
Originally Posted by
sudes_102
تبلیغی جماعت سے کچھ سوالات
فضائل اعمال کی جگہ قرآن پاک ، صحیح بخاری اور صحیح مسلم کا درس کیوں نہیں دیا جاتا جو کہ صحیح ترین کتب ہیں ؟
کل وقتی کارکنان امراءاور بیرون کے لیئے وفود کا خرچہ کہاں سے آ تا ہے۔ نیز اجتماع کا خرچہ کہاں سے آتا ہے۔حالانکہ تبلیغی جماعت کوئی چندہ اکٹھا نہیں کرتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقریباً ہر جنگ سے پہلے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ سے مالی اعانت لی ؟
تبلیغی جماعت کے ساتھ کتنا وقت لگانے سے ایک مسلمان قرآن اور حدیث سمجھنے کے قابل ہو جاتا ہے ؟
مضبوطی ایمان کے لیے کتنا عرصہ درکار ہے؟
عربوں کو ریاض الصالحین اور عجمیوں (پاکستانی ،ہندوستانی وغیرہ)کو فضائل( فضائل اعمال،صدقات،حج،درود ۔۔) کی کتابیں کیوں پڑھائی جاتی ہیں؟
فضائل اعمال کا عربی ترجمہ کیوں نہیں ہوا؟
کیا تبلیغی جماعت دیوبندیوں میں بھی ایک فرقہ ہے؟
ترجمة القرآن سیکھنے اور سکھانے سے کیوں روکا جاتاہے؟
تبلیغی جماعت کا دعوی ہے کہ سب ٹھیک ہے تو تہتر میں سے کون سا فرقہ جنت میں جائے گا؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کے لئے جماعتیں روانہ کیں کیا تبلیغی جماعت نے کبھی اس سنت پر عمل کیا یا ان کا ابھی مکی دور ہی مکمل نہیں ہوا ؟
تبلیغی جماعت کے ارکان جہاد سے کیوں جی چراتے ہیں؟ حالانکہ ان کی تعداد لاکھوں میں ہے ۔کشمیری ، فلسطینی ،عراقی ،افغانی مائیں بہنیں مدد کے لئے پکار رہی ہیں۔ مسلمانوں کی عزت و ناموس لٹ رہی ہے اور یہ حضرات لوٹا،بستر اٹھائے تبلیغی مشن پرکیوں روانہ ہوتے ہیں حالانکہ یہ وقت ہتھیار اٹھانے کا ہے؟مسلمان مجاہد جہاں جاتا تھا وہاں اسلام کی تبلیغ کا کام بھی کرتا تھا۔تبلیغ کا یہ طریقہ کیوں نہیں اپنایا جاتا؟
جہاد فرض ہے چاہے ناگوار گذرے
کتب علیکم القتال وھوکرہ لکم وعسی ان تکرھوا شیئا وھو خیر لکم وعسی ان تحبوا شیا وھو شر لکم وااللہ یعلم وانتم لا تعلمون (سورہ البقرہ 2 / 216)
ترجمہ:۔ تم پر قتال فرض کیا گیا ہے حالانکہ وہ تمہیں ناگوار گذرتا ہے۔ہو سکتا ہے کہ ایک چیز کو تم ناگوار سمجھو اور وہی تمہارے لئے بہتر ہو اور ہو سکتا ہے ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لئے بری ہو۔اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
ٓآپ کے سوالات کا اختصارسے جواب دینے کی کوشش کروں گا
۱)فضایل اعمال میں اختصارکے ساتھہ دینی معاملات کے متعلق لکھا گیا ہے جب کہ بخاری شریف تو اپنے اندر ایک سمندر سمیٹے ہوے ہے شاید مختصر وقت میں اسکو پڑھنا اور پڑھانا آسان نہیں بزرگ اور سینیر جماعت والے اس کا مدلل جواب دے سکتے ہیں
۲) آج بھی اس دنیا میں صاحب مال مسلمان دین کے راستے پر مال خرچ کرنے کو سعادت سھمجتے ہیں لوگ تبلیغ کے کام کے لیے پیسہ خرچ کرنے کو بے چین ہوتے ہیں اور بعض اوقات اُن کو عرصہ بیت جاتا ہے اپنی باری آنے تک
۳) ماشاء اللہ ہم سب مسلمان ہیں اور دین کو جانتے ہیں تبلیغی جماعت مسلمانون کو صرف اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے کی یاد دہانی کرواتے ہیں اگر ایک عام مسلمان جس کو نماز اور کلمے اور غسل کے طریقے نہیں آتے کم ازکم کچھہ دن لگانے سے وہ یہ باتین سیکھھ جاتا ہے
۴) اس کو دیوبندیوں کی شاخ نہیں البتہ اُن سے قربت ضرور ہے
۵) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فہم وفراست کو عام مسلمان نہیں پہنچ سکتا جس طریقہ سے آپ نے صحابہ کو تبلیغ اور جہاد کے لے استعمال کیا وہ اُس وقت کی ضرورت تھی اسلامی مملکت میں تبلیغ اور جہاد دونوں ہمیشہ جاری رہے ہیں لیکن جہاد کے معاملہ میں فہم وفراست کا معاملہ شاید اتنا آسان نہیں خاص آج کل
جہاد کے معاملہ میں ہر کویی اپنا نظریہ رکھتا ہے اور ہر کویی اس پر اپنی سوچ اور فکر کو اولین قرار دیتا ہے
لفظوں کو بول دینا اور کرنا الگ الگ چیزیں ہیں لوٹا اُٹھانا تو اسان ہے لیکن ہتھیار اٹھانا اتنا اسان نہیں
ہمارے اعلی دینی حلقات زیادہ تر پاکستان میں جاری جہاد کو سپورٹ نہیں کرتے
جہاد سے پھلے ہمیں اپنی قوم کے کرداراور اسلامی شعار کی بنیاد کی طرف توجہ دینی چاہیے جو شخص دین کو جانتا نہیں سمجھتا نہیں اور اُس میں قرآن اور سنتِ رسول کی روح تک نہیں تو آپ اُس کو جہاد کے لیے کیسے تیار کریں گے جب دل میں ایمان کی چنگاری ہوگی تو ہر کویی خود اللہ کے راستے پر نکلے گا
جہاد ناگوار کسی کے لیے نہیں لیکن جہاد کی اصل ہے کہاں مان لیا ملاں عمر جو کچھھ افغانستان میں کررہے ہیں تقریباً مسلمان اُمہ اُن کو سپورٹ کرتی ہے لیکن پاکستانی عوام کو آپ کس طرح جہاد پر امادہ کریں گے سب سے پہلے ہمیں اچھے مسلمان اپنی صفوں میں پیدا کرنے چاہیں پھر جہاد کا جذبہ خود اُمڈ آے گا
Bookmarks