اللہ تعالیٰ بندوں کے رزق سے غافل نہیں

محمد رفیق اعتصامی
ارشاد باری تعالیٰ ہےزمین پر چلنے والے جتنے بھی جاندار ہیں سب کی روزی اللہ تبارک و تعالیٰ کے ذمہ ہے اور وہ جانتا ہے کہ کہاں ٹہرے گا اور کس جگہ سپرد خاک ہوگا اور یہ سب ایک واضح کتاب (لوح محفوظ) میں ہے اور فرمایا اللہ تعالیٰ بہتر رزق دینے والے ہیں(القرآن)۔
قرآن پاک میں رزق کے بارہ میں متعدد آیات ہیں جن میں واضح طور پر یہ کہا گیا ہے کہ کائنات میں جتنی بھی مخلوق ہے اور انھیں جس طرح کی روزی چاہیے تو اللہ تعالیٰ انھیں دیتے ہیں اور حدیث شریف کے مطابق اس وقت تک کسی شخص کو موت نہیں آتی جب تک کہ اسکا رزق پورا نہیں ہو جاتا۔اور قرآن پاک میں پرندوں کی مثال بیان کی گئی ہے کہ وہ صبح کو خالی پیٹ اپنے گھونسلوں سے نکلتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹ لوٹتے ہیں۔
قرآن پاک میں انسان کو رزق دینے کی اتنی صریح اور واضح آیات کے باوجو عام طور پر وہ اپنے رزق کے بارہ میں پریشان رہتا ہے اس میں کچھ حالات کا بھی عمل دخل ہو سکتا ہے اور کچھ انسان کی اپنی طرف سے بھی کمی کوتاہی ہو سکتی ہے مگر عام طو ر پر ایساہوتا ہے کہ حصول دولت کیلئے وہ ہر حربہ استعمال کرتا ہے جسکی اخلاق و قانون نے اجازت نہیں دی مثلاً رشوت، سفارش،اجناس میں ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی جھوٹ، دہوکہ دہی، لوٹ مار وغیرہم۔
اگر انسان کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے وعدہ رزق پر یقین کامل ہوتا تو اس طرح کے واقعات نہ ہوتے اور انسان ذریعہ یا وسیلہ کے طور پر کوئی بھی کاروبار کر لیتا کہ روزی تو اس نے دینی ہے کاروبار چھوٹا ہو یا بڑا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا جو رزق اسکے مقدر میں ہے وہ اسے مل کر رہے گی۔
مگر ایسا نہیں ہوتا اور انسان کا مقصد حیات ہی عام طورزیادہ سے زیادہ دولت کمانا بن گیا ہے جس میں حلال و حرام کی پرواہ نہیں کی جاتی بلکہ اسے اپنی فنکاری اور ہوشیاری سمجھا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر بے شمار دولت کمائی ہے حالانکہ جو کچھ اسے ملا وہ اسے ملکر ہی رہنا تھا کیونکہ یہ اسکے مقدر میں تھا۔بہرحال اس مضمون کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کے وعدہ رزق پر مکمل بھروسہ کرنا چاہیے اور اپنے رزق میں حرام کی آمیز ش نہیں کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اسکے رزق سے ہرگز غافل نہیں۔