر کا آغاز کردیا ہےکاش کہ فیصلہ یہ سنایا جاتا کہ آج سے پورے ملک کو یکساں بجلی فراہم کی جائے،کاش کہ سوال یہ کیا جاتا کہ بجلی کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والے یہ تو بتائیں کہ پاکستانیوں کا آخر قصور کیا ہے اور وہ کس جرم کی سزا بھگت رہے ہیں کہ اِس شدید گرمی میں بجلی سے محروم ہیں ، کاش کہ ذمہ داروں کا تعین کر کے اُن سے بازپُرس کی جاتی، سزائیں سنائی جاتیںمگر ایسا کچھ نہیں ہوااور اُمید رکھئے کہ آئندہ ہوگا بھی نہیں،چند ماہ تک یہ شور یونہی کان کے پردے پھاڑتا رہے گا،میڈیا خبروں کی شہ سرخیوں کے ساتھ پنکھا جھلتے عوام کے چہرے دکھا کرحقائق کو کمرشل بریک کے ساتھ بیچتا رہے گا،ہم جیسے کالم نگاروں کو مفت میں ایسے موضوعات ملتے رہیں گے تاکہ ہمارا قلم چلتا رہے اور کالم کا پیٹ بھرتا رہے، جب سر میں جوئیں زیادہ ہوجائیں تو رینگنے کا احساس جاتارہتا ہے اور شاید اِسی لئے اب کسی کے سر پر جوں نہیں رینگتی بلکہ بے حسی کی دوسری جوؤں کے ساتھ بالوں کے کسی سایہ دار جھنڈ میں بیٹھ کر خوش گپیاں کرتی رہتی ہےکسی کا درد دیکھ کر کلیجہ منہ کو آجانا جیسی امثال بھی اب اِس لئے معنی نہیں رکھتیں کیونکہ قوم کا کلیجہ پہلے ہی سے کرتا دھرتاؤں کے منہ میں ہے اور وہ اُسے مزے لے لے کر چبا رہے ہیں، سب اپنی اپنی مستی میں مست ہیں، بے فکرے، ناشُکرے اور شکاری شِکرے!
رہ گئی قوم تو سچ پوچھئے یہ بھی ظالموں میں سے ہی ہے، جنریٹرز خریدنے کے عادی اور ایک دوسرے سے یوپی ایس کی تعریفیں کرنے والے کبھی اپنا حق مانگنے کے قابل ہو ہی نہیں سکتےمحفلوں میں مشورے دیئے جاتے ہیں کہ پٹرول والامہنگاہے تو گیس کا لے لو، گیس کا بھی نہیں لے سکتے تو چائنا کا سب سے سستا والا لے لو اور اگر اِس کی استطاعت بھی نہیں رکھتے تو اچھی بیٹری والا یوپی ایس ضرور لے لواور پھر اِس کے بعد یار دوستوں کو فخر سے بتایا جاتا ہے کہ ہمارا والا جنریٹر تو زبردست ہے بھائی! 4پنکھے، ایک فریج،6ٹیوب لائٹیں اور ایک ٹی وی بآسانی چلائے جاسکتے ہیں،سیکنڈ ہینڈ جاپانی ہے مگر کمال کا ہے ، تم بھی یہی لے لو، روز روز کی لوڈ شیڈنگ سے جان تو چھوٹے گی جبکہ دوسرا یوں جواب دیتا ہے کہیار! ہم تو اپنے یوپی ایس ہی میں خوش ہیں2پنکھے چل جاتے ہیں،6ٹیوب لائٹیں اور چھوٹا والا فریجیار تجھے تو پتہ ہے کہ جنریٹر کی آواز بہت ہوتی ہے ، اماں کو ویسے ہی شور شرابا پسند نہیں ہے حالانکہ اپنی گلی میں شدید فائرنگ معمول کی بات ہے یہ کہہ کر دونوں ایک دوسرے کو تالی مارتے ہیں،ہنستے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ اُن کی ہنسی دراصل ہنسی نہیں بلکہ زوال کی اعلانیہ پیدائش ہے جو ہمیشہ قہقہہ لگاتے ہوئے آنکھ کھولتی ہے ۔
