دوسرا اشکال :
قال تقی عثمانی:
اس پر اتفاق ہے کہ امین جہرا اور سرا دونوں طریقہ سے جائز ہے لیکن افضلیت میں اختلاف ہے۔ ... درس ترمذی:ج١ص٥١٤
جواب:
اس اتفاق کی دلیل کیا ہے ؟یہ اتفاق بس الفاظی ہے حقیقت نہیں ہمیں اس قسم کا کوئی اتفاق نہیں ملتا ۔بلکہ امین اونچی کہنا ہی مسنون ہے اس کے خلاف کچھ بھی ثابت نہیں ہے بلکہ امام مسلم بن حجاج القشیری﷫ فرماتے ہیں: ''قد تواترت الروایات کلہا أن النبيﷺ جہر بآمین.'' تمام احادیث تواتر کی حد تک ثابت ہیں کہ نبی کریمﷺ نے آمین بالجہر کہی ہے ۔(الاول من کتاب التمییز ص٤٠) ہم یہاں اس کی ایک دلیل بھی ذکر کئے دیتے ہیں:

ابوہریرہ﷜ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہﷺ سورہ فاتحہ کی قرات سے فارغ ہوتے تو اپنی آواز بلند کرتے اور فرماتے:آمین (صحیح ابن حبان :٣/١٤٧ح١٨٠٣)
اسے درج ذیل محدثین نے صحیح کہا ہے ۔
  1. ابن حبان (صحیح ابن حبان :٣/١٤٧ح١٨٠٣)
  2. ابن خزیمہ (صحیح ابن خزیمہ :١/٢٨٧)
  3. حاکم (مستدرک حاکم :١/٢٢٣،معرفۃ السنن والآثار :١/٥٣٢)
  4. ذھبی (تلخیص المستدرک :١/٢٢٣)
  5. دارقطنی (سنن الدارقطنی :١/٣٣٥،وقال:ہذا اسناد حسن )
  6. بیہقی (التلخیص الحبیر :١/٢٣٦بلفظ :حسن صحیح )
  7. ابن قیم (اعلام المؤقعین :٢/٣٩٧)
قارئیں کرام :''شیخ الاسلام ''تقی عثمانی صاحب کا یہ دعویٰ کہاں تک ٹھیک ہے کہ :'' اس پر اتفاق ہے کہ آمین جہرا اور سرا دونوں طریقہ سے جائز ہے لیکن افضلیت میں اختلاف ہے۔'' مزید تفصیل کے لئے فضیلۃ الشیخ حافظ زبیر علی زئی﷾ کی کتاب القول المتین فی الجہر بالتامین کا مطالعہ انتہائی مفید رہے گا۔
اللہ تعالی قران و حدیث کا تمام امتِ مسلمہ کو پابند بنائے۔ آمین ۔