اسرار اور انوار نوائے وقت 25-Dec-2012

کالم نگار | ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
میں ہمیشہ دل والوں، دل و نگاہ والوں کی تلاش میں رہتا ہوں۔ اللہ والے بھی دل والے ہوتے ہیں۔ پہلے یہ تصور ہی نہ تھا، تاثر بھی نہ تھا کہ کوئی اللہ والا ایسا بھی ہوسکتا ہے۔ دل والا، جیسے عبد اللہ بھٹی ہیں، میں انہیں ملا۔ انکی کتاب اسرار اور رومانیت پڑھی۔ اس پر کچھ لکھا بھی، انکے خواب دیکھیں، تعبیروں سے زیادہ خوابوں کی اہمیت کو سمجھیں۔ کوئی عام سا آدمی ہو اور اس میں کوئی خاص آدمی۔ پھر وہ بہت ہی اپنے لوگ بن گئے۔ ہمارے زمانے میں برائے نام رہنماءانقلاب کے نام پر اپنا کوئی زمانہ لانا چاہتے جسے وہ پہلے بھی کئی بار لاچکے ہیں۔ انقلابِ محمدی صرف روحانی لوگ لائینگے اور وہ لوگ جو روحانیت اور رومانیت کو رلا ملا دینے والوں سے رابطہ رکھتے ہیں۔عبد اللہ بھٹی صاحب ماڈرن بھی ہیں اور جدید بھی ہیں۔ انہوں نے مغربی لباس پہن رکھا تھا، آج کل سب پہنتے ہیں اور یہ اب مغربی ہے بھی نہیں، جب ہم پہنتے ہیں تو یہ مشرقی ہوجاتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس لباس میں بندہ کون ہے۔ قائداعظمؒ بھی اس لباس میں ہوتے تھے مگر برصغیر کے مسلمانوں کیلئے انہوں نے ایک ملک بنایا۔ وہ صاحبِ کردار تھے، ان جیسا لیڈر بیسویں صدی میں پیدا نہیں ہوا۔ عبد اللہ بھٹی کے چہرے پر داڑھی نہیں ہے۔ اب جرات اور حیرت کے جہان تعمیر کرنیوالے لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ داڑھی قائداعظمؒ کے علاوہ علامہ اقبالؒ کی بھی نہ تھی۔ وہ شاعر مشرق اور حکیم الامت، مفکر پاکستان کے طور پر معروف ہوئے۔ ووہ ایک بار شرقپور گئے، وہاں کوئی داڑھی کے بغیر نہیں جاسکتا تھا مگر علامہ اقبالؒ کو کوئی نہ روک سکا۔ بہت بڑے دل والے ولی کامل شیر محمد شرقپوری نے کہا تھا کہ داڑھی علامہ اقبالؒ کے اندر ہے۔ روایت ہے کہ علامہ اقبالؒ نے ان کیلئے اور سارے اولیائے کرام، سب دل والوں اور اللہ والوں کیلئے کہا ہےنہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی ارادت ہو تو دیکھ ان کویدِ بیضا لئے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میںمیں ان لوگوں سے نہ مل سکا جن کو علامہ اقبالؒ ملے تھے۔ میں بابا عرفان الحق کے پاس کئی بار جہلم میں حاضر ہوا ہوں۔ مجھے بابا یحییٰ خان سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ واصف علی واصف، قدرت اللہ شہاب، اشفاق احمد، بانو قدسیہ سے ملا ہوں۔ بانو آپا کیلئے ایک مختلف کہانی کار ممتاز مفتی نے کہا کہ وہ اندر سے قدیم ہے باہر سے جدید ہے۔ میرے خیال میں ایک سچی اچھی موہنی عورت کیلئے یہ ادائے دلبرانہ ضروری ہے۔ بانو آپا دل والی بڑی عورت ہے۔ وہ بابا عرفان الحق کی معتقد ہے۔ انہوں نے عبد اللہ بھٹی کیلئے انکی کتاب اسرار رومانیت کیلئے لکھا ہے۔ پروفیسر عبد اللہ بھٹی کی علمی کتاب میں رومانیت کے جس شارٹ کٹ سے آگاہ کیا گیا ہے۔ ان پر عمل پیرا ہو کر کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔میں عبد اللہ بھٹی سے ملا ہوں، ایک بار ملا تو لگا کہ کئی بار ملا ہوں۔ بابا عرفان اپنے مخاطب کو اپنے آپ سے ملنا بھی سکھا دیتے ہیں۔ وہ مایوسی کے دشمن ہیں، امید اور حوصلے کے کئی چراغ انکے لفظوں میں چلتے رہتے ہیں۔ سچے لوگ مایوس نہیں ہوتے، مغموم ضرور ہوتے ہیں۔ میں نے اپنے زمانے کے خاص لوگوں کو غم کی طاقت سے مالامال پایا۔ غم سے بھرے ہوئے لوگ ہی خوشی کی اصل حقیقت سے باخبر ہوتے ہیں۔واصف علی واصف کی بھی داڑھی نہ تھی مگر انہیں بابا عرفان بھی مانتے ہیں۔ بابا جی عرفان و حکمت اور حقیقت کی گہرائیوں میں اتر کر بات کرتے ہیں۔ عبد اللہ بھٹی نے اپنی دوسری کتاب فکرِ درویش (زیرطبع) کا مسودہ مجھے پڑھنے کو دیا ہے۔ اس میں انہوں نے اپنے رومانی سفر کا احوال بھی بیان کیا ہے۔ بڑی مشکلوں سے گزرنے کے بعد انہوں نے خود کہا کہ بالآخر ایک روز میں بری امام کے قدموں میں ڈھیر ہوگیا، جنہوں نے مجھے تلاش کے سفر کا سنگ میل عطا کیا۔ بابا عرفان بھی بری امام کا بہت ذکر کرتے ہیں۔ انکی ایک پیشگوئی بھی ہے کہ میرے ہمسائے میں ایک شہر آباد ہوگا جس کا نام اسلام کے نام سے شروع ہوگا۔ آج اسلام آباد بری امام کے ہمسائے میں، اسلام کے نام سے قائم ہونیوالے ملک پاکستان کا صدر مقام ہے جسے میں خطہ عشق محمد کہتا ہوں۔ لگتا ہے اس زمین پر رہنے والے رومانی لوگوں کی برکت سے کچھ نہ کچھ ایسا ہوگا کہ یہ خطہ دنیا بھر میں بے مثال ہوگا اور یہاں رہنے والے سرخرو ہوں گے۔منفرد کالم نگار اور اینکرپرسن جاوید چودھری کو پراسرار لوگوں سے ملنے کا جنون ہے۔ وہ بابا جی سے بھی ملا ہے اور اس نے بھٹی صاحب سے ملاقات بھی کی۔ جاوید چودھری اسرار رومانیت کے حوالے سے لکھتا ہے جو لوگ خدمت خلق کرتے ہیں، دکھی لوگوں کا دکھ بانٹتے ہیں وہ اللہ کے خاص بندے ہوتے ہیں۔ یہ کام عرصہ دراز سے پروفیسر صاحب کررہے ہیں۔ یہ کتاب رومانیت کے طالب علموں کیلئے مفید اور معاون ہوگی۔مجھے ملک اللہ یار خان مرحوم کی خدمت میں حاضر ہونے کا اشارہ نجانے کہاں سے ملا تھا۔ وہ بھیڑ بکریاں چرانے والے کسان تھے مگر دینی اور رومانی علوم کا ایک ہجوم انکے دل میں سمٹ آیا تھا۔ اللہ کا کوئی خاص انعام ان پر تھا۔ میں سارا سوشلزم اور شاعری بھول کر انکے مریدوں میں شامل ہوگیا تھا۔ وہ اپنے ملنے والوں کو سنگی (ساتھی) کہتے تھے۔ انہوں نے اسرار اور انوار کو رلا ملا دیا۔ جو چیز پراسرار نہیں ہوتی وہ پرکشش نہیں ہوتی۔ اپنی کتاب کا نام اسرار رومانیت عبداللہ بھٹی نے رکھا ہے تو اس کتاب میں ڈوب کر مجھے وہ خوشبو سی آئی ہے جو منارہ ضلع چکوال میں ملک اللہ یار خان کی روحانی قیادت اور ملک محمد اکرم اعوان کی رفاقت میں محسوس ہوئی تھی۔ میری گزارش بھٹی صاحب سے ہے کہ وہ بابا عرفان اور ملک اکرم اعوان سے ضرور ملیں۔اب صوفیوں سے امید ہے کہ وہ اس مملکت خداداد کو کسی منزل پر لے کے جائیں گے۔ اسرار رومانیت اسی دروازے اور آرزو کی عکاس ہے۔
اسرار اور انوار | NAWAIWAQT