حقیقتاً ہم ظلم سہنے کے عادی ہوچکے ہیں،چاہے وہ ظلم نوٹ چھین کر کیاجائے یا ووٹ چھین کر، جب تک طاقتوروں کے ہاتھوں ہم رُسوائی کی سرحدوں کی زیارت نہ کرآئیں ہمیں چین ہی نہیں آتااپنی گردن پر ستم گر کا پاؤں رکھوا کر ہمیں سانسیں لینے کی عادت سی ہوگئی ہے ، کچھ اچھا ہونے کی ناگہانی سے ہمیں خوف آتا ہے، خوش خبریاں ہمارے لئے کسی روگ سے کم نہیں، اِنہیں سن کر یا تو ہم شک میں مبتلا ہوجاتے ہیں یا بیمارہم چاہتے ہیں کہ ظالم ہم پر ہمیشہ اِسی طرح مُسلط رہیں،حکم چلاتے رہیں، صبر آزماتے رہیں اور ہم چُپ چاپ جی مالک! کی سرگوشیاں کرتے کرتے ایک دن ساکت ہوجائیںمُردے کبھی احتجاج نہیں کرتے، سکوت کے گہوارے میں بے حرکت صرف دفن ہو جاتے ہیں، ہم بھی احتجاج کرنا بھول چکے ہیں اور اگر کرتے ہیں تو اپنی ہی املاک کو نقصان پہنچا کر اور اپنے ہی گھر کو آگ لگا کریا پھر ہونٹوں کو سختی سے بھینچ کر حالات کی تلخی کو قسمت کا لکھا سمجھ کر قبو ل کرلیتے ہیںیہ جانے بنا کہ واقعی یہ تقدیر ہے یا19 کروڑ عوام کی تحقیر!ہم جو اپنی ہی نظروں سے گِرے ہوئے ہیں اگر اُٹھ جاتے تو وہ چہرے بخوبی پہچان لیتے جو عالمی منڈیوں میں قوموں کا سودا طوائفوں کی طرح کرتے ہیں کہ جو گاہک اچھا ملا اُسے قوم بیچ دی اِس منڈی میں قوم سے آزادی، خودمختاری، نظریئے اور حب الوطنی کی ہڈیاں نکال کر گوشت اور چمڑی کے سودے کئے جاتے ہیںخیر میں بھی یہ کیا باتیں لے بیٹھاآج تو خوشی کا دن ہے ، محمود و ایاز کو حکم کے ذریعے ایک ہی صف میں کھڑا کیا جارہا ہے لیکن صفیں بنانے والوں نے ایک بار بھی یہ دیکھنا اور سوچنا گوارا نہیں کیا کہ بہت کچھ یکساں کرنا ابھی باقی تھاآپ یوں کرتے کہ ساری ملالائیں ایک جیسی ہوتیں، کاروسائیکل پر اور پیدل اسکول جانے والوں کے بستوں میں کتابیں ایک ہوتیں، مسلک، مذہب، رنگ،نسل اور عقیدوں کی بنیاد پرکوئی کسی کو تقسیم کرنے کے قابل نہ ہوتا، اظہارِ رائے کی آزادی سب ہی کو حاصل ہوتی،خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک ختم ہو جاتا، چہروں پر تیزاب پھینکنے والوں کے چہرے تیزاب کے درد سے آشنا کئے جاتے، ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سب کی ایک سوچ ہوتی،ہم سب ایک ہوتے، پنجابی، پختون، سندھی، بلوچ، سرائیکی، قبائلی، مہاجر یہ سب صرف شناختیں ہوتیں لیکن قوم پاکستانی ہوتی تب آپ کہتے کہ ملک میں یکساں لوڈشیڈنگ کی جائے تو بہت اچھا لگتاسچی! بہت اچھا لگتا!!!